سیاسی گرما گرمی اور سوشل میڈیا

187

سلیمان علی

خواجہ آصف کی نا اہلی کے فیصلے سے قبل ہی سوشل میڈیا پر ن لیگ کی اہم وکٹ گرنے کا ماحول بن چکا تھا۔ اس کے پیچھے اسلام آباد ہائی کورٹ میں سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والے تحریک انصاف کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل عثمان ڈار کی دائر کردہ پٹیشن کی کارروائی بھی تھی۔ ویسے تو عاصمہ جہانگیر نے اپنی زندگی میں اس فیصلے کی پیش گوئی کر دی تھی جو ایک کلپ کی صورت سماجی میڈیا پر گھومتی رہی جس میں انہوں نے طلعت حسین (جیو نیوز ) کے ایک پروگرام میں یہ بات کہی تھی۔ فیصلہ آتے ہی منٹوں میں تحریک انصاف کی ٹیم نے ہمیشہ کی طرح متحرک کردار ادا کرتے ہوئے ThankyouUD, KhwajaAsif, ، نا اہل خواجہ اقامہ آصف کے ہیش ٹیگ ٹوئٹر ٹرینڈ لسٹ میں نمودار کروا ڈالے۔ سیاسی جماعت کے عہدیدار ہونے کے ساتھ عثمان ڈار اپنی ویب سائٹ، ڈھائی لاکھ کے قریب ٹوئٹر فالوورز ، فیس بک آئی ڈی ‘ پیج کے ساتھ خود سماجی میڈیا پر خاصے متحرک نظر آتے ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان کے دس ٹاپ ٹرینڈز کی لسٹ میں اسی موضوع سے متعلق 9 موضوعات شامل تھے۔ دسواں ٹرینڈورلڈ بینک کے تعاون سے منعقد ہونے والی KPDYS (خیبر پختونخواہ ڈیجٹل یوتھ سمٹ) پر مبنی تھا، اس ایونٹ کو بھی تحریک انصاف نے ہی قابو کر رکھا تھا۔ عدالتی فیصلے سے ایک روز قبل بھی DisqualifyIqamaAsif کے عنوان سے ٹوئٹر پر ٹرینڈ نمودار ہوا تھا، جس سے ظاہر ہو چکا تھا کہ وہ اہم وکٹ کون سی ہے؟ سماجی میڈیا پر خواجہ آصف کے غرور و تکبرانہ لب و لہجے کو خاصا تنقید کا نشانہ بنایا گیا جیسا کہ ’’جون 2011 میں ایک پروگرام کے دوران خواجہ آصف نے عمران خان سے کہا تھا کہ تمہارا کیا لیول ہے جو تم نوازشریف کے ساتھ بیٹھو، تم میرے ساتھ بیٹھ کر بات کرو۔ اللہ الحق ہے۔ آج وہی خواجہ آصف، عمران خان کے ایک جونیئر عثمان ڈار کے ہاتھوں سیاست سے ہمیشہ کے لیے نااہل ہو گیا اور نوازشریف کو عمران خان نے 28 جولائی 2017 کو خود کلین بولڈ کیا تھا۔ اسی لیے کہتے ہیں بڑا بول بولنے والا ہمیشہ منہ کے بل گرتا ہے۔
اسی طرح یہ ٹوئیٹ بھی خاصی مقبول رہی کہ ’’خواجہ آصف اگر پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کرلیتے تو نا اہل ہونے سے بچ سکتے تھے۔‘‘ اسی طرح ’’خواجہ آصف کی نااہلی کے بعد سیاستدانوں کو پہلی فرصت میں 62 ون ایف کے تحت نااہلی کی مدت کا تعین کر لینا چاہیے ورنہ وہ ایک ایک کرکے اس کا شکار ہوتے رہیں گے۔ اگرچہ پی ٹی آئی کے ارکان اسمبلی خواجہ آصف کی گردن سے سریا نکال کر خوشی سے پھولے نہیں سما رہے لیکن انہیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ کل انہیں بھی ایسی ہی صورت حال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔‘‘ معروف صحافی حامد میر اپنی ٹوئیٹ میں سوال اٹھاتے ہیں کہ ’’کیا نواز شریف،جہانگیر ترین اور خواجہ آصف کے بعد مزید ارکان پارلیمنٹ کے نااہل ہونے کا خطرہ بڑھ گیا ہے؟‘‘ سیاسی سپورٹرز یہ کہتے ہوئے بھی پائے گئے کہ ’’اس میں کوئی شک نہیں کہ دنیا کے زیادہ تر ممالک میں پارلیمنٹ کے اراکین کے لیے دیانت دار اور صادق ہونا ضروری ہے لیکن دنیا کے کسی ملک میں صادق اور امین نہ رہنے کی سزا تاحیات نااہلی نہیں۔ اسٹیبلشمنٹ اور اس کے حلیف مذہبی اور نظریات حلقوں کے اثر و رسوخ کو دیکھتے ہوئے 62 ون ایف کو یکسر ختم کرنا یا اس شق میں ترمیم کرنا بہت مشکل ہے لیکن پارلیمنٹ کم از کم 62 ون ایف کے تحت نااہلی کی مدت کا تعین کر سکتی ہے اور اسے پہلی فرصت میں یہ کام ضرور کر لینا چاہیے۔ میرے خیال میں نااہلی کی مدت صرف اسی الیکشن کے لیے ہونی چاہیے جس کے لیے جمع کرائے گئے کاغذات نامزدگی میں حقائق چھپائے گئے ہوں۔‘‘ ماضی سے رشتہ جوڑتے ہوئے کچھ لوگوں نے یہ بھی کہاکہ ’’میرے خیال میں خواجہ آصف کو شیریں مزاری کی بد دعا لگ گئی۔‘‘ خواجہ آصف کے مشہور زمانہ جملہ کو بھی لوگ اس موقع پر نہیں بھولے اور یوں تبصرہ کیا کہ ’’کوئی شرم ہوتی ہے‘ کوئی حیا ہوتی ہے اقامہ رکھتے ہو بے شرم جاؤ اب اقامہ سنبھالو۔‘‘
سیاسی منظر نامے پر پاکستان میں جو ہل چل مچی وہ نا اہلی کے شور کے ساتھ ساتھ الیکشن سے قبل سیاسی رہنماؤں کا اگلے انتخابات میں حکومتی پارٹی کا حصہ بننے کے چکر میں سیاستی وابستگی بدلنے کے عمل کا تیز ہونا بھی تھا۔ اس حوالے سے جو سب سے زیادہ دعویٰ ایک سیاسی جماعت کی جانب سے ’’نئے پاکستان ‘‘ کا کیا جاتا اُس کے جواب میں یہ پوسٹ خاصی وائرل رہی جس میں سارے لوٹوں کا جامع ذکر کیا گیا۔
’’نیا پاکستان بنانے والے سول انجینئرز، ٹھیکیداروں اور مستریوں کی فہرست ملاحظہ فرمائیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی سے ندیم افضل چن، ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان، نذر محمد گوندل، شفقت محمود ۔
شاہ محمود قریشی، بابر اعوان، راجا ریاض، صمصام بخاری، فواد چوہدری، مصطفی کھر، امتیاز صفدر وڑائچ، اشرف سوہنا، نور عالم خان، رانا آفتاب احمد خان، ایم کیو ایم سے ڈاکٹر عامر لیاقت۔
پاکستان مسلم لیگ ق سے جہانگیر ترین، عامر ڈوگر، عبدالعلیم خان، غلام سرور، ظہیر الدین، طاہر صادق، ریاض فتیانہ، سعید ورک، سابقہ متحدہ مجلس عمل سے اعظم سواتی، فیاض چوہان، مولانا سمیع الحق۔
پاکستان مسلم لیگ ن سے اختر کانجو، لیاقت علی جتوئی، چوہدری محمد سرور، رمیش کمار۔‘‘ اسی ہلچل میں امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے منصورہ میں ایک پروگرام میں خطاب کرتے ہوئے ایک اہم بات بتا دی جو دیکھتے ہی دیکھتے نواز لیگ کے لیے اور اُن کے چاہنے والے ابلاغی اداروں کے لیے اہم ترین موضوع بن گئی۔ سینیٹ الیکشن میں سنجرانی صاحب کی حمایت کے لیے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک کا امیر جماعت اسلامی کو کہا گیا ایک جملہ ’’اوپر سے حکم آیا ہے۔‘‘ نے سوشل میڈیا پر بھی خوب ہل چل برپا کی۔ تحریک انصاف کے حامی بھی میدان میں کود پڑے اور جماعت اسلامی کے سوشل میڈیا کارکنان نے بھی اپنے امیر کا بھرپور دفاع کیا۔ مسلم لیگ ن کو بھی تحریک انصاف اور پیپلزپارٹی کو خوب رگڑنے کا موقع مل گیا۔ سراج الحق کی شناخت صادق اور امین کی ہے لہٰذا اُ ن کی بات کو غلط یا جھوٹ کسی نے نہیں مانا بلکہ سارا زور اس بات پر لگایا جاتا رہا کہ اگر تحریک انصاف میں اتنا ہی مسئلہ ہے تو کیوں اُن کے ساتھ خیبر پختونخوا حکومت میں شامل ہیں؟ اس ضمن میں فواد چوہدری اور ایک ٹی وی شو کے معروف میزبان کاشف عباسی کی خوب درگت بنی۔کاشف عباسی نے زیادہ جوش میں آ کر امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق کو سینیٹ الیکشن میں مسلم لیگ ن کے امیدوار کی حمایت کرنے اور دوسری جانب پاناما کیس میں فریق ہونے کے ایشو پر اپنے لائیو ٹاک شو میں زچ کرنے کی کوشش کی۔ اس چکر میں انہوں نے سراج الحق سے اپنی کم علمی پر مبنی ایک سوال کرلیا ( وزیر اعظم کے انتخاب کے موقع پر جماعت اسلامی نے شاہد خاقان عباسی کو ووٹ دیا تھا؟) جس پر امیرجماعت اسلامی سراج الحق نے نہایت پیار سے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’’کاشف صاحب کچھ پڑھ کر آیا کریں۔‘‘ جماعت اسلامی نے شاہد خاقان عباسی کے مقابلے پر اپنا اُمیدوار طارق اللہ کو کھڑا کیا تھا جسے جماعت کے تمام ووٹ ملے۔‘‘ سینیٹ کے انتخابات میں جماعت اسلامی رضا ربانی کو ووٹ دینے کو تیار تھی مگر پیپلزپارٹی نے اُنہیں ٹکٹ نہیں دیا ، راجا ظفر الحق سے ووٹ کے بدلے جماعت اسلامی نے 5 نکات پرکھلا معاہدہ کیا تھا ۔اس میں ناموس رسالت ؐ، آئین کی اسلامی دفعات، قادیانیوں سے متعلق دفعات، 62-63، کشمیر پر اقوام متحدہ کی قرارداد اور فاٹا کے انضمام پر مبنی شقوں کی حمایت اور کسی قسم کی تبدیلی نہ کرنے کا معاہدہ گواہان کے دستخطوں کے ساتھ منظر عام پر رہا۔ اس کے بعد کاشف کی پڑھائی اورعدم معلومات کو سوشل میڈیا پر خوب نشانہ بنایا گیا، اسی طرح تحریک انصاف کے فواد چوہدری نے بھی سراج الحق کے بیان کو کمزور کرنے کے لیے جھوٹ اور طنزیہ بیانات کا سہارا لیا ۔اوپر کے حکم کو بھی سماجی میڈیا پر خاصا ڈسکس کیا گیا۔ شہزاد اسلم مرزا لکھتے ہیں کہ ’’سراج الحق سے بلوچستان کے نامزد بندے کو ووٹ دینے کا کہا تھا اور ’’اوپر سے حکم آیا ہے‘‘ سے مراد بنی گالہ تھا۔ پرویز خٹک کے اس اقرار سے سراج الحق صاحب کی کہی ہوئی بات سو فیصد درست ثابت ہو گئی کہ جب ہم تحریک انصاف سے پیپلز پارٹی کو ووٹ دینے کا سبب پوچھتے تو وہ یہی بتاتے کہ اوپر سے حکم آیا۔ اب بھی کوئی ’’انصافین‘‘ سراج الحق صاحب کے بیان پر تنقید کرے تو قسمے اس سے بڑا چول کوئی نہیں جو صرف اپنے قائدین کے کہنے پر گائے کے گوبر کو کیک کہہ رہا ہے۔‘‘ اسی طرح عوام نے حالات سے جوڑتے ہوئے پیش گوئی کی کہ ’’احسن اقبال نے اپنی عزت نفس مجروح ہونے پر کل چیف جسٹس کے ریمارکس پر لب کشائی کی آج ابرارالحق اور بابر اعوان کو پٹیشن دائر کرنے کا خیال آگیا اب کوئی یہ نہ سمجھے کہ حکم اوپر سے آیا قوی امید ہے کہ حکومت کی رخصتی سے پہلے نوازشریف کے کچھ مزید جانثار جبری رخصت پر بھیج دیے جائیں گے۔‘‘ مسلم لیگ ن کی جانب سے یہ بیانیہ جاری رہا کہ ’’وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے بھی کہا اوپر سے حکم آیا ۔اوپر کا مطلب کبھی بنی گالا نہیں تھا۔ پاکستانی عوام جانتے ہیں ’’اوپر سے‘‘ کا کیا مطلب ہے۔ لاڈلے کو اوپر سے حکم لینے کی عادت پڑ گئی ہے۔‘‘ اسی طرح تحریک انصاف پر تنقید اس طرح کی گئی کہ ’’سب سے مختصر مگر جامع اور قابلِ عمل، مؤثر اورجلد نتائج دینے والا دو نکاتی منشورپی ٹی آئی کا ہے: 1۔ ایمپائر کی انگلی‘ 2۔اوپر سے حکم۔‘‘
اس ہفتہ MuslimsAreBleeding کا ہیش ٹیگ بھی پاکستان کی ٹرینڈ لسٹ میں شامل رہا، جس کے ذریعے شام پر ہونے والے تازہ حملوں پر خصوصاً جبکہ برما، فلسطین،کشمیر کے مسلمانوں پر مستقل مظالم کے خلاف احساس اور آواز بلند کی گئی۔ شام کے حوالے سے سحر غزل کا اپنی ٹوئیٹ میں شامل ایک کارٹون بھی خاصا وائرل رہا، جس میں شامی مسلمانوں پر بیتنے والی صورت حال سمجھائی گئی ۔
ایمان فاطمہ لکھتی ہیں کہ ’’ بدھسٹ مجھے برما میں ماریں، عیسائی مجھے افغانستان میں ، ہندو کشمیر میں ماریں ، یہودی فلسطین میں تو کیا اب بھی میں ہی دہشت گرد ہوں؟؟‘‘۔ اسی ہفتہ کینیڈا کے ایک شہر میں دن دیہاڑے ایک مقامی عیسائی نوجوان شخص نے اپنا ٹرک اندھا دھند انداز میں راہ گیروں پر چڑھا کر 10 افراد کو مار دیا جبکہ 14 شدید زخمی ہوئے۔ اس حوالے سے ٹوئٹر پر خاصا شور مچا، جس میں کوشش کے باوجود مسلمانوںیا اسلام کو نہیں دھکیلا جا سکا۔ عبد الودود کینیڈا سے لکھتے ہیں کہ ’’کینیڈا میں ہونے والا دہشت گردی کا پہلا واقعہ ہے جو امن و امان کے حوالے سے کینیڈا کی تاریخ بدلنے والا ہے۔ ٹورنٹو کے بے شمار معصوم اور بے گناہ شہریوں پہ انتہائی بھیانک اور بزدلانہ حملہ‘ کرائے کی وین کو اندھا دھند راستہ چلتے شہریوں پہ چڑھانے، دس کو قتل اور پندرہ کو شدید زخمی کرنے والے ایلکس کو پولیس نے موقع پہ گرفتار کر لیا دکھ اور تکلیف سے میرا برا حال ہے! ایک تو حادثے کا صدمہ۔۔۔ دوسرے مرنے والوں کا دکھ۔۔۔تیسرا۔۔۔مجھے کہنے دیجیے کہ میری جان پہ بنی ہوئی تھی کہ یہ بے حس و بے غیرت حملہ آور کہیں کوئی مسلمان یا پاکستانی نہ نکل آئے۔ کینیڈین سسٹم ہل کر رہ گیاجب وہ ان کا اپنا مقامی عیسائی نکلا !اپنی نوعیت کا یہ واحد واقعہ امریکا میں ہونے والے نائن الیون کی طرح کبھی نہ بھلایا جانے والا حادثہ ہے یہ جو کہ عام لوگوں کی روز مرہ کی زندگی مشکل بنا دے گا!‘‘

حصہ