حقوق مرداں

206

سیدہ عنبرین عالم

ماشاء اللہ ہم ایسے بہت سے مضامین پڑھتے رہتے ہیں جن میں بچیوں کی تربیت کے حوالے سے بہت عمدہ ہدایات ہوتی ہیں، ہماری مائیں بھی بچیوں کو کثرت سے تلقین کرتی رہتی ہیں کہ اگلے گھر میں ان کا کیا طریقہ ہونا چاہیے۔ آج تک کبھی گھریلو موضوعات پر قلم اٹھانے کا موقع نہیں ملا، مگر آج ایک ایسی بات ہوئی کہ ضرورت محسوس ہوئی کہ اس موضوع پر کچھ لکھنا چاہیے۔
جماعت کے درس میں ایک خاتون نے اپنا مسئلہ بیان کیا کہ ان کی بیٹی کے شوہر رات 8 بجے سے فون پر فون کرنا شروع کردیتے ہیں کہ کھانا گرم کرو، میں آرہا ہوں۔ وہ کھانا گرم کرتی، مگر وہ نہ آتے بلکہ آدھے گھنٹے میں پھر فون آتا: پھر کھانا گرم کرو میںآرہا ہوں۔ پھر نہ آتے۔ یوں وہ پانچ سے چھ دفعہ کھانا گرم کرتی اور وہ رات 12 سے ایک کے درمیان تشریف لاتے۔ جس دن وہ کھانا گرم نہ کرتی اس دن فوراً آجاتے۔ اس دھما چوکڑی میں روز بیوی بے چاری کی عشا کی نماز رہ جاتی، وہ اُس وقت تک نماز نہ پڑھ پاتی جب تک عظیم ترین شوہر صاحب سو نہ جائیں۔ اس بچی نے اپنی امی کو رو رو کر فون پر یہ صورت حال بتائی۔ وہ عشا کی نماز 12 بجے سے پہلے پڑھنا چاہتی تھی لیکن شوہر کے رویّے کے باعث یہ ممکن نہ تھا۔ اب وہ خاتون اس مسئلے کا حل چاہتی تھیں۔
ہماری مدرّسہ نے جواب دیا کہ جتنی جلدی ہوسکے وہ نماز پڑھ لے، بعد میں وہ بار بار کھانا گرم کرتی رہے۔ اس پر خاتون نے کہا کہ اس کا شوہر بار بار فون کرتا ہے، وہ نماز پڑھے گی تو فون کیسے اٹھائے گی؟ فون نہیں اٹھائے گی تو وہ ناراض ہوجائیں گے۔
میں نے گھر آکر اپنی والدہ سے یہ مسئلہ بیان کیا تو وہ کہنے لگیں کہ ہاں اسلام میں ایسا ہی ہے، شوہر کی اجازت کے بغیر بیوی عبادت بھی نہیں کرسکتی۔ میں نے عرض کیا کہ یہ حکم نفلی عبادت کا ہے، فرض کا نہیں۔ فرض عبادت میں تو اگر والدین بھی مانع ہوں تو نافرمانی جائز ہے۔
قارئین! شاید آپ یہ سوچ رہے ہوں گے کہ میں عورت کی مظلومیت پر ہی پورا مضمون لکھ ڈالوں گی۔ ہرگز نہیں، یہاں بیوی نہیں شوہر ’’مظلوم‘‘ ہے۔۔۔ جی ہاں۔۔۔ یہ بے چارہ شوہر خوش ہے کہ میں نے بیوی کو ایسا غلام بناکر رکھا ہے کہ وہ فرض نماز تک ادا نہیں کرپاتی، میری بیوی میں اتنی ہمت بھی نہیں کہ یہ کہہ سکے کہ سرتاج 15 منٹ فون نہ کرنا، میں نماز پڑھ رہی ہوں۔۔۔ اسے کہتے ہیں اصلی ’’مرد‘‘۔۔۔ وہ تو یہ بھی نہیں کہہ سکتی کہ آپ ایک بار آجائیں، آپ کو اسی وقت کھانا گرم کرکے دے دوں گی۔ بیوی نماز پڑھنے کو تڑپ رہی ہے مگر شوہر کے خوف سے اپنے رب کو سجدہ نہیں کر پاتی۔۔۔ واہ کیا مردانگی دکھائی۔ اب اسلامی نکتہ نظر سے دیکھیے: جتنی دیر بیوی شوہر کے لیے بار بار کھانا گرم کررہی ہے، اس کے لیے ثواب لکھا جارہا ہے، جتنی دیر وہ عشا کی نماز میں دیر ہونے کے غم میں رو رہی ہے، اس کے لیے ثواب لکھا جارہا ہے۔ جب وہ شوہر کو کھانا پیش کررہی ہے اس کے لیے ثواب لکھا جارہا ہے۔ یعنی وہ فائدے ہی فائدے میں ہے۔۔۔ اور شوہر جب اس قدر فرعون بن جائے کہ بیوی فرض نماز کی اجازت تک نہ مانگ سکے، تو گناہ۔ جب وہ بار بار فون کرکے نماز میں خلل ڈالے تو گناہ۔ جب وہ وعدہ خلافی کرے فون کرکے نہ آئے تو شوہر کو پھر گناہ۔ بار بار کھانا گرم کرنے کی سزا جو وہ بیوی کو دے رہا ہے، اس پر گناہ۔ وہ لڑکی جو اپنا سب کچھ چھوڑ کر آگئی، اس کو رُلانے کا گناہ۔ پھر سب سے بڑھ کر نماز میں دیر کروانے کا گناہ۔۔۔ اب آپ بتایئے مظلوم کون؟ وہ جو ثواب ہی ثواب کما رہی ہے، یا وہ مرد جو گناہ کما رہا ہے، اور مسلسل کما رہا ہے؟ جس کی معاشرے نے یہ تربیت کی ہے کہ تمہاری بیوی اگر نافرمانی کرے یا کسی فرض میں کوتاہی کرے تو سیدھی جہنم میں جائے گی، لیکن تم اسلام اور حقوق کے نام پر اُس کا فرض نماز پڑھنا بھی دوبھر کردو تو تمہیں کوئی گناہ نہیں۔ اس مرد کو روزے رکھ کر 15 گھنٹے بھوکا رہنا سکھایا گیا مگر 15منٹ کا صبر اس کی روح میں نہ اتارا جا سکا جس میں وہ کھانا گرم ہونے کا انتظار کرلے۔
ہم اپنے مردوں پر اس کے علاوہ بھی بہت ظلم کرتے ہیں جن کا ہمیں ادراک نہیں، جیسے کہ نشے کو اسلام میں حرام کیا گیا، مگر ہم نے نشے کو صرف عورتوں پر حرام کیا، مرد کھلے عام سگریٹ پیتے ہیں، ان کے سگریٹ پینے کو برا نہیں سمجھا جاتا بلکہ مردانگی کی علامت گردانا جاتا ہے، جب کہ سگریٹ میں نکوٹین ہے جو ہر لحاظ سے نشہ ہے۔ اب غور کیجیے کہ عورت تو نشہ کرنے کے گناہ سے بچ گئی، بے چارہ مرد اپنے لیے حلال سمجھ کر نشہ کرتا رہا، اور اس کے لیے نشہ کرنے کا گناہ جمع ہورہا ہے۔
یہ جملہ ہمارے ہاں عام استعمال ہونے لگا ہے کہ وہ تو لڑکا ہے، کرسکتا ہے، تم لڑکی ہو تم نہیں کرسکتیں۔۔۔ اس جملے کو ہتھیار بناکر کئی غلط کام ہم لڑکوں کے لیے جائز قرار دے دیتے ہیں، اور ہمارے لڑکے اس غلط فہمی میں کئی گناہ اپنے سر پر لاد لیتے ہیں، جیسا کہ حضرت موسیٰؑ کا قصہ ہم سنتے ہیں کہ وہ سر سے پاؤں تک مکمل لباس میں رہتے تھے، یہاں تک کہ سب لوگوں کو غلط فہمی ہوگئی کہ ان کے جسم میں کوئی عیب ہے، اور ان کو بے لباس کرنے کے لیے سازش کرنی پڑی تاکہ جسم کا معائنہ کیا جائے۔ اگر اس واقعہ کے تناظر میں دیکھا جائے اور میرے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ دیکھا جائے تو گھر میں لڑکوں کا بہنوں کے آگے بغیر کرتے یا قمیص کے پھرنا کتنا مناسب ہے؟ یا کہیں بھی بے لباس ہونا مومن کی تہذیب کا حصہ نہیں ہے۔ مگر پردے کے بھی تمام درس ہم صرف بچیوں کو دیتے ہیں اور لڑکے کو دو سال کی عمر سے ہی قمیص اتارکر سمجھا دیتے ہیں کہ تم کیونکہ لڑکے ہو اس لیے بے لباس پھر سکتے ہو، کیونکہ گرمی صرف لڑکوں کو ہی لگتی ہے۔۔۔ یہ لڑکوں کے ساتھ زیادتی ہے۔
تربیت کے دوران بھی تمام توجہ لڑکیوں پر ہی ہوتی ہے، لڑکوں کو زیادہ سے زیادہ نماز کی تلقین کی جاتی ہے۔ کیا لڑکوں کا حق نہیں ہے کہ ان کی تربیت کی جائے؟ لڑکا تین بجے رات تک بھی باہر رہے تو کوئی بات نہیں، ’’لڑکا‘‘ ہے۔۔۔ پھر اگر بری صحبت میں پڑکر غلط کام کرنے لگے تو مار پیٹ، سختی کیوں۔۔۔؟ اس کو بھی لڑکی کی طرح مغرب کے بعد آوارہ دوستوں میں نہ جانے دو، نہیں بگڑے گا۔ اسی طرح لڑکی پر موبائل فون رکھنے پر پابندی ہوتی ہے، بے چاری ضرورتاً بھی نہیں رکھ پاتی، اور لڑکا موبائل فون پر کس قسم کی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں، اس کی پروا نہیں۔ پھر جب کوئی پولیس کیس بن جاتا ہے تو لڑکے کے ماں باپ کو ہوش آتا ہے۔
یہاں تک کہ بے چارے لڑکوں کو چھوٹا موٹا پکانا بھی نہیں سکھایا جاتا، تصور کیا جاتا ہے کہ یہ تو لڑکا ہے، بادشاہ ہے، اس کے آگے تو ہمیشہ پکا پکایا کھانا باندیاں پیش کریں گی۔ یہی لڑکا جب نوکری یا تعلیم کے سلسلے میں خاندان سے دور اکیلا رہتا ہے تو کھانا پکانے اور دیگر گھریلو کاموں کی تربیت نہ ہونے کی وجہ سے کتنا مسئلہ ہوتا ہے، اندازہ نہیں کرسکتے۔
اس تمام بحث کا لب لباب یہ ہے کہ ہم لڑکوں کو برتری دے کر انہیں مزید برائی کی طرف دھکیل رہے ہیں، ہم ان کی دنیا اور آخرت برباد کررہے ہیں۔ کیا ہم اپنے بیٹوں کو یہ نہیں بتا سکتے کہ حضرت عمرؓ فرماتے تھے کہ اگر فرات کے کنارے ایک کتا بھی بھوکا مر گیا تو میں جواب دہ ہوں گا۔۔۔ اسی طرح تم ایک خاندان کے سربراہ بنو گے، تو اس میں شامل ہر فرد کے تم ذمے دار ہوگے، اس خاندان کے ہر فرد کے ایک ایک آنسو کا جواب بھی تمہیں دینا ہے اور ان کی ہر بے بسی پر بھی تمہارا گریبان پکڑا جائے گا۔ جتنی حکومت ہے، جتنا تمہیں اختیار دیا گیا ہے اتنا ہی زیادہ تمہاری پوچھ ہوگی۔ جس گھر کے تم حاکم ہو، اس میں پیدا ہونے والی ہر خرابی یا اس گھر کے ٹوٹنے کے بھی تم ذمے دار ہو گے، تم سے سوال کیا جائے گا۔
اللہ تعالیٰ نے مرد کو عورت پر ہاتھ اٹھانے کا بھی اختیار دیا تو وہ اس لیے نہیں تھا کہ سالن میں نمک کم ہو تو وہ بیوی کو دھنک کر رکھ دے، بلکہ اس لیے کہ وہ خاندان کا سربراہ ہے، اس کا فرض ہے کہ اللہ کے احکامات کی پابندی پر وہ بیوی بچوں کو راضی کرے، اور نہ کرنے پر سرزنش کرے۔ اگر اس کا خاندان اللہ کے احکامات پر نہیں چلے گا تو بحیثیت خاندان کے سربراہ، اللہ تو اسی کو پوچھے گا، اسی لیے اسے اختیار دیا گیا کہ جس طرح ہو سکے اپنے خاندان کو صحیح راستے پر چلاؤ۔ اور یہ مار پیٹ بھی ناپسندیدہ فعل ہے، محبت سے جو کام ہوجائے اس میں ڈنڈا اٹھاکر ماحول خراب کیوں کرنا!
صرف اولاد کی حیثیت میں نہیں، باپ کی حیثیت میں بھی مرد سے زیادتی ہوتی ہے۔ اب آپ سوچیں جو لڑکی اپنے شوہر سے اس قدر خوفزدہ ہے کہ فرض نماز کی اجازت طلب کرنے کی ہمت نہیں رکھتی، جب اس کے بچے ہوں گے تو کیا وہ یہ خوف اپنے بچوں میں منتقل نہیں کرے گی! بات بات پر کہے گی کہ یہ نہ کرو ورنہ ابو سے کہہ دوں گی، وہ نہ کرنا ورنہ ابو ماریں گے، چپ ہو کے بیٹھ جاؤ ابو آنے والے ہیں۔۔۔ جو بچے یہ جملے سنتے ہوئے بڑے ہوں گے، یہ دیکھتے ہوئے بڑے ہوں گے کہ ماں، باپ کے خوف سے نماز تک نہیں پڑھ سکتی، ان کے لیے تو ’’باپ‘‘ ایک خوف ناک بلا کا نام ہوگا، وہ تو کبھی باپ سے وہ انسیت نہیں رکھ سکتے جو ان کو ماں سے ہے۔ ان کو صرف یہ معلوم ہوگا کہ باپ کے آتے ہی ہماری آزادی چھن جاتی ہے اور ہمیں ڈرکر ایک طرف ہوجانا پڑتا ہے۔ یہ تمام منظر جوان باپ کے لیے تو بڑا مسحورکن ہوتا ہے کہ واہ میری کیسی حکمرانی قائم ہے، مزید رعب ڈالنا ہو تو ایک آدھ بچے کی بے وجہ پٹائی بھی لگا دیتا ہے، مگر جب باپ بوڑھا اور یہ بچے جوان و توانا ہوجائیں تو بچوں کو اپنی ماں دنیا کی عظیم ترین عورت لگتی ہے اور باپ دنیا کا ظالم ترین مرد۔ وہ اب بھی باپ سے بات کرنا پسند نہیں کرتے بلکہ اسے اس کی سختیوں کے طعنے بھی دیتے ہیں۔
قارئین! میرے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں میانہ روی کا سبق دیا ہے۔ ہر کام میں اور ہر رشتے میں جہاں محبت کی ضرورت ہے وہاں محبت، جہاں سختی کی ضرورت ہے وہاں سختی۔ خصوصاً میاں بیوی کا رشتہ تو ایسا ہے کہ انہیں ایک دوسرے کا لباس قرار دیا گیا ہے۔ اس رشتے میں اتنی تلخی اور جھجک نہیں ہونی چاہیے کہ یہ آقا اور غلام کا رشتہ بن جائے۔ اس رشتے کو محبت، دوستی اور بھروسے پر مشتمل ہونا چاہیے۔ میاں بیوی ہی گھر کی بنیاد ہیں، اگر وہ آپس میں کوئی مسئلہ تک ڈسکس نہیں کرسکتے اور بیوی کو رو رو کر اپنی ماں کو فون کرکے بتانا پڑتا ہے، تو یہ گھر کیسے چلے گا! وہ اپنے بچوں کے مسائل پر آپس میں کیسے بات کریں گے! بلکہ بعض باتیں تو مسئلہ ہوتی بھی نہیں، صرف سخت رویّے ان کو مسئلہ بنا دیتے ہیں۔
بے شک اللہ نے مرد کو قوّام بنایا ہے، مگر اللہ نے تو پاک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی تمام دنیا کا بادشاہ بنایا تھا، کیا وہ اپنے محکوم لوگوں کے ساتھ اسی اکڑ اور درشتی سے پیش آتے تھے؟ نہیں، وہ تو اپنے چھوٹے چھوٹے کام بھی خود کرلیتے تھے، پیوند لگانا، جوتا گانٹھنا، کپڑے دھونا وغیرہ۔ کیا ہم اسی نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی ہیں کہ جو ہمیں یہ تعلیم دیتے ہیں کہ راستے میں کانٹا بھی پڑا ہو تو اسے ہٹادو، تاکہ کسی کو تکلیف نہ ہو۔ کیا وہ پسند کریں گے کہ ہم اپنے گھر والوں کو ہی حقوق کے نام پر ذلیل کریں اور تکلیف دیں؟
بے شک رزق دینے والی ذات صرف اللہ کی ہے، اور اللہ نے مرد کو یہ مقام دیا ہے کہ وہ اپنے گھر والوں کی کفالت کرے، مگر رازق پھر بھی صرف اللہ ہی ہے۔ مرد صرف روزگار حاصل کرکے اپنے بیوی بچوں کا نصیب اُن تک پہنچانے کا ذریعہ ہے، اور اسے اللہ جو دے رہا ہے وہ اس کا مالک نہیں امانت دار ہے۔ اللہ کو جسے پالنا ہوتا ہے اسے بغیر باپ اور بغیر شوہر کے بھی پال لیتا ہے۔ میرے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی یتیم تھے، اللہ نے ان کا رزق ان تک پہنچایا۔ گھر والوں کی کفالت مرد کا فرض ہے، احسان نہیں۔ اور بیوی بچوں کو بھی ہر فرض یاد رکھنا چاہیے۔ ویسے سچ کہوں، اگر حقوق و فرائض کی جنگ کے بجائے صرف محبت ہو، ایثار ہو، بھروسا ہو، سب اپنا دل بڑا کریں، سب درگزر سے کام لیں تو اس سے بڑھ کر کوئی قوانین کسی گھر کو جنت بنانے کے لیے ممکن نہیں۔ بس وہی بات جو میرے نبی پاکؐ نے کہی تھی کہ وہ شخص مومن نہیں، جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرا مومن محفوظ نہیں۔ ہر بیوی، ہر شوہر، گھر کا ہر فرد یہ یاد رکھے تو کوئی بدمزگی نہ ہو، کوئی گھر نہ ٹوٹے، کسی معصوم بچے کی جنت نہ بکھرے۔

حصہ