انسانی حقوق اور عالمی ضمیر

160

سید اقبال چشتی
دنیامیںانسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اس قدر بڑھ چکی ہیں کہ اس کے خلاف اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر زید بن رعد نے اپنے اسٹاف کے نام ایک ای میل میں کہا کہ وہ دوسری مدت کے لئے انسا نی حقوق کے ہائی کمشنر کے امیدوار نہیں ہو ں گے کیو نکہ اس کا مطلب ویٹو پاور کا حق رکھنے والی طاقتوں کے سا منے گھٹنوں کے بل جھک کر التجا کرنا ہے زید بن رعد نے اقوام متحدہ کی تاریخ میں پہلی مر تبہ عالمی طاقتوں پر انسانی حقوق کی پا مالی کے حوالے سے شدید تنقید کر کے یہ کہنے کی جسارت کی ہے کہ دنیا سے انسانیت ختم ہو چکی ہے اور جو ممالک انسانی حقوق کی بات کرتے ہیں وہ سب جھوٹ ہے اس کی واضح مثال دیتے ہو ئے زید بن رعد نے کہا کہ بر ما میں انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزی کر نے والی برمی حکومت کی پشت پناہی چین کرتا ہے اسی طرح شا می حکومت کو انسانوںکے قتل عام اور انسانی حقوق کو پا مال کر نے میں روس کی حمایت حاصل ہے انسانی حقوق کا چیمپیئن ہو نے کا دعویدار امریکا انسانی حقوق کی خلاف ورزی کر نے والا سب سے بڑا ملک ہے جس کی مثال افغانستان میں وحشیانہ بمباری اور اس کی قائم کردہ جیلیں ہیں فلسطین میں اسرائیل کی انسانی حقوق کی پامالیوں کی حمایت امریکا کرتا ہے
زید بن رعد نے صحیح کہا کہ عہدہ لینے کا مطلب عالمی طاقتوں کی جی حضوری ہے عہدہ صرف برائے نام ہے اصل کھیل کو ئی اور ہی کھیلتا ہے جس طرح عالمی طاقتوں نے ایک مسلمان کو اقوام متحدہ کا ہا ئی کمشنر برائے انسانی حقوق بنا کر یہ پیغام دیا کہ اس وقت پوری دنیا میں مسلممان ہی تختہ مشق ہیں اور اگر کو ئی ہجرت پر مجبور ہیں تو مسلمان دہشت گردی کا شکار ہیں تو مسلمان جنگ زدہ ممالک ہیں تو مسلمان مگر زید بن رعد نے اپنی نا کا می کے ساتھ اس بات کو بھی ثابت کیا کہ اس دنیا میں اقوام متحدہ بھی عالمی طاقتوں کے زیر اثر ہے اور وہ جو چاہیں وہی ہو تا ہے اس حوالے سے زیادہ دور نہ جائیں کشمیر کا مسئلہ گزشتہ 70 سال سے حل طلب ہے اور کشمیر کے ایک کروڑ عوام بے یقینی ، بد امنی کے ساتھ پُر خطر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں لیکن اقوام عالم کشمیریوں پر بھارتی مظالم پر خاموش ہے بلکہ اس حوالے سے اقوام متحدہ کا کردار بھی مشکوک ہے بھارت مسئلہ کشمیر خود سلامتی کونسل میں لے کر گیا تھا اور آج ستر سال بعد یہ حقیقت واضح ہو رہی ہے کہ بھارت تنازعے کے حل کے لیے اقوام متحدہ میں نہیں گیا تھا بلکہ وہ مہلت حاصل کر نے گیا تھا تا کہ کشمیر پر اپنے قبضے کو مستحکم کر سکے اور حوالے سے اقوام متحدہ نے بھارت کا بھر پور ساتھ دیا بلکہ اب تک رائے شماری نہ کراکے ساتھ دے رہا ہے
حالیہ کشمیر میں ہو نے والے مظالم اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ بھارت کشمیریوں کے خون سے ہولی کھیلتا رہے گا اور ہم صرف قراردادیں اور مذمت پر ہی اکتفا کرتے رہیں گے ہماری سفارتی کمزوریوں ہی کا نتیجہ ہے کہ اب بھارت دریاؤں پر بند بنا کر ہمارے حصے کا پانی روک کر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے جس سے دریا سوکھ رہے ہیں لیکن ہم صرف بیانات کی حد تک محدود ہیں کو ئی عملی اقدام نہیں کر پا رہے جس سے بھارت کے حوصلے بلند ہو رہے ہیں اور ان حوصولوں کو مزید تقویت وہ عالمی طاقتیں دے رہی ہیں جو عالم اسلام سے خوف رکھتی ہیں اس لئے بھارت ہو یا اسرائیل اب جنازوں پر فائرنگ کر کے انسانی حقوق کی پا مالی کرتے ہیں اور اس کے جواب میں ان کے حکمران اپنے فو جیوں کو میڈل دینے کی بات کرتے ہیں مگر عالمی سطح پر اس ظلم و بر بریت کے خلاف کو ئی آواز نہیں اُٹھتی کیو نکہ مسلم ممالک خود اپنی بقا ء کی جدو جہد کر رہے ہیں اس لئے کشمیر ہو یا فلسطین یا پھر کو ئی بھی جدو جہد آزادی کی تحریک سب اپنے رب کے بھروسے پر اپنی جدو جہد کو جاری رکھے ہو ئے ہیں اور کسی بھی لمحے ان تحریکوں کے قائدین اور عوام میں کو ئی ما یو سی نہیں پا ئی جاتی روز شہیدوں کے جنازے اُٹھانے اور تمام تر ظلم و تشدد کے باوجود ان لو گوں کے حوصلے بلند ہیں کشمیری پاکستان کی شہ رگ کی حفاظت کے لئے جان کی بازی لگا رہے ہیں تو دوسری طرف فلسطینی قبلہ اول کی آزادی کے لئے ٹینکوں اور جدید ہتھیاروں کا مقابلہ جذبہ ایمانی کے زریعے پتھروں سے کر رہے ہیں لیکن انسانی حقوق کی تنظیمیں خا موش تماشائی پوری دنیا میں مسلمانوں کے خون کو بہتا دیکھ رہی ہیں کیو نکہ مسلم ممالک ہی خاموش ہیں کیو ں نہ خا موش ہوں جب اسرائیل یہ کہتا ہو کہ ہمارے کئی عرب ممالک سے خوشگوار تعلقات ہیں تو ایسا تو ہونا ہے اسی لئے ہمارے کسی سینیٹر نے کہا تھا کہ جو اسلامی ممالک کو کا کولا کا بائیکاٹ نہ کر سکیں وہ اسلام دشمن طاقتوں کا مقا بلہ کیسے کریں گے
کشمیر یوں کا قتل عام ہو یا فلسطینیوںکا قتل عام یا دنیا میں کہیں بھی مسلمانوں کا خون بہایا جائے یا پھر انسانی حقوق سے محروم کر دیا جائے کو ئی اس ظلم پر آواز بلند نہیں کرتا کیو نکہ جب تک عالم اسلام کے حکمران خود ان مظالم کے خلاف آواز بلند نہیں کریں گے اور ایک اتحاد کی شکل میں جمع نہیں ہوں گے یہ ظلم کا سلسلہ کبھی ختم نہیں ہوگا مسلم ممالک نے ایک تنظیمOIC کے نام سے بنائی تھی لیکن اس تنظیم نے بھی صرف زبانی جمع خرچ کے سواء کچھ نہیں کیا اور اب تو پوری دنیا میں مسلمان پہلے سے زیادہ ظلم و ستم کا شکار ہیں لیکن OIC کا کو ئی اجلاس نہیں بلایا جاتا کیو نکہ اب مسلم ممالک کے حکمران اپنی حکمرانی یا اپنے اقتدارکے لئے عالمی طاقتوں کی طرف دیکھتے ہیں یعنی زید بن رعد نے صحیح کہا ہے کہ جی حضوری کر نے والے اپنی فکر کرتے ہیں انہیں عوام اور مسلمانوں سے کو ئی غرض نہیں ہو تی اسی طرح اسلامی فوجی اتحاد اور OICکا مسلم امہ پر ہو نے والے مظالم کو رکوانے میں کو ئی کردار نظر نہیں آتا آخر اس کی وجہ کیا ہے OIC کے حوالے سے سینیٹ کے ایک اجلاس میں اُس وقت کے چیئرمین سینیٹ رضا ربانی نے کہا تھا کہ OIC تقریباً ختم ہو چکی ہے اسی طرح ایک اسلامی فوجی اتحاد کے قیام پر بھی خیال کیا جا رہا تھا کہ اس طرح اسلامی ممالک ایک پلیٹ فارم پر متحد ہو کر اُمت کے مسائل کے لئے کچھ کریں گے لیکن دیکھا یہ جا رہا ہے کہ اُمت مسلمہ کے مسائل میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے اور اُمت مسلمہ جن تنظیموں اور اتحاد کے ساتھ اسلامی ممالک سے اُمیدیں لگائے بیٹھی ہے وہ وقت گزرنے کے ساتھ غیر مو ثر ہو رہے ہیں یہی وجہ ہے کہ ظلم وستم کے شکار ممالک اقوام متحدہ کی طرف ہی دیکھنے پر مجبور ہیں لیکن اقوام متحدہ کی تاریخ مسلمان ممالک اور ان کے مسائل کے حل کے لئے وعدہ خلافیوں سے بھری پڑی ہے یہی وجہ ہے کہ کشمیریوں کو حق خود ارادیت دینے کے لئے اقوام متحدہ نے کو ئی عملی قدم نہیں اُٹھایا کہ جس سے دو ممالک کے درمیان تنازع حل ہو سکے جبکہ اب بھارت کے اندر سے بھی یہ آواز اُٹھ رہی ہے اس حوالے سے پہلے کا نگریس کی رہنما سو نیا گا ندھی اور اب کا نگریسی حکومت کے سابق وزیر خزانہ جدم برم نے بھی مقبو ضہ کشمیر کو مکمل خود مختاری دینے کا مطا لبہ کیا ہے لیکن افسوس اپنے حکمرانوں پر ہو تا ہے کہ جو کشمیر کے مقدمے کو صحیح طریقے سے اب تک اقوام عالم میں پیش نہ کر سکے شاید ہمارے حکمران مسئلہ کشمیر کے حل کے حوالے سے مایوس ہو چکے ہیں یا پھر زید بن رعد کے مطابق جی حضوری والا معا ملہ ہے پاکستانی حکمران مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے مذاکرات پر زور دیتے ہیں مگر سابقہ سفارتی کار کردگی کو دیکھا جائے تو جو حکمران مذاکرات کے ایجنڈے سے کشمیر کا لفظ ہی نکال دیں ان سے کیا توقع رکھی جا سکتی ہے کہ وہ کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم پر آواز بلند کریں گے ہمارے سفارتی ما ہرین کی نا اہلی کی وجہ سے ہی آج مسئلہ کشمیر حل نہیں ہو سکا ہے یہ کیا ستم ضریفی ہے کہ مذاکرات سے قبل ہی بھارت کی شرائط کو تسلیم کر لیا جائے کہ ہمارا سفارتی وفد کشمیری قیادت سے ملاقات نہیں کرے گا وہ کشمیری قیادت اور عوام جو پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگاتی ہے اور جو لوگ کشمیر بنے گا پاکستان کہتے نہیں تھکتے جہاں کی عوام بچے بو ڑھے جوان مرد عورت سب آزادی کے لئے پاکستان سے محبت کا اظہار کرتے ہیں اور پاکستان کا جھنڈا مقبو ضہ وادی میں لہراتے ہیں اُن کو ہی مائنس کر دیا جائے یہ ہماری بد قسمتی ہو گی جب ہم کشمیر کے مسئلہ کو حل کر نے کے لئے کشمیری قیادت کو چھوڑ کر خود کو ئی فیصلہ کرنا چائیں گے تو اس میں کو ئی برکت نہیں ہو گی۔

حصہ