حملے اور سوشل میڈیا

138

پچھلے ہفتے وائرل ہونے والے ایک خط Punish a Muslim پر برطانیہ میں لیے گئے حکومتی اقدامات پر ذرائع ابلاغ نے یہی بتایاکہ ایسا کوئی دلخراش واقعہ رونما نہیں ہوا۔ جواباً Love a Muslim Day بھی متعارف کرایا گیا، لیکن دی گارجین کے تجزیے میں واضح طور پر لکھا گیا کہ اسلاموفوبیا کے مقابلے پر اس کا کوئی مثبت اثر سامنے نہیں آئے گا۔ اگلے دن ہی آئرلینڈ میں Resist Islamisationکے عنوان سے ایک پمفلٹ بڑی تعداد میں پوسٹ بکس سے برآمد ہوا۔ جنریشن سپارٹا نامی گروپ نے Defend our Nationکی ٹیگ لائن کے ساتھ اس ہینڈ بل کو تقسیم کیا ہے۔ اس واقعے نے مقامی آبادی میں اتنا سخت تناؤ پیدا کیا کہ بی بی سی نے اس اسٹوری کو رپورٹ کیا۔ مقامی پولیس کی تحقیقات جاری ہیں۔ بہرحال آگے بڑھتے ہیں۔
ہمیں یہ ہفتہ سماجی میڈیا پر مختلف حملوں پر تجزیوں، تبصروں اور احساسات سے بھرا نظر آیا۔ سماجی میڈیا کی ایک معروف ترین ’کماؤ‘ ویب سائٹ یوٹیوب کے مرکزی دفتر سین برونو، کیلی فورنیا پر حملے سے بات شروع کرتے ہیں جس نے یوٹیوب کے ویڈیو میکرز اور کمپنی کے درمیان تناؤ کو نمایاں کیا۔ یہ حملہ سان ڈیاگو کی رہائشی ایک 39سالہ ایرانی خاتون نسیم نجفی اغدام نے کیا۔ سماجی میڈیا اور ویب سائٹ پر دستیاب رپورٹس کے مطابق اس خاتون کے اندھادھند حملے میں تین افراد شدید زخمی ہوئے اور پھر اُس نے خود کو گولی مارکر خودکشی کرلی۔ اس عمل کا مقصد اب تک یہی رپورٹ ہوا کہ نسیم سماجی میڈیا پر خاصی متحرک تھی اور اُس کا یوٹیوب چینل اُس کی آمدن کا ذریعہ بھی تھا۔ اُس کو یوٹیوب کی ویڈیو فلٹرنگ پالیسی پر اعتراض تھا، جس کی وجہ سے اُس کی آمدن متاثر ہورہی تھی۔ وہ اس حوالے سے یوٹیوب پر کئی رپورٹس اور ڈسکشن کے باوجود اُن کی پالیسی پر سخت نالاں تھی۔ امریکا میں بھی یہ موضوع خاصا زیربحث رہا ہے کہ 2005ء میں قائم ہونے والی اس ویب سائٹ جسے گزشتہ سال گوگل نے خرید لیا اور دنیا بھر سے آزاد دورانیہ کی ویڈیو اَپ لوڈ کرنے کی سہولت فراہم کر ڈالی، نئے فیچرز کے ساتھ یوٹیوب نے اشتہارات اور ویوز کی بنیاد پر ویڈیو اَپ لوڈرز کو جو آمدن دینا شروع کی، اُس کے نتیجے میں کئی سیلیبریٹیز نے بھی جنم لیا۔ یہ کہا جائے کہ ویڈیو بلاگرز کی صنف نے اسی کی کوکھ سے جنم لیا تو شاید غلط نہ ہوگا، بہرحال جب کسی کی آمدن کم ہوئی تو اُس نے یوٹیوب کی ہر کچھ عرصے میں بدل جانے والی پالیسیوں پر نظرثانی کی کوشش کرائی۔ نسیم کی کوشش اس حوالے سے ایک انتہائی قدم قرار پائی۔ ماہرین نے اس تناظر میں بتایا کہ اس سے قبل یوٹیوب نے دس ہزار ویڈیو ویوز کی بنیاد پر آمدن کا سلسلہ شروع کرایا تھا، مگر اب اُس نے ایک سال میں ویڈیو واچ ٹائم 4000گھنٹے اور 1000سبسکرائبرز کی شرط رکھی ہے۔
آگے بڑھتے ہیں اور عالمی ذرائع ابلاغ کی ایک جھلک دیکھتے ہیں۔ رائٹرز نے اس واقعے پر یہ سرخی لگائی: ’’ویڈیو بلاگر جس نے یوٹیوب پر فائرنگ کی، کمپنی پر غصے تھی، پولیس کا بیان‘‘۔ اسی طرح بی بی سی نیوز نے اس واقعے پر اپنی ویب سائٹ پرجو سرخی لگائی وہ یہ تھی: ’’یوٹیوب فائرنگ، خاتون ملزم ویڈیو پوسٹنگ پر غصہ تھی‘‘۔ ٹوئٹر پر یوٹیوب و سماجی میڈیا کے دیگر اسٹارز نے اس پر حیرت، دکھ اور غصے پر مبنی ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے پاگل پن قرار دیا۔ یہ اہم بات ہے کہ کسی نے اس کے مسلم ایشیائی ہونے پر تنقید نہیں کی، البتہ اس ضمن میں امریکا میں گن کنٹرول پر دوبارہ بات کی گئی۔ کچھ نے حکومتی لاپروائی کو نشانہ بنایا، کیونکہ امریکا میں گزشتہ ڈیڑھ سال میں یہ کوئی بیسواں واقعہ تھا۔ اسی طرح امریکی صدر نے بھی ٹوئٹر پر اپنے خیالات اور دعائیں اس حملے کے متاثرین کے نام کیں اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کا شکریہ بھی ادا کیا۔
امریکی صدر پر بات اس لیے ختم کی کہ وہ ’انسانیت‘ کے نام نہاد علَم بردار سماجی میڈیا پر چھوٹے سے چھوٹے واقعے پر بھی اپنا ردعمل دیتے ہیں، مگر فلسطین، برما، شام، کشمیر، افغانستان میں مستقل بہتے ہوئے مسلم لہو پر مستقل خاموشی ان کے دونوں ٹوئٹر اکاؤنٹس پر اب بھی طاری ہے۔ حملوں کی تفصیل یوں تھی کہ اس ہفتے (گزشتہ اتوار) ناپاک اسرائیلی افواج نے غزہ میں نہتے فلسطینی مسلمانوں پر اندھا دھند وحشیانہ فائرنگ سے ڈیڑھ ہزار مسلمان زخمی اور 17شہید کردیئے۔ یہ سلسلہ ویسے تو روزانہ ایک دو، ایک دو کے طور پر پورے فلسطین میں جاری ہی تھا مگر اس تازہ لہر نے سوشل میڈیا پر بھی خاصا شور برپا کردیا۔ یہ سلسلہ حسبِ پالیسی رکا نہیں۔ غزہ واقعے پر احتجاج اور یہودیوں کی آنے والے دنوں میں مذہبی رسومات کے نام پر یہودی افواج نے مزید قتل عام کا بازار غزہ سے بیت المقدس اور ہیبرون تک وسیع کرڈالا۔ یہ سب خبریں سوشل میڈیا کی بدولت ہی کسی تصویر، ہیش ٹیگ، ویڈیو یا پوسٹ کی صورت شیئر ہوتے ہوتے پہنچتی رہیں۔ پاکستانی الیکٹرانک میڈیا نے بھی فلسطینی مسلمانوں پر تازہ یہودی مظالم کو نمایاںکیا۔ دوسری جانب برما سے مزید کئی مسلم آبادیوں (گاؤں) پر بودھ بھکشوؤں کے حملوں کی تازہ خبریں بھی آئیں، جن میں سے ایک ٹوئٹ پیش ہے:
A Rohingya Imam was brutally attacked by a Rakhine extremist in NaGaRa village tract, Minbya Township.
شام تو ویسے ہی لہو رنگ ہوچکا ہے، مقبوضہ کشمیر میں بھارتی درندہ افواج نے 19 نہتے کشمیری مسلمانوںکی شہادت سے کشمیری مسلمانوں کے جذبۂ آزادی کو مزید جِلا بخشی۔ سوشل میڈیا کے ذریعے ابلاغ کی بدولت مقبوضہ کشمیر بھارتی درندگی کی بدترین مثال بنا ہوا ہے، اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو بھی اس پر بیان دینا پڑ گیا۔ دکھ تو ہماری کشمیر کمیٹی کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے اس حوالے سے پوچھے گئے ایک جواب پر ہوا۔ اُن کا پریس کانفرنس میں صحافی کو یہ جواب کہ ’’کیا بھارت پر حملہ کردوں؟‘‘ سماجی میڈیا پر غیر سنجیدہ قرار دیا گیا اور اسے سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ حکومتِ پاکستان اور آرمی چیف نے بھی کشمیر میں جاری بھارتی مظالم کی بھرپور مذمت کی اور 6 اپریل کو کشمیریوں سے اظہارِ یکجہتی کا دن منانے کا سرکاری اعلان بھی کیا۔ اسی دوران کشمیری خاتون حریت رہنما آسیہ اندرابی کا ایک وائس میسج بھی بہت وائرل رہا جس میں انہوں نے امت کی سوئی ہوئی غیرت و حمیت کو جگانے کی کوشش کی اور بھارتی مظالم کا پردہ چاک کیا۔ یہ معاملہ چل ہی رہا تھا کہ افغانستان کے شہر قندوز میں امریکی فورسز کی جانب سے ایک مدرسے پر ہوائی حملہ کیا گیا۔ مدرسے میں اُس وقت تکمیل حفظِ قرآن کی تقریب جاری تھی، مختلف رپورٹس کے مطابق لگ بھگ ڈیڑھ سو حفاظ بچے اس حملے میں جام شہادت نوش کرگئے۔ سبکی سے بچنے کے لیے مغربی میڈیا یہ راگ الاپتا رہا کہ وہاں کوئی طالبان کمانڈرز بھی تھے۔ سوشل میڈیا پر عوامی بیانیے نے پے درپے ان حملوں کے بعد یکسر سارے مغربی بیانیوں کو رد کرتے ہوئے امریکا، اسرائیل، بھارت کو براہِ راست مسلم دشمنی سے جوڑ کر جو ہوسکتا تھا وہ کیا۔ اس حوالے سے پاکستانی الیکٹرانک میڈیا کی روایتی غیر سنجیدگی کو بھی خوب آڑے ہاتھوں لیا گیا۔ تحریک انصاف کے سربراہ کے ایک نجی عمل کو بریکنگ نیوز بنانے پر عارف ہاشمی لکھتے ہیں: ’’کشمیر کی بہنیں بھول، قندوز کا رونا چھوڑ، مسلم کا خون فضول، عمران کا کتا دیکھ، میری صحافت دیکھ، صحافت کا معیار دیکھ‘‘۔ اسی طرح لبرل اور سیکولر حضرات کے بیانیے کو بھی خوب رگڑا دیا جاتا رہا، کیونکہ اُن کے مطابق (تمام بیانیوں کا مجموعہ) ’’ایسے معصوم بچوں کو اس وقت مار دینا ہی بہتر تھا کیونکہ وہ آگے چل کر سیکڑوں معصوم شہریوں پر خودکش بمبار بن کر نکلتے، یا کسی اے پی ایس کا سبب بن جاتے، یا بچے کم تھے تصاویر جعلی ہیں، بڑے بڑے طالبان کمانڈر وہاں چھپے ہوئے تھے‘‘۔ نوفل ربانی انسانیت کے ایسے تمام علَم برداروں کو پکارتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’ارے او جاگتی لاشو! سنتے ہو یہ آہ وبکا۔ دل کیوں نہیں دہلتے تمہارے؟ اس لیے کہ شہید ہونے والے دینی مدرسے کے طلبہ تھے۔ ہائے میرے بچے! دنیا ان معصوموں کے بارے میں کتنی منافق ہے۔ میرے مدرسے کے ان پھول بچوں کی موت کا اتنا بھی حق نہیں کہ ایک خبر بن سکے یا ٹاک شو ہوسکے!کسی آنکھ میں ان کے نام کا آنسو نہیں، کسی منہ میں ان کے ساتھ اظہارِ افسوس کے لیے لفظ نہیں۔ اُن ماؤں کے ارمانوں پہ کیا گزری ہوگی۔ ڈمہ ڈولہ سے لال مسجد اور تعلیم القرآن سے قندوز تک، اڈیالہ سے بہاولپور تک نمبر ون سے لے کر نمبر دس تک عقوبت خانوں سے جیلوں تک سب مالک الملک دیکھ رہا ہے، ایک دن تو اللہ رسّی کھینچے گا۔ میری افغان ماں تُو کیوں روتی ہے، تیرے پھول تو جنت میں کھلے ہیں۔ ایک دن آئے گا، جب ٹیکنالوجی ہارے گی، ایمان جیتے گا۔ نہ مدرسہ بند ہوگا، نہ قرآن کی دعوت ختم ہوگی، نہ شریعت کی آواز دبے گی، نہ اذان بند ہوگی… خونِ شہید ہے، رنگ لائے گا‘‘۔ انصار عباسی ٹوئٹ کرتے ہیں: ’’بھارت میں سلمان خان کی 5 سال جیل کی سزا اور سری دیوی کی موت پر گھنٹوں ماتم کرنے والے ہمارے ٹی وی چینلز بہت غمگین ہیں، لیکن قندوز کے مدرسے میں 150 سے زیادہ معصوم بچوں کی شہادت کے سانحے کے لیے ان کے پاس وقت نہیں۔ اگر یہ ظلم یورپ و امریکا میں ہوتا تو دیکھتے کہ یہ چینل کیا کرتے‘‘۔ اسی طرح روزنامہ ایکسپریس کی سرخی بھی خاصی تنقید کا نشانہ بنی۔ عاطف توقیر لکھتے ہیں: ’’قندوز حملے پر مولوی حضرات، جماعتی دوستوں اور مذہبیوں کی جانب سے روشن خیال اور لبرل طبقے سے جس تعداد اور شدت سے مذمت کی درخواستیں، اپیلیں اور مطالبات کیے گئے ہیں، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قدامت پسند، انسانی حقوق کی کسی خلاف ورزی پر دیکھتے روشن خیال افراد کی طرف ہی ہیں‘‘۔ اقرارالحسن معروف ٹی وی اینکر ہیں، اُن کا مؤقف بھی اس حوالے سے یہ رہا کہ ’’قندوز سے دل دہلا دینے والی تصاویر اور مناظر، امن کے نام پر بھیانک کھیل کھیلتی سپر پاورز کا اصل چہرہ بے نقاب کررہے ہیں۔ دہشت گردی ختم کرنے کے نام پر دہشت گردی آخر کب تک؟‘‘ انور لودھی اپنی ٹوئٹ میں لکھتے ہیں کہ ’’ملالہ کو امن کا اعلیٰ ترین ایوارڈ دینے والوں کی اصلیت دیکھنی ہو تو قندوز میں ڈیڑھ سو معصوم بچوں کی لاشیں دیکھ لیں‘‘۔ آخر میں سب سے زیادہ وائرل ہونے والی صہیب جمال کی تحریر اور آواز میں ایک نظم ’’سنا ہے قندوز میں بچے مررہے ہیں‘‘، جس کی ویڈیو پیشکش صرف راہ ٹی وی کے ایک پیج پر 24 گھنٹوں میں ایک ملین ویوز تک جا پہنچی:

سنا ہے قندوز میں
بچے مرے ہیں
مجھے سری دیوی کاغم ہے
اسٹیفن پہ آنسو بہا رہا ہوں۔
دونوں کو جنت لے جانا چاہ رہا ہوں
مگر خونِ مسلم بہت ارزاں ہے…
تم کیوں غمگین ہو
مجھے دیکھو کن پر آنسو بہا رہا ہوں
چھوڑو ناں وہ توحافظ بچے تھے
کون سا کیمبرج میں پڑھتے تھے
انہیں کون سا انجینئر بننا تھا
یہ کیا خاک ڈاکٹر بنتے
ارے چھوڑو
یہ کون سے کسی ماں کے لعل ہوں گے
ان کی بہنوں کے تو بہت سے بھائی ہوں گے
میں فرانس پر روتا ہوں…
میں گورے شکل سے نہیں
گوروں کے بچوں پر روتا ہوں
افسروں کے بچوں پہ روتا ہوں
چپ کرو یہ اپنا رونا دھونا
اس سے میرے گیتوں کی تال بگڑ رہی ہے
رقص میں ڈوبی چال بگڑ رہی ہے
کوئی بہت رو رہا ہے
مجھے کیا! …سنا ہے
قندوز میں بچے مرے ہیں

حصہ