ملالہ اور سوشل میڈیا

114

اس ہفتہ اسلامو فوبیا پر مبنیدوایشوز سوشل میڈیا پر زیر بحث نظر آئے جن میں ایک تو یورپ میں ’’پنش اے مسلم ڈے ‘‘Punish a Muslim Day سے شروع ہوا۔اس کا آغاز سوشل میڈیا پر پھیلائے گئے ایک خط کی صورت ہوا جو بنیادی طور پر ایک دعوت نامہ تھا کہ 3اپریل کادن مسلمانوں کو سزا دینے کے حوالے سے منایا جائے گا۔اس ضمن میں کئی ایسے کام باقاعدہ ترتیب دیئے گئے تھے جن کے کچھ پوائنٹس تھے یعنی کسی مسلمان پر جملہ کسنا، کسی کو مارنا، تیزاب پھینکنا اور مزید ناقابل بیان ۔یورپ میں یہ خط بھرپور وائرل رہا اور اس پر کچھ ایکشن لینے کے اقدامات بھی نظر آئے ،کچھ جگہوں سے مسلمانوں پر حملوں کی خبریں بھی آئیں۔بہر حال یہ تو تین تاریخ کو ہی اندازہ ہوگا کہ اس کا کتنا اثر ہوا؟اسی طرح بھارتی ریاست بہار کے شہر سمستی پور میں ایک مسجد پر مقامی ہندو حملہ آور ہوئے اور اسکے بعد وہاں فسادات پھوٹ پڑے۔خیر فسادات تو یکطرفہ جانبدارانہ رپورٹنگ کی ایک اصطلاح ہے اصل میں تو مسلمانوں کو ایک بار پھر بی جے پی کی اصل مسلم دشمن پالیسی کا عملی نشانہ بننا پڑا۔
زینب کیس کے بعد تواتر سے خواتین کے ساتھ زیادتیوں کی خبروں کا سلسلہ ایک بار پھر سوشل میڈیا پرفیصل آباد کی کینال سے بیس سالہ طالبہ کی لاش سے نمودار ہوا۔گورنمنٹ کالج یونیورسٹی میں ایم اے انگریزی کی طالبہ عابدہ کے ساتھ اغواء کے بعد زیادتی اور قتل کی لرزہ خیز واردات پر گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کے طلباء و طالبات نے پنجاب انتظامیہ کے خلاف بھر پور آواز بلندکی۔’’ جڑانوالہ فیصل آباد میں طالبہ عابدہ کو اغوا کے بعد زیادتی کا نشانہ بنایا گیا اور قتل کر کے لاش گندے نالے میں پھینک دی گئی۔انصاف کے لیے دہائیاں دیتا رابعہ کا باپ قوم سے یہ سوال بھی پوچھ رہا ہے کہ کیا صرف ملالہ اور مریم نواز ہی قوم کی بیٹیاں ہیں؟‘‘جسٹس فار عابدہ کے عنوان سے ٹوئٹر پر مستقل مہم جاری ہے ، لوگ اسے زینب کے کیس سے جوڑتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ’’ معصوم زینب نے اپنی جان دے دی مگر یہ قوم نہیں اٹھ سکی اور اب معصوم عابدہ کے ساتھ جو رانا ثناء اللہ کے مقامی حلقہ میں ہونے والا یہ واقعہ خوف و دہشت کی علامت بن گیا ہے ۔عوام کب تک ان جنسی درندوں سے اپنا تحفظ کر سکیں گے ۔‘‘
اسی طرح کراچی میں گرمی کی تازہ لہر کے نتیجے میں کے الیکٹرک نے روایتی بدترین لوڈ شیڈنگ کا دوبارہ آغاز کیا جس کا نوٹس وفاقی حکومت نے بھی لے لیا ،جماعت اسلامی بھی احتجاجی میدان میں دوبارہ پریس کانفرنس کے ساتھ نمودار ہو گئی ۔سوشل میڈیا پر عوام نے دل کھول کر کے الیکٹرک کو گالیاں دیں ،پہلے تو کے الیکٹرک نے گیس کی کمی کا بہانہ بنایا تاہم چند منٹ بعد ہی سوئی گیس نے وضاحت کر دی کہ گیس کی کمی کا کوئی مسئلہ نہیں ۔
پی ایس ایل کا بخار تو قوم سے اتر گیا مگر اس کے ساتھ ہی پاکستان اور ویسٹ انڈیز کی ٹی ٹوئنٹی سیریز وہ بھی کراچی میں ہونے کا اعلان بھی شائقین کرکٹ کے لیے خوشی کا پیغام لایا جس کا اظہار نیشنل اسٹیڈیم کراچی کے ٹوئٹر ٹرینڈ لسٹ میں نمودار ہونے سے ظاہر ہوا۔ساتھ ہی اس ہفتے ایک خاص ایجنڈے پر مبنی پاکستان فلم فیسٹیول کا کراچی میں انعقاد بھی غالباً کسی پیڈ مہم کا حصہ بن کر ٹرینڈ لسٹ میں نمودار ہوا۔
سب سے زیادہ زیر بحث موضوع پر چلتے ہیں یعنی ملالہ ، جو پاکستان میں ملالہ یوسف زئی کی پاکستان آمد خود ایک بڑا موضوع بنی رہی۔ عائشہ غازی صاحبہ اس حوالے سے لکھتی ہیں کہ ”وہ ملالہ جس کے منہ سے نکلا ہر لفظ پہلے اس کے آقا کی جانچ پڑتال سے گزرتا ہے، وہ پاکستان بغیر اجازت بغیر ایجنڈے کے آئی ہے کیا؟لگتا ہے اب ڈائرکٹر اور سکرپٹ رائٹر نے طے کیا ہے اس کہانی کا اگلی قسط آن ائیر کی جائے۔’‘‘ویسے تو اُن کے کارنامے روز اول سے ہی سوشل میڈیا کی زینت بنے رہے ہیں مگر کوئی ساڑھے پانچ سال کے وقفے کے بعد اُن کی پاکستان آمد کو ایک بار پھر سوشل میڈیا کا بھر پور موضوع بننا پڑا۔ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ کی صورت وہ چھائی رہیں اس میں اُنکے ساتھ اہل پاکستان بلکہ دنیا بھر سے اُن کے چاہنے والوں، قدر دانوں، پشتی بانوں کے ساتھ اُن کے نقاد بھی دل کھول کر بھڑا س نکالتے رہے۔ سب سے پہلے تو موصوفہ کی ایک تصویر جس میں وہ ملعون سلمان رشدی کے ہمراہ کھڑی تھیں وہ خوب وائرل ہوئی۔یہ بات میں نے پہلے بھی کہی تھی کہ سوشل میڈیا گڑے مردے اکھاڑ کر بھولی یادوں کو تازہ کرنے یا پرانے زخم تازہ کرنے کا بھی زبردست کام انجام دیتا ہے۔وہ جو کہتے ہیں نا کہ وقت بڑا مرہم ہوتاہے یہ اُس وقت کو ایک تصویر، ایک اسکرین شاٹ ایک ویڈیو کی مدد سے ایسا پیچھے دھکیلتا ہے کہ بس مت پوچھیں۔ویسے آپ بھی دیکھتے ہونگے کہ یہ فیس بک کا ایک فیچر ہے کہ وہ ایک سال دو سال گزرنے کے بعد پرانی تصاویر آپ کی ٹائم لاین پر نمودار کرتا ہے اور یاد دلاتا ہے کہ یہ آپ کی ایک یا دو سال پہلے کی ایک تصویر ہے جو آپ نے اپنی ٹئم لاین پر لگائی تھی۔اسی طرح فیس بک فرینڈ کی میعاد ایک سال یا دو سال یا زائد مکمل ہونے پر بھی یاد دلاتا ہے کہ یہ صاحب آپ کے اتنے سالوں سے فیس بک فرینڈ ہیں۔ تو یہ تھا ماضی میں جھانکنے کا ایک سوشل میڈیا کا فیچر۔واپس چلتے ہیں ملالہ کی آمد پر اٹھنے والے شور کی جانب ، ملالہ کی آمد پر کیے جانے والے تبصروں اور سماجی میڈیا کی پوسٹوں میں مجھے ایک نمایاں پوسٹ یہ لگی جو کہ ایک مقامی نیوز چینل پر نشر ہونے والی ایک خبر کے اسکرین شاٹ پر مبنی تھی کہ آل پاکستان پرائیوٹ اسکول ایسو سی ایشن نجی اسکولز کی ایسو سی ایشن نے یوم سیاہ am not Malala Iکے عنوان سے دن منانے کا فیصلہ کیا ہے۔ایک اور سوال بھی گردش کرتا نظر آیا کہ ”آپ ملالہ سے نفرت کرتے ہیں یا حسد کرتے ہیں؟” ایک اور پوسٹ میں ملالہ کی تصویر کو شرمین عبید کی تصویر کے ساتھ یہ کیپشن دیا گیا کہ یہ دو خواتین ہیں جنہوں نے ڈالروں کے بدلے پاکستان کا منفی چہرہ دکھایا۔ یہ بات ملالہ کی کتاب آئی ایم ملالہ اور شرمین کی دستاویزی فلموں کے تناظر میں کہی گئی۔گو کہ ملالہ ایک مقامی چینل کو انٹرویو میں اس قسم کا اقرار کرچکی ہیں کہ’’اسے ابتدائی طبی امداد پاک آرمی کے ڈاکٹرز نے دی تھی اور آرمی ہیلی کاپٹر پر اسکو اسلام آباد شفٹ کیا گیا تھا اور اُس کا ایک کان اتنے علاج کے باوجود بھی متاثر ہے‘‘۔مزید یہ کہ اسکے واقعہ کے کچھ عرصہ بعد آئی ایس پی آر نے ان طالبان کو پکڑنے اور انکے اقرار کے متعلق پریس بریفینگ بھی دی تھی، تاہم لوگ اب بھی اُس کی وہ تصاویر شیر کرتے نظر آئے جس میں علاج کے بعد اُس کا بغیر ٹانکے، زخم والا چہرہ یہ سوال پیدا کر رہا تھا کہ اس پر علاج اور گولیوں کے نشان کیوں نہیں؟پاکستانی عوام نے مجموعی طور پر سوشل میڈیا پر ملالہ یوسف زئی کے اقدامات کو اسلام، پاکستان،پاکستان کی نظریاتی اساس اور پشتون روایات کے بھی متضاد قرار دیا ہے۔
اس میں ایک مزے دار بات یہ بھی ہوئی کہ الیکٹرانک میڈیا نے ملالہ کی آمدکو یوں رپورٹ کیا کہ سیکیورٹی معاملات کے پیش نظر ملالہ یوسف زئی کی آمد کو خفیہ رکھا گیا ہے، دوسری جانب سوشل میڈیا پر ملالہ یوسف زئی کے امارات ایئر لائن کی ٹکٹ بکنگ کا عکس بھی میسر ہو گیا جس میں اُن کی آمد کی تمام تفصیلات درج تھیں۔فیض اللہ خان نے اس حوالے سے ”خوش آمدید ملالہ ”کے عنوان سے ایک جامع تبصرہ کیا اور معتدل راہ اختیار کرنے کا مشورہ دیاجس کے مطابق ان کا کہنا ہے کہ ”ذاتی حیثیت میں، ملالہ یوسف زئی اور فیملی میری محسن ہے۔ جلال آباد کے زندان سے رہائی میں ملالہ کی کاوشیں میں ساری عمر نہیں بھلا سکتا۔ ملالہ پہ ہونے والا حملہ کسی ابہام اگر مگر چونکہ چناچہ کے بغیر نہ صرف قابل مذمت تھا بلکہ ظلم عظیم بھی۔لیکن عالمی سطح پہ اس پذیرائی کی واحد وجہ یہ تھی ملالہ کو اسلامی شناخت رکھنے والوں نے قتل کرنے کی کوشش کی ورنہ ہمارے خطے میں ہزاروں ملالائیں امریکی حملوں میں ماری گئیں مگر وہ اپنی ڈائری سمیت جل کر بھسم ہوچکی ہیں اور انکے بارے میں گفتگو کبھی بھی ” پاپولر ” نہیں رہی۔مغرب کی جانب سے ملالہ یوسف زئی کی شخصی تعمیر بہت سے صائب رائے افراد کو کھٹکتی ہے فطری امر ہے اس ضمن میں ماضی کے تجربات تلخ ہی ہیں۔ایک مؤثر طبقے کا خیال ہے کہ ملالہ پاکستان کی وزیراعظم بنے گی اور اس ایجنڈے پہ کام ہورہا ہے، میری رائے ہے کہ (جو غلط ہوسکتی ہے) جب تک آپ معاشی طور پہ عالمی مالیاتی اداروں کے مقروض ہیں تب اگر مولانا فضل الرحمن بھی وزارت عظمی کے عہدے پہ پہنچ جائیں تو وہی کریں گے جو یہ ادارے چاہیں گے ایسے میں ملالہ کی کیونکر ضرورت رہے گی؟ ہاں یہ درست ہے کہ ملالہ کیساتھ معاملات میں انہیں زیادہ سہولت ہوگی رہی ایجنٹی تو اسلامی ممالک کی کم و بیش پوری سول و عسکری قیادت ان سے نیاز مندی کے مراسم رکھتی ہے ایسے میں صرف ملالہ کو نشانہ بنانا سمجھ سے باہر ہے۔ویسے بھی وزیراعظم بننے کے لئیے لازم ہے کہ ملالہ کسی سیاسی جماعت کو جوائن کرے۔میری رائے ہے کہ عالمی طاقتوں کے لئیے لازم نہیں کہ پاکستان میں ملالہ کو عہدہ دیا جائے انکے کام ویسے بھی ہوجاتے ہیں ہاں یہ ہے کہ عالمی سطح پہ ملالہ کی شخصیت جس طرح سے بن چکی اسے بڑے معاملات میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔ملالہ کی بابت اعتدال کا رویہ ہی مناسب ہے، غیر ضروری تائید یا مخالفت بہتر نہیں۔ویسے ملالہ سے جب پوچھا گیا کہ سوشل میڈیا پر آپ کے خلاف اتنا نفرت انگیز مواد کیوں ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ یہ تو اُن سے ہی پوچھیں ،میرا تو کسی سے کوئی پرسنل جھگڑا نہیں ، میرا تو صرف ایک ہی ایجنڈا ہے کہ پاکستان میں خواتین میں تعلیم عام ہو ، وہ تعلیم حاصل کر ے اور پاکستان کی ترقی میں اپنا کرداد ادا کر سکے۔‘‘
دوسری جانب صہیب جمال مجموعی تبصروں سے غالباً تنگ آکر ملالہ کی علمی خدمات کو ان الفاظ میں بیان کرتے نظر آئے کہ’’اس کے اسکول پر طالبان نے قبضہ کرلیا تھا اور وہ پڑھنے کے لیے بے چین تھی اکیلے اسکول پہنچ جاتی تھی اور دیواروں سے کہتی تھی مجھے پڑھاؤ اس کا باپ کیمرہ لے کر اس کے پیچھے پیچھے پہنچ جاتا تھا اور اس کی علم سے محبت کو فلم بند کیا کرتا تھا ایک دن حامد میر بھی پہنچ گیا اور خوب سارا انٹرویو لیا، حامد میر اس زمانے میں صرف سوات کے اسکولوں پر نظر رکھے ہوا تھا اگر تھوڑا سا سفر سندھ میں کرلیتا تو اس کو ہر اسکول میں وڈیرے کی اوطاق یا بھینسوں کا باڑہ مل جاتا۔پھر ملالہ کو طالبان نے گولی ماری جو اس کو بہت ہلکے سے زور کی لگی وہ موت اور زندگی کی کشمکش میں آ گئی اب اس کا علاج پاکستان میں ممکن نہیں رہا اس کو لندن لے جانا پڑا جہاں اس کا آپریشن کیا گیا یہ وہی آپریشن ہے جس کے بارے میں اشتہار لگے ہوتے ہیں ”نہ کٹ لگے، نہ ٹانکا گولی باہر، پتھری باہر، موتیا باہر، بواسیر باہر ” ملالہ کی عظیم عملی خدمات پر اس کو نوبل انعام دیا جاتا ہے کیونکہ نہ صرف پاکستان میں اس نے افریقہ میں بھی کم از کم یا کل ملا کر پانچ لاکھ اسکول تو بنائے ہوں گے جہاں ایک ارب بچے پڑھتے ہوں گے۔ملالہ کی سب سے اچھی بات یہ ہے اس کو مذہب اور پاکستان کے خلاف بہت اچھا بولنا آتا ہے اور اس وجہ سے وہ پاکستان کے لبرلز اور سیکولرز کی آنکھ کا تارا ہے، باقی جو لوگ مذہب اور پاکستان کے خلاف بولتے ہیں ہلکے ہیں ہلکا بولتے ہیں اس لیے ان کو اتنی اچھی پروجیکشن نہیں ملتی اس وجہ سے سلمان رشدی اور تسلیمہ نسرین ملالہ کو اپنی روحانی بیٹی مانتے ہیں اس کے ساتھ تصویر بنوانا اعزاز سمجھتے ہیں۔ملالہ اور عافیہ کے درمیان مقابلہ کرنے والے لبرلز اور سیکولرز سے گذارش ہے کہ وہ ملالہ کو یاد کرتے ہوئے عافیہ کو ضرور کوسیں ان کے فرقہ اور مذہب میں شاید حج برابر ثواب ہوتا ہے۔”

حصہ