فرعون کل اور آج

256

سید مہرالدین افضل
۔43واں حصہ
(تفصیلات کے لیئے دیکھیئے سُورة الاعراف آیات 127 تا 137اور متعلقہ حواشی)
فرعون کی ہر چال الٹی ہوگئی !!! وہ حضرت موسیٰؑ کے معجزے کو جادو ثابت نہ کر سکا ۔۔۔ اور نہ ہی جادو گروں کو ڈرا کر کسی سازش کا انکشاف و اقرار کروا سکا ۔ بلکہ ملک بھر کے چنے ہوئے ماہر فن، جادو گروں کے ایمان لانے کے بعد بری طرح ذلیل ہوا ۔۔۔لیکن تکبر کا دھوکا کھائے ہوئے لوگوں کو کسی شکست سے عبرت نہیں ملتی ۔۔۔ بلکہ وہ اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں اور ڈوب جاتے ہیں ۔ اب فرعون کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ ہی نہیں تھا کہ وہ بنی اسرائیل پر سختی کرے۔۔۔ تاکہ وہ موسی ؑ کا ساتھ چھوڑ دیں ۔ اس کے غضب کو اور بھڑکانے کے لیے اس کے درباری بھی موجود تھے جنہوں نے ا س سے کہا ” کیا تُو موسیٰ ؑاور اس کی قوم کو یونہی چھوڑ دے گا کہ ملک میں فساد پھیلائیں اور وہ تیری اور تیرے معبُودوں کی بندگی چھوڑ دیں ؟“ فرعون نے جواب دیا” میں اُن کے بیٹوں کو قتل کراوٴ ں گا اور اُن کی عورتوں کو جیتا رہنے دوں گا۔ ہمارے اقتدار کی گرفت ان پر مضبوط ہے۔“ اس صورت حال میں موسیٰؑ نے اپنی قوم سے کہا ” اللہ سے مدد مانگو اور صبر کرو۔۔۔ زمین اللہ کی ہے۔ اپنے بندوں میں سے جس کو وہ چاہتا ہے اس کا وارث بنا دیتا ہے۔ اور آخری کامیابی انہی کے لیے ہے جو اُس سے ڈرتے ہوئے کام کریں۔“یہ صبر کی تلقین کسی کے مر جانے ، یا قتل ہو جانے پر صبر کی عام تلقین نہ تھی۔بلکہ اس کا مطلب تھا کہ اس صورت حال میں دل شکستہ نہ ہو ۔ راہِ حق میں پوری استقامت دکھا ؤ اورحق کا دامن مضبوطی سے تھامے رہو ۔ جیسا کہ ابھی جادو گروں نے استقامت دکھائی !!! جب انہیں عبرت ناک سزا کی دھمکی دی گئی۔ تو انہوں نے اپنے ایمان کو مضبوطی سے تھامے رکھا اور اللہ سے صبر کی دعا مانگی۔ ایسا صبر جو اُن کے جسم کے رویں رویں پر چھا جائے اور سزا پر عمل درآمد تک اُن کے قدم نہ ڈگمگائیں اور دل میں کوئی ملال بھی نہ ہو۔ یہی وہ صبر ہے جو ہم اپنے بنگلہ دیشی بھایئوں میں دیکھ رہے ہیں !!! جو تختہ دار پر جاتے ہوئے بھی صبر و استقامت کی دعاوں کی درخواست کرتے ہیں کہ کہیں آخری سانس تک عزم میں کوئی کمی نہ آ جائے ۔ بنی اسرائیل کے پاس یہ موقع تھا کہ وہ موسی ؑ کا ساتھ چھوڑ دیں اور فرعون کے دربار میں معافی نامہ داخل کر دیں ۔ یہ موقع ہر فرعون اپنے زمانے کے موسیؑ کو تنہا کرنے کے لیے اہل ایمان کو دیتا ہے بڑے نصیب والے ہیں وہ لوگ جو اس موقع پر صبر کا مظاہرہ کرتے ہیں ۔ موسیٰؑ کا کہنا یہ تھا کہ اللہ سے مدد مانگو کیوںکہ مومن کے لیے اللہ ہی کافی ہو نا چاہیے ۔جہاں اس نے کسی اور سہار ے کی طرف دیکھا !!! تو اللہ اسے اسی کے حوالے کر دیتا ہے ۔ زمین اللہ کی ہے وہ جسے چاہے اس کا وارث بنائے ۔آج اگر فرعون اس زمین کا وارث بنا ہوا ہے، تو یہ بھی اللہ کے حکم سے ہے ، اور تمہارے امتحان کے لیے ہے۔ تم آزمائے جا رہے ہو تمہارے صبر کا امتحان ہے ۔ لیکن یہ بات یقینی ہے کہ آخری کامیابی ان ہی لوگوں کو ملتی ہے جو اللہ سے ڈرتے ہوئے کام کریں ۔یعنی ان کے ذہن میں ہر وقت یہ بات تازہ رہے کہ اللہ دیکھ رہا ہے اور ہمیں اسی کے پاس جانا ہے ۔ جیسا کہ ابھی جادو گروں نے ایمان لانے کے بعد کہا کہ ہمیں جانا تو اسی کے پاس ہے ۔ موسی ؑ کی اس تقریر کے بعد ان کی قوم کے لوگوں نے ان سے کہا کہ ”تیرے آنے سے پہلے بھی ہم ستائے جاتےتھے اور اب تیرے آنے پر بھی ستائے جارہے ہیں۔“ یعنی پہلے بھی ہم پر ظلم کی انتہا تھی ہمارے بیٹے قتل کیے جاتے تھے اور اب بھی یہی ہو گا؟ ہم تو تمہارے انتظار میں تھے کہ تم ہمارے نجات دہندہ بن کر آو گے ۔ تمہارے پیغمبر ہونے اور خدا کے تمہارے ساتھ ہونے کا ہمیں تو کوئی فائدہ نظر نہیں آتا! موسی ؑ نے کہا کہ ” قریب ہے وہ وقت کہ تمہارا ربّ تمہارے دشمن کو ہلاک کر دے اور تم کو زمین میں خلیفہ بنائے، پھر دیکھے کہ تم کیسے عمل کرتے ہو؟“ یعنی اللہ تعالیٰ تمہیں جلد زمین کا اقتدار دے گا اور یہ دیکھے گا کہ اقتدار پانے کے بعد تم فرعون اور جبار بنتے ہو یا خادم خلق بنتے ہو ،تم دوسری قوموں کو اپنے پاؤں تلے روندنے کی کوشش کرتے ہو یا انہیں بھی اپنے برابر حقوق دیتے ہو ۔ تم اپنے آپ کو قانون سے بالا تر بنا نے کی کوشش کرتے ہو یا سب کے لیے ایک ہی قانون اور ایک ہی جیسے حقوق رکھتے ہو ۔
فرعون نے اپنی طاقت کے گھمنڈ میں آ کر موسیٰؑ کی نشانیوں کو جھٹلایا اور جادو قرار دیا، ا س پر اللہ تعالیٰ نے اس کو فوراً نہیں پکڑا بلکہ سنبھلنے کا بہت موقع دیا اور اس کی طاقت کا گھمنڈ توڑنے اور اقتدار کا نشہ اتارنے کے لیے کئی سال تک قحط اور پیداوار کی کمی میں مبتلا رکھا ۔ مگر اُن کا حال یہ تھا کہ جب اچھا زمانہ آتا تو کہتے کہ ہم اِسی کے مستحق ہیں اور جب بُرا زمانہ آتا تو موسیٰ اور اس کے ساتھیوں کو اپنے لیے فالِ بد ٹھہراتے، حالانکہ در حقیقت ان کی فالِ بد تو اللہ کے پاس تھی ۔ مگر ان میں سے اکثر بے علم تھے۔ انہوں نے موسیٰؑ سے کہا تم ہمیں اپنے جادو میں پھنسانے کے لیے کوئی بھی نشانی لے آ ئو، ہم تمہاری بات ماننے والے نہیں ہیں۔ کبھی ! ان پر طوفان آیا کبھی! ان کی فصلوں پر ٹڈی دل نے حملہ کیا کبھی! ان کے جسموں میں جوئیں پڑیں اور اناج کو گھن لگ گیا کبھی خون برسایا گیا یہ بلائیں الگ الگ ان پر آتی رہیں ۔۔۔جب ان پر کوئی بلا آتی وہ موسیٰؑ کے پاس آتے اور کہتے ” اے موسیٰ، تجھے اپنے ربّ کی طرف سے جو منصب حاصل ہے اس کی بنا پر ہمارے حق میں دعا کر،اگر اب کے تُو ہم پر سے یہ بلا ٹلوا دےتو ہم تیری بات مان لیں گے اور بنی اسرائیل کو تیرے ساتھ بھیج دیں گے۔“ مگر جب ان پر سےاللہ اپنا عذاب ہٹا لیتا تو وہ اپنے عہد سے پھر جاتے۔ آخر کار اللہ نے اُن سے انتقام لیا اور اُنہیں سمندر میں غرق کر دیا ۔ آج کے فرعون بھی جب بے بس ہو جاتے ہیں تو انہیں خدا یا د آتا ہے ۔روس کا کمیونزم جب سیلاب کی شکل اختیار کر گیا اور خطرہ ہوا کہ سب کو بہا لے جائے گا۔ تو فرعون وقت نے دنیا کے ہر مذہب کو جس میں خدا کا کچھ بھی تصور موجود تھا پروموٹ کیا ! اور کہا کہ اپنے مذہب پر جم جاؤ۔ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ انسان خدا کی طرف لوٹ رہا ہے اور جلد ہی خدا کے درست تصور یعنی اسلام کی طرف آئے گا ۔ اس دور میں اسلام کے حقیقی نمائندوں کو بھی کام کرنے کا خوب موقع ملا ۔ لیکن جیسے ہی وہ سیلاب تھما خدا کے ماننے والوں پر زندگی تنگ کر دی گئی اور خدا کے انکار (Atheism) کو خوب پروموٹ کیا گیااور کیا جا رہا ہے ۔ یہ تو ہے عالمی فرعون کا طرز عمل ، جب کہ مقامی فرعون بھی جب کبھی مشکل سے دو چار ہوتے ہیں۔ خدا کے بندوں سے رابطہ کرتے ہیں کہ اس مشکل سے نکلنے میں ہماری مدد کرو۔ کبھی ان کی مدد افغانی کی صورت میں کی گئی اور کبھی نعمت اللہ کی صورت میں لیکن ہر مرتبہ جب حالات سدھر گئے تو انہوں نے یہی کہا کہ یہ تو کوئی کمال نہ ہوا ! یہ کمال تو ہم اپنے غلاموں سے بھی کرو اسکتے ہیں۔
غرور تکبر بمقابلہ صبر :۔
ارشاد ہوا : اور وہ جو کمزور بنا کر رکھے گئے تھے (یعنی بنی اسرائیل ) اللہ نے ان سے اپنا وعدئہ خیر پورا کیا ۔ کیونکہ انہوں نے صبر سے کام لیا ! اور موسیٰ ؑ کا ساتھ نہ چھوڑا ۔قرآن کریم کہتا ہے بنی اسرائیل ! اپنے صبر کی وجہ سے ز مین کے وارث بنائے گئے ۔غور فرمائیں انہوں نے کیسا صبر کیا ؟ انہوں نے موت قبول کی لیکن موسیٰ ؑ کا ساتھ نہ چھوڑا جب ان کا ساتھ چھوڑنے کی صورت میں زندگی بھی تھی اور مال بھی آخر قارون بھی تو بنی اسرائیل میں سے تھا ! لیکن ہمیں اس جیسے دوسرے ڈھونڈے سے بھی نہیں ملتے ۔ اس صبر نے ان کے اندر اس درجے کا نظم و ضبط پیدا کر دیا تھا کہ صرف چند گھنٹوں کے نوٹس پر تمام لوگ بچے ، بوڑھے ، مرد ، عورت جن کی تعداد ایک لاکھ سے زیادہ بتائی جاتی ہے راتوں رات اپنے مال و اسبا ب کے ساتھ نکل گئے اور فرعون جیسے جبار اور اس کی انتظامیہ جنہیں یہ غرور تھاکہ “ہمارے اقتدار کی گرفت ان پر مظبوط ہے ” بہت دیر تک بے خبر رہے ۔ معرکہ فرعون و کلیم کی اس تاریخ میں جہاں وقت کے فرعون کے لیے وارننگ موجود ہے وہاں اہل حق کے لیے بھی خوش خبری ہے کہ انہوں نے اگر صبر سے کام لیااور تقویٰ کی زندگی گزاری تو آخر کار کامیاب وہی ہوں گے اور فرعون وقت اپنے سارے ساز وسامان اور لاؤ لشکر کے ساتھ برباد ہو گا ۔
اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہم سب کو اَپنے دین کا صحیح فہم بخشے ، اور اس فہم کے مطابق دین کے سارے تقاضے ، اور مطالبے پُورے کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین ۔ وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔

حصہ