یوم پاکستان

247

تنویر اللہ خان
قاعدے قانون کے مطابق عام طور پر اینٹ پتھر سے بنے مینار نہ کوئی حس رکھتے ہیں نہ بولتے ہیں اور نہ ہی سنتے ہیں لیکن جب کچھ خاص ہونے جارہا ہو تو قاعدے بھی بدل جاتے ہیں لہٰذا آج سے اٹھتر برس اتوار 23 مارچ 1940ء کو بھی ایسا ہی ہوا،بادشاہی مسجد کے مینار نے منٹو پارک لاہور میں جمع ہونے ایک لاکھ سے زائد لوگوں کو سلام پیش کیا کیوں کہ یہ لوگ اپنا حال اوربرصغیرکا مستقبل اورجغرافیہ تبدیل کرنے کا عزم لے کر یہاں جمع ہوئے تھے یہ لوگ اللہ کے نام پر ایک ایسا خطہ زمین حاصل کرنا چاہتے تھے جہاں اللہ کا قانون نافذ کیا جاسکے اور جہاں محمدؐ کی قائم کی گئی پہلی اسلامی ریاست کا نقشہ پھر سے تازہ کرنے کی کوشش کی جاسکے۔
مولوی فضل الحق نے اس جلسے کے سامنے ایک قرارداد پیش کی جو بعد میں قرارداد پاکستان کے نام سے مشہور ہوئی۔
اس جلسے کے بعد جب قائد آعظم لاہور سے دہلی جانے کے لیے ٹرین میں سوار ہوئے تو کسی بے قرار نے اپنے قائد سے سوال کیا ’’ قراردار تو منظور ہوگئی اب پاکستان کب بنے گا ؟ قائدآعظم نے جواب دیا ’’ اس کا انحصار آپ کی کوشش پر ہے‘‘۔
پھر تاریخ نے انہونی کو ہوتے دیکھا اور سات برس کے مختصر وقت میں پاکستان وجود میں آگیا سات برس کی جدوجہد سے بنائے گئے پاکستان کے عوام سے اکھتر برس بعد بادشاہی مسجد کا مینار ہر آتے جاتے سے بے قراری سے سوال کررہا ہے، کیا پاکستان میں اللہ کا حکم نافذ ہوگیا ؟ کیا پاکستان کے مسلمانوں کو اپنے خواب کی تعبیر مل گئی؟ کیا آج کے پاکستان میں سارے انسان برابرہیں ؟ کیا پاکستان کے عوام خوش حال ہیں؟ کیا پاکستان کا ہر شہری اپنی جان کے خوف سے آزاد ہوگیا ہے؟ کیا پاکستان کے حکمران کمزور کی طاقت بن گئے ہیں؟، کیا پاکستان کے حکمران عوام کی حفاظت کے لیے جاگتے اور عوام چین کی نیند سوتے ہیں؟۔
اکثرلوگ تو مینار کے ان سوالات سے آنکھیں چرا کر ایسے آگے بڑھ جاتے ہیںجیسے اُنھوں نے کچھ سننا ہی نہ ہو، لیکن جو لوگ سوچتے سمجھتے ہیںاُنھیں تو ان سوالات کا جواب دینا ہی چاہیے۔
23 مارچ 1940ء کو مینار پاکستان کے سائے میں جمع ہونے والوں کے سان گمان میں بھی نہ ہوگا کہ اکھتر برس بعد کوئی یہ سوال بھی کرے گا کہ، کیا پاکستان اسلام کے نام پر بنا تھا ؟ کوئی کہے گا پاکستان کو ایک لادین ریاست ہونا چاہیے، کوئی کہے گا کہ پاکستان انگریز کی سازش تھی۔
جس جذبے اور خوابوں کے ساتھ پاکستان بنایا گیا تھا وہ خواب توبعد میں حکمران بننے والوں نے پورے نہ کئے بلکہ پاکستان کے قیام پر ہی سوالیہ نشان لگا دیا، ملک کی حکمران جماعت کے قائد جناب نواز شریف کہتے ہیں کہ سرحد کی اس جانب اور اُس پار ایک جیسے لوگ آباد ہیں ہم میں کوئی فرق نہیں، دو قومی نظرئیے کو اندراگاندہی تو خلیج بنگال میں نہ غرق کرسکیں لیکن بلاسوچے سمجھے بولنے والے آج کے حکمران اندرا گاندھی کی حسرت کو ضرور پورا کرنے پر تُلے ہوئے ہیں۔
ہمارے میڈیا کا دامن قائد اور دوسرے بانیان پاکستان کے اقوال کے لیے تو تنگ ہوگیا ہے لیکن انڈین اداکاروں کی موت پر دس دس منٹ کی بریکنگ نیوز وہ بڑی دل سوزی کے نشر کرتے ہیں، ہمارے میڈیا کو شام میں شہید ہونے والے بچوں اور عورتوں کا کوئی غم نہیں ہے وہ لیکن وہ اس کھوج میں مرے جارہے ہیں کہ کرن جوھر کے دیپیکا سے تعلقات کیسے ہیں اورکترینہ کیف کا دسویں عاشق کے ساتھ کس ساحل پر تفریح کررہی ہیں، دُنیا بھر کے میڈیا نے خوب کو ناخوب عیب کو ہنر برائی کو بڑائی کا ذریعہ بنا دیا ہے لیکن ہمارا نقال میڈیا کبھی بلاسوچے سمجھے اور کبھی پیسے کی ہوس میں اپنے مذہب ،اقدار اور معاشرت کی دھجیاں اُڑا رہا ہے، باہمی تجارت، فلموں کا تبادلہ اور اب پاکستانی اداکاروں کی دولت کی لالچ نے ’’فن کی کوئی سرحد نہیں ہوتی‘‘ کے غلاف میں لپٹے دھوکے سے بر صغیر کی تقسیم کو غیر ضروری بنایا جارہا ہے، مداری لیڈران مذہبی رواداری کے نام پر ہولی، دیوالی کے موقع پرمندروں میں بھونڈی پرفارمنس دے رہے ہیں۔
اس کی بنیادوں میں اپنا لہو شامل کرنے والوں نے کبھی سوچا بھی نہ ہوگا کہ اس ملک کی حکمران ہی اس کی بنیادنیم کو کھوکھلا کردیں گے، اس ملک کی نوکر شاہی اس کا خون جونک کی طرح چوس کر اسے بے حال کردے گی، جس ملک کا قائد اپنی جیب سے باروچی کی اجرت ادا کرتا ہو اور اپنے پہنے کا کپڑا خریدتے ہوئے روپیہ آنے کا حساب رکھتا ہو اُس کے جانشین پسند کی دال منگانے کے لیے سرکاری جہاز استعمال کریں گے، بیرون ملک اپنے نجی دوروںکے اخراجات بھی سرکار کے کھاتے میں ڈالیں گے۔
بانی پاکستان گورنرجنرل نے گورنر ہاوس کے دروازے پر کھڑے اپنے سگے بھائی کوملے بغیر یہ کہہ کر واپس کردیا کہ گھر کے معاملات پر بات گھر میں کرو آج اس ملک کا یہ حال ہے کہ صرف جماعت اسلامی کو چھوڑ کر ہر مذہبی وسیاسی جماعت ’’فیملی لمیٹڈ‘‘ ہے اور سرکاری اعمال و مال پبلک کے بجائے فیملی پراپرٹی ہیں۔
پاکستان کی بیوروکریسی کبھی ایسی تھی کہ پیسے کی کامن پن کی جگہ مفت کے کانٹے لگا کر کام چلاتی تھی اب عالم یہ ہے کہ افسر اعلی شان دار دفتری کرسی پر بیٹھنے کے، سرکاری قلم سے دستخط کرنے کے پیسے لیتے ہیں، کاش یہاں نہ کوئی حکمران ہوتا اور نہ ہی کوئی بیوروکریسی ہوتی تو ہم آج جس حال میں ہیں یقیناً اُس سے بہت اچھے ہوتے۔
قائد آعظم محمدؒ علی جناح نے 8 مارچ 1944ء کو علی گڑھ یونیورسٹی میں خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا ’’مسلمان قومیت کی بنیاد کلمہ توحید ہے نہ کہ وطن اور نسل، ہندوستان کا پہلا فرد جب مسلمان ہوا تو وہ پہلی قوم کا فرد نہیں رہا، وہ ایک جداگانہ قوم کا فرد ہوگیا، ہندوستان میں ایک نئی قوم وجود میں آگئی‘‘ ۔
1940ء میں ایک الگ ملک کا مطالبہ ہوا اور سات سال کے مختصر وقت میں پاکستان بن گیا، آج اتنے وقت میںتو بنے بنائے آئین، عدالت، پارلیمنٹ، نیب، ایف آئی اے کے موجود ہوتے ہوئے بددیانتی پر تحقیقات کی تیاری بھی نہیں ہوپاتی۔
اتنے مختصروقت میں جماعتوں کے مقاصد اور طریقہ کار بھی نہیں طے پاتے،پاکستان کے بنیاد میں پاکستان کا مطلب کیا لااللہ لالہ کا نعرہ اتنا واضع اور جان دار تھا کہ قرارداد پاکستان پل بھر میں تحریک پاکستان میں بدل گئی، اس نعرے میں اتنی جان اتنی ہمہ گیریت اور اتنا واضع مقصد ہے کہ اس کے بعد کسی نے کوئی تفصیلی منشور یا پروگرام بنانے کی کوشش ہی نہیں کیاور پاکستان بنانے کے لیے کسی ذہن سازی کی ضرورت نہیں پڑی جس لمحے پاکستان کے مطالبے قرارداد منظور ہوئی اُسی لمحے عملی جدوجہد کا آغاز بھی ہوگیا، آن کی آن میں پاکستان کی کاغذی قرارداد عملی تحریک میں بدل گئی۔
لیکن پاکستان کے مخالفوں نے پہلے ہی دن سے اپنے حریفوں اور اُن کے پروگرام کا ٹھیک ٹھیک اندازہ کرلیا تھا لہٰذا اُنھوں نے نو خیز پاکستان میں زبان، مسلک، حقوق کا جھگڑا کھڑا کردیا جو آج تک جاری ہے۔
جو لوگ واقعی نظریہ پاکستان کو نظری سے عملی میں بننا چاہتے ہیں اُن سے گُزارش ہے جس جلسے میں قراداد پاکستان پیش کی گئی وہاں واقعی ایک لاکھ کا مجمع تھا اس بڑے مجمعے سے قائد آعظمؒ نے چند منٹ اردو میں خطاب کیا اور اس کے بعد ساری بات انگریزی میں کی لیکن سامنے بیٹھے لوگ اس طرح سُن رہے تھے کہ سب سمجھ رہے ہوں ایک بوڑھا بار بار ’’نعرہ تکبر اللہ اکبر‘‘ بلند کررہا تھا ساتھ بیٹھے آدمی نے اُس سے پوچھا تمہاری سمجھ میںکیا آرہا ہے جواب میں اُس نے کہا مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا لیکن میں یہ جانتا ہوں کہ میرا قائد جو بول رہا ہے وہ سچ بول رہا ہے۔
یہ نکتہ حکمران، سیاسی رہنماؤں اور عوام سب کے سمجھنے کا ہے کہ حکمرانی، قیادت، رہنمائی کے لیے نہ بہت عقل لازمی ہے اور نہ بہت صلاحیت ضروری ہے نہ بہت مہارت مطلوب ہے نہ دانشوری نہ خطابت نہ علم لازم ہے یہ تمام صلاحیتوں کے لوگ کہیں سے بھی اور قیمتاً مل جاتے ہیں لیکن دیانت داری وہ واحد جوہر ہے جو نہ خریدا جاسکتا اور نہ ہی اس کے بغیر کوئی چھوٹا یا بڑا مقصد اور معرکہ سر کیا جاسکتا ہے۔
لیکن آج ایسا نظر آتا ہے کہ ! سچ بولنے سچ سوچنے کا عمل قائد آعظم کے ساتھ ہی دُنیا سے رخصت ہوگیا، رہنماء کے پاس خواب دکھانے اور اس کی تعبیر پانے کی جدوجہد پر عوام کو راضی کرنے کے سوا ہوتا ہی کیا ہے ؟ مال سے خالی ، ہھتیار سے خالی ہاتھ لیڈر عوام سے کہتا ہے کہ تم میرا ساتھ دو میرے بازو مضبوط کرو میں تمہیں خوشحالی دوں گا تمہیں امن دوں گا دُنیا میں تمہاری عزت بڑھاوںگا اور عوام اس کے وعدے پر یقین کرتے ہیں اور جان و مال اس کے ایک اشارے پر وارنے کے لیے تیار ہوتے ہیں، آج جھوٹ حکومت اور سیاست کا لازمی حصہ بن گیا ہے، حکمرانوں تک سچ اگلونے کے لیے تحیقاتی ٹیمیں ترتیب دی جاتی ہیں، عدالتوں میں اُن سے جرح کی جاتی ہے، عام آدمی کا کیا سوال ہے۔
دُنیا پھرنے والوں کا مشاھدہ یہ ہے کہ امریکی عوام کی عمومی معلومات صفر ہوتی ہیں، چینی بہت کم بات کرتے ہیں لیکن ایک ملک ترقی کی انتہا پر ہے اور دوسرا ترقی کی سفر کی تیزی میں انتہا پر ہے لہٰذا دانائی کا سبق یہ کہ،حد سے بڑھی ہوشیاری، لالچ ، بے صبری، مفادپرستی، محض بلند وبانگ دعووں سے نہ کوئی گھر چل سکتا ہے نہ کوئی کاروبار دیرتک قائم رہ سکتا ہے اور نہ ہی کوئی ملک ترقی کرسکتا ہے۔
گزشتہ ہفتے انسٹیٹوٹ آف انجینئرنگ پاکستان نے اسلام آباد میں سی پیک پر ایک پروگرام کیا جس سے چین سے تعلقات کے ماہر نسٹ کے استاد نے سی پیک کے بارے میں معلومات شئیر کیں بہت ساری باتوں کے ساتھ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ اس منصوبے کے آغاز پر چینی حکومت نے پاکستان کے حکمرانوں سے درخواست کی کہ اس منصوبے سے متعلق اشتہار بازی یا بلند بانگ دعوے نہ کیے جائیں بلکہ خاموشی سے کام کو جاری رکھیں لیکن ہمارے بڑبولے جنہیں کھوکھلے دعوے اور جھوٹے دعووں کے سوا کچھ کم ہی آتا ہے جو کام کے بجائے نمائش پر زیادہ زور دیتے ہیں جنہیں دوسرے کا شکار کھانے کی عادت ہے وہ سی پیک کو گیم چینچر، عظیم منصوبہ، عوام کی قسمت بدل دینے والا منصوبہ اور نہ جانے کیا کیا بلند وبانگ دعوے کررہے ہیں، ہم اور ہمارے سیاست دانوں کو دعووں سے زیادہ کام پر توجہ کرنی چاہیے،
اشتہارات میں سندھ دُنیا کا جدید ترین، صاف سھترا، خوشحال، شہری سہولتوں سے آراستہ صوبہ نظر آتا ہے لیکن کیا حقیقت میں ایسا ہے ؟ سندھ کے دالخلافہ، بڑے صنعتی وتجارتی شہر کا حال دیکھ لیں، کچرا، گندے پانی، ٹوٹی ہوئی سڑکوں سے لے کر ہر طرح کی غلاظت سے یہ شہر بھرا پڑا ہے۔
اپنی ناکامیوں کو باربار یاد کرنا مایوسی کا سبب بنتا ہے لہٰذا میرا مقصد محض سر پیٹنا نہیں ہے بلکہ مقصود توجہ دلانا ہے، کہ ہم خصوصی ایام اس لیے مناتے ہیں کہ اس دن جو کچھ ہم نے ارادے باندھے تھے جو دعوے اور وعدے کیے تھے ان کو اپنے دل و دماغ میں تازہ کریں اس دن کے حوالے سے اپنے کام کا جائزہ لیں جو منزلں طے کرچکے ہیں اُن پر اللہ کا شکر ادا کریں اور جو کرنے سے رہ گیا ہو اُسے سچے ارادے سے کرنے کی کوشش کریں، ورنہ وقت تو گزر رہا ہے اور آخرت میں ہر انسان کو اپنے کیے اور نہ کیے کا جواب لازمی دینا ہی ہوگا۔

حصہ