پیپلزپارٹی اور راؤ انوار

364

کراچی کے ضلع ملیر کا سابق ایس ایس پی راؤ انوار احمد خان جعلی پولیس مقابلے میں سوشل میڈیا ایکٹوسٹ نقیب اللہ محسود کی ہلاکت کے بعد مشہور ہوا تو اسی دوران سابق صدر مملکت و پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری نے انہیں بہادر بھی قرار دیدیا۔ پھر دو ماہ بعد وہ پورے پروٹوکول کے ساتھ جسے حفاظتی حصار کا نام بھی دیا گیا میں اسلام آباد میں سپریم کورٹ پہنچے۔ ان کی گاڑی عدالت کے جس دروازے سے داخل ہوئی وہ ملزمان کیا عام افراد کے لیے بھی نہیں کھولا جاتا ہے وہاں سے صرف چیف جسٹس اور جج صاحبان ہی آیا کرتے ہیں۔یہ پہلی بار ہوا کہ کسی قتل کے مفرور ملزم کے لیے یہ راستہ دیا گیا۔
راؤ انوار پر مبینہ جعلی پولیس مقابلے میں اپنی جانوں سے جانے والے 424 معصوم انسانوں کے قتل کا الزام ہے۔ لیکن ان کی پکڑ کا فیصلہ 13 جنوری کو اسٹیل ٹاؤن کے علاقے میں ضلع ملیر کی پولیس کے ہاتھوں نقیب اللہ کی ہلاکت کے باعث ہوا۔ گو کہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ نقیب اللہ محسود نے اپنی جان کی قربانی دیکر معصوم افراد کے مبینہ جعلی پولیس مقابلوں کے طویل عرصے سے جاری سلسلے کو بند کیا ہے۔ یقینا وہ اللہ کے سامنے شہید کا درجہ رکھے گا۔
نقیب اللہ کے واقعے کے بعد پولیس مقابلوں کا سلسلہ کم ازکم ڈسٹرکٹ ایسٹ میں تو ختم ہوا۔یہ تسلسل ختم ہونے سے یقینا سندھ پولیس کی ساکھ بھی بحال ہونا شروع ہوجائے گی جو جعلی پولیس مقابلوں سے بری طرح متاثر ہوچکی تھی۔
معطل ایس ایس پی راؤ انوار کو 21 تاریخ کو سپریم کورٹ اسلام آباد سے پولیس نے گرفتار کیا۔ یہ گرفتاری اس وقت عمل میں آئی جب چیف جسٹس پاکستان سپریم کورٹ نے جسٹس میاں ثاقب نثار نے راؤ انوار کی عدم گرفتاری پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے حتمی وارننگ جاری کردی تھی۔ یہ وارننگ پولیس سمیت تمام متعلقہ اداروں کو تھی۔ جس سے ان اداروں کی ساکھ بھی بری طرح متاثر ہورہی تھی۔ لیکن قتل کے مقدمے میں مفرور ایس ایس پی کی گرفتاری دراصل اس لیے ممکن ہوسکی کہ ملزم کی عدم گرفتاری پر مذکورہ اداروں کے بعض اہم افسران کے خلاف عدالت کے حکم پر کارروائی کیے جانے کے خدشات بڑھ چکے تھے۔ ممکن ہے کہ راؤ کے گرفتار نہ ہونے پر عدالت کے ہدایت پر متعلقہ ادارے کے ذمے دار افسر یا افسران کو گرفتار کرلیا جاتا۔ سرکاری زرائع کے مطابق ایس ایس پی راؤ انوار نے عدالت میں پیش ہونے کا فیصلہ ان اطلاعات کے بعد کیا ہے یا اس سے کرایا گیا جب اس بات کا علم ہوا کہ سیکیورٹی کیمروں کی فوٹیج سامنے آئی جس میں مفرور پولیس افسر کو اہم افسران کے ساتھ دیکھا گیا تھا۔پولیس نے راؤ انوار کو 22 مارچ کو انسداد دھشت گردی کی عدالت میں مقدمے میں ملوث دیگر پولیس اہلکاروں ڈی ایس پی قمر احمد ،اے ایس آئی یاسین ، سپرد حسین ، اللہ یار ، ہیڈ کانسٹبل خضر حیات ، اقبال ، کانسٹبل ارشد علی، شفیق احمد ،عبدل علی اور غلام نازک کے ساتھ پیش کیا گیا۔ عدالت نے پولیس کی درخواست پر ملزم راؤ انوار کو 20 مارچ تک کے لیے ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا گیا۔لیکن بات ابھی یہاں ختم نہیں ہوئی اصل سوال یہ ہے کہ ملزم راو انوار دو ماہ تک کہاں اور کس کے پاس رہے ؟ یہ سوال سپریم کورٹ نے بھی ملزم سے پوچھا تھا۔
ملزم پولیس افسر کو جس انداز میں عدالت میں پیش کیا گیا وہ ملزمان کو عدالت میں لانے کے روایتی طریقے کے مطابق نہیں تھا۔ ملزم انوار کے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں تھیں اور نہ ہی ان کا چہرے پر نقاب تھا۔ جبکہ ریمانڈ کے لیے انہیں جس طرح پولیس کے قافلے کے ساتھ لایا گیا وہ بھی ایس ایس پی راؤ انوار کے پروٹوکول کے مطابق تھا جسے اس بار حفاظتی انتظام کا نام دیا گیا تھا۔شاید یہی وجہ ہے کہ مقتول نقیب کے والد نے ملزم راؤ انوار کی گرفتاری کو ’’گرفتاری‘‘ ماننے سے انکار کیا ہے۔

کیا راؤ انوار کو سزا ہوجائے گی ؟

یہ وہ سوال ہے جس کی بازگشت سپریم کورٹ کی جانب سے نقیب اللہ کے قتل کے مقدمے کیس کی سپریم کورٹ میں سماعت کے بعد سے چل رہی ہے۔ عدالت کی کارروائی پر کسی کو بھی شک نہیں ہے لیکن سوال یہ ہے کیا جے آئی ٹی کی تحقیقات اور عدالت میں پیش کیا جانے والا حتمی چالان ملزم راؤ انوار اور اس کے ساتھیوں کو سزا دینے کے لیے کافی ہوگا ؟ کیا پولیس اپنے پیٹی بھائیوں کو سزا سے بچانے کے لیے ” روایتی ” محبت کا ثبوت دیتے ہوئے تمام گواہوں اور شواہد کو پیش کرسکے گی ؟
پولیس کی شائد اس مقدمے میں مجبوری ہو کہ وہ ایمانداری اور دیانت داری سے تفتیش کرکے عدالت میں رپورٹ پیش کرے۔مگر اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ اگر راؤ انوار اور ساتھیوں کو سزا ہوجاتی ہے تو پھر نقیب سے پہلے جو لوگ سابق ایس ایس پی ملیر کی پولیس ٹیم کے ہاتھوں جعلی مقابلے میں مارے گئے کیا ان کے مقدمات بھی کھولے جائیں گے ؟ اگر مقدمات کھولے گئے اور وہ بھی الزامات کے تحت جعلی قرار پائے تو کیا صوبائی حکومت محکمہ داخلہ کے ذمے داران اور حکومت ایسے جعلی مقدمات میں ملوث ہونے کے الزامات سے بچ سکے گی ؟ کیا ملوث تمام ذمے داروں کو بھی سزا ہوسکے گی ؟ نقیب اللہ کیس کا نتیجہ انصاف کے تقاضوں کی تکمیل کا ایک نمونہ ہوگا یا ناانصافی کی ایک مثال ہوگا ؟ پوری قوم دراصل یہی دیکھنا چاہتی ہے۔

پیپلز پارٹی اور اس کی قیادت کا راؤ انوار سے محبت اور ہمدردی کا اظہار کیوں ؟

ملزم راؤ انوار کی مفروری کے دوران پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر مملکت آصف علی زرداری کے اس بیان سے جس میں آصف زرداری نے راؤ انوار کو ’’بہادر بچہ‘‘ قرار دیا‘ سے سب ہی کو ان اطلاعات کی تصدیق ہوگئی کہ سابق ایس ایس پی ملیر ایک بہت بااثر شخص ہے۔ ایسا بااثر فرد جس کی گرفت قانون بھی باآسانی نہیں کرسکتا۔ تاہم انوار احمد گرفتاری کے بعد آنے والے قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر و پیپلز پارٹی کے رہنما خورشید شاہ کے اس بیان سے کہ راؤ انوار عدالت میں پیش ہوگئے ہیں عدالت انہیں سزا نہیں دے سکتی ” پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کی راؤ سے محبت اور ہمدردی کا کھلا اظہار نہیں تو اور کیا ہے ؟
ملک کی دوسری بڑی پارٹی اگر سیکڑوں افراد کو مبینہ جعلی مقابلوں میں ماردینے والے پولیس افسر سے اس قدر اظہار ہمدردی کررہی ہے تو اس کا کیا مطلب لیا جائے گا ؟ کیا لوگ یہ سمجھنے میں حق بجانب نہیں ہوں گے کہ پیپلز پارٹی دراصل سنگین مقدمات میں ملوث ایسے ہی اکثر لوگوں کی پارٹی تو ہے۔ یقین نہ ائے تو ڈاکٹر عاصم ، شرجیل میمن اور خود آصف زرداری کے خلاف درج مقدمات پر بھی نظر ڈالی جاسکتی ہے۔

کیا سیاستدانوں کے سرکاری افسران سے تعلقات پر تحقیقات نہیں کی جانی چاہیے ؟

ایس ایس پی راؤ انوار کے خلاف قتل جیسے سنگین مقدمات میں ملوث ہونے کے شواہد اور ان کے پیپلز پارٹی سے غیر معمولی تعلقات شواہد کے بعد کیا یہ بات بھی نہیں کہی جاسکتی کہ ہمارے اکثر سیاستدان اور سیاسی جماعتیں کرپٹ عناصر کی پشت پناہ ہیں ، کیا ایسے پولیس افسران سمیت تمام سرکاری عناصر کے خلاف ان تعلقات کے بارے میں تحقیقات کرانا ناگزیر نہیں ہے ؟ سپریم کورٹ سے توقع ہے کہ وہ آنے والے دنوں میں اس نکتے پر غور ہی نہیں بلکہ فیصلہ کرے گی۔

حصہ