برصغیر میں اسلام کے احیا اور آزادی کی تحریکیں

304

قسط نمبر 129۔
ساتواں حصہ
فاطمہ جناح کی انتخابی مہم کی خاص بات یہ تھی کہ ملک کے بیشتر جید سیاستدان محترمہ فاطمہ جناح کے ساتھ تھے۔ جماعت اسلامی کی تمام قیادت اور پاکستان کے قومی و علاقائی رہنما جن میں سرحد کے ولی خان، اجمل خٹک، ارباب سکندر خلیل، ڈیرہ اسماعیل خان کے مولانا مفتی محمود، مولانا عبدالستار خان نیازی، کوئٹہ کے میر غوث بخش بزنجو اور محمود خان اچکزئی ، لاہور کے میاں محمود علی قصوری، ممتاز محمد خان دولتانہ، ملک غلام جیلانی، بیگم افتخار الدین، محمد حسین چٹھہ، ملتان کے علاقے سے نوابزادہ نصراللہ خان، مولانا شاہ سندھ کے عبدالحمید جتوئی، رسول بخش تالپور، کراچی کے محمود الحق عثمانی، مولانا شاہ احمد نورانی، حسن اے شیخ ایڈووکٹ، چوہدری محمد علی، بنگال سے خواجہ ناظم الدین، حسین شہید سہروردی، یہ تمام رہنما، مادرملت کے ساتھ ان کی انتخابی مہم چلا رہے تھے۔
محترمہ کے جلسوں میں انقلابی شاعر حبیب جالب کے اشعار ماحول پر سحر طاری کردیتے تھے۔ ان کی عام فہم شاعری، عوام کے دلوں میں اترتی چلی جاتی تھی۔مادر ملت کے لیے عوامی جلسوں میں لوگ لاکھوں کی تعداد میں آتے۔ فیلڈ مارشل ایوب خان اور اسٹیبلشمنٹ کو اپنی شکست صاف دکھائی د ینے لگی۔ حکمرانوں سے یہ سب برداشت نہیں ہوپایا ا ور بالآخر عوام کے محبوب انقلابی شاعر حبیب جالب کو قتل کے ایک جھوٹے مقدمے میں گرفتار کرکے اقدام قتل کی دفعہ 207 کے تحت سات سال قید بامشقت سناکر جیل بھیج دیا گیا۔ محترمہ فاطمہ جناح کی تقریر سے پہلے حبیب جالب کی آواز میں ٹیپ ریکارڈ کے ذریعے نظمیں سنائی جاتیں، جوش و ولولہ اور بھی بڑھتا۔ انتخابات کے نتائج آنا شروع ہوئے اور محترمہ فاطمہ جناح کو ان دیکھے ہاتھوں کے ذریعے ہرادیا گیا۔
حبیب جالب نے الیکشن کے نتائج آنے پر کہا کہ

“دھاندلی‘ دھونس‘ دھن سے جیت گیا
ظلم پھر مکر و فن سے جیت گیا”

معروف کالم نگار سعید پرویز محترمہ فاطمہ جناح کی انتخابی مہم کے حوالے سے اپنی یادداشت میں لکھتے ہیں کہ ” پورے پاکستان کے گھروں کے دروازوں اور کھڑکیوں میں مادر ملت کا انتخابی نشان لالٹین سر شام روشن کردیا جاتا۔ میں نے خود کراچی شہر میں یہ منظر دیکھا ہے کہ برنس روڈ، صدر ، ریگل، سعید منزل،جوبلی، رنچھوڑ لائن، لیاری، لانڈھی، کورنگی، ڈرگ کالونی (اب شاہ فیصل کالونی) محلے محلے لالٹینیں گھروں کے دروازوں، کھڑکیوں پر لٹکتی نظر آتی تھیں۔ مادر ملت جس شہر جلسہ کرنے جاتیں، پورا شہر جلسہ گاہ بن جاتا تھا۔”
حوالہ : مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کی یاد میں؛ ( اشا عت ہفتہ 13 جولاء 2013 روزنامہ ایکسپریس )
جبکہ معروف دانشور صحافی جناب قیوم نظامی حبیب جالب کے بارے میں اس طرح کہتے ہیں کہ “جنرل ایوب خان نے 1962ء میں صدارتی آئین دیا جسے فیصل آباد کا گھنٹہ گھر قراردیا گیا جو تمام راستوں کا مرکز ہے۔ جنرل ایوب آئین کے مطابق آمر مطلق بن گئے۔ حبیب جالب نے ایوبی آئین کے بارے میں لافانی نظم ’’دستور‘‘ لکھی جو ضرب المثل اور محاورے کی صورت اختیار کرچکی ہے اور آج بھی مقبول ترین نظم ہے۔

دیپ جس کا محلات ہی میں جلے
چند لوگوں کی خوشیوں کو لے کر چلے
وہ جو سائے میں ہر مصلحت کے پلے
ایسے دستور کو صبح بے نور کو
میں نہیں مانتا میں نہیں مانتا

حبیب جالب نے صدارتی انتخاب میں مادر ملت فاطمہ جناح کا پرجوش ساتھ دیا۔ جنرل ایوب خان کے خلاف عوامی تحریک میں حبیب جالب کا کردار قابل ذکر اور قابل ستائش تھا۔ جب جنرل یحییٰ خان نے فرعون مزاج بننے کی کوشش کی تو حبیب جالب نے لکھا۔

تم سے پہلے جو اک شخص یہاں تخت نشیں تھا
اس کو بھی اپنے خدا ہونے پہ اتنا ہی یقیں تھا

2 جنوری 1965 کو صدراتی انتخابات کا دوسرا مرحلہ تھا جس میں حزب مخالف کی صدراتی امیدوار محترمہ فاطمہ جناح کو بدترین دھاندلی کے ذریعے ہروا دیا گیا۔ اور اس کامیابی کی خوشی میں 4 جنوری کراچی میں ایوب خان کے صاحبزادے جناب گوہر ایوب نے ایک جلوس نکالا۔ یہ جلوس کم اور مقامی آبادی پر حملہ زیادہ تھا۔ جلوس کے شرکا مشتعل تھے ،انھوں نے مقامی آبادی کے ساتھ بدسلوکی کا مظا ہرہ کرتے ہوئے مقامی لوگوں کو تنگ کرنا شروع کیا جس کے نتیجے میں تصادم ہوا اور اسی اثنا میں مظاہرین نے رکشوں ، کاروں اور بسوں کو آگ لگانی شروع کردی۔ دکانیں جلا دی گئیں اور ان کا سامان لوٹ لیا گیا۔ جما عت اسلامی اور دیگر سیاسی جماعتوں نے الزام لگا یا کہ کراچی کے پر امن شہریوں پر بلاجواز حملہ کیا گیا ہے اور اس تصادم میں 12 افراد ہلاک اور متعدد زخمی حالت میں ہسپتال لائے گئے۔
ان جعلی انتخابات کے بعد حزب مخالف کے پانچ جماعتی اتحاد نے اپنا اہم اجلاس کراچی میں طلب کیا جس میں صدراتی انتخابات کے دوران حکومت کی مبینہ دھاندلیوں اور غندہ گردی پر تفصیلی رپورٹ پیش کی گئی۔ اسی مہینے میں جماعت اسلامی کی مرکزی مجلس شوری کا ایک ہنگامی اجلاس لاہور میں طلب کیا گیا۔( یہ اجلاس جماعت کو خلاف قانون قرار دئیے جانے اور اراکین شوری کی نظر بندی کے بعد پہلی مرتبہ منعقد ہوا تھا) اس طویل چھ روزہ اجلاس میں جماعت اسلامی نے ایک پنج سالہ منصوبہ تیار کیا۔ جو جماعت کے اپنے ذرا ئع و وسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا گیا تھا۔ یہ منصوبہ اسلا م کی تبلیغ اور زندگی کے تمام شعبوں کی اصلاح و تعمیر کے لیے ایک جا مع لائحہ عمل اور ہمہ گیر پروگرام تھا۔
اس صدراتی انتخاب کے بعد 21۔ مارچ 1965 کو قومی اسمبلی کے انتخاب ہوئے جن میں سرکاری پارٹی کو کامیابی ملی اور حیرت انگیز طور پر قومی سطح کی تمام قد اور شخصیات کو شدید ترین ناکامی سے دوچار ہونا پڑا۔
ان ڈھکوسلہ انتخابات میں صدر پاکستان ایوب خان کے سیاسی نووارد صاحبزادے گوہر ایوب خان کو (جو کراچی فسادات کے مرکزی کردار تھے) سب سے زیادہ ووٹ حاصل ہوئے۔ سردار شوکت حیات ، چودھری ظہور الہی ، نواب زا دہ نصراللہ خاں ، ملک غلام جیلانی ، مولوی فرید احمد ، مولانا عباس علی خان ، میا ں عبدالباری جیسی قد آ ور شخصیا ت انتخاب ہار چکی تھیں۔
ممتاز دانشور جناب الطاف گوہر کے مطابق ” ایوب خاں جو ابھی تک اپنے اوسان جمع نہیں کر پائے تھے نے لکھی ہوئی تقریر کسی جذبے کے بغیر ریڈیو پاکستان کے مائیکروفون کے سامنے پڑھ کر سنادی۔ ان کے چہرے پر حیرت کے آثار نمایاں تھے، جس چیز نے انہیں ہلا کر رکھ دیا تھا، وہ یہ تھی کہ وہ شکست سے بال بال بچے تھے۔ (دھاندلی کے باوجود) مادرِ ملت کی شکست آبرو مندانہ تھی ، کہ 80 ہزار ووٹرز (بی ڈی ممبروں) میں سے ایوب خاں نے 49951 اور مادرِ ملت نے 38691 ووٹ حاصل کر لیے تھے۔ مشرقی پاکستان میں فرق اور بھی کم تھا ، صرف 2578ووٹوں کا فرق، جہاں ایوب خاں نے 21012 اور مادرِ ملت نے18434ووٹ حاصل کئے تھے۔ کراچی میں شکست ایوب خاں کے لیے خاص طور پر باعثِ تشویش تھی جس کا انتقام گوہرایوب کی زیرقیادت ایک جلوس نے کراچی والوں پر گولیاں برساکرلیا۔
آغا شورش نے لکھا: ’’نہروکی بیٹی تھی، ہندوستان میں الیکشن لڑا جیت گئی، قائداعظم کی بہن تھیں، پاکستان میں الیکشن لڑا، ہارگئیں‘‘۔ دھاندلی زدہ الیکشن کے نتائج حزب اختلاف کے لیے مایوسی سے زیادہ غصے کا باعث تھے۔ مادرِ ملت نے تو ان نتائج کو مسترد کر کے، متوازی حکومت بنانے کی تجویز بھی دے دی تھی (لیکن حزبِ اختلاف کی جماعتیں اس انتہائی اقدام پر آمادہ نہ ہوئیں )۔
(جاری ہے )

حصہ