اللہ حافظ نعیم الرحمٰن سے بچائےسے اللہ حافظ نعیم الرحمٰن کا بھلا کرے تک

150

زاہد عباس
خواب تو خواب ہوا کرتے ہیں، بچے رات کو سوتے میں ڈر جائیں تو کہا جاتا ہے کہ ڈراؤنا خواب دیکھا ہوگا۔ اپنی حیثیت سے بڑھ کر سوچنے پر جاگتے میں خواب دیکھنے کے طعنے سننے کو ملا کرتے ہیں۔ اکثر سننے کو ملتا ہے کہ فلاں شخص نے کامیاب ہوکر والدین کے خواب پورے کردیے۔ دنیا کی دوڑ میں ملنے والی کامیابی کو بھی اپنے کسی دیرینہ خواب کی تکمیل سے منسوب کردیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ ’’میرے خوابوں کی رانی‘‘ یا ’’میرے خوابوں کے راجا‘‘ جیسے القاب خوابوں کے حقیقی ہونے کی دلیل ہیں۔ یعنی لفظ ’’خواب‘‘ کسی نہ کسی حوالے سے ہماری زندگی کا حصہ ہے۔ دادی اماں اکثر کہا کرتی تھیں کہ فجر کے وقت دکھائی دینے والے خواب سچے ہوا کرتے ہیں۔ اقبال کے خوابوں کی تعبیر ’’پاکستان‘‘ کو دیکھ کر کہا جاسکتا ہے کہ خواب واقعی سچے ہوتے ہیں، یہ الگ بات ہے کہ ہم نے اپنے ذہن میں ابھرتے خیالات، وہم، یہاں تک کہ اپنے مستقبل کے سپنوں کو بھی رات سوتے میں دکھائی دینے والے خواب بنا ڈالا۔ خیر نہ جانے کیوں میں دادی کی اس قسم کی باتوں کو ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکال دیا کرتا۔ شاید میری عمر کے تمام ہی لوگ بزرگوں کی جانب سے کہی جانے والی ایسی باتوں پر اسی قسم کا رویہ رکھتے ہوں۔ ہم یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ بزرگ جو بھی کہتے ہیں وہ اُن کی زندگی کے تجربات ہوتے ہیں۔ ان کی ایسی باتوں میں جنہیں ہم اہمیت نہیں دیتے، کچھ نہ کچھ سچائی ضرور ہوا کرتی ہے تبھی تو یہ باتیں سینہ بہ سینہ چلی آرہی ہیں۔
فجر کے وقت آنے والے خوابوں کی حقیقت میرے سامنے اُس وقت کھلی جب جماعت اسلامی کراچی نے نادرا کی من مانیوں پر کراچی کے عوام کے ساتھ کھڑے ہونے کا اعلان کردیا۔ اُس وقت نہ صرف عوام کے جائز مطالبات پر آواز اٹھائی گئی بلکہ شہر بھر کے تمام نادرا دفاتر کے سامنے احتجاجی مظاہروں کے ساتھ ساتھ احتجاجی دھرنوں کا بھی آغاز کردیا گیا، جبکہ دوسری جانب پبلک ایڈ کمیٹی کے ذمے داران کی جانب سے ادارے میں متاثرینِ نادرا کی مدد کے لیے کاؤنٹر قائم کردیا گیا جہاں نہ صرف شناختی کارڈ کے اجراء سے متعلق شکایتیں اربابِ اختیار تک پہنچانے کے لیے اقدامات کیے جانے لگے، بلکہ آنے والے متاثرینِ نادرا کی قانونی مدد بھی کی جاتی رہی جو اب بھی جاری ہے۔ جہاں ایک طرف جماعت اسلامی کراچی اپنی پوری سیاسی قوت کے ساتھ میدانِ عمل میں اتری وہیں دوسری طرف امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے شہر میں قائم نادرا دفاتر اور نادرا میں تعینات عملے سے پریشان عوام کی مشکلات کے پیش نظر جنگی بنیادوں پر احتجاجی مظاہروں سے خطابات کا سلسلہ شروع کردیا۔ یہ اُنھی دنوں کی بات ہے جب احتجاجی پروگرام کے سلسلے میں میرا بھی نادرا دفاتر خاصا آنا جانا رہا۔ اس دوران میں ایک علاقائی نادرا دفتر پہنچا جہاں لوگوں کی خاصی بڑی تعداد موجود تھی، لوگ حافظ نعیم الرحمن کی آمد کے منتظر تھے، وہاں پر ہونے والے پروگرام کی تفصیل میں جائے بغیر یہاں میرا نقطہ اپنے اُس خواب کی تعبیر کو بیان کرنا ہے جس کا ذکر میں ماضی میں لکھے نادرا سے متعلق مضمون میں کرچکا ہوں۔ خواب کی تعبیر سمجھنے کے لیے یہاں حوالے کے طور پر اس مضمون کی چند سطور کا تذکرہ کرنا ضروری سمجھتا ہوں تاکہ وہ بنیادی بات سمجھنے میں آسانی ہو جو وجۂ خواب بنی:
’’دورانِ احتجاج ایک شخص مسلسل نادرا کی وکالت کرنے میں مصروف تھا، اُس کی باتوں سے ظاہر ہورہا تھا جیسے یہ احتجاج نادرا سے زیادہ اُس کے خلاف ہو۔ وہ اپنے تئیں باتوں باتوں میں جماعت اسلامی کی مرکزی قیادت کو مشورے دینے لگا کہ انہیں چاہیے کہ وہ حافظ نعیم کو کہیں کہ وہ سیاست کریں، ویسے بھی چند ماہ بعد انتخابات ہونے والے ہیں، یہاں سے کیا ملے گا، بلا وجہ ہمارے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔ علاقوں میں جائیں، عوام سے ملاقاتیں کریں اور کراچی کی سیاست میں اپنا کردار ادا کریں۔ اس ساری صورتِ حال میں ہمارا نقصان ہے۔ نادرا میں ہمیں تو کرپشن نظر نہیں آتی۔ اگر لوگ اپنا کام جلدی ہونے کی خوشی میں کچھ رقم دے جاتے ہیں تو اس کو کرپشن کہا جارہا ہے۔ ہم کسی سے زبردستی کرتے ہیں نہ کسی کی جیب پر ڈاکا ڈالتے ہیں، یہ تو خوشیوں کے سودے ہیں، اس پر کسی کو اعتراض کرنے کی کیا ضرورت! میں جماعت کے اکابرین سے کہتا ہوں کہ حافظ نعیم الرحمن کو کوئی دوسری ذمے داری دے کر کہیں اور مصروف کردیں۔ ویسے بھی آج کل ہمارے محکمے کا پاپولر نعرہ ’’خدا حافظ نعیم الرحمن سے بچائے‘‘ بنتا جا رہا ہے۔ ہم تو لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا کرتے ہیں۔ یہ سب کچھ باہمی رضامندی سے ہوتا ہے۔ ادارے میں بڑے طاقتور لوگ بیٹھے ہیں، ان کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا، سارا نزلہ ہم جیسے ملازمین پر گرے گا، سمندر میں بڑی مچھلیاں بھی چھوٹی مچھلیوں کو ہی کھاتی ہیں، اگر کچھ کرنا ہے تو ان مگرمچھوں کے خلاف کیا جائے جو غیر ملکیوں کو بھی بڑی رشوت کے عوض شہریت بانٹتے پھر رہے ہیں۔ میں کسی سے نہیں ڈرتا، یہاں جو بھی کہا ہے وہ کسی کے بھی سامنے کہہ سکتا ہوں۔ جماعت اسلامی بھی صرف چند دن ہی احتجاج کرے گی اور تھک ہار کر بیٹھ جائے گی۔ یہ اتنا آسان کام نہیں۔ میرا دعویٰ ہے کہ حافظ نعیم الرحمن کو جلد اس بات کا احساس ہوجائے گا کہ واقعی ان تلوں میں تیل نہیں۔
اُس وقت اس شخص کی طرف سے کی جانے والی باتوں پر میں نے بھی یہ دعویٰ کر ڈالا کہ تمہارے ایک ایک سوال کا جواب تمہیں حافظ صاحب کی زبانی ہی ملے گا۔ گھر پہنچا تو تھکاوٹ کی وجہ سے طبیعت میں خاصا بھاری پن محسوس ہورہا تھا۔ معلوم نہیں کب بستر پر لیٹتے ہی نیند آ گئی۔ ہاں اُس رات آنے والا خواب ضرور یادگار بن گیا جس میں کیفے پارس میں بیٹھے نجیب ایوبی اور حافظ نعیم الرحمن سے ملاقات ہوئی۔ دورانِ ملاقات میں نے اُس شخص کی جانب سے کی جانے والی باتوں کو حافظ صاحب کے سامنے رکھ دیا۔ میری باتیں سن کر وہ مسکراتے ہوئے بولے ’’جماعت اسلامی نے ہمیشہ صاف ستھری اور ایشوز پر سیاست کی ہے، احتجاج کرنے کا اختیار کسی بھی فردِ واحد کو نہیں ہوتا، کسی بھی مسئلے پر جماعت اسلامی کے اکابرین کی اکثریتی رائے کا احترام کیا جاتا ہے، تمام فیصلے کثرتِ رائے سے کیے جاتے ہیں، کراچی میں نادرا کی من مانیوں پر احتجاجی مظاہروں کا جو سلسلہ شروع کیا گیا ہے وہ صرف ایک ادارے کے لیے نہیں، بلکہ جہاں جہاں اور جس جس محکمے میں کرپشن یا غیر قانونی عمل ہوگا، اِس تحریک کا رخ اُسی جانب موڑ دیا جائے گا۔ کے الیکٹرک ہو یا واٹر بورڈ، شہر کچرے سے اٹا ہو یا کھنڈرات کا منظر پیش کرتی سڑکیں… جماعت اسلامی کی نظر ہر جگہ ہے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ ابھی ہماری ساری توجہ نادرا پر ہے، ظاہر ہے جو مرض زیادہ بڑھ جائے اُس کا علاج پہلے کرنا ہوتا ہے۔ اسی لیے نادرا زیر علاج ہے۔ باقی محکموں کے ٹیسٹ کروانے کے لیے بھیجے ہوئے ہیں، رپورٹ آنے پر ان کا تسلی بخش علاجِ کردیا جائے گا۔ جماعت اسلامی تمام بیماریوں کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے میدان میں آئی ہے۔ اگر کوئی سمجھتا ہے کہ ہم ان بیماریوں سے ڈر جائیں گے تو یہ اس کی بھول ہے۔ ہمارے پاس تجربہ کار معالجوں کی پوری ٹیم ہے، تسلی رکھیں سب کی باری آئے گی۔ ہماری تحریک کے نتیجے میں عوام جلد نادرا کی صفائی ہوتے دیکھیں گے۔ کرپٹ مافیا قانون کے شکنجے میں آئیں گے، لوگوں کو باعزت طریقے سے شناختی کارڈ جاری کیے جائیں گے۔‘‘
قارئین! حافظ نعیم الرحمن کی ایک ایک بات سچ ہوئی۔ یہیں سے مجھے اس حقیقت کا اندازہ ہوا کہ واقعی دادی ٹھیک کہا کرتی تھیں کہ فجر کے وقت دکھائی دینے والے خواب سچے ہوتے ہیں۔ جماعت اسلامی کراچی کی جانب سے چلائی جانے والی احتجاجی تحریک کی بدولت ہی نادرا کے اربابِ اختیار نے کرپٹ افسران کے خلاف ایکشن لیا، بعد ازاں جس کی بنیاد پر اس کرپٹ مافیا کے خلاف محکمانہ کارروائی کی گئی اور خاصی بڑی تعداد میں اکھاڑ پچھاڑ ہوئی، نادرا دفاتر کے اوقاتِ کار میں اضافہ کیا گیا، لوگوں سے ناجائز طور پر طلب کیے جانے والے کاغذات اور پیلے شناختی کارڈ سے جان چھڑا دی گئی، بند کی جانے والی نادرا موبائل سروس بحال کردی گئی، حصولِ شناختی کارڈ کے لیے بنائے جانے والے خودساختہ قوانین کو جنہیں زبردستی نافذ کیا گیا تھا، ختم کرکے لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا کی گئیں۔ نہ صرف یہ، بلکہ کئی ایسی الجھنوں سے بھی عوام کو نجات دلائی گئی جنہوں نے کراچی کے عوام کو نفسیاتی مریض بنا رکھا تھا۔
جماعت اسلامی کراچی کی جانب سے دیئے جانے والے احتجاجی دھرنوں سے عوام پر کیا اثرت مرتب ہوئے، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ پچھلے دنوں میری ملاقات ایک ایسے شخص سے ہوئی جس کا شناختی کارڈ، کچی آبادی کا پتا درج ہونے کی وجہ سے، شق ایف میں ڈال دیا گیا تھا۔ برسوں نادرا دفاتر کی سیڑھیاں چڑھنے اترنے کے بعد بھی اُس کا شناختی کارڈ جاری نہ کیا گیا۔ اُس کے بقول جماعت اسلامی کی اس تحریک نے اسے دوبارہ پاکستانی شہریت دلوا دی، یعنی شناختی کارڈ کی تاریخِ منسوخی کے بعد اس کی تجدید کرکے نئے شناختی کارڈ کا اجرا کردیا گیا۔ اسی طرح ایک خاتون نے بتایا کہ اسے اس کے بچوں کا رجسٹریشن ’ب‘ فارم بھی اسی تحریک کے نتیجے میں ملا، اس کا کہنا تھاکہ خدا حافظ نعیم الرحمن کا بھلا کرے۔ جماعت اسلامی کی جانب سے چلائی جانے والی احتجاجی تحریک کی بدولت حصولِ شناختی کارڈ کی متعدد مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں۔ لیکن یہاں میرا نقطہ یہ ہے کہ کراچی کے عوام کو نادرا جیسے محکمے کے چنگل سے آزاد کروانے والی جماعت نے کیے جانے والے اس عوامی فلاحی کام پر اب تک کسی قسم کی کوئی عوامی آگاہی مہم شروع نہیں کی جس کی بنیاد پر عوام کو یہ معلوم ہوسکے کہ ان کے مسیحا کون ہیں۔ جماعت اسلامی کراچی کو چاہیے کہ اس بڑے عوامی کام پر پروگرام منعقد کرے تاکہ کراچی کے عوام کو اس بات سے آگاہی مل سکے کہ ان کے مسیحا کون ہیں۔

حصہ