داستان لازوال

114

در صدف ایمان
عبد الصمد چاچا 91سال کے سفید ریش، صحت مند بوڑھے تھے، پورا محلہ ہی انھیں بابا عبدالصمد کہہ کر پکارتا تھا شام ہوتے ہی گھر کے باہر سیمنٹ سے بنی منڈیر پر بیٹھ جاتے اور تسبیح پڑھتے رہتے۔ محلے کے خواتین گزرتے ہوئے ادب سے سلام کرتے گزرتیں اور بزرگ و مرد حضرات وہیں فیض یاب ہونے کو ٹھہرجاتے۔ گزرے حالات پر خوشی اور موجودہ حالات پر افسوس کرلیتے۔ نور و حکمت کی باتیں سیکھ لیتے، اپنے گھروں کے مسائل میں مشورے لیتے، بعض اوقات گلی میں کرکٹ کھیلنے والے بچے اور نوجوان بھی بابا عبد الصمد کی باتیں سننے کے لیے گھیرا ڈال لیتے تھے اور پھر مغرب کی اذان شروع ہوتی تب ہی یہ محفل برخاست ہوتی۔ فوزان بھی بابا عبد الصمد کے گھر کے سامنے ہی رہتا تھا۔ اور ایک ذہین، نصابی و غیر نصابی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والا لڑکا تھا۔
23 مارچ قریب تھی فوزان کو اپنے اسکول میں یوم قرار داد پاکستان پر تقریر کرنا تھی۔ نہ جانے کر کٹ کھیلتے کھیلتے یہ بات کہاں سے ذہن میں آگئی کہ بابا عبد الصمد سے مدد لوں گا اور یہی کیا۔ شام میں عصر کے بعد ان کے بیٹھتے ہی کاپی قلم اٹھایا اور پہنچ گیا۔
سلام و دعا کے بعد مدعا بیان کیا، مدعا سن کر جھریوں سے بھرے شفیق چہرے پر تبسم پھیل گیا اچھا تو تمہارا موضوع ہے “وطن سے محبت ایمان کا حصہ ہے واہ یعنی تعلیمی اداروں میں اچھا رحجان ہے۔ واہ بھئی اللہ کا کرم ہے۔بہت خوشی ہوئی برخوردار جی بابا۔ بس مجھے آپ ایسے واقعات بتائیں جو آپ نے خود دیکھے تھے جب آپ پاکستان آئے پھر میں انھیں لکھوں گا دیکھئے گا میری تقریر کو ہی پہلا انعام ملے گا۔ جوش و جذبے سے فوزان نے کہا۔ یہ الفاظ سنتے ہی بابا عبد الصمد کے چہرے کا رنگ متغیر ہوگیا ’’کیا کہا بیٹا! پہلا انعام۔ تقریر۔ انعام کے لیے تقریر؟ لہجہ خود کلامی سا تھاجھریوں زدہ بوڑھے چہرے پر کرب سا پھیل گیا۔ ۔ بہت دکھ تھا بہت افسوس تھا ان بوڑھی آنکھوں میں۔

اے وطن جب بھی سر دشت کوئی پھول کھلا
دیکھ کر تیرے شہیدوں کی نشانی رویا

تو میرے بچے تمہیں صرف تقریر کے لیے وہ کربناک واقعات سننے ہیںجو جب سہہ تو روح تڑپی تھی۔ جو یاد کرو تو آج بھی آنکھوں میں آنسو آجاتے ہیں یہ کیسی محبت کرتا ہے میرے بچے تواپنے وطن سے وطن سے محبت تو ایمان کا حصہ ہے ایسی محبت جو، ایمان کے لیے تھی ، انعام کے لیے کیسے بن گئی میرے بچے اور اس انعام کے لیے میں کیا کیا بتاؤں گا؟ کیا یہ بتاؤں گا کہ آزادی کی طلب میں کہ بچہ بچہ، ہر نوجوان، بوڑھا گلی گلی پھرا تھا، وطن عزیز کے لیے گھروں میں آگ لگوائی تھی یا یہ بتاؤں کہ اس ایمان اس پاکستان کو بنانے کے ہمارے ایمانوں تک پر حملہ کیا گیا تھا۔۔ ہمیں سکھ بلوائی پاگل کتوں کی طرح ڈھونڈ تے تھے ہم داڑھیاں منڈا کر پھرتے تھے صرف اس لیے کہ یہ معلوم نہ ہو ہم مسلمان ہیں، اپنے گھر کی عورتوں کی عزت بچانے کے لیے۔ یا یہ بتاؤں کہ مسلمانوں نے اس وطن کو ایمان بنانے کے لیے وہ اذیت ناک دن بھی دیکھا تھا جسے آج بھی سوچو تو دل تڑپتا ہے، کلیجہ منہ کو آتا ہے کہ جس مقدس کتاب کو ہم ایمان والے آنکھوں سے لگاتے ہیں، سینے میں رکھتے ہیں، لبوں سے چومتے ہیں۔
جس کتاب کے سائے میں اپنی بیٹیوں کو ان کی نئی زندگی میں وداع کرتے ہیں اسی پاک کتاب قرآن پاک تک کی بے حرمتی کی گئی قرآنِ پاک کے اوراق شہید کر کے مساجد کے راستے میں بکھیرے گئے کہ جو ان مقدس اوراق سے قدم بچا کر چلا وہی مسلمان ہوگا، اسی کے گھر کی عزت سکھوں، ہندوؤں کے ہاتھوں بھینٹ چڑھے گی اور یہی نہیں اس خوف سے کہیں قرآن کی بے ادبی نہ کر جائیں کئی کئی دن مسجدیں ویران رہیں۔ ان میں صدا ِ اللہ اکبر بلند نہ ہوئی یا یہ بتاؤں کہ بوڑھے باپوں کے سامنے ان کے جوان سالہ بیٹوں کی گردن میں نیزے اتارے گئے پر وہ بوڑھا اس وطن ِ ایمان کے لیے آنسو صاف کر کے، درد ودکھ سے بھرے دل اور آنکھوں میں وطنِ پاک کی امید لیے آگے بڑھ گیا یا وہ واقعہ بتاؤں جب باپ نے پاک زمین پر سجدہ کرنے کے لیے یہاں پہنچنے کے لیے عزت کی خاطر بیٹیوں کے آگے ہاتھ جوڑدیے اور وہ خوشی خوشی کنوئیں میں چھلانگ لگا کر اپنے آپ کو موت کے سپر د کر گئیں یہ سوچ کر کہ ہم نہیں ہمارے بہن بھائی آنے والی نسلیں اس پاک دھرتی کو پالیں گے ۔۔ اس ایمانِ پاک کو پالیں گے وہ آزادی سے عزت کے ساتھ رہ لیں گے یا بیٹا تمہیں تمہاری تقریر کے لیے وہ واقعہ بتاؤں جسے سن کر ماؤں کا کلیجہ پھٹ جائے۔ جسے سن کر پتھر سے پتھر دل نم ہوجائے کہ جب پاکستان آنے کے لیے سفر شروع کیا تو لاری پر سکھوں نے حملہ کردیا،،، ان مسافروں میں نو ماہ کی حاملہ بھی تھی اور ایک دن کی زچہ بھی لیکن اس محبت ِ وطن میں وہ اپنی تکلیف نظر انداز کیے ہوئیں تھیں اور جب ان سکھوں سے بچنے کے لیے سخت گرمی میں جھاڑیوں کی پناہ لی تو وہ نو نومولود جس نے ابھی سورج نہیں دیکھا تھا گھبرا کر رونے لگا، بلکنے لگا اور اس ماں نے اپنی کوکھ اپنے ہاتھوں سے اجاڑ دی اس نے اپنے خون سے سینچے اس بچے کا گلہ خود اپنے ہاتھوں سے گھونٹ دیا۔ مامتا حیرت زدہ ہوگئی۔ وقت انگشت بدنداں اور وہ نومولود بے جان۔
اور پھر اس مردہ وجود کو سینے سے لگا کر تڑپ کر بنا آواز کیے وہ ماں بین کرنے لگی اس ماں کی عظمت کو سلام کروں یا افسوس جو اپنی مامتا کا گلہ گھونٹ کر کھل کے غم بھی نہیں منا سکی تھی یہ یہ سوچ کر کہ قافلے میں موجود اس وطن کو پانے کی امنگ لیے اس کی جوان بہنوں کی عزت پر آنچ نہ آجائے قافلے پر کوئی مصیبت نہ آجائے۔قافلے سوہنی دھرتی پر پہنچنے سے محروم نہ رہ جائے قافلہ اپنے ایمان، اپنی جانِ پناہ میں جانے سے محروم نہ ہوجائے۔ لکھو بیٹا لکھو ۔ اس ماں کا چند گھنٹوں کا بچہ بھی تحریک پاکستان کے شہداء میں شامل ہے ۔
نہیں پتا تھا بیٹا اسے نہیں پتا تھا کہ 20 لاکھ جانوں کا نذرانہ، خون کو پانی کا پانی کی طرح بہانا بیٹیوں کی عزت بچانے کے لیے انھیں کنوئیں میں دھکیلنا۔ جوان بیٹے کا سینہ چھلنی چھلنی دیکھنا۔ اپنا زر، زن، زمین سب کچھ لوٹاکر جس وطن پاک کو حاصل کیا تھا۔ آج اس وطن کے معماروں کو قربانیاں جاننی بھی ہیں تو انعام کے لیے۔ نہیں معلوم تھا۔ نہیں معلوم تھا۔
سفید داڑھی پر موتی چمک رہے تھے عبدالصمد بابا کی لرزیدہ بھرائی ہوئی آواز ابھی بھی اس درد کو بیان کر رہی تھی جو انھوں نے نو جوانی میں آنکھوں سے دیکھا فوزان یک ٹک سن سا بیٹھا ہے سنتا جارہا تھا۔
ارے نہیں معلوم تھا بیٹا نہیں معلوم تھا ان سرشار محب وطن کے سادہ دل لوگوں کو۔ نہیں معلوم تھا کہ جس پاک سر زمین کو لاکھوں جانوں کو بے جان کر کے ، لہو کو آب بنا کر حاصل کریں گے،ساٹھ سال کے بوڑھے سے لے کے ایک دن کے بچے تک کی زندگی نثار کر کے اس جس وطن پاک کے خواب دیکھے تھے وہ شرمندہ تعبیر ہو کر شرمندہ ہوجائے گا کہ اس ملک میں پاکستانی آج دو دو روپے میں ایمان فروخت کر رہی ہوگی۔ جو اپنا نام گھر بار اولاد لوٹا کر آئے تھے اسی وطن میں گیس، پانی، بجلی، چوری ہوگا اسی وطن میں آج بھائی، بھائی کا گلہ کاٹ رہا ہوگا جس وطن کو ایمان۔ کا نشان بنا کر حاصل کریں گے۔ اس پاک وطن کی صدارت ایسے لوگ کریں گے جو منافقِ وقت، فرعون وقت ہوں گے۔
جو کبھی وطنِ پاک کا سودا کر لیں گے، کبھی خود بک کر پاک وطن کو بکاؤ بنا دیں گے، کبھی اسلامی تعلیم کے خلاف جانے والوں کو صدر بنا دیں گے، کبھی گستاخان اسلام کے حامی ہوں گے۔ کبھی عاشقانِ رسول کو پھانسی چڑھا دیں گے۔ کبھی گستاخان کو پناہ دیں گے، کبھی وطن کی بیٹیوں کے آنچل تار تار ہوںگے، کبھی جدیدیت کے لباس میں پاک وطن کی بیٹیوں کو بے لباس کر دیں گے، کبھی کلچر کے نام پر بے حیائی کو فروغ دیں گے ۔ بیٹا فوزان ! بہت درد سہے اس زمین نے بہت تب یہ حاصل کیا ہم نے۔ تمہیں اللہ کامیاب کرے جاؤ۔ لیکن لوگوں یہ اپنی تقریر میں یہ سمجھانے کی کوشش کرنا کہ یہ وطن ہمیں پلیٹ میں رکھ کر نہیں ملا نہیں ملا۔ نہیں ملا۔
مغرب کی اذان ہونے لگی تھی اور باباعبد الصمد وہاں سے شکستہ قدموں سے آنکھیں صاف کرتے مسجد کی جانب چل پڑے۔

نئے شاعر، رضوان فاخر

اسامہ امیر
سر زمین بلوچستان سے تعلق رکھنے والے نوجوان شعرا میں نمائندہ آواز رضوان امام جو کہ ادبی دنیا میں رضوان فاخر کے نام سے اپنی پہچان رکھتے ہیں آپ بلوچستان کے خوبصورت شہر تربت میں 1999 کو پیدا ہوئے-تعلیمی سلسلے کے لیے کراچی کا رخ کیا اور آرمی پبلک اسکول ملیر کینٹ سے میٹرک تک تعلیم حاصل کی اور عطا شاد ڈگری کالج تربت سے انٹر کر رہے ہیں-آپ کی پسندیدہ صنف آزاد نظم ہے البتہ اپنے اظہار کے لیے غزل بھی اپنے ہی انداز سے کہنے کا ہنز جانتے ہیں اور آپ نے نظم میں مغربی ادب سے اثر قبول کیا ہے۔
منفرد اور خوش اسلوبی سے نظم کہنے والے اس شاعر کی نظموں اور غزلوں سے آپ کی ملاقات کرواتے ہیں ، چلتے ہیں کلام کی طرف:

جنگل میں لائٹ ہاؤس کی تلاش
زیرِ آب جتنے بھی پودے تھے
اچانک سمندر کی آخری بوند تک پی چکے ہیں
مردہ مچھلی کی بو سے دھرتی باسیوں کو
قے آنے لگی ہے
پیاس کی شدت سے زباں ناف تک لٹکنے لگی ہے
کشتیاں جتنی سمندر کی تھیں ساری
جنگلوں میں جاگری ہیں
اور کشتی والے سب حیران ہیں
انجان ہیں جنگل کی رسم و راہ سے
اور لچکدار گھنے آبی پودوں کو درخت پا کر ہراساں ہیں
سارباں کمپس کو تپکی دے رہا ہے
رابطے سب منقطع ہیں
اور تمام مسافر اس گھنے جنگل میں اک
لائٹ آؤس ڈھونڈنے کی جستجو میں
باری باری مر رہے ہیں
ہوا کی پورٹ میں ٹھہرا ہوا شخص
اے نیلے اور بے رنگ جسم پانی کے
تمہاری آس مجھ میں اک شکستہ لانچ کیااجلا
مگر بے کیف سا اک بادباں ہے
تمہارا ہم سفرتھا میں فقط دو چار لمحوں تک
میں واقف ہوں تمہارے بحر میں ڈوبے
ہوئے سارے خزانوں سے
تمہارے جسم کی گہرائیوں میں تیرتی
مچھلیوں کے دل کی باتوں سے
تم اپنے دور پیری میں بھی دل کش ہو
تمہیں مجھ سے بھلا اور کون بہتر جانتا ہوگا؟
کہ میں نے ایک مدت سے تمہارے سرد
سینے کا حسین اور شہد جیسا رس نچوڑا ہے
اور انہیں باور کرایا جن کو باور ہی نہیں تھا
تمہارے سرد سینے کی یہ شیرنی
میں واقف ہوں
میں واقف ہوں کہ تم میں
کشتیوں کے کار والوں نے گزرنا ترک کردی ہے
اور تم
دور پیری کے اس احساس میں کھو کر
سدا شب بھر
ستارے گنتے رہتے ہو
اور اپنا سر پٹختے ہو کناروں سے
تمہارے جسم سے اب بھی
میں ایسی بھاپ اپنے گرد رکھ سکتا ہوں
کہ جس میں سب مجھی کو بھول جائیں گے
تمہارے جسم سے اٹھتی ہوئی اس بھاپ کی خاطر
سہانے گیت گائیں گے
سمندر ان سنی کرتا ہے سورج کی……
ہوا کی پورٹ میں ٹھہرا ہوا شخص لوٹ جاتا ہے

حصہ