بلدیہ عظمیٰ کراچی اور ضلعی بلدیاتی ادارے تباہی کے دہانے پر

174

محمد انور
کراچی کا مقدمہ نہیں مقدمات کون لڑے گا؟ کیونکہ یہاں مسئلہ نہیں بلکہ مسائل ہیں۔ اس لیے صرف جماعت اسلامی کی ان مسائل کے سدباب کے لیے جاری جدوجہد سے مطلوبہ نتائج نکلنا مشکل ہے۔ ملک کے اس سب سے بڑے شہر کی یہ بے بسی ہے کہ یہاں کے مسائل کے حل کے لیے سیاسی جماعتیں عملاً وہ کردار ادا نہیں کرتیں جو انہیں ادا کرنا چاہیے، جبکہ یہ جماعتیں ان مسائل کے نام پر اور ان مسائل کو حل کرانے کے جھوٹے وعدوں پر لوگوں سے ووٹ بآسانی لے لیا کرتی ہیں۔
ایم کیو ایم نے تو ووٹ کے ساتھ سبھی کچھ لیا اور لوگوں نے حقوق کے نام پر جانیں بھی دیں۔ لیکن چونکہ وہ دھوکے بازی کرتی رہی اور لوگوں کو بے وقوف بناتی رہی، نتیجے میں اب وہ مکافاتِ عمل سے گزر رہی ہے۔
کراچی شہر کی یہ بدقسمتی ہے کہ وہ ملک کے لیے ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کرتے ہوئے پورے ملک کو سنبھال رہا ہے مگر خود سنبھل نہیں پارہا، اور اسے ملک کا سندھ سمیت کوئی اور صوبہ بھی کچھ اضافی فنڈز دینا تو کجا، اسے اس کا حق دینے اور اس کے خلاف جاری ناانصافی روکنے کے لیے بھی تیار نہیں ہے۔
بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی اِس بستی کی بدقسمتی یہ بھی ہے کہ دودھ بھی ملک کے دیگر شہروں کے مقابلے میں یہاں مہنگا ملتا ہے، جبکہ سبزیاں بھی سستی نہیں ہیں۔ فراہمی و نکاسیٔ آب، گندگی، غلاظت، سڑکوں کی ٹوٹ پھوٹ اور بجلی کی لوڈشیڈنگ اور ’کے الیکٹرک‘ کی طرف سے زائد بلنگ کی شکایات تو اب عام بات ہوچکی ہے۔
کراچی کی بدقسمتی یہ ہے کہ یہاں کے لوگ جنہیں ’’اپنا‘‘ سمجھتے ہیں وہی انہیں دیگر کرپٹ عناصر کے ساتھ مل کر نقصان پہنچاتے ہیں۔ کراچی کا المیہ یہ ہے کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی جو خالصتاً شہری ادارہ کہلاتا ہے، جسے منتخب کردہ نمائندے چلاتے ہیں اور جہاں نوّے فیصد عملہ خالص مقامی یا مہاجر افراد پر مشتمل ہے، ان دنوں اپنے ہی تنازعات میں گھری ہوئی منتخب قیادت کے باعث کرپشن کی دلدل میں دھنسا ہوا ہے۔ بلدیہ کراچی کے 27 محکمے ہیں، اس کا سالانہ بجٹ 28 ارب روپے ہے، جس میں سے تقریباً 14 ارب روپے ترقیاتی کاموں و دیکھ بھال کے لیے مختص ہیں، اس کے باوجود نئے منصوبوں پر کام ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔ کے ایم سی کے 13 بڑے اسپتالوں کا نظام تباہ ہوچکا ہے۔ ان اسپتالوں میں مریضوں کو ادوی بھی فراہم نہیں کی جاتیں۔ ایسی صورت میں مریضوں کو خوراک ملنا تو ایک خواب بن چکا ہے۔ تاہم اب سابق سینئر ڈائریکٹر میڈیکل سروسز ڈاکٹر محمد علی عباسی اور موجودہ ڈائریکٹر ڈاکٹر بیربل کی کاوشوں سے ان اسپتالوں کا نظام بہتر ہورہا ہے۔ ایک کڑوا سچ یہ بھی ہے کہ صوبائی حکومت کی جانب سے ان اسپتالوں کے حوالے سے دلچسپی کا اظہار کرنے کے نتیجے میں بہتری آنا شروع ہوئی ہے، ورنہ مقامی حکام تو صرف اختیارات اور وسائل نہ ہونے کا ہی رونا رویا کرتے تھے۔
بلدیہ کا سب سے اہم محکمہ فائر بریگیڈ و ریسکیو سروس ہے۔ اس محکمے میں سٹی ناظم نعمت اللہ خان کے دور تک 48 فائر ٹینڈر اور چار اسنارکل آگ بجھانے کے لیے درست حالت میں تھے۔ لیکن اب محکمے کے پاس صرف 8 فائر ٹینڈر رہ گئے ہیں، حالانکہ کراچی میں کم ازکم چالیس فائر بریگیڈ اسٹیشن اور سو فائر ٹینڈر ہونے چاہئیں تاکہ کسی بڑی آتشزدگی کی صورت میں اس پر فوری قابو پایا جاسکے۔
فائر بریگیڈ کی تباہی کا اصل ذمے دار سینئر ڈائریکٹر میونسپل سروسز کی حیثیت سے 2006ء سے 2017ء تک خدمات انجام دینے والے مسعود عالم کو قرار دیا جاتا ہے، لیکن کوئی دوسرا یہ بات اس لیے یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ موجودہ میئر وسیم اختر انہیں سب سے اچھا اور قابل افسر سمجھتے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ فائر بریگیڈ ڈپارٹمنٹ کے بارے میں چیئرمین فائربریگیڈ کمیٹی کی تحقیقاتی رپورٹ کے بعد مسعود عالم کو محکمہ میونسپل سروسز سے ہٹاکر ڈائریکٹر کوآرڈی نیشن مقرر کردیا گیا ہے۔
بلدیہ کراچی شاید ملک کا واحد میونسپل ادارہ ہے جہاں کا چیف ایگزیکٹو افسر گریڈ 18 کا ڈاکٹر ہے۔ ڈاکٹر اصغر عباس کی ایک خوبی یا خوش قسمتی یہ بھی ہے کہ وہ بیک وقت فنانشل ایڈوائزر کی بھی ذمے داریاں سنبھالے ہوئے ہیں، حالانکہ مبینہ طور پر دونوں اسامیوں میں سے کسی ایک پوسٹ کی اہلیت بھی نہیں رکھتے، اور چیف سیکریٹری سندھ رضوان میمن نے انہیں فارغ کرنے کی بھی ہدایت کی ہوئی ہے۔ اس کے باوجود انہیں عہدے سے ہٹایا نہیں جاتا۔ بلدیہ عظمیٰ کے محکمہ چارجڈ پارکنگ، ہیومن ریسورسز و مینجمنٹ، لینڈ، اینٹی انکروچمنٹ، باغات و ہارٹی کلچرل، اسپورٹس، فوڈ و کوالٹی کنٹرول کی حالت بھی تباہی کے دہانے پر ہے، جبکہ پورا محکمہ ٹیکنیکل سروسز و انجینئرنگ اور اینٹی انکروچمنٹ کرپشن کا گڑھ بنا ہوا ہے۔

پوری بلدیہ کراچی ایڈہاک اور او پی ایس کی بنیاد پر چل رہی ہے

بلدیہ عظمیٰ کا اینٹی انکروچمنٹ، فوڈ و کوالٹی کنٹرول، چارجڈ پارکنگ اور فائر بریگیڈ وہ محکمے ہیں جہاں او پی ایس کی بنیاد پر اور سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جونیئر اور کم گریڈ کے افسران کا بطور سربراہ تقرر کیا ہوا ہے۔ یہ اس لیے ہے کہ یہاں میٹروپولیٹن کمشنر اور فنانشل ایڈوائزر کی سیٹ پر بھی جونیئر افسر تعینات ہے۔ اس طرح یہ کہا جاسکتا ہے کہ پوری کے ایم سی کا نظام ایڈہاک بنیادوں پر جونیئر اور نااہل افسران (اون پے اینڈ اسکیل کی بنیاد پر) چلا رہے ہیں۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ حکومتِ سندھ خود بھی کے ایم سی کی اس صورت حال پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ حکومت کے ذرائع کا کہنا ہے کہ خالی اسامیوں پر تعیناتی کے لیے میئر کو افسران کے نام بھیجنے ہوتے ہیں، جبکہ کے ایم سی کا مؤقف ہے کہ ایم سی اور گریڈ 18 اور اس سے زائد گریڈز کے افسران کی تقرری کا اختیار اب حکومت کے پاس ہے، وہ جسے چاہے تعینات کرسکتی ہے، لیکن تقرر نہ کیے جانے کی وجہ سے عارضی انتظام کے طور پر میئر ازخود افسران کو متعین کرتے ہیں۔

کراچی کے چھ ضلعی ادارے

شہر کے چھ ضلعی ادارے بلدیہ شرقی، غربی، جنوبی، وسطی، ملیر اور کورنگی بھی منتخب کونسلیں چلاتی ہیں۔ لیکن شہریوں کی بدقسمتی کہ ان اداروں کے لیے بھی انہوں نے جس جماعت کے لوگوں کا انتخاب کیا تھا وہ اب ختم ہونے کو ہے۔ نتیجے میں بلدیہ شرقی، کورنگی اور وسطی کی حالت خود یہ بتاتی ہے کہ اس کا کوئی والی وارث نہیں ہے۔ اسی طرح کی صورتِ حال بلدیہ جنوبی اور بلدیہ غربی کے علاقوں کی بھی ہے۔ ان تمام ضلعی بلدیاتی اداروں کے ساتھ شہر کے دیہی علاقوں پر مشتمل ڈسٹرکٹ کونسل کراچی کا نظام بھی کوئی اچھا نہیں ہے۔ ان اداروں میں جس رفتار اور تعداد سے ٹینڈرز اور کوٹیشن نکلتے ہیں اس طرح کام ہوتا نظر نہیں آتا۔ یہاں بھی کے ایم سی کی طرح سب ہی ذمے داران صرف کمیشن کے حصول پر توجہ دیتے ہیں۔ بیشتر کام تو فائلوں ہی میں مکمل ہوجاتے ہیں۔ ان اداروں کا کمیشن بھی اوپر تک یعنی صوبائی حکومت کی شخصیات تک پہنچتا ہے، اس لیے یہاں بھی کرپٹ عناصر آزادی کے ساتھ لوٹ مار کرنے میں مصروف رہتے ہیں۔

حصہ