بسم اللہ کریں

110

تنویر اللہ خان
ہمارے معاشرے میں خاندانی، معاشرتی، معاشی، سیاسی،حکومتی، ریاستی معاملات کی بنیاد زور زبردستی اور قوت پر قائم ہے، دین، دلیل، توازن، عدل، اصول وغیرہ جیسی باتیں عملی کے بجائے کتابی اور تقریری ہوکر رہ گئی ہیں۔
باپ اپنی اولاد سے دلیل کے بجائے حکم کے صیغے میں بات کرتا ہے اس کا مطالبہ ہوتا ہے کہ میں نے سوچ سمجھ لیا ہے بس اتنا کافی ہے لہذااولاد جب تک جسمانی اور مالی لحاظ سے کمزو ہوتی ہے اُس وقت تک چاہے نہ چاہے اپنے بڑوں کی بات سنتی اور مانتی ہے لیکن جب باپ بوڑھا ہوجاتا ہے اور اولاد مالی اور جسمانی حوالے سے طاقت ور ہوجاتی ہے تو پانسہ پلٹ جاتا ہے اورچھوٹے اپنے بڑوں سے باغی ہوجاتے ہیں،دیرپا، خوش گوار تعلقات قوت اور حکم کے بجائے محبت اور دلیل سے قائم ہوتے ہیں اوردیر تک چلتے ہیں ۔
ہندوستان کی پچاس سے زائد عمر کی ایک گلوکار شاعرہ خاتون جن کا شعر سے زیادہ سُرتال پرزور تھا وہ سامعین کے سے اپنا درد بانٹتے ہوئے فرما رہی تھیں کہ، نئی نسل اخلاق، تمیز، تہذیب سے عاری ہے، ان کا کہنا تھا کہ ہم تو اپنے بڑوں کے جوتوں کے پاس بیٹھنے میں خوش ہوتے تھے آج کی نسل ہے جو منہ کو آتی ہے، نئی نسل سے اس طرح کا شکوہ ہمیشہ سے سننے میں آتا ہے، پچیس برس پہلے موصوفہ شاعرہ یقیناً جوان ہوں گی لہٰذا اُس وقت جو بُزرگ شاعر نوجوانوں سے بدتہذیبی کا جو شکوہ کرتے سُنائی دیتے تھے اُن کے مخاطب کون تھے ؟
فرد اور معاشرے کے اخلاق، عادات، تہذیب اور تمیز نہ ایک دم خراب ہوتے ہیں اور نہ ہی آن کی آن ٹھیک کیے جاسکتے ہیں، اولمپک گیمز میں میراتھن ریس کا مقابلہ ہوتا ہے یہ ریس پانچ ہزار میٹر طویل ہوتی ہے اور ہر دوڑنے والے کے کئی ساتھی ہوتے ہیں دوڑ شروع ہوتے ہی پہلے دوڑنے والے کھلاڑی کے ہاتھ میںایک چھڑی دی جاتی ہے جب وہ اپنے حصّے کا فاصلہ طے کرلیتا ہے تو چھڑی اگلے کھلاڑی کو تھما دیتا ہے دوسرا اپنے سے اگلے کو اور تیسرا چوتھے کوجو آخری کھلاڑی چھڑی سمیت سب سے پہلے منزل پر پہنچتا وہ دوڑ جیت لیتا ہے، یہی معاملہ فرد اور قوم کے اخلاق اور کردار کا ہوتا ہے ہم جیسے اخلاق کی چھڑی آئندہ نسل کو تھمایں گے وہ اسے ہی لے کر آگے بڑھے گی یعنی جس اخلاق اورکردار کا مظاہرہ ہم آج کریںگے وہی اگلی نسل کو منتقل ہوگا، اسی طرح آج ہمارا جو قومی کردار ہوگا وہی ہمارے بعد میں آنے والی قوم کا کردار ہوگا یا اُس سے بھی کچھ کم تر۔
گزشتہ کئی سوبرسوں سے ہم انفرادی اور قومی کردار کی زبوں حالی پر ماتم کنعاں ہیں لیکن کوئی بھی اپنے آج کو یوم استغفار، یوم رجوع بنانے پر راضی نہیں ہے، تہذیب اخلاق، کردار کی جیسی فصل ہم کاٹنا چاہتے ہیں ویسی ہی بوائی ہمیں آج کرنی ہوگی اور صبر سے اس فصل کی پہرے داری کرنی ہوگی تب کہیں جاکر نتیجہ برآمد ہوگا سردست صورتحال یہ ہے کہ ہم بوتے کچھ ہیں اور کاٹنا کچھ اور چاہتے ہیں۔
شریف برادران آج جس سیاسی اخلاقی دیوالیہ پن کی فصل کاٹ رہے ہیں اُس کا بیج برسوں پہلے انھوں نے خود بویا تھا، مسلم لیگ ن کی طرف سے مرحومہ بے نظیر بھٹو کی تیراکی کا لباس پہنے تصویروں کا تقسیم کیا جانا چند برس پہلے ہی کہ بات ہے، اپنے سیاسی زرداری کو سڑکوں پر گھسیٹنے کا عزم جناب شہبازشریف اپنے ہر جلسے میں کرتے تھے، عدالت پر حملہ مسلم لیگ ن کے کھاتے میں ہے،ہمیں اور ہمارے حکمرانوں کو تہذیب، اخلاق کی یاد ہمیشہ اپنی کمزوری کے زمانے میں ہی آتی ہے۔
آج کے حکمران اگرمثبت روایات قائم کرنے کے خواہش مند ہیں اور حکمرانی کو عوام کی خدمت کے تابع کرنا چاہتے ہیں تو اس کا آغاز اس اعلان سے کردیں کہ آج سے نہ کسی منصوبے کے سنگ بنیاد کی کوئی تقریب ہوگی اور نہ ہی افتتاح کی کوئی تقریب ہوگی بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ سنگ بنیاد کی تقریب پر تو کرڑوں روپیہ خرچ ہوجاتا ہے لیکن منصوبے پر ایک اینٹ کا کام بھی نہیں ہوتا کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک منصوبے کے کئی مرتبہ سنگ بنیاد رکھے جاتے ہیں اور ہر بار کثیر سرمایہ خرچ کیا جاتا ہے لیکن بنیاد پر ایک ردّا بھی نہیں چڑھایا جاتااسی طرح تختی لگائی کی رسم کا خاتمہ بھی ہونا چاہیے، جس کام پر خرچ حکومت کے خزانے سے ہوتا ہے اُس کام پر ممبران اسمبلی اپنے نام کی تختی کس استحقاق کی بناء پر لگاتے ہیں ؟ کیا وہ اپنی جیب سے پیسہ خرچ کرتے ہیں ؟ یا سرکاری خزانہ ان کے باپ کی وراثت ہے ؟
ہمارے معاشرے میں ایک اور چلن عام ہے لوگ اپنی خامیوں کو ہلکا کرنے کے لیے بڑی بڑی شخصیات کا نام بے دھڑک لیتے ہیں مثلاً عمران خان کی تیسری شادی پر کہا گیا کہ حضرت عمرؓ فاروق اور جناب امام حسن نے بھی تو کئی شادیاں کی تھیں، محترمہ مریم نواز نے بڑی دیدہ دلیری سے فرمایا کہ میں اپنے باپ کے لیے فاطمہؓ کا کردار ادا کررہی ہوں۔ کہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حق کی راہ میںتکلیفیں برداشت کرنا اور کہاں جناب نواز شریف کا مال کے لیے ہر بے عزتی کو ڈھٹائی کے ساتھ پی جانا، کوئی موازنہ بنتا ہے ؟۔
تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں کو خود اپنے آپ کو اس بات کا پابند کرنا چاہیے کہ وہ اپنا پروگرام، منشور عوام کے سامنے رکھیں گے، انھیں اقتدار ملا تو وہ کس طرح ملک اور قوم کی ترقی کے لیے کام کریں گے، لیکن کسی بھی طرح مذہبی مقدس ہستیوں کے نام پر مقدس مذہبی نشانیوں کا واسطہ دے کرووٹ نہیں مانگنا چاہیے۔
اسی طرح کس سرکاری عمارات، روڈ، بستی، تعلیمی ادارے کا نام اپنے یا اپنے بیوی، بچوں پر رکھنے کا سلسلہ بھی ختم ہوناچاہیے، تعلیمی ادارے کا نام زرداری کی بیٹی بخت آور کے نام پر رکھنے کا کیا جواز ہے ؟۔
یہ چند چھوٹی بڑی توجہات ہیں ہمیں ایک ہجوم سے قوم بننے کے لیے اس طرح کے بہت سے کام کرنے ہوں گے ابھی ہماری نہ کوئی سمت ہے نہ کوئی منزل ہے اور نہ کسی راستے کا تعین ہے ، جس کا دل جو چاہتا ہے کرتا ہے، ہمارے ملک میں ایک ہی آئین کے تحت کبھی صدر بااختیار ہوتا ہے کبھی وزیرآعظم بااختیار ہوتا ہے اور کبھی دونوں ہے بے اختیار ہوتے ہیں، نہ کسی شہر میں آبادی کی تعداد کا تعین ہے کس شہر میں کتنی گاڑیاں ہوں گی ، کس شہر کو میڑو کی ضرورت ہے کس شہر کی ضرورت پینے کا پانی ہے، کسی معاملے میں بھی ہم کسی بھی اصول اور ضابطے کے پابند نہیں ہیں، ضابطہ کاری اور اس پر عمل داری کا کام حکمرانوں کی سطح پر ہوسکتا ہے لہذا وہیں سے اس کا آغاز ہونا چاہیے، آج کے حکمران اپنے اپوزیشن کے زمانے کی ایک ڈائری مرتب کریں اور جو مطالبے وہ اُس وقت کرتے رہے تھے اب ان کے ہاتھ میں اقتدار ہے وہ اپنے اُن مطالبوں پر عمل کرنے کا اختیار رکھتے ہیں لہذ ا بسمہ اللہ کریں۔

حصہ