عشق ناپید اوخردمی گردش صُورتِ مار

371

ڈاکٹر احید حسن، سید بابر علی
آئن سٹائن کے بعد دنیا کے دوسرے مشہور ترین سائنس دان قراردیئے جانے والے ماہر طبعیات اسٹیفن ہاکنگ 76 برس کی عمر میں وقت کی رو سے نکل کر ستاروں کے سفر پر روانہ ہوئے ۔ سٹیفن کے انتقال پر مجھے پیارے دوست محسن چنگیزی کا ایک شعر یاد آ گیا،ایسا لگتا ہے کہ یہ شعر اسٹیفن ہاکنگ ہی کے لیے لکھا گیا تھا …..

وقت کی رو سے نکلنے کا ہنر جانتے ہیں
ہم ستاروں پہ ٹہلنے کا ہنر جانتے ہیں

اسٹیفن ہاکنگ نے ایک بار کہا تھا: “اگر یہ کائنات ان لوگوں کا گھر نہ ہوتی جن سے آپ محبت کرتے ہیں تو یہ ایسی نہ ہوتی۔”.
اسٹیفن آٹھ جنوری 1942کو انگلینڈ کے قصبے آکسفورڈ کے ایک علمی گھرانے میں جنم لیا۔ اُن کی والدہ ازوبیل ہاکنگ اوروالد فرانک ہاکنگ نے تمام تر مالی مشکلات کے باوجودآکسفورڈ یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی تھی۔ اسٹیفن کے والد اپنے بیٹے کو اچھی شہرت کے حامل ویسٹ منسٹر اسکول میں تعلیم دلوانے کے خواہش مند تھے، لیکن اسٹیفن ناسازی طبع کی وجہ سے اسکالر شپ کے لیے ہونے والے امتحان میں شریک نہیں ہوسکے۔ اسکالر شپ کے بنا اس اسکول کی فیس برداشت کرنا ان کے والدین کے بس سے باہر تھا، لہذا اسٹیفن ہاکنگ نے سینٹ البانز اسکول میں ہی تعلم کا سلسلہ جاری رکھا۔
طبیعات اور کیمیا میں غیرمعمولی دل چسپی کے سبب اسکول میں اسٹیفن کو آئن اسٹائن کے نام سے جانا جاتا تھا۔ 1959میں محض سترہ سال کی عمر میں ہاکنگ نے آکسفورڈ کے یونیورسٹی کالج میں داخلہ لیا۔ انہوں نے جب گریجویشن کیا تو اُس وقت کائنات کی تخلیق کی تھیوریز، بگ بینگ اور اسٹیڈی اسٹیٹ طبیعات کے طالب علموں کا موضوع بحث ہوا کرتی تھی۔
1963 میں 22 برس کی عمر میں جب انھیں موٹر نیورون کا مرض لاحق ہوا تو اس وقت طبی ماہرین نے پیش گوئی کی تھی کہ وہ صرف چند ماہ ہی زندہ رہ سکیں گے۔اس بیماری کے شکار صرف پانچ فیصد لوگ بھی مرض کی تشخیص کے بعد ایک دہائی سے زیادہ عرصہ زندہ نہیں رہ سکے۔ زیادہ تر لوگ اس بیماری کی تشخیص کے چند سالوں کے اندر اندر مر جاتے ہیں۔اس بیماری کے باعث سٹیفن ہاکنگ ویل چیئر تک محدود ہو گئے اور بول چال کے لیے طبی آلات کا استعمال کرتے رہے۔وہ ابلاغ کے لیے انٹیل کارپوریشن کا تیار کردہ کمپیوٹر بیسڈ کمیونیکیشن سسٹم استعمال کرتے تھے۔ ایک ٹیبلیٹ کمپیوٹر اُن کی وہیل چیئر پر نصب تھا۔ اس ٹیبلیٹ میں ایک خصوصی پروگرام انسٹال کیا گیا تھا۔ یہ پروگرام اسکرین پر سافٹ ویئر کی بورڈ ظاہر کرتا ہے اور ایک کرسرخود بہ خود اس کی بورڈ پر کالم اور قطار کی شکل میں حرکت کرتا ہے۔
اسٹیفن کسی حرف کو منتخب کرنے کے لیے اپنے گال کو حرکت دیتے تھے۔ گال کی حرکت کو شناخت کرنے کے لیے اُن کے چشمے کے ساتھ ایک انفراریڈ سوئچ لگایا گیا تھا۔ پروگرام میں ابتدائی حرف سے پورا لفظ ظاہر کرنا تھا اور انہیں کچھ بھی کہنے کے لیے کسی بھی لفظ کے ابتدائی حروف لکھنے پڑتے تھے۔ اسی طرح اپنا جملہ مکمل کرنے کے بعد ایک کمپیوٹرائز سسٹم لکھے ہوئے جملوں کو انسانی آواز کی شکل میں ڈھالتا کرادائیگی کرتا تھا۔ اس کی بدولت ہی ہزاروں لوگ اس عالی دماغ انسان کے لیکچرز سے مستفید ہوئے۔
اسٹیفن مشہور برطانوی ریاضی داں، فلسفی اور ماہرطبیعات سر راجر پین روز کے تھیورم آف اسپیس ٹائم اور بلیک ہول سے متاثر تھے، اسی وجہ سے انہوں نے اسی موضوع کو منتخب کرکے 1965میں اپنا تحقیقی مقالہ پیش کیا، جس کی بنیاد پر انہیں کالج میں اسکالر شپ ملی۔ انہوں نے 1966 میں علم کائنات پر پی ایچ ڈی کی سند حاصل کی۔
ہاتھ پیر ہلانے سے معذور اور بولنے کے لیے کمپیوٹر پر انحصار کرنے والے اسٹیفن ہاکنگ کی سوچ بہت آگے کی تھی۔ وہ وقت سے آگے دیکھنا چاہتے تھے، وہ ماضی میں جھانکنا چاہتے تھے۔ وہ ہمہ وقت مستقبل میں یا ماضی میں جانے کے طریقے ڈھونڈتے رہے۔ اس بابت اسٹیفن نے کہا تھا،’’کسی زمانے میں وقت کے سفر کو محض ایک خیال سمجھا جاتا تھا۔ میں نے اس بارے میں کبھی بات اس لیے نہیں کی کہ کہیں مجھے مخبوط الحواس نہ سمجھ لیا جائے۔ لیکن میں اب بھی ماضی میں سفر کرنا چاہتا ہوں، میں ماضی میں جاکر مارلن منرو، جارج گلیلیو سے ملاقات کرنے کا خواہش مند ہوں۔ ماضی کی طرح مستقبل میں بھی سفر کرنا چاہتا ہوں، دیکھنا چاہتا ہوں کہ کائنات کا اختتام کب اور کیسے ہوگا۔‘‘
اسٹیفن ہاکنگ بلاشبہہ دنیا کے سب سے مشہور سائنس داں تھے۔ جسمانی طور پر مفلوج ہونے کے باوجود انہوں نے آگے بڑھنے کی لگن جاری رکھی۔ اسٹیفن ہاکنگ نے ریاضیاتی طبیعات کی سرحدوں کو دریافت کیا۔ انہوں نے ورم ہول کے سربستہ رازوں سے پردہ اٹھایا، اس کی بنیاد پر انہوں نے ’’ہاکنگ تاب کاری‘‘ کی پیش گوئی کی۔ اپنی سب سے زیادہ فروخت ہونے والی کتاب ’’وقت کی مختصر تاریخ‘‘ میں انہوں نے بنیادی طبیعات کی پیچیدہ دنیا کو آسان پیرائے میں دنیا کے سامنے پیش کیا۔سٹیفن ہاکنگ بلیک ہولز اور نظریہ اضافیت کے بارے میں گراں قدر خدمات کے حوالے سے شہرت رکھتے ہیں۔ انھوں نے سائنس کے موضوع پر کئی کتابیں لکھیں ۔
حقیقت یہ ہے کہ پروفیسر ہاکنگ اس بیماری کے ساتھ تقریباً نصف صدی تک زندہ رہے جو آہستہ آہستہ جسم کے ان پٹھوں کو کمزور کرتی ہے جو اعصاب کو کنٹرول کرتے ہیں اور ان کا اس طرح زندہ رہنا ایک ’معجزہ‘ تھا۔خالق کہ پہچاننے کا ایک طریقہ اس کی تخلیق پر غور کرنا ہے۔ ایک پتھر، ایک پتہ، ایک چونٹی کی حقیقت پر غور کرنے بیٹھیں تو وہ بھی آپ کو لامحالہ خالق تک ہی لے جائے گی۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ہاکنگ کو جو بیماری لاحق تھی اس کا مریض تشخیص کے بعد دس سال سے زیادہ عرصے تک زندہ نہیں رہ سکتا۔ ہاکنگ وہ واحد انسان تھا جو بیماری کی تشخیص کے پچاس سال گزرنے کے باوجود زندہ رہا۔ خدا کی شان ہے۔کیا یہ سب اتفاقات ہیں ۔بالکل نہیں اتنے سارے اتفاقات کبھی ایک ہی وقت میں اکٹھے رونما نہیں ہوتے اور یہ بات سائنس بھی تسلیم کرتی ہے۔لہذا کئی سائنسدان جن میں نوبل انعام یافتہ سائنسدان بھی شامل ہیں اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ ان کے پاس خدا کی ذات پہ ایمان کے سوا کوئی چارہ نہیں۔
اسٹیفن ہاکنگ نے 2010ء میں یہ تسلیم کیا کہ کائنات میں ایک عظیم ڈیزائن موجود ہے،سارے شواہد ایک خفیہ قوت یعنی خالق کائنات کے وجود کی خود ہاکنگ بھی تصدیق کرتے تھے۔لہذا اب ان شواہد کی روشنی میں خود ہاکنگ کی ہی اپنی وضاحتوں سے نہ صرف خدا کی ذات کے وجود کی سائنسی تصدیق ہوتی ہے بلکہ روز قیامت کی بھی۔
سائنس کے ذریعے اللہ کی جن نشانیوں کے انکشافات ہو رہے ہیں ،اس حوالے سے سید قطب شہیدؒ فرماتے ہیں:
’’قرآنی اشارات کو سائنس کے جدید اور ہمہ آں متغیر نظریات پر محمول کرنے کی کوشش منہجی اعتبار سے بنیادی غلطی ہے۔ ساتھ ہی اس میں تین باتیں ایسی پائی جاتی ہیں جو قرآن کی عظمت و جلال کے شایانِ شان نہیں ہیں:
اول: اندرونی احساسِ شکست، جس کی بنا پر بعض لوگ گمان کرتے ہیں کہ سائنس کو فیصلہ کن حیثیت حاصل ہے۔ چنانچہ وہ قرآنی بیانات کو سائنس کے ذریعے ثابت کرنے یا ان پر سائنس سے استدلال کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جب کہ قرآن اپنے موضوع پر کامل اور اپنے بیان کردہ حقائق کے سلسلے میں فائنل کتاب ہے اور سائنس کا حال یہ ہے کہ اس میں کل تک جو چیز ثابت تھی آج اس کی تردید ہوجاتی ہے۔
دوم: قرآن کے مزاج اور اس کے مقصدِ بعثت کے بارے میں غلط فہمی، جب کہ قرآن علی الاطلاق ایسی آخری حقیقت ہے جو انسانی وجود کی ایسی تشکیل کرتی ہے جو اس کائنات کے مزاج اور اس کے الٰہی ناموس سے ہم آہنگ ہو ، تاکہ انسان اور کائنات میں کوئی ٹکراؤ نہ ہو، بلکہ انسان کا کائنات سے قریبی تعلق استوار ہوجائے، وہ اس کے بعض اسرار جان لے اور اس کے بعض مظاہر کو اپنے کارِ خلافت میں استعمال کرسکے۔
سوم: نصوصِ قرآن کی بہ تکلّف اور دور از کار تاویل، کہ قرآنی آیات کو من چاہے معانی کا جامہ پہنایا جائے اور ان کے ساتھ ایسے سائنسی مفروضات اور نظریات کے پیچھے دوڑا جائے جو ثابت شدہ اور دائمی نہیں ہیں، بلکہ ہر دن ان میں نئی تحقیقات سامنے آتی رہتی ہے۔لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ سائنس کے ذریعے کائنات، زندگی اور انسان کے بارے میں جن حقائق کا انکشاف ہوا ہے ان سے آیاتِ قرآنی کے فہم میں فائدہ نہ اٹھایا جائے، بلکہ ضروری ہے کہ آفاق و انفس میں سائنس کے ذریعے اللہ کی جن نشانیوں کا انکشاف ہورہا ہے ان پر ہم غور کریں۔ اس سے اس حکم الٰہی کی بھی تعمیل ہوگی جو اس نے اپنی آیات میں تدبر کرنے اور کائنات میں غورو فکر کرنے کے سلسلے میں دیا ہے۔”
حکیم الامت علامہ اقبال نے کیا خوب فرمایا ہے :

“عشق ناپیدا و خرد می گردش صُورتِ مار”
عقل کو تابعِ فرمانِ نظر کر نہ سکا
ڈھُونڈنے والا ستاروں کی گزرگاہوں کا
اپنے افکار کی دُنیا میں سفر کر نہ سکا
اپنی حِکمت کے خم و پیچ میں اُلجھا ایسا
آج تک فیصلۂ نفع و ضرر کر نہ سکا
جس نے سورج کی شُعاعوں کو گرفتار کیا
زندگی کی شبِ تاریک سحر کر نہ سکا!

(اقبال)
بشکریہ :بی بی سی

حصہ