اِرتِقاء کہاں؟۔

76

قاضی مظہر الدین طارق
دوسرا اور آخری حصہ
[۴] Devonian Period :
یہ دَور،بیالیس کروڑسال قبل سے شروع ہوکرچھتیس کروڑ سال قبل تک رہا،اس میںبیجدار پودے وارد ہوئے، جنگل بنے،بغیر پر کے حشرات خشکی پر آئے،پیروںپر چلنے والے’ورٹیبریٹ‘ نظر آئے۔ پہلے Amphibians آموجود ہوئے ۔
[۵] Carboniferous Period :
یہ دَور،چھتیس کروڑ سال قبل شروع ہوکر تیس کروڑسال تک چلتا رہا،اس میںابتدائی بڑ ے درخت نشو نما پائے، جنگلوں میںفرن اوربوٹیاںپھیل گئے،ہڈی واے جانورخشکی پر آئے۔ اُڑنے والے کیڑے ،انڈے دینے والے جانوراور ابتدائی Reptiles دیکھنے میں آئے۔
[۶] Permian Period:
یہ دَور،تیس کروڑ سال قبل شروع ہوکرپچیس کروڑسال قبل تک رہا،یہ پالیوزوئک زمانے کا آخری دور ہے،اس میں: صنوبر،سرو،چیڑ،تاڑ اور سپاری جیسے سدا بہاردرخت پہلی مرتبہ ظاہر ہوئے۔
……………
دوسرا ، Mesozoic Era :
اس کے بعدچوتھے اورآخری ’عصر‘ کا دوسرا زمانہ شروع ہوا،جس میں تین اَدوار ہیں:
[۱] Triassic Period :
یہ دور،پچیس کروڑ سال قبل شروع ہوکربیس کروڑ سال قبل تک چلتا رہا۔ رینگنے والے Reptiles زمین پر چھا گئے۔
Sea urchins سمندر میں آبسے اورزمین پرچھوٹے ’دائینوصارپہنچ گئے۔
ابتدئی ممالیہ کی آمد ہوئی۔
پہلے ممالیہ کا ثبوت ملا۔
[۲] Jurassic Period :
یہ دَور،بیس کروڑسال قبل شروع ہوکر چودہ کروڑپچپن لاکھ سال قبل تک رہا۔
اس دَورمیںصنوبر،سرو،چیڑ،تاڑی،اخروٹ اورسپاری جیسے درختوںنے تسلط حاصل کرلیا۔
یہ ’ڈائینوصاروں ‘کا دورتھا۔دیوہیکل سبزی خوراورچیرپھاڑ کرنے والے گوشت خورزمین پر غالب آگئے۔
اس کے ساتھ ہی اُڑنے والے ڈائنوصاراور reptiles آئے۔
پندرہ کروڑ برس قبل:
پرندوں کی ابتدائی قسم ظاہر ہوئی جوپرندوں اورخزندوں دونوں کی خصوصیات کی حامل تھی۔
[۳] Cretaceous Period :
یہ دَور،چودہ کروڑ پچاس لاکھ سال قبل شروع ہوکرساڑھے چھ کروڑسال قبل اختتام کوپہنچا۔پھولوںوالے پودے نمودار ہوئے اور زمین پرمگرمچھ رینگنے لگے۔
ساڑھے دس کروڑ سال قبل :
جدپرندے اورممالیہ ترقی کرنے لگے۔
چھ کروڑاسی لاکھ سال قبل:
زمین پر رہنے والی پچیاسی فی صدقسام فنا ہوگئے ان میں سارے ڈائینوصاربھی شامل تھے۔
……………
تیسرا، Era Cenozoic :
اب چوتھے اور آخری ’عصر‘ کا آخر ی زمانہ شروع ہوتا ہے،یہ زمانہ ساڑھے چھ کروڑسال قبل شروع ہوا اور اب تک جاری ہے۔اس میں تین ادوار ہیں:
[۱] Paleogene Period :
یہ دَور،ساڑھے چھ کروڑ سال قبل شروع ہوکر دو کروڑ تیس لاکھ سال قبل ختم ہوا۔
اس دور میںآنول کے حامل ممالیہ کی آمد ہوئی، چھچھوندر،بندر جیسے اورابتدائی گوشت خور ممالیہ اورکینگرو،حشرہ خورآئے ۔
پھولدارپودوںکی بہتات ہوگئی۔
چھ کروڑسال قبل :
ابتدائی کھروں وا لے چرندے نظر آئے۔
ساڑھے چار کروڑسال قبل :
جدید ممالی حیوانات ظاہر ہوئے ان میںگینڈے،اونٹ اورابتدائی قسم کے گھوڑے تھے۔
ساڑھے تین کروڑ سال قبل:
گھانس کی قسمیں پیدا ہوئیں اس کے ساتھ ہی ان کو کھانے کیلئے ہاتھی بھی آموجود ہوئے۔
[۲] Neogene Period :
یہ دَور،سوادو کروڑسال قبل شروع ہوکرچھبیس لاکھ سال قبل اختتام پزیر ہوا۔اس دور میںگوشت خور ممالیے پیداہوئے ، جنگلوں نے گھانس کے میدانوں کو جگہ دی۔
ساٹھ لاکھ برس قبل:
انسان نما جانوروںکے فوسلزملے۔
۴۴لاکھ سال قبل:
ہومنین حیوانوںکے آثار ملے ۔
۳۹لاکھ برس قبل:
ہیومنید انسان نما حیوان کے فوسلزملے۔
اس دَورکے آخر میں چرنے والے چرندے پیدا ہوئے جن کی ٹانگیں لمبی تھیں۔
……………
اب ہم آخری ’عصر‘ کے آخری’ زمانے‘ کے آخری’ دَور‘میں داخل ہو رہے ہیں ۔
[۳] Quaternary Period :
یہ دَورپونے چھبیس لاکھ سال قبل شروع ہوکر اب تک چلتاجا رہا ہے۔
۲۴ لاکھ سال قبل:
گھربناکر بسنے والے ایک جانورکے آثار ملے۔
بیس لاکھ سال قبل :
ایک انسان جیساجانورملاجو ’اَوزار‘ بناتاتھا۔
سترہ۱۷ لاکھ سال قبل :
سیدھاچلنے والاجانورافریقہ سے باہر نکلا۔
تیرا لاکھ برس قبل :
ممالیہ خاندان کے مزیدجانور اوراس کے علاوہ پرندے پائے گئے۔
سات لاکھ سال قبل:
انسان اور Neanderthalکے جَدّنسلاً الگ ہونا شروع ہو گئے۔
پانچ لاکھ تیس ہزارسال قبل :
انسان نماجانوروں نے بولنا سیکھا۔
چار لاکھ سال قبل :
انسان نما حیوان نے لکڑی کے نیزے بنائے اوروہ جانوروں کا شکار کیا کرتے تھے اورکاٹنے کیلئے پتھرکے اَوزاراستعمال کرتے تھے۔
پونے چارلاکھ سال قبل:
انسانوں اور Neanderthals کے اَجداد کی الگ الگ آبادیاں بن گئیں۔
تین لاکھ سال قبل :
انسان نما حیوانوں نے آگ کا محفوظ استعمال شروع کیا ۔ ’نیندرتل‘ سارے یورپ میں پھیل گئے۔
پونے دو لاکھ سال قبل:
پہلے ا نسان(Homo sapiens)کے آثار ملے۔
ایک لاکھ پانچ ہزار برس قبل:
انسان کوخوراک کی تلاش میں ایک قسم کی گھانس کے بیج ملے،یہ گندم کی ابتدائی شکل تھی۔
اسی ہزار سال قبل:
کہتے ہیںکہ ’’انسان اور نیندرتل دو نسلوں کے اختلات سے ایک ’دوغلی نسل‘ پیدا ہوئی‘‘۔
چوہتر۷۴ ہزار برس قبل :
ایک حادثے سے انسان کی آبادی کم ہوکر صرف دس ہزار رہ گئی۔
ساٹھ ہزار سال قبل :
کہتے ہیں کہ’’ انسان کے سب سے پرانے مرد جدِّامجد کے آثار حاصل ہوئے!‘‘
چالیس ہزار سال قبل :
کرومگنن آدمی یورپ میں پیدا ہوا۔
اٹھائیس ہزار سال قبل:
’کرو مگنن‘ یورپ میں پھیل گئے اور Neanderthals کے آثار Fossil records سے غائب ہو گئے۔
یہ ہے انسانی علم!کون سی حیات پہلی مرتبہ کب زمین پر وارد ہوئی اس کا تقریباً صحیح صحیح حساب ریڈیو میٹرک ڈیٹینگ سے معلوم ہوا ہے۔
مگریہ معلومات مکمل طور پر اس ترتیب سے نہیں ہے جو ایک سادہ ترین حیات (مونیرا)سے پیچیدہ ترین (انسان) تک ایک ایک قدم بڑھاتی جائے ۔
پھراس میں بہت ساری کڑ یاں ناپید بھی ہیں،یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ کڑیاں مل جائیں،نہ بھی ملے تب بھی یہ ہوسکتا ہے کہ سادہ سے پیچیدہ کی ترتیب صحیح ہواور خالق نے اس کواسی ترتیب سے مرحلہ وار تخلیق کیا ہو،مگر سو سال بیت گئے، ناپید کڑیاںاب تک نہیں مل سکیں۔
بہت تگ و دو کے بعد بھی اب تک یہ ثابت نہیں ہورہا کہ ایک نوع سے دوسرے نوع میں تبدیلی حادثاتی طور پر اتفاقیہ کس طرح ہوئی،کوئی بھی حادثاتی تبدیلیاںاب تک کبھی مثبت کی طرف نہیںگئی،ہاں! خرابی کی طرف جا سکتی ہے۔
خاص طور پر جب سے الکٹرانک خردبین ایجاد ہوئی اور ایک خَلیہ کی نہایت پیچیدہ تشکیل، ان کے کام، ان میںپیچیدہ ترین مالیکیولزکے گھمبیر reactions کے بارے میں علم ہوا، DNAکے بارے میں علم ہوا اور Genetics کا تفصیلی علم حاصل ہوا ،توانسان کو سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ یہ تبدیلی کس مرحلے پرکب ہوئی، اورکیسے آئندہ نسل کو منتقل ہوئی۔
ابھی ہم آخری ’کوترنری دَور‘میں دیکھ رہے تھے کہ جانورکے انسان میں تبدیل ہو نے کے بارے میںکیسی کیسی عامیانہ کہانیاں بنائی گئیں ہیں!انسان کومختلف اَوقات اور جگہوں سے نا مکمل ڈھانچے فوسلز کی صورت میں ملے ،کہیں صرف ایک داڑ، جبڑے کی ہڈی، کہیں کھوپڑی کا ٹکڑا ،کہیں گردن کی ہڈی ،کہیں کچھ اور ان کی بنیاد پر اندازے لگائے گئے، قصّے گڑھے گئے۔کہا گیا یہ انسان نما جانور تھے، کوئی دو پیروںپر کھڑے ہوتے تھے، کچھ گھر بناتے تھے،کوئی پتھر سے اَوزار بناتے تھے۔ کچھ بولتے تھے،کوئی لکڑی کے ہتھیار بناکر شکار کرتے تھے۔اِن میں کچھ نے آگ کو قابو میںکر لیا ،اپنا کھانا پکا کر کھانے لگے۔
غور کریں! یہ سب کام کرنے والے حیوان اب کہاں گئے؟کیا ترقی کرنے کے بعد پھر ترقیٔ معکوز کر گئے ، جب ترقی کر چکے تو پھر مزید ترقی کیوں نہ کی؟ کہاںغائب ہو گئے؟
اب تو کوئی بھی حیوان ان کا موںمیں سے کوئی کام نہیں کرتا، کہتے ہیںانسان اور حیوان کا نسلی اختلات ہوا !
کبھی کہتے ہیںان کی نسلیں ایک دوسرے سے جدا ہو گئیں! اب ارتقاء کے بعد تو ایسا نہیں ہوتا کہ انسان اورجانور کے اختلات سے کوئی آدھا انسان اور آدھا جانورپیدا ہو،ایک جانور کے پیٹ سے انسان یاایک انسان کے پیٹ سے جانور پیدا ہو ،ایک لاکھ ساٹھ ہزار سال قبل انسان زمین پر موجود تھایہ بات اس بنیاد پر کہی گئی کہ ایک عورت کا ڈھانچہ ملا،مگر مرد جدِّ امجد کا Fossil اس کے ایک لاکھ برس بعد کا ملا ۔
اب ہم اِن کو سُن کر ہی اَندازہ کر سکتے ہیں کہ ان کہانیوں کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔
ایک چپکلی سے ایک پرندے میں تبدیلی کیلئے سب علوم کے جاننے والے Inteligent Designer کی ضرورت ہے،جومالکِ کائنات ہو،ساری طاقتوںاورقوّتوں پراِختیار رکھتا ہو، جس کے بغیرکچھ بھی نہیں بن سکتا۔
یہ ہی تو اللہ ربِّ العٰلمین ہے!
سب سے اہم غورطلب بات یہ ہے!معدوم ہونے والے جانوروں کے سواجن کے فوسلزلاکھوں سال پہلے کے فوسلز کے رکارڈ میں اب بھی موجود ہیں، وہ آج بھی اسی رنگ و روپ میں زمین پرچل پھررہے ہیں!
تو آخراِرتقاء کب اور کہاں ہوا؟

حصہ