اُسوۂ صحابیاتِ رسول ؐ ہر دور کے لیے قابلِ تقلید

194

افشاں نوید
تیسرا حصہ
خلفائے راشدین میں سے دو خلفاء حضرت ابوبکر صدیق و حضرت عمر فاروق ؓ کی بیٹیاں آپ ا کے عقد میں آئیں جب کہ دو خلفاء حضرت عثمان و حضرت علی ؓ کو آپ ا نے اپنی بیٹیاں دیں۔ ان خواتین کے کردار کی ضوفشانی بتاتی ہے کہ ان کی کتنی اعلیٰ درجے کی تربیت ہوئی تھی خواہ تربیت کا ادارہ بیت نبی ا ہو یا خلفائے راشدین کے گھرانے۔ اس دور میں لڑکیوں کی تربیت پر خصوصی توجہ دی جاتی تھی اور نسوانی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے تمام جہتوں سے ان کی شخصیت سازی کر کے ان کو ایک عظیم مشن کیلئے تیار کیا جاتا تھااسی بنا پر انہوں نے اپنی نسلوں کی تربیت بھی اعلیٰ خطوط پر کی اور سماجی بہبود کیلئے بھی اپنا فعال کردار ادا کیا۔
حضرت ام حبیبہؓ قریش کے معزز گھرانے کے سردار ابوسفیان کی بیٹی تھیں۔ ان کے شوہر عبید اللہ نے ایسا کیا جو کسی نے نہ کیا تھا کہ اسلام چھوڑ کر عیسائیت اختیار کرلی۔ مکہ میں انہوں نے قبولِ اسلام کے بعد سختیاں برداشت کیں لیکن حبشہ کی ہجرت انہیں راس نہ آئی اور وہاں وہ نورِ ایمان سے محروم ہوگئے اس وقت حبیبہ ان کی گود میں تھی۔آنحضور ا اس واقعہ سے بہت غمگین رہتے تھے کیوں کہ ان کے شوہر عبید اللہ بن حجش آپ ا کے پھوپھی زاد بھائی تھے۔ ان کی عدت کے بعد آپ ا نے نجاشی کے ذریعے ام حبیبہؓ کو نکاح کا پیغام بھیجا۔ روایات میں ہے کہ پیغام لے جانے والی لونڈی کو سیدہ ام حبیبہؓ نے سونے اور چاندی کے زیورات تحفتاً عطا کیے۔
ابوسفیان نے فتح مکہ تک اسلام دشمنی کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیا لیکن سیدہ ام حبیبہ والد کی روش سے بے نیاز سختی سے اپنے ایمانی تقاضوں پر عمل پیرا رہیں۔ روایت ہے کہ فتح مکہ سے قبل ایک بار ابوسفیان ان سے ملنے آئے تو ام المؤمنین نے اپنا بستر ہٹا دیا۔ جس پر باپ بیٹی پر برہم ہوا۔ حضرت ام حبیبہ ؓ نہ رئیس مکہ سے مرعوب ہوئیں نہ باپ کا رشتہ ھیبت طاری کرسکا۔ بولیں’’میں یہ بات کیسے پسند کرسکتی ہوں کہ اللہ کے نبی کے پاک بستر پر کوئی مشرک بیٹھے۔‘‘ فتح مکہ کے بعد ابوسفیان کو اللہ نے ایمان کی دولت سے سرفراز فرمایا۔ اس کے بعد وہ اپنے والد سے بہت عزت ومحبت سے پیش آتیں اور ان کا بہت احترام کرتیں۔
روایات میں ہے کہ سیدہ ام حبیبہؓ کو عبادات سے خصوصی شغف تھا اور کثرت سے نوافل کا اہتمام کرتیں۔ انہوں نے اپنی وفات سے قبل سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ کو بلایا اور ان سے معافی طلب کی کہ اگر سوکن کے رشتہ میں کبھی ان کی طرف سے دل آزاری ہوئی ہو تو وہ دل صاف کرلیں جس پر حضرت عائشہ ؓ نے ان کے لئے دعائیہ کلمات ادا فرمائے۔
صحابیات رسول کی زندگیوں میں ایک سبق بڑا واضح ہے کہ وہ دنیا کی حقیقت کو سمجھنے اور آخرت کی تیاری میں ہمہ تن مصروف رہنے والی ہستیاں تھیں۔ انہیں عرفانِ ذات نصیب ہوا تھا۔ دین کیلئے انہوں نے سب کچھ تج دیا تھا۔ دنیاوی خوش حالی اور راحت کی زندگی کس کو بری لگتی ہے لیکن وہ اپنے مقام ومرتبہ سے آشنا تھیں اور دنیا کو انہوں نے اپنی زندگی میں وہی مقام دیا جس کی وہ حقدار ہے اور آخرت کی کھیتی کو اسی طرح سینچا جیسا اس کا حق ہے۔ رب کی رضا اول وآخر ان کا مقصود زندگی قرار پائی۔
آپ ا کی ایک اور زوجہ محترمہ زینب بنت حجش ہیں جن کا نکاح آپ ا کے ساتھ آسمان پر ہوگیا تھا۔ سورۂ احزاب کی آیت نمبر 37 اس نکاح کے آسمان پر ہونے کی دلیل ہے۔ یہ آپ کی پھوپھی زادہونے کا شرف بھی رکھتی تھیں۔ چونکہ عالی نسبت قریشی تھیں لہٰذا آپ ا کے منہ بولے بیٹے حضرت زید بن حارث (جن پر بہرحال غلامی کا داغ تھا) سے ان کی ازدواجی زندگی خوشگوار نہ تھی۔ انہوںنے اس رشتہ کو دل سے قبول نہ کیا جس پر حضرت زید ؓ نے انہیں طلاق دے دی۔ چونکہ عرب کے جاہلانہ سماج میں منہ بولے بیٹے کی بیوہ نکاح کیلئے حرام سمجھی جاتی تھی۔ اللہ کو یہ خود ساختہ جاہلانہ طور طریقے بھی اسلامی معاشرے سے ہمیشہ کیلئے ختم کرنا تھے۔ حضور ا کو امت کو پورا پیغام پہنچانے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی چونکہ آپ کے بعد قیامت تک کوئی دوسرا نبی نہیں آنا تھا لہٰذا حضرت زینب ؓ سے نکاح کے بعد یہ جاہلانہ رسم ہمیشہ کیلئے ختم ہوگئی۔
دوسرا سبق اس واقعہ میں یہ ہے کہ جو لوگ عورت کے اسلام میں حقوق پر انگلی اٹھاتے ہیں وہ دیکھ لیں کہ اسلام نے عورت کو کتنے وسیع حقوق عطا کیے ہیں کہ حضرت زینب ؓ کو کسی نے مجبور نہیں کیا اس رشتہ کو نبھانے کیلئے حالانکہ آپ ا نے سمجھانے کی کوشش کی لیکن ان کو اطمینان قلب نہ تھا اس لئے یہ رشتہ ختم ہوا۔ اس پر بھی سماج میں انہیں شرمندہ نہ کیا گیا نہ ان کے رتبے میں کوئی کمی آئی بلکہ ان کو ام المؤمنین کا عظیم مقام ومرتبہ ملا۔
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ پر جب واقعہ افک کے ذریعے تہمت لگائی گئی اور آنحضورا نے ان کے کردار کی گواہی حضرت زینب ؓ سے طلب کی تو سوکن کا رشتہ ہونے کے باوجود انہوں نے حضرت عائشہ ؓ کے پاکیزہ کردار کی گواہی دی جب کہ حضرت زینب ؓکی بہن حضرت حمنہ تہمت لگانے والوں میں شامل ہوگئی تھیں لیکن سیدہ زینب نے اس کی پروا نہ کی اور سچ پر قائم رہیں۔
روایات میں ہے کہ حضرت زینبؓ اپنی دریا دلی اور سخاوت کی وجہ سے امہات المؤمنین میں نمایاں مقام رکھتی تھیں۔ ایک موقع پر آپ ا نے فرمایا کہ میری رحلت کے بعد مجھ سے سب سے پہلے وہ آکر ملے گی جس کا ہاتھ سب سے لمبا ہے۔ ازواج مطہرات یہ سن کر اپنے ہاتھ ایک دوسرے سے ناپنے لگیں کیوں کہ وہ سب اس پہل کی مشتاق تھیں۔ جب 20 ہجری میں حضرت زینب کی رحلت ہوئی تو امہات المؤمنین سمجھ گئیں کہ لمبے ہاتھ سے آپ ا کی مراد سخاوت وفیاضی تھی۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے ان کی وفات پر فرمایا: ’’وہ بے مثل خاتون تھیں، ان کے اٹھ جانے سے یتیموں اور بیوائوں کے ہاں صف ماتم بچھ گئی۔‘‘ سوکن کا رشتہ ہونے کئے باوجود اتنا عظیم الشان خراج تحسین پیش کرنا خود حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کے بھی کردار کی عظمت کا ثبوت ہے۔
تمام ازواج مطہرات خلق خدا کیلئے کس قدر رحم کا جذبہ رکھتی تھیںاور دکھی انسانیت کیلئے دامے، درمے، سخنے ہردم مصروف عمل رہتی تھیں۔ اس کی شہادت ہے کہ حضرت زینبؓ کے جنازے پر ایک خلقت امڈ آئی۔
حضرت جویریہ ؓ بنت حارث کو امہات المؤمنین میں شامل ہونے کا شرف نصیب ہوا۔ غزوہ بنو المصطلق کے موقع پر جنگی قیدی بن کر آئیں۔ جب مالِ غنیمت اور لونڈیاں تقسیم ہوئیں تو وہ مشہور صحابی حضرت ثابت بن قیس ؓ کے حصے میں آئیں۔ جویریہ ؓ نے حضرت ثابت ؓ سے درخواست کی کہ وہ قیمت لے کر انہیں آزاد کرلیں جس کو انہوں نے منظور کرلیا کیوں معزز سردار کی بیٹی کیلئے غلامی کا تصور ہی جان لیوا تھا۔ ان کے پاس حضرت ثابت کو آزادی کی قیمت کے بدلے میں دینے کو کچھ نہ تھا وہ اللہ کے نبی ا کے پاس سوالی بن کر گئیں۔ آپ قبیلہ بنو المصطلق میں دعوت اسلام کی راہ ہموار کرنا چاہتے تھے۔ آپ ا نے مکاتبت کی رقم ادا کرنے کے ساتھ ان کو نکاح کی پیشکش کی۔ حضرت جویریہ ؓ کیلئے اس سے بڑی سعادت کیا ہوسکتی تھی۔ حجرۂ اطہر میں ان کے داخل ہوتے ہی تمام انصار ومہاجرین نے رضامندی سے اعلان کردیا کہ اب آپ ا کے سسرالی رشتہ داروں کو کیسے قید میں رکھا جاسکتا ہے چنانچہ اس نکاح کی برکت سے قبیلہ کے تمام قیدیوں کو رہائی نصیب ہوگئی۔ اس کے بعد قبیلہ بنی المصطلق میں تیزی سے اسلام کی روشنی پھیلی۔
روایات میں ان کی عبادت گزارکا ذکر ملتا ہے۔ وہ نفلی نمازوں اور روزوں کا کثرت سے اہتمام کرتیں۔ انہوں نے 50 ہجری میں وفات پائی لیکن آپ ا کی محبت میں انہوں نے تمام زندگی مدینہ میں ہی گزار دی اور مدینۃ النبی ا کو چھوڑنا گوارا نہ کیا۔ جنت البقیع ان کا ابدی ٹھکانہ قرار پایا۔
حضرت صفیہ بنت حئی یہود کے اعلیٰ نسب خاندان میں پیدا ہوئیں۔ وہیں تعلیم وتربیت پائی اور اسلام دشمنی انہیں ورثے میں ملی لیکن کاتب تقدیر نے ان کی قسمت میں ایک عظیم سعادت لکھ دی تھی۔ غزوۂ خیبر کے موقع پر جب لشکر اسلام کو فتح نصیب ہوئی اور مالِ غنیمت اور جنگی قیدی ہاتھ آئے تو حضرت صفیہ ؓ صحابیٔ رسول وحیہ کلبیؓ کے حصے میں آگئیں۔ چونکہ وہ ایک سردار کی بیٹی تھیں اس لیے صحابہ کرام نے آپ ا کو مشورہ دیا کہ ان کو کسی کی کنیز نہ بننے دیا جائے بلکہ آپ ا انہیں حرم نبوی ا میں شامل فرمالیں۔ حضرت صفیہ ؓ نے اسلام قبول کرلیا اور ام المؤمنین ہونے کے عظیم مرتبہ پر فائز ہوگئیں۔ یہ اعلیٰ نسب اور شریف النفس خاتون بہت پہلے اسلام سے متاثر ہوگئی تھیں جب انہوں نے اپنے خاندان کی اسلام دشمنی دیکھی تھی کہ وہ اسلام کو حق بھی سمجھتے تھے اور اس کی مخالفت پر بھی کمربستہ رہتے تھے۔
حضرت صفیہؓ کا اخلاص تھا کہ اللہ نے ان کے سینے کو دولت ایمان سے روشن فرمایا۔ انہوں نے اپنے قول وعمل سے ام المؤمنین ہونے کے عظیم رتبے کا حق ادا کیا۔ چونکہ وہ اپنے خاندان اور قبیلہ سے کٹ گئی تھیں اس لئے آپ ا ان کا بہت خیال رکھا کرتے تھے۔
آپ ا نے احرام کی حالت میں جن خاتون سے نکاح فرمایا وہ خوش قسمت زوجہ مطہرہ حضرت میمونہ ؓ بنت حارث تھیں۔ یہ حضرت عباس بن عبدالمطلب کی زوجہ ام فضل کی بہن تھیں۔ عبداللہ بن عباسؓ (ان کے بھانجے) ان کے بیوہ ہونے کے بعد ان کے عقد ثانی کیلئے فکر رہتے تھے۔ انہوں نے ان کی خوبیاں آپ ا کے سامنے بیان کیں کہ آپ ا انہیں اپنے نکاح میں لے لیں۔ آپ ا نے اپنے چچا کی بات کو رد نہ کیا اور 500 درہم حق مہر کے عوض سیدہ میمونہ ؓ سے نکاح کرلیا۔
حضرت میمونہؓ بہت اعلیٰ صفات کی مالک تھیں۔ سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ نے ان کے کردار کی گواہی ان الفاظ میں دی ’’ہمارے درمیان میمونہ سب سے زیادہ خشیت الٰہی سے مالامال اور صلہ رحمی کو ملحوظ رکھنے والی تھیں۔‘‘
ان کے بارے میں روایت سے پتہ چلتا ہے کہ اسلامی حمیت کے ساتھ ساتھ ان کو علم وحکمت کا خزانہ بھی عطا ہوا تھا۔
آپ ا کی ازواج مطہرات کی خوبصورت اور پاکیزہ زندگیوں کی روشن مثالیں مختلف روایات کے ذریعے ہم تک پہنچیں۔ آپ ا نے اپنی ازواج مطہرات اور بیٹیوں کی جو تربیت کی اس کی بنیاد یہ تھی کہ آپ ا نے جو کہا پہلے خود عمل کر کے دکھایا۔ آپ ا کی عملی تربیت کا جوہر تھا کہ آپ ا کے گھرانے کی خواتین ہر آزمائش میں پوری اتریں۔ وہ دنیا کی مثالی خواتین ہیں۔انہوں نے اپنی زندگی کے ہر موڑ پراور آزمائش میں پورا اتر کر اپنے ایمان کا ثبوت پیش کیا۔
اب ہم کچھ ذکر مبارک آپ ا کی بیٹیوں کا کر کے اپنے عمل کیلئے کچھ موتی چنتے ہیں۔
یہ آپ کی بڑی بیٹی حضرت زینب ہیں جو اگرچہ نوجوانی میں وفات پاگئی تھیں لیکن اس کم عمری میں بھی آپ نے دین کی خاطر قربانی دے کر وہ عظیم الشان مثال پیش کی کہ اللہ کے نبی ا نے اس کا اعتراف کرتے ہوئے فرمایا: ’’زینب میری سب سے اچھی بیٹی تھی، اس نے میری محبت کی وجہ سے بہت اذیتیں برداشت کیں۔‘‘ غیر مسلم شوہر یا بیوی میں سے کوئی ایک کلمہ پڑھ لے اور دوسرا مسلمان نہ ہو تو شریعت کی رو سے ان میں علیحدگی ہوجاتی ہے۔ حضرت زینبؓ کا اپنے شوہر ابوالعاص کے ساتھ والہانہ محبت کا رشتہ تھا۔ وہ کردار کے حوالے سے بھی بہت بلند تھے لیکن ان کو کلمہ کی توفیق غزوۂ بدر کے بعد نصیب ہوئی۔ حضرت زینبؓ کے ساتھ انہوں نے ہمیشہ محبت اور اکرام کا تعلق رکھا، اسی وجہ سے نبی پاک ا بھی آپ کی عزت کرتے۔ ابوالعاص ص دو مرتبہ مدینہ میں قیدی بن کر آئے ایک غزوۂ بدر کے موقع پر دوسرے جب آپ تجارتی قافلہ کے ساتھ شام سے مالِ تجارت فروخت کر کے واپس آرہے تھے۔ مسلمانوں کے حسن سلوک سے متاثر ہوکر آپ نے اسلام قبول کرلیا۔
حضرت زینبؓ اتنی شوہر پرست تھیں کہ غزوۂ بدر کے موقع پر جب ان کے شوہر جنگی قیدی بنے تو انہوں نے ان کی رہائی کیلئے فدیہ کے طور پر اپنا ہار بھیجا۔ وہ ہار انہیں ان کی والدہ حضرت خدیجہ ؓ نے تحفے میں دیا تھا۔ ہار دیکھ کر آپ ا کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ صحابہ کرام نے فرمایا کہ حضرت زینبؓ کو ہار واپس بھیج دیں اور ان کے شوہر کو رہا کردیں۔ اللہ کے نبی ا نے خواہش ظاہر کی کہ مکاتبت کے طور پر حضرت زینب ؓ کو مکے سے مدینہ روانہ کردیا جائے تو ان کے شوہر نے اس حکم کی تعمیل کی اور اپنے بھائی (جو حضرت زینب کے بھی خالہ زاد تھے) کے ہمراہ ان کو روانہ کردیا۔ لیکن غزوہ بدر میں قریش اپنی شکست کے بعد بھڑکے ہوئے تھے انہوں نے وادیٔ ذی طویٰ میں ہجرت کی غرض سے نکلی ہوئی حضرت زینبؓ اور ان کے خالہ زاد بھائی اور دیور کنانہ بن ربیع کو جالیا۔ مختصر سے قافلہ پر حملہ کردیا۔ کنانہ نے بیچ بچائو کی کوشش کی مگر حضرت زینب اونٹ کے بدکنے سے گر پڑیں اور ان کا حمل ضائع ہوگیا۔ شدید چوٹیں آئیں اور یہی حادثہ ان کی وفات کا سبب بنا۔ آپ ا بہت آبدیدہ ہوئے اپنی لخت جگر کی جدائی پر۔ آپ ا نے کفن کیلئے اپنی چادر عنایت کی اور خود انہیں لحد میں اتارا۔

حصہ