جذبۂ ایثار ہماری ذمہ داری

1062

محمد امجد جروار
اسلام ایک خوبصورت، کامل و مکمل مذہب ہے۔ بلاشبہ اس میں مسلمانوں کے لیے ہی نہیں بلکہ تمام انسانیت کی فلاح و بہبود کے احکامات موجود ہیں۔ انسان کا تعلق خواہ کسی بھی طبقے یا کسی بھی کمیونٹی سے ہو، اسلامی احکامات سراپا بھلائی ہیں۔
مذہبِ اسلام کا امتیازی وصف یہ ہے کہ وہ صرف عبادات پر زور نہیں دیتا بلکہ اس کے احکامات و ہدایات کا ایک بڑا حصہ حسنِ اخلاق پر مشتمل ہے۔ بہن بھائیوں سے لے کر پڑوسیوں تک، مسلمانوں سے لے کر غیر مسلموں تک، انسانوں سے لے کر حیوانات تک… ہر ایک سے حُسنِ سلوک پر نہ صرف حوصلہ افزائی کی جاتی ہے بلکہ اس پر مغفرت کے فیصلے تک کردیے گئے ہیں۔
حُسنِ اخلاق میں ایک بڑا عمل ایثار و ہمدردی بھی ہے۔ ایثار و ہمدردی بلاشبہ بڑے عمل ہیں جن کے ذریعے نہ صرف انسانیت کو بھلائی ملتی ہے بلکہ اسلام کی نشر و اشاعت میں ایک بڑا حصہ ایثار و ہمدردی کا بھی ہے۔
بارگاہِ رسالتؐ میں ایک شخص آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس کو ایک بڑا ریوڑ بکریوں کا عطا فرمایا۔ وہ اپنے خاندان اور قبیلے میں واپس جاکر کہنے لگا: ’’اے لوگو! اسلام لے آئو، کیونکہ محمدؐ اتنا دیتے ہیں کہ اپنے فقیر ہونے کی بھی پروا نہیں کرتے۔‘‘
بارگاہِ رسالتؐ میں ایک شخص آکر کہتا ہے کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! بھوکا ہوں کچھ عنایت فرما دیجیے۔ ادھر بیتِ رسولؐ میں بھی فاقہ کشی چل رہی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضراتِ صحابہ کرامؓ سے پوچھا کہ کون اس کی مہمان نوازی کرے گا؟
ایک صحابی کھڑے ہوگئے اور فرمانے لگے: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! اس کی مہمان نوازی میرے ذمے ہے۔ وہ صحابی اُس شخص کو لے کر گھر پہنچے تو اہلیہ سے پوچھا کہ کچھ کھانے کو ہے؟ اہلیہ نے جواب دیا کہ صرف ایک آدمی کا کھانا ہے اور وہ میں نے آپ کے لیے رکھا تھا، بچوں کو بہلا پھسلا کر سلادیا ہے، تاکہ وہ کھانا آپ کھا سکیں۔ صحابیٔ رسول نے یہ بات سن کر فرمایا کہ آج ہمارے ساتھ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا مہمان ہے، جب میں کھانا اُس کے سامنے رکھوں تو تم چراغ بجھا دینا۔ وہ کھانا کھاتا رہے گا اور میں منہ چلاتا رہوں گا تاکہ وہ سمجھے کہ میں بھی کھانا کھا رہا ہوں۔ چنانچہ اسی طرح ہوا، مہمان نے پیٹ بھر کر کھا لیا اور یہ صحابی فاقے سے رہے۔
صبح جب یہ بارگاہِ رسالتؐ میں پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں دیکھ کر مسکرانے لگے اور فرمایا ’’تمہاری مہمان نوازی اللہ کو پسند آئی۔‘‘
ایک مرتبہ حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے مقام حجفہ پر قیام فرمایا اور بیمار ہوگئے۔ انہوں نے فرمایا مچھلی کھانے کا دل کررہا ہے۔ ساتھیوں نے خاصی تلاش کے بعد ایک مچھلی ڈھونڈ نکالی۔ ان کی اہلیہ صفیہ بنتِ ابی عبید نے مچھلی تیار کی اور ان کے سامنے لاکر رکھ دی۔ اسی دوران ایک مسکین نے کھانے کی صدا لگائی، آپ نے وہ مچھلی اٹھاکر اس مسکین کے حوالے کردی۔ اہلیہ کہنے لگیں: سبحان اللہ، ہم نے بڑی مشقت سے مچھلی تیار کی، آپ نے اسے دے دی… تو فرمانے لگے: عبداللہ کو یہ مچھلی بہت پسند آرہی ہے، اس لیے مسکین کو یہی مچھلی دینی تھی۔ (الحلیۃ)
جنگِ یرموک میں ایک صحابی حضرت ابوحجم بن حذیفہ اپنے چچا زاد بھائی کی تلاش میں نکلے اور پانی کا مشکیزہ ساتھ لے لیا کہ ہوسکتا ہے پیاسے ہوں تو انہیں پانی پلادوں۔
اتفاق سے وہ ایسی حالت میں ملے کہ دم توڑ رہے تھے۔ ابوحجم نے ان کو پانی پلانے کا ارادہ فرمایا تو قریب سے ایک اور زخمی نے پانی طلب کیا۔ ان کے چچازاد بھائی کہنے لگے کہ اسے پانی پلادو، آپ اس دوسرے زخمی کے پاس پہنچے تو وہ ہشام بن ابی العاص تھے، آپ نے انہیں پانی پلانا چاہا تو قریب سے ایک تیسرے زخمی نے صدا لگائی، ہشام نے اشارے سے کہا کہ اسے پانی پلادو۔ آپ اس تیسرے زخمی کے پاس تشریف لے گئے تو وہ جام شہادت نوش کرچکے تھے۔ آپ دوسرے زخمی ہشام کے پاس آئے تو وہ بھی اپنی جان‘ جانِ آفریں کے سپرد کرچکے تھے۔ آپ تیزی سے اپنے چچازاد بھائی کی طرف دوڑے تو وہ بھی اس فانی دنیا کو چھوڑ چکے تھے۔
یہ ایثار و ہمدردی کی ایسی مثال ہے جو شاید ہی کہیں اور پائی جاتی ہو۔ جان کنی کے یہ لمحات اور ایثار و ہمدردی کا یہ جذبہ بلاشبہ آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم کی تربیت کا ہی نتیجہ تھا۔
حضرت عائشہ صدیقہؓ کی خدمت میں دو بڑے بورے درہموں کے پیش کیے گئے۔ آپؓ نے ایک برتن منگوایا اور بھر بھر کر تقسیم کرنے لگیں اور شام تک سب ختم کردیے، جبکہ آپ ؓ خود روزہ دار تھیں۔ افطاری کے وقت باندی سے کہنے لگیں کہ افطاری کے لیے کچھ لے آئو۔ باندی ایک روٹی اور زیتوں کا تیل سامنے رکھتے ہوئے کہنے لگی کہ کیا ہی اچھا ہوتا کہ ایک درہم کا گوشت منگوا لیتیں، آج ہم روزہ گوشت سے افطار کرلیتے۔ تو حضرت عائشہؓ نے فرمایا: اب کہنے کا کیا فائدہ، اُس وقت یاد دلاتی تو میں منگالیتی۔
حضرت ابن عمرؓ فرماتے ہیں کہ ایک صحابی کو کسی شخص نے بکری کی سری ہدیہ کے طور پر دی۔ انہوں نے خیال فرمایا کہ مجھ سے زیادہ ضرورت فلاں ساتھی کو ہے۔ انہوں نے دوسرے ساتھی کو بھیج دی۔ دوسرے ساتھی کے پاس پہنچی تو انہوں نے تیسرے ساتھی کے بارے میں یہی سوچا اور سری تیسرے کے گھر پہنچ گئی۔ غرض وہ سری سات گھروں سے ہوتی ہوئی پھر اُنھی صحابی کے گھر پہنچ گئی۔
حضرت ابن عباسؓ سے نقل کیا گیا ہے کہ ایک مرتبہ حضرت حسنؓ و حسینؓ بیمار پڑ گئے تو حضرت علیؓ و حضرت فاطمہؓ نے منت مان لی کہ وہ تین دن روزہ رکھیں گے۔ بچے صحت یاب ہوگئے لیکن گھر میں فاقہ کشی کا عالم تھا۔ دونوں حضرات نے فاقہ سے روزہ رکھ لیا۔ دن میں حضرت علیؓ ایک یہودی کے پاس تشریف لے گئے جس کا نام شمعون تھا اور اس سے کہنے لگے کہ اگر تم کچھ اون دھاگا بنانے کے لیے اجرت پر دو گے تو فاطمہؓ بنتِ محمدؐ اسے اجرت پر دھاگا بنادے گی۔ اون لاکر اس سے دھاگا بنایا گیا اور اجرت سے آٹا منگوا کر اپنے بچوں اور باندی کے لیے روٹیاں بنائیں۔
حضرت علیؓ مغرب کی نماز پڑھ کر گھر لوٹے تو دستر خوان پر کھانا لگایا گیا۔ اسی دوران ایک فقیر نے صدا لگائی کہ اے محمدؐ کے گھر والو! مجھے کھانا دے دو، اللہ تمہیں جنت کے دستر خوان سے کھانا کھلائے گا۔
حضرت علیؓ نے ہاتھ روک لیا اور حضرت فاطمہؓ سے مشورہ کیا۔ انہوں نے فرمایا ضرور دے دیجیے۔ وہ سب روٹیاں فقیر کو دے دیں اور گھر والے سب کے سب فاقے سے رہے۔ (مسامرات)
ایثار کا مطلب ہے اپنی ذات پر دوسروں کو فوقیت دینا۔ اور ایثار کرنے والوں کی تعریف اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بیان فرمائی ہے کہ یوثرون علی انفسھم (سورہ حشر)
اور ایثار صرف کھانے پینے، یا صدقات ہی کا نام نہیں، بلکہ ہم اپنے اردگرد بیسیوں مثالیں دیکھ سکتے ہیں جہاں ایثار کی واضح ضرورت محسوس ہوتی ہے۔
بسوں میں روزمرہ سفر کرتے ہوئے ہم مشاہدہ کرتے ہیں کہ بسوں میں چڑھنے والے بزرگ مرد ہوں یا خواتین، وہ کھڑے ہوکر سفر کررہے ہوتے ہیں۔ اگر اس موقع پر ایثار کا عملی اظہار کرتے ہوئے انہیں سیٹ دے دی جائے تو یہ بھی اللہ کے ہاں اجر کا باعث ہوگا۔
پبلک بسوں میں بعض مائیں اپنے بچوں کو ہاتھ میں لیے تکلیف دہ سفر طے کررہی ہوتی ہیں۔ ان مائوں کو اگر جگہ مل جائے، یہ بھی ایثار ہی کا حصہ ہے۔
بل جمع کروانے کی لائن ہو یا پھر بینک میں کھڑے ہوکر اپنی باری کے منتظر ہوں، ایسے موقع پر کسی مجبور انسان کی مدد کرتے ہوئے اُسے اپنا نمبر دے دینا بھی تو ایثار کہلاتا ہے۔
سرِراہ شام کو چلتے ہوئے کہیں نہ کہیں کسی موڑ پر ٹریفک جام ہوتا، یا پھر سڑک کنارے گاڑی پر سوار لوگ جھگڑا کرتے نظر آتے ہیں، اس کا بنیادی سبب جلد بازی ہوا کرتا ہے۔
ہم میں سے ہر فرد اس موقع پر جذبۂ ایثار سے کام لے کہ چلو وہ گزر جائے تو میں بھی گزر جائوں گا، تو یقین مانیے جھگڑوں کی نوبت ہی نہیں آئے گی۔
مواخات مدینہ، اسلامی تاریخ میں اس سے بڑے جذبۂ ایثار کا نمونہ شاید ہی کہیں مل سکے جب مکہ کے مہاجر صحابہ جو اپنا سب کچھ لٹا کر مدینہ پہنچے۔ بے سروسامانی کا عالم میں پہنچنے والے یہ صحابہ ایک طرف اپنی سرزمین کو چھوڑنے کا دکھ لیے ہوئے تھے تو دوسری طرف اپنا سب کچھ قربان کرکے اپنے محبوب پیغمبر کے حکم پر مدینہ پہنچ چکے تھے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کے انصار صحابہ کرامؓ سے فرمایا کہ تم میں سے ہر ایک مہاجرین میں سے ہر فرد کو بھائی بنالے۔ چنانچہ اخوت کا ایک مثالی مظاہرہ اسلامی تاریخ کا ایک سنہرا باب بن کر مواخاتِ مدینہ کے عنوان سے قائم ہوا۔ انصار صحابہ مہاجرین صحابہ کو بھائی بنارہے تھے اور اپنی جائداد، مکان اور دولت میں سے انہیں نصف دینے لگے۔
حضرت سعد بن ربیعؓ اپنے مہاجر بھائی عبدالرحمن بن عوفؓ سے کہنے لگے کہ میں نے سب کچھ آپ کو دے دیا۔ اب اگر آپ چاہو تو میری دو بیویاں ہیں، میں ایک کو طلاق دے دیتا ہوں آپ اس سے نکاح کرلو۔
فتوح الشام میں ایک واقعہ لکھا ہے کہ
مسلم فوج کے سپہ سالار نے ایک علاقے کو فتح کیا۔ مالِ غنیمت جمع ہورہا تھا کہ اسی دوران دُور سے ایک شخص آتا دکھائی دیا جس نے اونٹ کی نکیل پکڑ رکھی تھی، اور اس کے پیچھے اونٹوں کی ایک طویل قطار تھی، اس شخص نے چہر ے پر نقاب ڈال رکھا تھا۔
وہ شخص سپہ سالار کے پاس پہنچا اورکہنے لگا کہ ان اونٹوں پر بہت سارا سامان ہے جو کافروں کی فوج چھوڑ کر بھاگ گئی ہے، یہ آپ وصول کرلیں۔ سپہ سالار نے سوال کیا کہ آپ کا نام کیا ہے؟ تاکہ میں امیرالمومنین کو بتاسکوں کہ یہ کون لایا تھا۔ وہ شخص کہنے لگا کہ جس کے لیے میں نے یہ کام کیا وہ مجھے خوب جانتا ہے۔ یہ کہہ کر وہ چل پڑا۔ ادھر سپہ سالار نے اونٹوں پر لدی پیٹیوں کو کھولا تو وہ سب سونے سے بھری ہوئی تھیں۔
سپہ سالار نے ایک آدمی دوڑایا کہ جائو معلوم کرکے آئو یہ شخص کون ہے۔ وہ آدمی اس شخص کے پیچھے ہولیا۔ وہ شخص چلتے چلتے ایک بوسیدہ سے مکان میں داخل ہوگیا۔ پیچھا کرنے والے شخص نے قریب میں موجود ایک گھر کے دروازے پر دستک دی اور اس گمنام شخص کے بارے میں پوچھا، تو جواب میں کہنے لگا کہ
آپ ان کو نہیں جانتے! یہ انتہائی پاکباز شخص ہیں اور آج تین دن ہوگئے ان کے گھر میں فاقہ ہے۔
یہ بات سن کر پیچھا کرنے والا شخص ہکا بکا رہ گیا اور سوچنے لگا کہ ایک طرف فقر وفاقہ اور دوسری طرف اونٹوں کی طویل قطار جو سونے سے لدی ہوئی تھی، لاکر سپہ سالار کے حوالے کردی۔ بات ایثار کی چلی تو اَن گنت واقعات ذہن میں آتے چلے گئے کہ
ابوالحسن انطا خراسان کے مشہور بزرگ تھے۔ ایک دن تیس سے زیادہ آدمی مہمان بن کر ان کے پاس آگئے۔ رات کا وقت تھا جبکہ روٹی تھوڑی تھی، مزید تیار کرنے کا موقع نہ ملا، انہوں نے جتنی روٹیاں موجود تھیں سب ٹکڑے کرکے مہمانوں کے سامنے دسترخوان پر پھیلادیں اور سب کو بٹھادیا، ساتھ ہی چراغ بجھا دیا۔ سب نے کھانا شروع کردیا۔ سب کے منہ چلانے کی آواز آتی رہی۔ جب دیر ہوگئی، گویا سب فارغ ہوگئے تو چراغ جلایا گیا، دیکھا کہ روٹی کے ٹکڑے ویسے ہی دستر خوان پر موجود تھے، سب ہی خالی منہ چلاتے رہے کہ تاکہ برابر والا اچھے طریقے سے کھالے۔ (اتحاف)
آج ضرورت ہے اسی جذبۂ ایثار کو زندہ و عام کرنے کی۔ بحیثیت مسلمان، پھر انسان یہ جذبہ ماند پڑتا جارہاہے۔ حقوق کی ادائیگی تو کجا، حقوق چھیننے یا جھپٹنے کو نہ صرف قابلِ فخر سمجھا جاتا ہے بلکہ محفلوں میں اس بات کا ذکر کرتا ہے کہ میں نے فلاں سے یوں پیسے بٹور لیے۔ یہ روایت اس قدر عام ہوچکی ہے کہ ان اندھیروں میں اگر کوئی شخص ایثار و ہمدردی کا عملی مظاہرہ کرے تو اسے بے وقوف سمجھا جاتا ہے۔
ہم بڑوں کی دیکھا دیکھی اس کا اثر بچوں پر براہِ راست پڑتا ہے۔ کسی کی مدد کرنے کا جذبہ اور ہمدردی کے آثار جب ہمارے دلوں میں ختم ہوچکے ہوں تو آنے والی نسل کو کیا منتقل کریں گے؟
ہمدردی و ایثار کے لیے دولت کا ہونا ضروری نہیں بلکہ یہ کام ہم اپنے رویّے اور اخلاق سے بھی کرسکتے ہیں۔ پریشان حال لوگوں کے لیے محبت کے دو میٹھے بول اور انہیں تسلی دینا بھی تو ایثار کا جذبہ ہی ہے۔
تو آیئے! عزم کریں کہ اسی جذبۂ ایثار پر نہ صرف خود عمل کرنا ہے بلکہ نسلِ نو کی تربیت بھی اسی انداز میں کرنی ہے۔ وہ وقت دور نہیں جب چراغ سے چراغ جلیں گے تو مایوسی کے اندھیرے چھٹ جائیں گے اورایک بے مثال معاشرہ وجود آئے گا۔ آیئے معاشرے کو روشن کرنے کے لیے ایک چراغ ہم خود بن جائیں۔

حصہ