مثلِ کلیم ہو اگر معرکہ آزما کوئی‘ اب بھی درختِ طور سے آتی ہے بانگِ لاتخف

367

سید مہرالدین افضل
(تفصیلات کے لیے دیکھیے سورۃ الاعرَاف حاشیہ نمبر :83)
سورۃ الاعراف آیت نمبر103میں ارشاد ہوا :۔ پھر اْن قوموں کے بعد (جن کا ذکر اوپر کیا گیا) ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیوں کے ساتھ فرعون اور اس کی قوم کے سرداروں کے پاس بھیجا… مگر انہوں نے بھی ہماری نشانیوں کے ساتھ ظلم کیا، پس دیکھو کہ ان مفسدوں کا کیا انجام ہوا۔آیت نمبر 103 تا 171 رکوع 13 تا 21 میں حضرت موسیٰؑ، فرعون اوربنی اسرائیل کا قصہ بیان کیا گیا ہے جس میں مختلف موضوعات کا بیان ہے۔ اس پورے بیان میں وقت کے فرعون، متکبرین‘ یہود اور اہلِ ایمان کو کچھ بنیادی سبق دیے گئے ہیں۔ ظالموں اور متکبروں کو بتایا گیا ہے کہ حق کے مقابلے میں جو چالیں چلی جاتی ہیں اور جن تدبیروں سے اس کی دعوت کو دبانے کی کوشش کی جاتی ہے وہ کس طرح اُن ہی پر اُلٹی پڑتی ہیں۔ اور یہ کہ اللہ تعالیٰ منکرینِ حق کی ہلاکت کا آخری فیصلہ کرنے سے پہلے اُن کو کتنی کتنی طویل مدّت تک سنبھلنے اور درست ہونے کے مواقع دیتا چلا جاتا ہے اور جب کسی تنبیہ، کسی سبق آموز واقعے اور کسی روشن نشانی سے بھی وہ اثر نہیں لیتے تو پھر وہ انہیں کیسی عبرت ناک سزا دیتا ہے۔ اہلِ ایمان کے لیے اس میں دہرا سبق ہے۔ پہلا اہم سبق یہ ہے کہ اپنی کمی اور کمزوری کو اور مخالفین حق کی کثرت و شوکت کو دیکھ کر اُن کی ہمت نہ ٹوٹے… اور اللہ کی مدد آنے میں دیر ہوتے دیکھ کر وہ دل نہ چھوڑیں اور مایوس نہ ہوں۔ دوسرا ہم سبق یہ ہے کہ ایمان لانے کے بعد جو گروہ یہودیوں جیسی سوچ اور عمل اختیار کرتا ہے وہ پھر یہودیوں ہی کی طرح خدا کی لعنت میں گرفتار بھی ہوجاتا ہے۔ بنی اسرائیل کے سامنے ان کی عبرت ناک تاریخ پیش کر کے انہیں باطل پرستی کے بُرے نتائج پر متنبہ کیا گیا ہے… اور حضرت محمد مصطفیؐ پر ایمان لانے کی دعوت دی گئی ہے جو کہ پچھلے پیغمبروں کے لائے ہوئے دین کو تمام آمیزشوں سے پاک کر کے پھر اس کی اصلی صورت میں پیش کیا گیا ہے۔
اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہم سب کو اپنے دین کا صحیح فہم بخشے اور اُس فہم کے مطابق دین کے سارے تقاضے اور مطالبے پورے کرنے کی توفیق عطا فرمائے‘آمین ۔ وآخر دعوانا انالحمدللہ رب العالمین۔
تاریخی و جغرافیائی حالات :
بنی اسرئیل کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ مختصراً اس کے متعلق کچھ تاریخی و جغرافیائی معلومات بھی آپ کے پیش نظر رہیں:
حضرت یوسفؑ:
حضرت یعقوبؑ حضرت اسحاقؑ کے بیٹے اور حضرت ابراہیمؑ کے پوتے تھے۔ ان کا لقب ’’اسرائیل‘‘ تھا۔ حضرت یعقوبؑ کے 12 بیٹے چار بیویوں سے تھے، حضرت یوسفؑ اور ان کے چھوٹے بھائی بن یمین ایک بیوی سے اور باقی دس دوسری بیویوں سے تھے۔ حضرت یوسفؑ کی وجہ سے اُنہیں مصر میں عزت کا مقام حاصل ہوا۔ جس زما نے میں حضرت یوسفؑ مصر تشریف لائے‘ مصری تاریخ کے مطابق چرواہے بادشاہوں ((Hyksos Kings) کا زمانہ تھا اور ان کے پندرہویں خاندان کی حکومت تھی۔ یہ لوگ نسلی طور پر عرب تھے اور فلسطین اور شام سے مصر جاکر 2 ہزار قبل مسیح کے لگ بھگ زمانے میں سلطنتِ مصر پر قابض ہوگئے تھے۔ عرب مؤرخین اور مفسرینِ قرآن نے اُن کے لیے ’’عَمالیق‘‘ کا نام استعمال کیا ہے۔ مصر میں یہ لوگ اجنبی حملہ آور کی حیثیت رکھتے تھے اور ملک کی اندرونی نا اتفاقی کی وجہ سے انہیں وہاں اپنی بادشاہی قائم کرنے کا موقع مل گیا تھا۔ یہی سبب ہوا کہ ان کی حکومت میں حضرت یوسفؑ کو عروج حاصل کرنے کا موقع ملا اور پھر بنی اسرائیل وہاں ہاتھوں ہاتھ لیے گئے‘ ملک کے بہترین زرخیز علاقے میں آباد کیے گئے اور ان کو وہاں بڑا اثر و رسوخ حاصل ہوا، کیونکہ وہ ان غیر ملکی حکمرانوں کے ہم جنس تھے۔ پندرھویں صدی قبل مسیح کے اواخر تک یہ لوگ مصر پر قابض رہے اور ان کے زمانے میں ملک کا سارا اقتدار عملاً بنی اسرائیل کے ہاتھ میں رہا۔ اُسی دور کی طرف سورۃ مائدہ آیت 20 میں اشارہ کیا گیا ہے کہ اِذ جَعَلَ فِیکْم اَنبِیَآء َ وَجَعَلَکْم مّْلْوکاً اس کے بعد ملک میں ایک زبردست قوم پرستانہ تحریک اُٹھی جس نے بِکسُوس اقتدار کا تختہ اُلٹ دیا۔ ڈھائی لاکھ کی تعداد میں عمالقہ ملک سے نکال دیے گئے۔ ایک نہایت متعصب قبطی النسل خاندان برسر اقتدار آگیا اور اس نے عمالقہ کے زمانے کی یادگاروں کو چن چن کر مٹادیا اور بنی اسرائیل پر اُن مظالم کا سلسلہ شروع کیا جن کا ذکر حضرت موسیٰؑ کے قصے میں آتا ہے۔
فلسطین میں حضرت یعقوبؑ کی جائے قیام حِبرون (موجودہ الخیل)کی وادی میں تھی جہاں حضرت اسحاقؑ اور ان سے پہلے حضرت ابراہیمؑ رہا کرتے تھے۔ اس کے علاوہ حضرت یعقوبؑ کی کچھ زمین سِکّمِ (موجودہ نابلس) میں تھی۔
بائبل کے علما کی تحقیق اگر درست مانی جائے تو حضرت یوسفؑ کی پیدائش 1906 قبل مسیح کے لگ بھگ زمانے میں ہوئی اور 1890قبل مسیح کے قریب زمانے وہ واقعہ پیش آیا جس سے اس قصہ کی ابتدا ہوئی ہے، یعنی خواب دیکھنا اور پھر کنوئیں میں پھینکا جانا۔ اس وقت حضرت یوسفؑ کی عمر سترہ برس تھی۔ جس کنویں میں وہ پھینکے گئے وہ بائبل اور تلمود کی روایات کے مطابق سِکّمِ کے شمال میں دُوتَن (موجودہ دُثان)کے قریب واقع تھا اور جس قافلے نے انہیں کنویں سے نکالا وہ جلعاد (شرق اُردن)سے آرہا تھا اور مصر کی طرف عازم تھا۔ (جِلعاد کے کھنڈر اب بھی دریائے اردن کے مشرق میں وَادی الیابِس کے کنارے واقع ہیں۔)
مصری تاریخ سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ ان چرواہے بادشاہوں نے مصری دیوتائوں کو تسلیم نہیں کیا تھا بلکہ اپنے دیوتا شام سے اپنے ساتھ لائے تھے اور ان کی کوشش یہ تھی کہ مصر میں ان کا مذہب رائج ہو۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید حضرت یوسف ؑ کے ہم عصر بادشاہ کو ’’فرعون‘‘کے نام سے یاد نہیں کرتا کیونکہ ’’فرعون‘‘ مصر کی مذہبی اصطلاح تھی اور یہ لوگ مصری مذہب کے قائل نہ تھے۔ لیکن بائبل میں غلطی سے اس کو بھی ’’فرعون‘‘ہی کا نام دیا گیا ہے۔ شاید اس کے مرتب کرنے والے سمجھتے ہوں گے کہ مصر کے سب بادشاہ ’’فراعنہ‘‘ ہی تھے۔
موجودہ زمانہ کے محققین، جنہوں نے بائبل اور مصری تاریخ کا تقابل کیا ہے، عام رائے یہ رکھتے ہیں کہ چرواہے بادشاہوں میں سے جس فرمانروا کا نام مصری تاریخ میں اپوفیس (Apophis ) ملتا ہے، وہی حضرت یوسفؑ کا ہم عصر تھا۔
مصر کا دارالسلطنت اُس زمانے میں ممفِس(منف) تھا جس کے کھنڈر قاہرہ کے جنوب میں 14 میل کے فاصلے پر پائے جاتے ہیں۔ حضرت یوسف 17‘18 سال کی عمر میں وہاں پہنچے۔ دو تین سال عزیز مصر کے گھر رہے۔ آٹھ نو سال جیل میں گزارے۔ 30 سال کی عمر میں ملک کے فرمانروا ہوئے اور 80 سال تک بلا شرکت غیرے تمام مملکت مصر پر حکومت کرتے رہے۔ اپنی حکومت کے نویں یا دسویں سال انہوں نے حضرت یعقوبؑ کو اپنے پورے خاندان کے ساتھ فلسطین سے مصر بلا لیا اور اس علاقے میں آباد کیا جو دِمیاط اور قاہرہ کے درمیان واقع ہے۔ بائبل میں اس علاقے کا جشن یا گوشن بتایا گیا ہے۔ حضرت موسیٰؑ کے زمانے تک یہ لوگ اسی علاقے میں آباد رہے۔
مثلِ کلیم ہو اگر معرکہ آزما کوئی
اب بھی درختِ طور سے آتی ہے بانگِ لاتخف
اس شعر میں لاتخف تلمیح ہے اور حضرت موسیٰؑ کی نبوت سے پہلے کی پوری زندگی کی طرف اشارہ ہے یا حضرت موسیٰؑ کے مدین سے مصر کی طرف واپسی کے سفر کی جانب اشارہ ہے۔
حضرت موسی علیہ السلام کا تذکرہ تمام انبیا سے زیادہ قرآن مجید میں آیا ہے جس میں اُن کی مجاہدانہ زندگی کے مختلف ادوار کا بیان ہے۔ جس سے ہمیں معلوم ہوتاہے کہ آپ کی پیدائش اُس دور میں ہوئی جس میں بنی اسرائیل کے لڑکوں کو قتل کروایا جاتا تھا اور لڑکیوں کو زندہ رکھا جاتا تھا۔
اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے انتظام سے آپ کی پرورش فرعون کے محل میں ہوئی اور فرعون نے اُنہیں اپنی اولاد کی طرح پالا۔ آپ ایک شہزادے کے طور پر جوان ہوئے‘ اپنی ذہانت اور قابلیت کی وجہ سے فرعون کے اصل بیٹے سے زیادہ اہمیت حاصل کی اور یہ خیال ہونے لگا کہ فرعون کے بعد آپ ہی فرعون کے وارث ہوں گے تب محلاتی سازشوں کے ذریعے یہ بات کھول دی گئی کہ آپ فرعون کے اصل بیٹے نہیں ہیں جیسے ہی آپ پر اس حقیقت کا انکشاف ہوا محل چھوڑ کر بنی اسرائیل سے جا ملے (جن کے ساتھ دور شہزادگی میں بھی آپ کا رویہ ہمدردانہ تھا) اور ان کی غلامی سے نجات کے لیے جدوجہد کرنے لگے۔
اس اطلاع پر کہ محل میں آپ کے قتل کا منصوبہ بن گیا ہے اور آپ کو گرفتار کرلیا جائے گا آپ نے جلاوطنی اختیار کی۔
جلاوطنی میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو سب کچھ دیا بیوی، بچے، مال مویشی، زمین لیکن آپ اپنی پُر سکون اور مطمئن زندگی کو چھوڑ کر بنی اسرائیل کو غلامی سے نجات دلانے کے لیے اُس ملک کی طرف چل دیے جہاں اُن کے قتل کا فیصلہ ہوچکا تھا جہاں پہنچتے ہی آپ کو گرفتار کرلیا جانا تھا۔
ذرا غور تو کریں اس انکشاف کے بعد کہ آپ کا تعلق بنی اسرائیل سے ہے اور فرعون کا آپ سے اصرار کہ محل میں اُس کے بیٹے کی طرح رہیں لیکن آپ نے ایک لمحے بھی تامل نہیں کیا اور محل چھوڑ دیا۔ پھر نبی اسرائیل کی نجات کے لیے جدوجہد شروع کی جلا وطن ہوئے اور اب پھر نبی اسرئیل کو نجات دلانے کے لیے واپس جارہے ہیں‘ کسی خفیہ یا اعلانیہ معاہدے کے بعد نہیں بلکہ صرف اپنے رب کی مدد و استعانت پر بھروسہ کرتے ہوئے تب کوہِ طور سے صدا آتی ہے’’لاتحف‘‘
می دہد مارا پیام لا تخف
می رساند بر مقام لا تخف
قرآن مومن کو درس دیتا ہے کہ خوف زدہ نہ ہو اور وہ اس مقام تک پہنچا دیتا ہے جہا ں انسان ماسوا اللہ سے‘ بے خوف ہو جاتا ہے۔
حضرت موسیٰؑ کا فرعون کے سامنے جادوگروں سے آمنا سامنا ہوا اور جادوگروں کی رسیاں دیکھنے والے کی نگاہوں میں سانپ بن کر دوڑنے لگیں تو حضرت موسیٰؑ کو خیال پیدا ہوا کہ کہیں لوگ اُن کی نظر بندی سے متاثر نہ ہوجائیں اس پر اللہ کی طرف سے ارشادہ ہوا کہ لاتحف انک انت الاعلی
اقبال مرد مومن سے فرماتے ہیں:
جوں کلیجے سوئے فرعونے رود
قلبِ اُو از لا تخف محکم شودا

حصہ