سینیٹ کے آئندہ چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کون ہوںگے؟۔

114

محمد انور
ملک کے ایوانِ بالا سینیٹ کے آئندہ چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کون ہوں گے؟ اس کا فیصلہ ایوان میں موجود 104 سینیٹرز اپنے ووٹوں کے ذریعے پیر 12 مارچ کی شام تک کردیں گے۔ فی الحال تو سینیٹ میں موجود سیاسی جماعتیں اپنی حیثیت کے مطابق نئے چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین کو منتخب کرانے کے لیے روایتی جوڑ توڑ اور سوچ بچار میں لگی ہوئی ہیں ۔ پاکستان پیپلزپارٹی جو سینیٹ کی 20 نشستوں کے ساتھ دوسری بڑی پارٹی ہے، موجودہ چیئرمین کی طرح آئندہ کے لیے بھی اپنا ہی چیئرمین منتخب کرانے کے لیے پارلیمنٹ میں موجود اراکین خصوصاً آزاد ارکان کو اپنی جانب راغب کرنے کے لیے دن رات ایک کیے ہوئے ہے۔ اسی طرح مسلم لیگ نواز جو سینیٹ کے 3 مارچ کو ہونے والے انتخابات میں مزید 15 سیٹیں حاصل کرکے 33 سیٹیں رکھنے والی ایوانِ بالا کی سب سے بڑی جماعت بن چکی ہے، کی بھی یہی کوشش ہے کہ سینیٹ کا نیا چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین اس کا ہونا چاہیے۔
جمہوری ایوانوں کی روایت اور توقعات کے مطابق سینیٹ میں بھی اپنا چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین منتخب کرانے کی خواہش رکھنے والی دونوں بڑی پارٹیاں آزاد اراکین کی طرف للچائی ہوئی نظروں سے دیکھ رہی ہیں۔ جبکہ سیاسی بازیگر کہلانے والے پیپلز پارٹی کے رہنما آصف علی زرداری زیادہ مستحکم ڈیل کے طور پر تحریک انصاف سمیت ایوان میں موجود چھوٹی جماعتوں سے بھی بات چیت کررہے ہیں۔ سینیٹ میں اس وقت موجود بلوچستان سے 7 اور فاٹا سے 8 آزاد سینیٹر چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے انتخاب میں اہم اور حتمی کردار ادا کرسکتے ہیں اور توقعات کے مطابق کریں گے بھی۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے مطابق چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کی نشست حاصل کرنے کے لیے کسی بھی جماعت کو کم از کم 53 سینیٹرز کی حمایت حاصل ہونی چاہیے۔
جبکہ الیکشن کمیشن کے مطابق سینیٹ کے تازہ انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ نواز کے حمایت یافتہ امیدواروں نے 15 نشستیں حاصل کیں، جس کے بعد نواز لیگ کے سینیٹرز کی مجموعی تعداد 33 تک پہنچ گئی ہے۔ پاکستان پیپلزپارٹی نے 12 نئی نشستیں حاصل کی ہیں، جبکہ ایوان میں اس کے پہلے سے 8 سینیٹر ہیں۔ اس طرح پیپلزپارٹی نے مجموعی طور پر 20 سیٹیوں کے ساتھ دوسری بڑی جماعت کی حیثیت لے لی ہے۔ الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ کے مطابق پاکستان تحریک انصاف نے 6 نشستوں پر کامیابی حاصل کی اور مجموعی طور پر ایوان میں 12 سینیٹرز کے ساتھ تیسری پوزیشن پر ہے۔ جبکہ سینیٹ میں 15 نشستیں آزاد امیدواروں کے پاس ہیں، جمعیت علمائے اسلام ( ف) کی 4، اور ایم کیوایم، نیشنل پارٹی اور پشتون خوا ملّی عوامی پارٹی (میپ) کی بھی سینیٹ میں 5، 5 نشستیں ہیں۔
ایوانِ بالا سینیٹ کے 104 رکنی ایوان میں ہر صوبے کے 23 ارکان ہیں، جن میں سے 14 عمومی ارکان، 4 خواتین، 4 ٹیکنوکریٹ اور 1 اقلیتی رکن ہے۔ ایوانِ بالا میں فاٹا سے 8 عمومی ارکان سینیٹ کا حصہ ہیں۔ اسلام آباد سے کُل 4 ارکان ہیں جن میں سے 2 عمومی جبکہ ایک خاتون اور ایک ہی ٹیکنوکریٹ رکن ہیں۔ پاکستان مسلم لیگ نواز کا دعویٰ ہے کہ اس کو پشتون خوا ملّی عوامی پارٹی، جمعت علمائے اسلام (ف) اور نیشنل پارٹی کے سینیٹرز کے ساتھ 47 ارکان کی حمایت حاصل ہے اور متحدہ قومی موومنٹ یا آزاد ارکان کی حمایت سے بآسانی چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ بنانے کی پوزیشن میں ہے۔
ادھر دوسری طرف پاکستان پیپلزپارٹی نے چیئرمین سینیٹ کی نشست پر قبل از وقت ہی کامیابی کا دعویٰ کردیا ہے۔ ڈاکٹر قیوم سرمرو اور فیصل کریم کنڈی پر مشتمل پیپلزپارٹی کے وفد نے بلوچستان میں وزیراعلیٰ اور آزاد ارکان سے ملاقات کی ہے جس میں ان کی حمایت حاصل کرنے کا اشارہ مل چکا ہے۔ سینیٹ کے آئندہ چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب کے حوالے سے واضح بات صرف یہی ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری قائد پاکستان مسلم لیگ (ن) نوازشریف کی جانب سے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے لیے مشترکہ امیدوار لانے کی پیشکش مسترد کرچکے ہیں، جس کا مطلب یہ ہے کہ اِس بار پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) سینیٹ میں اپنا مشترکہ امیدوار نامزد کرنے کے بجائے ایک دوسرے کے مقابلے پر اپنے اپنے امیدوار سامنے لائیں گی۔ ایسی صورت میں اگر مسلم لیگ (ن)کے نامزد کردہ امیدوار کو فاٹا کے 8 اور بلوچستان کے 7 آزاد سینیٹرز، ایم کیو ایم کے 5، جے یو آئی (ف) کے 5، نیشنل پارٹی اور پختون خوا ملّی عوامی پارٹی کے ایک ایک سینیٹر کی حمایت حاصل ہوگئی (جس کے امکانات بھی ہیں) تو وہ کامیاب ہوکر چیئرمین سینیٹ منتخب ہوسکتا ہے۔

سینیٹ کیا ہے اور اس کے مقاصد کیا ہیں؟

سینیٹ پاکستان کی پارلیمان کا ایوانِ بالا ہے۔ یہ دو ایوانی مقننہ کا اعلیٰ حصہ ہے۔ دنیا کے بیشتر ملکوں کے جمہوری نظام میں اس کی غیر معمولی اہمیت ہے۔ یہ ایوان ہر دور میں قائم رہتا ہے۔ اس کا مقصد پیچیدہ ایشوز پر بحث کرکے ان کو حل کرنا ہوتا ہے۔ یہ اور بات ہے کہ پاکستان میں یہ ہائوس اب صرف دولت مندوں کا کلب بن گیا ہے۔ اس کے ارکان کو چونکہ براہِ راست عوام منتخب نہیں کرتے بلکہ چاروں صوبائی اسمبلیوں کے اراکین اپنے ووٹوں سے منتخب کرتے ہیں، جبکہ اس کے اراکین کے چنائو کے لیے خفیہ رائے شماری کی جاتی ہے، اس لیے اس کے انتخابات کے دوران ’’ہارس ٹریڈنگ‘‘ کی بازگشت ہوا کرتی ہے۔ سینیٹ جس قدر اہم ہے، اس قدر اُس کے اراکین کا انتخاب بھی آسان ہے۔ سینیٹ کے اراکین کے لیے تعلیم اور اثاثوں کے کوائف جمع کرانے کی بھی ضرورت نہیں ہے۔ اس لیے کوئی بھی ’’مالدار‘‘ پاکستانی جو ووٹ خریدنے کی اہلیت رکھتا ہو، وہ سینیٹر بن سکتا ہے۔ ملک میں سینیٹ کے انتخابات ہر تین سال بعد آدھی تعداد کی نشستوں کے لیے ہوا کرتے ہیں اور ارکان کی مدت 6 سال ہوتی ہے۔ سینیٹ کا سربراہ ملک کے صدر کا قائم مقام ہوتا ہے۔ موجودہ سربراہِ ایوانِ بالا رضا ربانی ہیں جو 11 جون 2013ء سے اس عہدے پر فائز ہیں۔

حصہ