کرپشن فری پاکستان

131

سید اقبال چشتی
پچھلے سال 15 دسمبر کا پورا دن لا ڑکانہ اور اس کے بعد مو ہنجو دڑو میں گزرا لیکن کسی نے بھی یہ نہیں کہا کہ بھٹو کے مزار پر چلتے ہیں شاید سب کو یہ اندازہ تھا کہ میں راضی نہیں ہو ں گا لیکن امریکا سے آئی ہو ئی ہماری سالی صاحبہ نے کہہ ہی دیا جس پر ڈرائیور نے بھی کہا کہ کچھ دیر کے لیے چلے چلتے ہیں مگر میں نے انکار کردیا کہ جو حکمران پاکستانیوں کے قاتل اور اس کو نقصان پہنچانے والے رہے ہوں ان کے پاس جا کر ہم کیا کریں گے اس لیے ہم نے امریکا کو بھی منع کردیا راستے بھر یہی سو چتا رہا کہ جو حکمران یہ سمجھتے تھے کہ ہماری کرسی بہت مظبوط ہے ا ورہمارے بغیر یہ ملک نہیں چل سکتا با الاآخر منوں مٹی کے نیچے چلے گئے مگر پاکستان کو ان حکمرانوں نے اپنے مفاد کے لیے تو استعمال کیا بلکہ جب مفاد پر ضرب پڑ ی تو اس ملک کو تقسیم کر نے سے بھی باز نہ آئے اپنی حکمرانی اور مفادات کا کھیل ہی تھا جس نے ملک کو کو دو لخت کردیا تھا اور اسی طرح آج پھر سے اپنی حکمرانی اور عہدوں کو برقرار رکھنے اور ایوان بالا میں اپنی اکثریت ثابت کرنے کے لیے سینٹ کو دولت کا اکھاڑا بنا کر اکثریت کے دعوے کے ساتھ زر خرید بکائو ارکان اسمبلی کے ذریعے ترقی اور خو شحالی کے دعوے کیئے جا رہے ہیں
افسوس تو اس بات پر ہو تا ہے کہ پا کستان کی ترقی اور خو شحالی کی باتیں وہ سیا سی پارٹیاں کر رہی ہیں جو کئی بار وفاق اور صو بوں میں اقتدار میں رہ چکی ہیں اور عوام سے مطا لبہ کر رہی ہیں کہ اگر ہمیں ایک بار پھرحکو مت ملی تو ہم ایسا کر دینگے ویسا کر دیں گے لیکن ان کرپٹ سیاسی پارٹیوں کو دس بار بھی حکو مت مل جائے یہ پارٹیاں ملک اور قوم کی قسمت بدل نہیں سکتیں بلکہ یہ افراد اپنی قسمت کا فیصلہ پارٹیاں بدل بدل کر کرتے رہتے ہیںپچھلے سال سیاسی وفاداری بد لنے کا رجحان تھا جس سے سیاسی طور پر تجزیہ کیا جا رہا تھا کہ بڑے بڑے سیاسی لوگ صرف ایک سیٹ کے لئے سیاسی وفاداریاں تبدیل کریں گے تو یہ جمہوریت کے لیے نیک شگون ثابت نہیں ہو گا اور سینٹ الیکشن میں سیاسی وفاداری تبدیل کرنے کے لئے جس طرح دولت کا استعمال ہوا اس سے ثابت ہو گیا کہ تم جس طرح کرو گے اسی طرح دوسرا بھی کر سکتا ہے پیپلز پارٹی کے کئی نا مور اور بڑے نام پیپلز پارٹی کو چھوڑ کر تحریک انصاف میں چلے گئے تھے جس پر عمران خان کا کہنا تھا کہ ہم نے پیپلز پارٹی کو پنجاب سے آوٹ کر دیا ہے لیکن سینٹ الیکشن میں خیبر پختونخوا سے پیپلز پارٹی کے دو سینیٹروں کی کامیابی سے ثابت ہو گیا کہ اب تحریک انصاف خیبر پختون خواہ سے آوٹ ہو گئی ہے کیو نکہ سب سے زیادہ بکنے والے ار کان اسمبلی تحریک انصاف کے ہیں جنھوں نے رقم لے کر اپنا ووٹ پارٹی ڈسپلن کے خلاف دیا اسی لیے کہا جاتا ہے کہ دوسروں کے لیے جو کڑھا کھودتا ہے خود اس میں گر جاتا ہے کرپٹ سیاسی قیادت کو تحریک انصاف نے اپنے دامن میں جگہ دی اور الیکشن سے پہلے نتیجہ آگیا کہ آگے جنرل الیکشن کی سیاست میں تحریک انصاف کس مقام پر کھڑی ہو گی نیا پاکستان کا نعرہ لگا نے والی پارٹی کرپٹ اور بکائو مال والی پارٹی بن کر سامنے آئی ان ارکان اسمبلی کو ذرا بھی اپنے ووٹروں کا خیال نہیں آیا کہ خیبر پختون خوا کے عوام نے جس تبدیلی کے لیے ہمیں ووٹ دیا تھا کیا یہ عوامی مینڈیٹ کی تو ہین نہیں ہے جو ارکان چند پیسوں کے لئے اپنے ضمیر کا سودا کرلیں ان سے تبدیلی کی کیا توقع کی جا سکتی ہے ان ارکان اسمبلی نے نہ صرف عوام کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی ہے بلکہ اپنی قیمت لگا کر ووٹ کے تقدس کو بھی بری طرح پامال کیا ہے چا ہے ان ار کان اسمبلی کا تعلق فا ٹا سے ہو یا پھر آزاد ہوں یا کسی بھی پارٹی سے وہ ملک کی ترقی کے لئے کام نہیں کر سکتے یہی وجہ ہے کہ تیس سالوں سے کراچی شہر میں ایم کیو ایم کی حکمرانی قائم ہے اور اب بھی سو فیصد کراچی کا مینڈیٹ ایم کیو ایم کے پاس ہے لیکن آج کراچی مسائل کی آماجگاہ بن چکا ہے کراچی کی صورتحال اس بات کی طرف اشارہ کر رہی ہے کہ پہلے بھی ایم کیو ایم اپنے ووٹ فروخت کرتی تھی لیکن یہ بات راز ہی رہتی تھی کیو نکہ تمام فیصلے قائد تحریک کرتے تھے اور رقم بھی لندن جاتی تھی لیکن قائد تبد یل ہو تے ہی سب کے منہ میں پانی آنے لگا لیکن ایم کیو ایم کے ارکان اسمبلی بھی قائد کے نقش قدم پر چلے اور اپنی بو لی لگا یہ کر ثا بت کیا کہ ہم صرف پیسے کے پجاری ہیں
اس وقت پاکستان کی تینوں بڑی پا رٹیوں کے اندر یہ طریقہ رائج ہے کہ پارٹی ٹکٹ کے لیے درخواستیں طلب کی جاتی ہیں اور ہر درخواست کے ساتھ کم سے کم پچاس ہزار لیے جاتے ہیں اور پھر جس فرد کو الیکشن کا ٹکٹ دیا جاتا ہے اُس فرد سے کروڑوں روپے لے کر ٹکٹ جاری کیا جاتا ہے جاوید ہاشمی کا بیان ریکارڈ پر مو جود ہے کہ عمران خان نے الیکشن کے ٹکٹ کروڑوں میں فروخت کیے۔ جب کروڑوں لے کر پارٹی ٹکٹ جاری کیے جاتے ہوںاور الیکشن میں کھڑے ہو نے والا فرد تمام تر الیکشن کے اخراجات خود برداشت کر تا ہے تو پھر ارکان اسمبلی اپنی قیمت کیوں نہ لگائیں تمام پارٹیاں الیکشن کمیشن سے مطالبہ کر رہی ہیں کہ وہ الیکشن میں دولت کے استعمال کو روکیں یہ مطالبہ سراج الحق کی زبان سے تو اچھا لگتا ہے کیو نکہ جماعت اسلامی کے پاس الیکشن کمیشن کی مقرر کردہ اخراجات کی حد بھی پوری نہیں ہو تی مگر جو الیکشن کمیشن کی مقررہ حد سے کئی سو گنا ایک اسمبلی کی نشت جیتنے کے لئے لاکھوں نہیں کروڑوں خرچ کر دیتے ہوںاُس وقت وہ یہ مطالبہ کیوں نہیں کرتے ملی یکجہتی کو نسل نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اگر خرید و فروخت کر نے والوں کے خلاف کاروائی نہ کی گئی تو یہ سمجھا جائے گا کہ یہ سب الیکشن کمیشن کی مر ضی سے ہوا ہے اگر الیکشن کمیشن اس وقت سینٹ کے الیکشن میں دولت کے استعمال کے خلاف کاروائی کر تا ہے اور دولت کے بل پرجیتنے والوں کو نا اہل قرار دیتا ہے تو جنرل الیکشن میں بھی کروڑوںخرچ کر کے عوام کی آنکھوں میں دھول جھو نکنے والے عوامی حمایت سے محروم رہ جائیں گے کیو نکہ ان لو گوں کا عوام میں کو ئی اثر و نفوذ نہیں ہو تا صرف یہ اپنی دولت کے بل پر ذات برادری کو خرید کر الیکشن جیت جا تے ہیں لاہور کا ضمنی الیکش ہو یا لو دھراں کا دو نوں طرف سے دو لت کا استعمال کیا گیا یہاں تک اطلا عات ہیں کہ ایک خاندان کے ووٹ لینے کے لئے نو جوانوں کو نئی مو ٹر بائیک تک دی گئیںووٹ کے بدلے لوگوں کے گھروں کے بجلی کے بل جمع کرائے گئے جب نچلی سطح پر ووٹ کے لئے خرید و فروخت ہو گی تو پھر ایوان زریں ہو یا ایوان بالا ہر جگہ خرید و فروخت ہو گی جس طرح دہری شہریت والے نو منتخب سینیٹروں کی کا میابی کا نتیجہ روک لیا گیا اگر اسی طرح ایک حد سے زیادہ الیکشن میں خرچ کر نے پر نتیجہ روک لیا جائے اور جیتنے والے کو نا اہل قرار دیا جائے توہارس ٹریڈنگ کے امکا نات کو ختم کیا جا سکتا ہے الیکشن کے ضابطہ اخلاق پر عملدراآمد اور سخت اقدامات کر کے ہی اپنے گھر کو بچایا جا سکتا ہے
پاکستان کی جدو جہد کا آغاز جس جگہ سے ہوا وہ بنگال کی سر زمین تھی لیکن آج وہی بنگال پاکستان نہیں ہے کیو نکہ جو گھر بنا تا ہے وہ گھر کبھی نہیں ٹوٹنے دیتا لیکن گھر کے بنانے میں کسی کا حصہ نہ ہو تو وہ فرد اس احساس سے عاری ہوتا ہے کہ گھر کن مشکلات سے گزر کر بنایا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ قیام پاکستان کے بعد سے اب تک اس ملک پر سر مایہ داروں اور جاگیر داروں کا قبضہ رہا ہے جن کا اس پاکستان کی جدو جہد میں کو ئی کردار نہیں ہے جنھوں نے اپنی دو لت کے بل پر ہر چیز خر ید لی چاہے وہ عوام کا ووٹ ہو یا جیت کر اسمبلی میں آنے والے ار کان اسمبلی ہوں اُن کی بھی بو لی لگاکر اپنا مطلب پورا کر لیا جا تا ہے کیو نکہ ماضی میں پاکستان کے اداروں نے اپنا کردار ادا نہیں کیا تھا جس کی وجہ سے کرپٹ سیاسی قیادت اور بیورو کریسی والی اشرافیہ نے حکو متی وسائل پر قبضہ کر کے نہ صرف اس ملک کی نظریاتی بنیادوں کو کمزور کیا بلکہ ملکی وسائل کو اس کرپٹ اشرافیہ نے دو نوں ہاتھوں سے لوٹا اور دیار غیر میں جا کر بس گئے اللہ اللہ کر کے پاکستان کے اداروں کو ہوش آیا ہے کہ اب بہت ہو گیا اس لئے شاید قا نون و انصاف کی حکمرانی کو قائم کر نے کے لئے پا کستانی اداروں نے اپنا کام کر نے کی ٹھان لی ہے اگر اسی طرح ادارے اپنا کام کر تے رہے تو یقینا کرپٹ عناصر کا کچھا چٹھہ کھل کر سامنے آئے گا تو ایک دن عوامی عدالت سے بھی یہ کرپٹ اشرافیہ کا ٹولہ شکست کھا کر ہمیشہ کے لیے سیاست سے آوٹ ہو جائے گا کرپشن فری پاکستان کا خواب اُسی وقت پورا ہو گا جب انصاف فراہم کر نے والے ادارے اپنے حصے کا کام کریں گے کیو نکہ انصاف کی فراہمی ہی ملکی استحکام کے ساتھ ترقی و خو شحالی کی ضامن ہے۔

حصہ