سقوطِ ڈھاکا سے سکوتِ اسلام آباد تک

176

۔1947ء وہ تابناک سال تھا جب بر صغیر انڈ و پاک میں مسلمانوں کی جہد و جہد آزادی کی مہم جس کا آغاز 1857 ء سے ہوا تھا رنگ لائی اور دنیا کے افق پر پاکستان کا ستارہ یوں چمکا کہ اہل فرش کی آنکھیں چندیا کر رہ گئیں اور اہل عرش عش عش کرتے رہ گئے۔
دنیا کہ نقشے پر ایک ملک ابھرا جس کی بنیاد میں سچے اور پکے مسلمانوں کا خون، خواتین کی عصمتیں اور مال و جاہ شامل تھا اور اس ملک کا نام پاکستان رکھا گیا۔
پاکستان، یعنی پاک ستان، پاک صاف جگہ۔
یہ ایسا واحد ملک ملک تھا جو نہ تو کسی علاقائی بنیاد پر نہ لسانی بنیاد پر نہ رنگ کی بنیاد پر اور نہ ہی نسل کی بنیاد پر حاصل کیا گیا تھابلکہ یہ مذہب کی بنیاد پر معرض وجود میں آیا تھا اور مذہب بھی وہ جس کو تا قیامت رہنا ہے اور یہ بات طے کر دی گئی ہے کہ جب تک لوگ قرآن و سنہ پر عمل پیرا رہیں گے ان کے لیے کامیابیاں ہی کامیابیاں، راحتیں ہی راحتیں، سکون ہی سکون اور آرام ہی آرام رہے گا لیکن جب جب بھی انسان اس سے دوری اختیار کریں گے، اس کے تارک ہوتے جائیں گے ان کی راتوں کی نیندیں اور دن کا سکون برباد ہو کر رہ جائے گا، وہ ٹوٹتے اور بکھرتے چلے جائیں گے، آپس میں ایک دوسرے کے خون کے پیاسے بن جائیں گے یہاں تک کہ ان کی اپنی لڑائی جھگڑوں کی وجہ سے اللہ ان پر کسی تیسری قوم پر بطور عذاب مسلط کر دیگا۔
جس عظیم مقصد کے لیے مسلمانانِ ہند نے قر بانیاں دی تھیں وہ ایک ہی مقصد اور ایک ہی نعرہ تھا، اللہ کا قانون نافذ کرنا ہے اور ہر قربانی “لا الہ الا اللہ” کی پکار کے لیے ہی ہے۔
دنیا نے اس نعرے اور عزم کا معجزہ دیکھا کہ کیا بنگالی، کیا پنجابی، کیا سندھی، کیا بلوچی، کیا پشتون اور کیا وہ لوگ جو اس نعرے کے بعد اپنے اپنے آبائی علاقوں اور ہنستے بستے شہروں، دیہاتوں اور قصبوں سے ہجرت کرکے ان علاقوں کی جانب ہجرت کرکے جانے والے تھے جس کو پاکستان کہا جاتا ہے وہ سارے کے سارے ایک تھے، ہم رنگ تھے اورہم آواز تھے۔ نہ کوئی بنگالی تھا، نہ کوئی پنجابی تھا، نہ کوئی سندھی تھا، نہ کوئی بلوچی تھا اور نہ ہی کوئی پشتون، سب کے سب اللہ کے سپاہی اور پاکستانی تھے۔
پاکستان بننے کے کچھ ہی عرصے بعد پاکستان کے ایک ایک بچے کو اس کا اندازہ بخوبی ہوگیا کہ پاکستان جس مقصد کے لیے بنائے جانے کا دعویٰ کیا گیا تھا اور جو نعرہ توحید “لاالہ الا اللہ” بلند کیا گیا تھا وہ سب کچھ خام تھا اور جس مقصد کے لیے لوگوں نے اپنے جان و مال، آل اولاد کو قربان کیا تھا وہ سب ایک فریب کے سوا اور کچھ نہیں تھا تو اسی فرش سے لیکر عرش تک دیکھنے والوں نے یہ بھی دیکھا کہ اللہ کے نام پر حاصل کئے گئے اس ملک میں بڑی بڑی دراڑیں پڑنے لگیں اور اللہ سے کئے گئے وعدے کی خلاف ورزی کی سزاؤں کی جانب یہ ملک نہایت تیز رفتاری سے بڑھنے لگا۔
لسانیت، محرومیوں اور زیادتیوں کا سہارے لیکربنگال میں بنگالیت اس برق رفتاری کے ساتھ پروان چڑھی کہ ٹھیک پچیسویں سال میں ہی پاکستان کے دولخت ہونے کے خدشات بام عروج تک جا پہنچے۔ اس موقعے پر اپنی خطاوں پر غور کرنے کی بجائے ہم نے طاقت اور مذہب کو سہارا بنانے کی کوشش کی۔ مغربی پاکستان سے ہزاروں کی تعداد میں فوج روانہ کی گئی اور مشرقی پاکستان میں موجود وہ آبادی خواہ وہ بنگالیوں پر مشتمل تھی یا ان افراد پر جو خالص پاکستانی ہونے کے باوجود آج بھی “بہاری” ہی کہلاتے ہیں، پاکستان سے محبت رکھتے اور کرتے تھے، ان میں پاکستانیت اور اسلام کے جذبے کی چنگاری کو شعلہ جوالہ بناکر یہ چاہا گیا کہ بنگال پر مغربی پاکستانیوں کا غلبہ بر قرار رہے۔ چنانچہ ایسے تمام افراد کو اپنے ساتھ ملا کر، ان کے ہاتھ میں ہتھیار دے کر ان کو اس بات کا لائسنس دیا گیا کہ وہ ہر اس بنگالی کا سر قلم کر دیں جو پاکستان کے خلاف ہے اس لیے کہ پاکستان اسلام کے نام پر حاصل کیا تھا اور اس کے خلاف بولنا ایسا ہے گویا وہ مرتد ہوا اور اسلام میں مرتد کی سزا موت کے علاوہ اور کچھ نہیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان اللہ اور اس کے رسول کے نام پر ہی معرض وجود میں آیا تھا اور اس ملک کے خلاف کچھ بھی کرنا یا کہنا کسی حد تک “ارتداد” کے مترادف ہے لیکن اس ارتداد کے پہلے حق دار تو وہ لوگ تھے اور ہیں جو اسلامی نظام کے نفاذ کے سلسلے میں روز اول سے تا دم تحریر سب سے بڑی رکاوٹ بنے ہوئے تھے اور ہیں اور یہاں خلافت راشدہ کا قانون چلا نے کی بجائے انگریزوں کے تراشیدہ نظام جس کو جمہوریت کہتے ہیں یا سلاطین کا نظام جس کو ملوکیت کہا جاتا ہے نافذ کرتے اور چلاتے رہے ہیں اور ابھی تک چلا رہے ہیں۔ بجائے اللہ کے نظام کی مخالفت میں نظام کو رائج کرنے والوں کے گلے کاٹنے کا حکم دیا جاتا، بنگالی بن جانے پر مجبور ہونے والوں کی گردن زدنی کا حکم دیا گیا۔ اگر ایسا کوئی حکم دے ہی دیا گیا تھا اور بنگالی زیر عتاب آہی گئے تھے تو پھر ایک دوسرے موقع پر ان کو دیے گئے ہتھیار واپس لے کر ان سب کو بنگالیوں کے قدموں میں قربانی کا بکرا بنا کر کیوں پیش کر دیا گیا تھا؟ پھر یہی نہیں ہوا، ظلم پر ظلم یہ بھی ہوا کہ جن کے حوصلہ دینے پر خالص پاکستانیوں نے ان کا ساتھ دیا وہ اپنا سارا کچھ مع وردی و ہتھیار، دشمن کی جھولی میں ڈال کر ، پاکستان کے نام پر اپنا ساتھ دینے والی بنگالیوں اور بہاریوں کو بالکل تنہا چھوڑ کر انڈیا کے آگے سیلنڈرکر گئے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ایسے تمام بنگالی و بہاری جن کے سینوں میں اسلام اور پاکستان دھڑک رہا تھا اور جن کا خون پاکستان بن کر نس نس میں دوڑرہا تھا ، ان سب کے ساتھ بنگالیوں نے وہ ہوش رباسلوک کیا جس کو رہتی دنیا چیخیں مار مار کر یاد کرتی رہے گی۔ بنگال حکومت کے اہل کاروں نے ان پر گولیان چلانے کی بجائے سنگینیں بھونک بھونک کر مارا اور درختوں کے ساتھ میخوں سے ٹھونک دیا۔
وائے عزم و حوصلہ و جرات کی لازوال کہانی کہ جن پاکستانیوں نے اس وقت بھی افواج پاکستان کا ساتھ محض اس لیے دیا تھا کہ وہ پاکستان کو اللہ تعالی کا عطا کر دہ تحفہ سمجھتے تھے اورآج بھی بنگلہ ڈیش کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں اورجو اب بھی پاکستان کی محبت میں پہلے سے بھی زیادہ گرفتار ہیں، انھوں نے نہایت متعصب ماحول میں کسمپر سی کی زندگی گزارنا تو پسند کر لیا لیکن صد حیف کہ جن پاکستانی افواج کے ساتھ انھوں نے اظہار یک جہتی کا عزم کیا تھا اور جس پر وہ آج بھی قائم ہیں، مغربی پاکستانیوں، حکمرانوں اور افواج پاکستان نے ان کو اپنی یاد داشت سے یوں نکال کر پھینک دیا ہے جیسے کوئی دود ھ سے مکھی نکال کر پھینک دیتا ہے۔
کئی عشرے گزر چکے ہیں، جو بوڑھے تھے مر کھپ چکے ہیں، جوان بڑھاپے کی دہلیز تک پہنچ چکے ہیں اور جنھوں نے اس وقت جنم لیا ہی لیا تھا ان کے بچے بھی بچوں والے ہو چکے ہیں لیکن ظالم پاکستانیوں نے ان کو اس طرح چھوڑا کے پلٹ کر دیکھنا تک گوارہ نہ کیا۔
یہ بھی بے حسی کی انتہا دیکھنے میں آئی کہ ایسے افراد جو پاکستان کے ساتھ تھے اور ان کی حیثیت بہت نمایاں تھی اور ان کا تعلق اس وقت کی جماعت اسلامی سے تھا، ان کو چالیس برس بعد بھی نہ بخشا گیا اور جنگی جرئم کے مقدمات قائم کرکے سولی پر چڑھایا گیا اور معلوم نہیں ابھی کتنے ایسے افراد ہوں گے جو مصلوب کئے جانے والے ہوں گے لیکن مجال ہے کہ ہماری حکومت پاکستان، افواج پاکستان کا سالار ایک حرف تاسف بھی ادا کرنے کے لیے تیار ہو۔
ظاہر ہے”سقوطِ ڈھاکہ” کے ذمہ داراگر “سکوتِ اسلام آباد” اختیار نہیں کریں گے تو اور کیا کریں گے۔

حصہ