چھوٹا سا شرک

139

سیدہ عنبرین عالم
کیپٹن غفران محمود کا جنازہ انتہائی رقت آمیز ماحول میں، فوجی اعزاز و اکرام کے ساتھ دفنایا جا چکا تھا۔ کیپٹن غفران نے انتہائی بہادری سے پاک آرمی کی پوسٹ خالی کرائی، لیکن دشمن کے پھینکے ہوئے مارٹر نے ان کو شہادت کے مقام پر فائز کردیا۔ گھر صحافیوں اور کیمروں سے بھرا ہوا تھا، بہت سی روشنیاں کیپٹن غفران محمود کے والد محمد مرتضیٰ کا چہرہ دمکا رہی تھیں۔ وہ ایک بھی آنسو آنکھ میں لائے بغیر مسکراہٹوں کے درمیان سوالوں کے جوابات دے رہے تھے۔ بڑی احتیاط تھی کہ چہرے سے دکھ ظاہر نہ ہو۔ بھلا جس کا بیٹا شہید ہو اُس سے زیادہ خوش قسمت کون؟
’’میں اپنے رب کی رضا میں راضی ہوں، میرے بیٹے نے اپنے پاک وطن کے لیے جان دی، اس مٹی پر میرے بیٹے کا خون کا قرض ہے، میں اپنے وطن کے لیے اپنے سارے بیٹے بھی قربان کرنے کو تیار ہوں، میرے لیے اپنے وطن سے بڑھ کر کچھ نہیں ہے، اللہ نے اس وطن کی حفاظت کی اور اس حفاظت کے لیے میرے بیٹے کو منتخب کیا، اور میرے بیٹے نے اس وطن کے لیے جان دی‘‘۔ وہ بولے، اس کے ساتھ ہی سب داد و تحسین دیتے ہوئے اُن سے ہاتھ ملانے لگے، حد تو اُس وقت ہوگئی جب مسجد کے امام صاحب مٹھائی کا پورا ٹوکرا لیے تشریف لائے اور محمد مرتضیٰ کو اپنے ہاتھوں سے مٹھائی کھلائی ’’کھا بھرا کھا، تیری تو لاٹری لگ پئی، تو سیدے سیدے جنت کا ٹکٹ ہی کٹا آیا، غفران پٹ نے تیرے بھی گناہ معاف کرادییَ‘‘۔ انہوں نے کہا اور پھر سبھی آہستہ آہستہ مٹھائی کی طرف ہاتھ بڑھانے لگے۔
سب لوگوں کو فارغ کرکے محمد مرتضیٰ اپنے کمرے میں داخل ہوئے، تو ان کی بیگم افسردہ سی مسہری پر بیٹھی ہوئی تھیں۔ ’’جھلّی روتی کیوں ہے؟ تُو شہید کی ماں ہے‘‘ وہ بولے۔
’’پتا نہیں میرا بیٹا کس کے لیے جان دے بیٹھا؟‘‘ مہرالنساء بیگم فکرمند سی ہوکر بولیں۔
’’او کیا مطلب ہے تیرا، سوہنے پاکستان کی مٹی کو خون دیا ہے میرے پٹ نے‘‘ وہ اترائے۔
’’مگر شہید تو وہ ہوتا ہے جو اللہ کے لیے جان دے، مٹی بھی کوئی جان دینے کی چیز ہے! جب سے دنیا بنی ہے، سو دیس بنے، سو اجڑے… بھلا زمین کے ٹوٹے کے لیے بھی جان دینا کوئی عقل مندی ہے! میرا تو دل ہی ٹوٹ گیا‘‘۔ مہرالنسا اکھڑے ہوئے لہجے میں کہنے لگیں۔
’’او پاگلے تیری تو پیدائشی عقل کھوٹی ہے، پاکستان اللہ کے نام پر بنا تھا، تو پاکستان کے لیے جان دینا، مطلب اللہ کے لیے جان دینا… یہ شہادت ہی ہے‘‘۔ محمد مرتضیٰ سمجھاتے ہوئے بولے۔
’’تو تم کہہ دیتے ناں کہ غفران نے اللہ کے لیے جان دی ہے، کیا جاتا تمہارا؟‘‘ وہ غصے سے بولیں۔
’’اِکو ہی گل ہے، سچ کہا ہے کسی نے کہ عورت ناقص العقل ہے، سو جا‘‘۔ محمد مرتضیٰ بولے۔
’’نہیں غفران کے ابا! ایک گل نہیں ہے، تمہاری گواہی اللہ کے پاس لکھی گئی ہے کہ غفران نے اللہ کے لیے نہیں وطن کے لیے جان دی ہے‘‘۔ مہرالنساء بیگم کسی طرح ماننے کو تیار نہ تھیں۔
’’او سوجا! زیادہ بک بک کرکے میرا دماغ نہ کھا، کوئی فرق نہیں ہے‘‘۔ محمد مرتضیٰ چلاّئے۔
’’میں نے غالبؔ کی شاعری پڑھی تھی دسویں جماعت میں، اور اقبالؔ کی بھی پڑھی تھی۔ غالبؔ نے بچوں کو شراب اور نامحرموں سے عشق پر لگا کر نکما بنادیا، حالانکہ وہ بھی بڑی شاندار شاعری تھی۔ اور اقبالؔ نے ایک پوری قوم کو اپنے قدموں پر کھڑا کرکے نیا وطن دلا دیا تھا، وہ بھی شاعری تھی۔ پر بڑا فرق تھا غفران کے ابا‘‘۔ مہرالنساء نرمی سے بولیں۔
’’او شاعری کتھوں آگئی؟ تُو بالکل ہی بڈھی ہوگئی ہے، بات آسمان کی کرو اور جواب زمین کا آتا ہے۔ چل سو جا شاباش، صبح پھر لُوکی رولا پا دیں گے‘‘۔ محمد مرتضیٰ نے کہا۔
’’میں آپ کو فرق بتا رہی ہوں، بظاہر جس چیزمیں ہم فرق نہیں کرسکتے وہ نتیجے کے اعتبار سے بالکل مختلف ہوتی ہے، ہم کو سب کھانا ایک جیسا لگتا ہے لیکن اگر اللہ کے سوا کسی اور کے نام سے ہو تو وہ حرام ہوجاتا ہے۔ وہی روٹی، وہی سالن، بس اللہ کے سوا کسی اور کے نام پر دے دیا تو وہ پاک کھانا ناپاک ہوجاتا ہے۔ اللہ کا رزق ہے، اللہ کے سوا کسی اور کا نام لو گے تو وہ پاک رب بھلا کیوں برداشت کرے گا؟ اتنا بڑا کام کردیا کہ اللہ کی راہ میں بیٹا قربان کردیا، بس چھوٹی سی بات ہے اللہ کا نام لینا، وہ نہیں ہوتا تم سے‘‘۔ انہوں نے پوچھا۔
اب محمد مرتضیٰ بھی سوچ میں پڑ گئے ’’مجھے تو اِن اخبار والوں نے جو لکھ کر دیا میں بولتا چلا گیا، بس ایک نظر میں مجھے سب ٹھیک لگا تو وہی پڑھ دیا‘‘۔ وہ نادم سے ہوکر بولے۔
’’غفران کے ابا! یہ بھی ایک طریقہ ہے ماڈرن بنانے کا، اقبال کہتے تھے ’’ان تازہ خدائوں میں بڑا سب سے وطن ہے،، یعنی وطن کو اتنی اہمیت دینا کہ اللہ کی اہمیت نہ رہے، تو یہ تو شرک ہوا۔ مومن کا وطن تو ساری دنیا ہے، جہاں جلد یا بدیر بالآخر اللہ کا نظام قیامت سے پہلے قائم ہوکر رہنا ہے۔ اس لیے جنگ میں بھی دنیا کی کسی قدرتی چیز کو نقصان پہنچانے سے منع کیا گیا، کیونکہ آخر کو یہ سب مومن کی میراث ہے۔ ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تو ہم کو ایک امت کے طور پر چھوڑ گئے تھے۔ یہ الگ الگ وطن، الگ الگ نظام… یہ اسلام تو نہیں ہے۔ بہرحال پاکستان اسلام کا قلعہ ہے، اس کی حفاظت کے لیے جان دینا، اللہ کے لیے جان دینا ہے۔ ورنہ وطن میں تو غفران کو بس دو گز کی قبر ملی، اس کے لیے بھلا وہ کیوں جان دیتا!‘‘ مہرالنساء نے تفصیل سے سمجھایا۔ محمد مرتضیٰ بھی قائل نظر آتے تھے۔ ’’میں اللہ سے معافی مانگ لوں گا، بھلیے لوکے‘‘۔ وہ یہی جواب دے سکے۔
مہرالنساء اب بھی چہرے پر غصہ لیے بیٹھی تھیں۔ ’’ھُن کی ہویا؟‘‘ محمد مرتضیٰ پوچھ بیٹھے۔
وہ نرم آواز میں بولیں ’’میں صرف دسویں پاس ہوں، آپ کی طرح باہر کی دنیا بھی نہیں دیکھی میں نے، مگر میں مسلمان ہوں، مجھے اتنا پتا ہے کہ شیطان تاک میں ہے، اور شرک ایسا گناہ ہے کہ بخشا نہیں جاسکتا۔ اس لیے وہ ڈھکے چھپے ہم سے شرک کروا کر چھوڑتا ہے۔ ہمیں ہر قسم کے شرک سے بچنا ہے اور آنکھیں کھلی رکھنی ہیں۔ ہر چیز میں دونوں چیزیں پائی جاتی ہیں، اللہ بھی اور شیطان بھی، بس ہمارا امتحان ہے‘‘۔ وہ بولیں۔
’’او! کہنا کیا چاہتی ہے تُو، کھل کر گل کر، تُو جاہل ہے، پر بات پتے کی کرتی ہے‘‘۔ محمد مرتضیٰ بولے۔
’’دیکھو غفران کے ابا! اللہ سے بڑھ کر کسی کی بات نہیں۔ کوئی لیڈر، کوئی عالم، کوئی پیر فقیر، حتیٰ کہ ماں باپ کی بات بھی اللہ کے حکم کے خلاف ہو تو نہیں ماننی، یہ ہوتا ہے مسلمان۔ مجھے سمجھ نہیں آتا کہ لوگ قرآن خود پڑھتے نہیں، اور جو مولوی اور عالم کہہ دے اُسی کو حرفِ آخر مان لیتے ہیں۔ ارے تجھے اللہ کے عذاب سے یہ چھڑائیں گے! قتل کا کوئی مجرم اس لیے نہیں بچ سکتا کہ اسے معلوم نہیں تھا کہ قتل کرنا جرم ہے۔‘‘
’’او! کی کہہ رہی ہے؟ میں کب کسی عالم کے پاس گیا! میں تو روز سویرے خود ہی ترجمے سے قرآن پڑھتا ہوں، کبھی کسی مصنف کی تفسیر اور کبھی کسی کی، تاکہ کہیں میں کسی فرقے میں نہ چلا جائوں، اور مسلمانوں میں تفرقہ کو خود پر نافذ کرنے کا الزام نہ آئے‘‘۔ محمد مرتضیٰ بولے۔
’’محمد مرتضیٰ اب آپ اہم آدمی بن گئے ہیں، آپ قرآن بھی جانتے ہیں، علما اب آپ سے رابطہ کررہے ہیں۔ دیکھا تھا مولوی صاحب کیسے مٹھائی کا ٹوکرا لائے! اس لیے میں آپ سے کہہ رہی ہوں کہ شرک نہ کرنا، جو اللہ کا حکم ہو وہی پہنچانا، اپنا فائدہ نہ دیکھنا۔ بھلے آپ کسی جماعت میں بھی جائیں مگر وہ جماعت امتِ مسلمہ کو اللہ کا سچا پیغام پہنچانے والی ہو، کسی اور کے پیغام کو اللہ کے پیغام پر اہمیت نہ دے۔ ایسی بھی جماعتیں ہیں جو قرآن نہیں پڑھاتیں بلکہ لوگوں میں اپنے نظریات پھیلانا چاہتی ہیں، ان سے دور رہیں۔ یہ شرک ہے‘‘۔ مہرالنساء نے نصیحت کی۔
’’ہاں کہتی تو تُو ٹھیک ہے، آج ایک سیاسی پارٹی نے بھی رابطہ کیا‘‘۔ محمد مرتضیٰ نے تشویش سے بتایا۔
’’آپ نے قرآن تو پڑھا ہے ناں، غور کرنا کہ وہ پارٹی قرآن پر عمل کرکے پاکستان کو اصل اسلامی ریاست بنانا چاہتی ہے کہ نہیں، کیونکہ اگر یہ پاکستان اللہ کے بجائے امریکا کے حکم پر چلتا رہا تو میرے بیٹے کی شہادت رائیگاں جائے گی، پھر وہ اللہ کی راہ میں شہادت نہیں ہوگی بلکہ زمین کے ایک ٹکڑے پاکستان کے لیے موت ہوگی‘‘۔ مہرالنساء بیگم کے چہرے سے درد عیاں تھا۔ بیٹے کا غم تازہ تھا۔ چاہے جتنا بھی مضبوط دل ہو، ماں تو پھر ماں ہے۔
’’پاگل ہوئی ہے کیا! کون سا قرآن، کون سا اسلام اور کون سا اللہ…؟ آج کل تو جو سیاسی پارٹی سب سے زیادہ عورتوں کو سڑکوں پر نچاتی ہے اُسے ہی زیادہ ووٹ ملتے ہیں۔ سارے لوفر لفنگے ہر جلسے میں پہنچے ہوتے ہیں اور عورتوں سے ٹکراتے پھرتے ہیں‘‘۔ محمد مرتضیٰ نے سیدھی سادی بیوی کو بتایا۔
’’اللہ اکبر اللہ اکبر، ایسے کیسے ہوسکتا ہے! بچیوں کو ان کے والدین نہیں روکتے؟‘‘ مہرالنساء سٹپٹائیں۔
’’والدین تو انہیں یونیورسٹیوں میں جاکر چرس، ہیروئن پینے سے نہیں روکتے، والدین تو غیر لڑکوں کے ساتھ سال گرہیں منانے سے نہیں روکتے، والدین تو دوپٹہ سر پر رکھنے کو نہیں کہتے‘‘۔ محمد مرتضیٰ تپ کر بولے۔
’’تو پھر ایسی قوم پر عذاب تو آئے گا ہی آئے گا۔ اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتے ہیں کہ ہم جب کسی قوم پر عذاب کا ارادہ کرلیتے ہیں تو ان کے آسودہ حال لوگوں کو بے حیائی اور فحاشی یا مکمل نافرمانی میں مبتلا کردیتے ہیں۔ تو جس قوم کے کرتوت ہی عذاب کو دعوت دینے والے ہیں تو ہم کیوں اس کے لیے اپنے بیٹے قربان کریں! ہم بیٹے دفناتے جائیں اور یہ دوپٹے اتارکر سڑکوں پر ناچتے رہیں۔ ہمارے بیٹے بھی تو زندگی کی تفریحات سے لطف اندوز ہوسکتے تھے، مگر ان بیٹیوں کے دوپٹے بچانے کے لیے وہ جان دیتے ہیں اور ان کو کوئی فرق ہی نہیں پڑتا‘‘۔ مہرالنساء غصے سے بپھری ہوئی بولیں۔
’’ہمارے بیٹے نے جو کیا، اُس کا اجر اُسے ملے گا، اور یہ جو کررہے ہیں اس کا صلہ انہیں ملے گا، تُو کیوں اپنا دل جلاتی ہے! اللہ بڑا انصاف کرنے والا ہے، بھروسا رکھ‘‘۔ محمد مرتضیٰ ملائمت سے کہنے لگے۔
’’وہی شرک… محمد مرتضیٰ وہی شرک… یہ عورتیں خود کو مسلمان کہتی ہیں لیکن بات اپنے نفس کی مانتی ہیں، بھلا شرک اور کیا ہوتا ہے؟ صاف کہہ کیوں نہیں دیتے کہ ہم اللہ کی کوئی بات نہیں مان سکتے، لہٰذا آج سے ہم اعلان کرتے ہیں کہ ہمارا جو دل کرے گا، وہی کریں گے۔ کسی مذہب کے اصولوں کی پاسداری ہم سے نہیں ہوسکتی، ہم جانور ہیں، صرف اپنے نفس کے غلام… ہم اُس وقت تک نہیں رکیں گے جب تک اللہ کا عذاب آ نہیں جاتا‘‘۔ مہرالنساء چلاّئیں۔
’’کوئی نہیں کہتا، سب نے پردے ڈالے ہوئے ہیں چہروں پر… سب آپ کو بے وقوف بناکر، آپ کا بیٹا لے گئے۔ مہرالنساء یہ جو سیاست دان کہتے ہیں کہ ہم ملک کے لیے جان دیں گے، یہ ڈھائی ہزار پولیس اپنی جان بچانے میں لگاتے ہیں، سب کے بیٹے لندن میں ہوتے ہیں۔ یہ جو بیوروکریٹ ہیں انہوں نے دبئی میں اتنی جائدادیں خریدی ہیں کہ اتنے پیسے پاکستان سے نہ لُوٹے گئے ہوتے تو سب قرضے اتر جاتے، ایک ہزار ڈیم بن جاتے، ہر بوڑھے کو وقت پر پنشن مل جاتی۔ مگر سب کچھ لوٹ کر بھی یہ پاکستان کے لیے جان دیتے ہیں نہ اللہ کے لیے۔ یہ ٹی وی اینکر کتنی بکواس کرتے ہیں مگر جب تم ان کے محل نما گھر دیکھو گی، گاڑیاں دیکھو گی تو تمہیں پتا چلے گا کہ یہ دوسروں کے گریبانوں پر ہاتھ ڈالنے والے کتنے پاکیزہ ہیں… اور جان دینے کے لیے صرف ہمارے بیٹے ہیں۔‘‘ محمد مرتضیٰ پہلی بار رو پڑے۔
’’یہ بھی شرک ہے محمد مرتضیٰ، اللہ سے زیادہ مال اور آسائشوں سے محبت… دل ہی کالا پڑ گیا ہے ان کا شرک کر کرکے۔ لا الٰہ الااللہ کا مطب ہے ’’بس اللہ اور کچھ نہیں‘‘۔ کوئی لگن نہیں، کوئی خواہش نہیں، کوئی مرضی نہیں، بس اللہ‘‘۔ مہرالنساء بولیں اور مدہوش سی ہوگئیں۔
’’پھر اب کیا ارادہ ہے منور اور عدنان کے بارے میں۔ دکان کروا دوں دونوں کو؟‘‘ محمد مرتضیٰ نے پوچھا۔ لاکھ بیوی کو کم عقل سمجھیں، پر کرتے وہی تھے جو مہرالنساء نے کہہ دیا۔
مہرالنساء واقف تھیں کہ وہ ان کی بات نہیں ٹال سکتے، بولیں: ’’دونوں بیٹوں کو پاک آرمی میں بھیجوں گی اور ان شاء اللہ دونوں اللہ کی راہ میں شہید ہوں گے۔ حضرت عمرؓ، حضرت عثمان غنیؓ، حضرت علیؓ اور حضرت حسینؓ کے ساتھ جنت میں خوب مزے کریں گے میرے بیٹے‘‘۔ وہ فخر میں ڈوبی ہوئی بولیں اور ایسے اوپر دیکھنے لگیں جیسے جنت انہیں واقعی نظر آرہی ہو۔
’’لو جھلّی رہی تُو… مائیں چاہتی ہیں بیٹے زیادہ سے زیادہ دولت کما کر لائیں اور تُو کچھ اور ہی منصوبے بنا کر بیٹھی ہے۔ واقعی عورتیں ناقص العقل ہوتی ہیں‘‘۔ محمد مرتضیٰ نے مسکراکر کہا اور دونوں کھلکھلا کر ہنس پڑے۔

حصہ