اسوۂ صحابیاتِ رسولؐ ،ہر دور کے لیے قابلِ تقلید

240

افشاں نوید
(دوسرا حصہ)
مسلمان عورتوں کے لیے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے اسوے میں بہت سے سبق پوشیدہ ہیں۔ آپؓ انتہائی عبادت گزار تھیں۔ سیکھنے، جاننے اور جستجو کا مادہ کوٹ کوٹ کر بھرا تھا۔ مختلف مواقع پر آپ سوال کرتی تھیں، دلیل مانگتی تھیں مختلف احکام کے سلسلے میں… جس سے امتِ مسلمہ کے لیے بہت سے مسائل کی گتھی سلجھی۔ یہ امت قیامت تک سیدہ عائشہؓ کے احسانات کی شکر گزار رہے گی۔
سوکنوں کے ساتھ سلوک بھی آپؓ کے کردار کا انتہائی روشن پہلو ہے۔ آپؓ اپنی سوکنوں میں سب سے کم عمر تھیں۔ انتہائی خوش شکل اور ذہین و فطین تھیں، اس بناء پر اگر کبھی آپؓ کے دل میں اپنی کسی سوکن کے لیے کوئی برا خیال چھوکر گزرا، آپؐ نے بیان فرمایا… اور اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر سرزنش کی تو سیدہ نے اس کو بھی بیان کردیا کہ امت کی نظر سے آپؐ کی تعلیمات کا کوئی پہلو اوجھل نہ رہ جائے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد نصف صدی تک سیدہ عائشہؓ نے جس طرح دین کا علم امت کو پہنچایا وہ اسلامی تاریخ کا روشن باب ہے اور رہتی دنیا تک مسلم عورت سے تقاضا کرتا رہے گا کہ علمِ دین حاصل کریں اور اس کو پھیلائیں، کہ یہ ایک مسلمان عورت کے فرائض میں شامل ہے۔ آپؓ علم وعرفان کا سورج اور علم کا سمندر تھیں۔ مسلمان عورتوں کے لیے اس سے بہتر رول ماڈل اور کہاں تلاش کیا جاسکتا ہے!
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواجِ مطہراتؓ میں ایک طرف حضرت زینب بنتِ خزیمہؓ ہیں جو ’’امم المساکین‘‘ کے لقب سے جانی جاتی ہیں۔ کیوں کہ وہ روز وشب ناداروں اور مسکینوں کے غم بانٹنے میں مصروف رہتی تھیں۔ یہ ان کی شخصیت کا ایسا امتیازی وصف تھا کہ ان کا لقب اور شناخت بن گیا۔ وہ قریش کے معزز گھرانے سے تعلق رکھتی تھیں۔ ان کو جب جنگِ احد کے موقع پر ان کے محبوب خاوند کی شہادت کی اطلاع ملی تو ان کی حالت غیر ہوگئی۔ عدت گزرنے کے بعد اللہ نے ان کے نصیب میں حرم نبویؐ میں داخل ہونا لکھ دیا تھا، سو انہیں ’’امت کی ماں‘‘ ہونے کا اعزاز حاصل ہوا۔
چند روایات سے بھی ان کے کردار کی پوری عکاسی ہوتی ہے کہ وہ اپنے معاشرے کے لیے کس طرح نمونۂ عمل ہوں گی۔ ان کی ذات سے جس سچائی اور خیر کو فروغ ہوا ہوگا اس نے نبوت کے فرائض کی ادائیگی میں کتنا احسن کردار ادا کیا ہوگا۔
ایک طرف اُم المساکین زینب بنتِ خزیمہؓ کا روشن کردار ہے تو دوسری طرف اُم سلمہؓ کی بہادری اور جانثاری میں ہمارے لیے ایک سبق پنہاں ہے۔ آپؓ کے سلسلے میں جو روایات ہیں اُن میں ایک ٹیلے کا ذکر ملتا ہے کہ مکہ کے لوگ دیکھا کرتے تھے کہ ایک نوجوان خاتون اس ٹیلے کے پاس بیٹھی پہروں روتی رہتی ہے۔ وہ جن کی آہیں عرش کو ہلا دیتی تھیں، قریشی نسب امیہ بن مغیرہ مخزومی کی بیٹی ہند تھیں۔ اسلامی تاریخ ان کو ’’ام سلمہ‘‘ کے نام سے یاد کرتی ہے۔ قبولِ اسلام کے سلسلے میں ان کی استقامت اور عظمت کی داستان کو جس طرح اسکولوں کے نصاب کا حصہ ہونا چاہیے تھا، اس پر مقالے لکھے جانے چاہیے تھے، اسلامی دنیا میں ان کے نام کی یونیورسٹیاں ہونی چاہیے تھیں، عورتوں کی دلیری اور شجاعت پر اُم سلمہ پرائڈ آف پُرفارمنس جاری ہونے چاہیے تھے، وہ سب ہم نہ کرسکے۔ اس کا نتیجہ ہے کہ ہماری نسلیں ان کرداروں کی تابناکیوں کے باوجود اندھیروں سے لڑ رہی ہیں۔
کتنا غیر معمولی ہے ایک عورت کا یہ کردار کہ اپنے شوہر کے ساتھ حلقہ بگوشِ اسلام ہوتی ہیں۔ خاندان کے انتہائی مظالم برداشت کرتا ہے یہ پاکیزہ جوڑا۔ جب ہجرت کا حکم آجاتا ہے تو اپنے بیٹے کے ساتھ یہ میاں بیوی بھی رختِ سفر باندھتے ہیں۔ ابھی مکہ سے باہر نکلے ہی ہیں کہ قبیلے میں خبر پہنچ جاتی ہے۔ باپ دوڑ کر پہنچ جاتے ہیں۔ داماد سے اونٹ کی نکیل چھین کر کہتے ہیں تم جہاں چاہو جائو مگر میری بیٹی کو دربدر کی ٹھوکریں کھانے کے لیے نہیں لے جاسکتے۔ اُم سلمہؓ منت سماجت کرتی ہیں کہ ان کو شوہر کے ساتھ جانے دیا جائے، کہ اتنے میں ایک اور افتاد آن پڑتی ہے، قبیلہ بنوعبدالاسد کے لوگ بھی پہنچ جاتے ہیں، ان سے بچے کو چھین لیتے ہیں کہ ہم اس بچے کو نہیں جانے دیں گے، یہ ہمارے خاندان کی ملکیت ہے۔ یہ آہ وبکا ہے اور فیصلہ ابوسلمہؓ کے ہاتھ میں ہے۔ تاریخ اپنے آپ کو دہرا رہی ہے۔ ایک طرف حضرت ہاجرہ اور نومولود ہیں اور دوسری طرف آزمائشِ ابراہیمؑ۔ اگر لمحے غلطی کردیتے تو سزا صدیوں کو بھگتنا پڑتی۔ آتشِ ایمان تو ایک ہی جیسی تپش رکھتی ہے، سو حضرت ابوسلمہؓ نے فیصلۂ ابراہیمؑ دہرایا اور جذبات پر حق کی فتح غالب رکھی اور کہا کہ تمہارا قبیلہ تمہیں اور بچے کو روک رہا ہے، میرا تو راستہ کھلا ہے۔ جس خدا نے ایمان کی روشنی سے منور کیا ہے وہ تمہاری اور بچے کی حفاظت ضرور کرے گا۔ اس ایقان کے ساتھ اونٹنی کی نکیل تھامی، مدینہ کا رخ کیا اور پلٹ کر نہ دیکھا۔ شوہر تو چھُوٹا ہی تھا کہ بیٹا بھی جدا کردیا گیا۔ اب اگر اُم سلمہؓ غم کا پہاڑ سینے پر لیے ٹیلے کے پاس بیٹھ کر روتی تھیں تو ٹھیک ہی کرتی تھیں۔ جب سماج پتھر دل اور ’’صم بکم عمی‘‘ ہوجائے تو ٹیلوں کو پسینے آہی جاتے ہیں غیرت سے۔ مٹی کے ٹیلوں کو سماعتیں مل جاتی ہیں انسانوں کے نوحے سننے کے لیے۔
آزمائش کی یہ گھڑیاں یوں تمام ہوئیں کہ خاندان کے بزرگوں کو ان کی آہ و زاری دیکھ کر رحم آہی گیا۔ ان کو مدینہ جانے کی نہ صرف اجازت دے دی بلکہ ان کا بیٹا معصوم سلمہ بھی ان کو واپس مل گیا اور حکم دیا گیا کہ یہ لو (نحیف ونزار) اونٹن اور خود جاکر تلاش کرلو اُس شوہر کو جس کی خاطر روزوشب گریہ کرتی ہو۔ ان پتھر دلوں سے یہ ’’حُسنِ سلوک‘‘ بھی کب متوقع تھا! ایک کمزور اونٹ اور تنہائی کا لمبا سفر۔ پھر راستے میں وہی ٹیلہ پڑا جس کے قریب سے ابوسلمہؓ کے ساتھ گزر رہی تھیں تو قبیلے نے گھیر کر شوہر اور بچے کو جدا کردیا تھا۔
آج لمحہ بھر کو پھر وہاں ٹھیریں تو اس ٹیلے نے ان کی استقامت کو یقینا خراجِ تحسین پیش کیا ہوگا۔ وہ آنسو حلق میں دھکیلتے ہوئے ننھے سلمہ کو سنبھالے دوسرے ہاتھ سے اونٹ کی نکیل تھامے تنہا عازم سفر تھیں ابو سلمہؓ سے ملاقات کی آس لیے۔ خدا کی قدرت جوش میں آئی، خانہ کعبہ کا کلید بردار عثمان بن طلحہ (جس کو اللہ نے فتح مکہ کے وقت ایمان کی دولت سے سرفراز فرمایا) جو آپؓ کو تنہا ننھے بچے کے ساتھ دیکھتا ہے تو مدد کی پیشکش کرکے اونٹ کی نکیل تھام لیتا ہے۔ اُم سلمہؓ اس کی شرافت اور پاک طینتی کی گواہی دیتی تھیں۔ طویل سفر اختتام پذیر ہوا تو اس مہربان سردار نے اونٹ کی نکیل ان کے حوالے کردی کہ اس سے آگے میں نہیں جاسکتا، آگے ہمارے دشمنوں (مسلمانوں) کی آبادیاں ہیں۔ اُم سلمہؓ فرطِ مسرت سے مدینہ میں داخل ہوئیں۔ یوں ابوسلمہؓ سے ملاقات ہوگئی۔
اُم سلمہؓ اور ابوسلمہؓ اسلامی تاریخ کا مثالی جوڑا ہیں۔
ابوسلمہؓ نے بدر و احد کے معرکوں میں دادِ شجاعت دی۔ غزوہ احد میں جو زخم لگے وہ بالآخر شہادت کا باعث بنے۔ اُم سلمہؓ غم سے نڈھال تھیں لیکن دعا وہی پڑھی جو ابوسلمہؓ سکھا کر گئے تھے اور انہوں نے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے سیکھی تھی: ’’اے اللہ! مجھے مصیبت سے نجات عطا فرما اور میرا جو نقصان ہوا ہے اس کے بہترین نعم البدل سے مجھے نواز دے‘‘۔ دعا مانگتے ہوئے خیال آیا ابوسلمہؓ سے بہتر بھی کوئی ہوسکتا ہے میرے لیے! اور اللہ نے واقعی عظیم نعم البدل نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی صورت میں عطا فرمایا۔ یقینا آپؓ کا حرمِ نبویؓ میں داخل ہونا آپؓ کی اولوالعزمی، اسلام کے لیے گرانقدر قربانیوں اور دینی علوم پر آپؓ کی بصیرت کی بنا پر تھا۔ آپؓ امت کا بڑا اثاثہ ثابت ہوئیں، کیوں کہ آپؓ ایک صاحب الرائے اور اعلیٰ درجے کی بصارت رکھنے والی ہستی تھیں۔
سب امہات المومنین روشن چراغ ہیں۔ حضرت عائشہؓ کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج میں حضرت حفصہؓ جو حضرت عمر فاروقؓ کی صاحبزادی تھیں، نمایاں مقام رکھتی ہیں۔ حضرت حفصہؓ چونکہ ابتدائی مسلمانوں میں شامل تھیں اس لیے آپؓ کو ہجرتِ مدینہ کا شرف بھی حاصل ہوا۔ حضرت حفصہؓ کے خاوند احد کے زخموں کے بعد جانبر نہ ہوسکے، یوں 25 برس کی عمر میں حضرت حفصہؓ بیوہ ہوگئیں۔ حضرت عمر فاروقؓ ان کے عقدِ ثانی کے لیے فکرمند تھے۔ انہوں نے حضرت ابوبکرؓ، حضرت عثمانؓ کو پیغام بھیجے، لیکن حضرت حفصہؓ کے نصیب میں اُم المومنین بننے کا شرف لکھا جاچکا تھا، سو وہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے عقد میں آگئیں۔
روایات میں حضرت جبریلؑ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان ایک مکالمے کا ذکر ہے جس میں سیدہ حفصہؓ کے بارے میں انہوں نے کہا ہے کہ ’’اے اللہ کے رسولؐ! یہ خوش بخت خاتون جنت میں بھی آپؓ کی زوجہ ہیں۔‘‘ حضرت حفصہؓ کا علمی مرتبہ بہت بلند ہے۔ قرآن سے آپؓ کو خاص شغف تھا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے آیات کی تفسیر معلوم کیا کرتیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عقد کے بعد آپؐ کی کوششوں سے انہوں نے لکھنے میں بھی مہارت حاصل کرلی تھی۔ ان سے کئی احادیث بھی روایت ہیں۔
سیدہ حفصہؓ بہت فراخ دل اور فیاض تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب کبھی کسی ضرورت مند کے لیے مدد کی اپیل کرتے، حضرت حفصہؓ دل کھول کر مدد کرتیں۔ وفات سے قبل اپنے بھائی حضرت عبداللہ بن عمرؓ کو وصیت کی کہ ان کی تمام جائداد حاجت مندوں کے لیے وقف کردی جائے۔
جاری ہے

حصہ