خواتین کی آزادی اور سوشل میڈیا

316

عالمی یوم خواتین کا شور سوشل میڈیا پر دو دن جاری رہا، لبرل و سیکولر طبقات نے عورت کے حوالے سے اپنے مخصوص ایجنڈے کو آگے بڑھایا تو دوسری جانب مغربی ایجنڈے پر مبنی اس دن کو اسلامی رنگ میں رنگنے کے لیے تاریخ اسلام میں سے نمایاں خواتین کی سیرت کو نمایاں کرنے اور بطورماڈل خاتون پیش کرنے کا عمل بھی جاری رہا۔اس حوالے سے کراچی ،لاہور اور اسلام آباد میں عورت مارچ کے عنوان سے ایک سرگرمی ترتیب دی گئی۔مزمل فیروزی اپنی وال پر کراچی کے مارچ کے حوالے سے رقم طراز ہیں کہ ’’عورت مارچ کراچی کی خواتین نے ‘‘ہم عورتیں‘‘ کے نام سے ایک مہم کا آغاز کیا ہے جس کا مقصد صرف و صرف عورت کے تقدس اور حقوق کی بات کرنا ہے اور عورتوں کو اپنے عورت ہونے کا احساس دلانا ہے اس مارچ کی خاص بات یہ ہے کہ اس کا کوئی رہبر یا لیڈر نہیں ہر عورت اس مارچ کی قائد اور رہبرہے۔عالمی یوم خواتین پر عورت مارچ میںبڑی تعدادمیں خواتین کے ساتھ مردوں کی بھی عورت مارچ میں شرکت رہی ۔ شیماکرمانی کے ساتھ مختلف خواتین رہنماؤں نے تشدد کے خاتمے، محنت کشوں کے حقوق، ماحولیاتی انصاف کا مطالبہ کیا۔‘‘اس کے علاوہ سوشل میڈیا پر ایک بھر پور مہم بھی اس حوالے سے مختلف سیلیبریٹیز کی ویڈیوز کی صورت نظر آئی۔اس مارچ کی تحریک کے پیچھے کوئی خاص ادارہ نہیں منظر پر آیا، بلکہ یہی ظاہر کیا گیا کہ مختلف خواتین مل کر اس مارچ کی تیاری کر رہی ہیں۔فیس بک پر عورت مارچ کے عنوان سے ایک پیج بنایا گیاجس کا سلوگن ہم عورتیں رکھا گیا۔پیج کے مطابق ہم عورتیں کسی تنظیم کا نام نہیں بلککہ رضا کارانہ طور پر مختلف خواتین اس نعرے پر جمع ہو کر اس سوشل میڈیا مہم کا ساتھ دے رہی ہیں ۔عورت مارچ کے لیے جو چند مقاصد پیش کیے گئے اُن میں یہ نکات شامل تھے۔’’عورتوں پر ہونے والے گھریلو تشدد کا خاتمہ۔کام کرنے والی عورتوں کے حقوق کا تحفظ۔تمام عورتوں کے لیے تولیدی معاملات میں برابر کے حقِ رائے دہی کا حصول۔تمام عورتوں کے لیے عوامی جگہوں پر جانے کی برابر آزادی۔‘‘ان مقاصد کے حصول کے لیے اس مارچ میں جن نعروں کو استعمال کیا گیا آئیں ذرا اُن میں سے چند کو( جو سوشل میڈیا پرگھومتے پھرتے نظر آئے )ایک نظر ڈالتے ہیں ۔’’خود کھانا گرم کر لو‘‘، ’’ہم نے طوائف کے علاوہ کسی عورت کو خود مختار نہیں دیکھا اس لیے ہمیں ہر خود مختار عورت طوائف لگتی ہے ‘‘، ’’زہریلی مردانگی صحت کے لیے مضر ہے ،وزارت عورت‘‘، ’’آخر سڑکیں میرے باپ کی ہیں تو میری ماں کی بھی ہیں‘‘، ’’ یہ چاردیواری یہ چادر، گلی سڑی لاش کو مبارک،‘‘Consentکی تسبیح روز پڑھا کرو،‘‘ ’’Equality for ،, Paratha Rolls not Gender Roles,”Women, Progress for All‘‘ویسے تو شیما کرمانی صاحبہ کی ویڈیوز اور مارچ میں موجودگی بتا رہی تھی کہ اس مارچ کے پیچھے کون کون ہے اور ہو سکتا ہے، لیکن اگر آپ بی بی سی اردو کے آفیشل انسٹا گرام اکاؤنٹ پر اس مارچ کی تصاویر پر ہونے والے تبصرے دیکھیں تو اندازہ ہو جائے گاکہ عورت مارچ کے اس ایجنڈے کو مجموعی طور پرتنقید کا نشانہ بنا کر رد کیا گیا ہے۔پاکستان پیپلز پارٹی نے اس دنتمام صوبائی دارالحکومتوں میں ’کاروان بے نظیر ‘کی سرگرمی ترتیب دی اور سوشل میڈیا پر سابق خاتون وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کے دور حکومت کے کارناموں کاخوب چرچا رکیا جاتا رہا۔اسی طرح ملککاسب سے بڑا خواتین کا سیاسی نیٹ ورک رکھنے والی جماعت اسلامی کی مرکزی سیکریٹری جنرل دردانہ صدیقی کا عالمی یوم خواتین پر جامع اور ٹھوس نظریاتی پیغام بھی سوشل میڈیا پر جاری ہوا کہ ’’ اسلام ہی عورت کے حقوق کا سب سے بڑا محافظ ہے۔عورت کو اس کا وہ مقام دینے کی ضرورت ہے جو اس کے رب اور خالق نے اسے دیا ہے۔معاشرے میں اعلیٰ اخلاقی و اسلامی قدروں کو فروغ دیا جائے اور اسلام جوخاندانی نظام اور خواتین کے حقوق کا بہترین ضامن ہے اسکے اُصولوں کی مکمل پاسداری کی جائے۔‘‘یہی وہ لائن تھی جسے تمام لبرل بیانیوں کے مقابلے پر سوشل میڈیا پر استعمال کیا جاتا رہا۔کبھی سیرت رسول ﷺ سے ازواج مطہرات کے واقعات کی صورت میں کہ جس طرح نبی کریم ﷺ اپنی ازواج کے ساتھ محبت و شفقت کا رویہ فرماتے ۔حضرت عمر ؓ کے واقعات جس میں وہ اپنے مزاج کی سختی کے باوجود اپنی بہن کے گھر تلاوت قرآن پاک سن کر دائرہ اسلام میں داخل ہوئے ۔اچھا یہ اُس دور کی مثالیں تھیں جب واقعتاً گھر میں بچی کی پیدائش پر اُسے زندہ دفن کر دیا جاتا ۔یہ ایک ایسے معاشرے میں عورت کواُس کا بہترین مقام دینے کی عملی مثالیں ہیںجہاں لڑکی آج بھی کسی نہ کسی شکل میں بوجھ جانی جاتی ہے ۔اسلام نے تو وراثت میں بھی عورت کو جو حصہ دیا اُس کی بھی کوئی مثال نہیں ۔اسی طرح اس دن کی مناسبت سے ایک اور بیانیہ بھی مقبول رہا جس کے مطابق’آج کا دن،رسول ﷺ کی “بیٹی”،علی ؓ کی”زوجہ”،حسنین ؓ کی “والدہ”،اور سیدۃ النساء الجنۃ کے نام!‘‘بلوچستان سے بھی کئی آوازیں لاپتہ خواتین کے حق میں بلند ہوتی رہیں ۔فیض اللہ خان نے ایسی ہی دردناک تصویر ان الفاظ میں پیش کی کہ ’’مستورات کا عالمی دن ان ماؤں کے نام جن کے بچے مدت ہوئی تاریک زندانوں میں ہیں ، ان بیویوں کے نام جو آدھی بیوہ جیسی زندگی بسر کرتی ہیں۔ ان بہنوں کے نام جنکے سلامت گئے بھائی کٹے پھٹے لاشوں کی صورت میں لوٹے ان بیٹیوں کے نام جو آج بھی ہر آہٹ پہ سمجھتی ہیں کہ بابا چلے آئے۔حزب اختلاف و اقتدار میں تشریف فرما ان تمام گھٹیا سیاست دانوں کے نام جو کچھ برس پہلے تک لاپتہ افراد کا ذکر کر لیتے تھے اور اب منہ میں گوند گھسیڑ کر چپ بیٹھے ہیں اور ہر لاپتہ شہری کے والدین سے کہتے ہیں کہ” آپ کے بیٹے نے یقیناً کچھ کیا ہوگا ‘‘۔اسی بیانیہ کو ایک اور انداز سے عائشہ غازی یوں بیان کرتی ہیں کہ
’’ پاکستان میں خواتین کا عالمی دن منانے والو ۔اس عورت کو بھی یاد رکھنا جس نے خروٹ آباد میں مرتے ہوے انصاف مانگنے کے لئے آسمان کی طرف آخری بار انگلی اٹھائی تھی ۔اور اس شمائلہ کو بھی یاد رکھنا جس نے ریمنڈ ڈیوس کے ہاتھوں اپنے شوہر فہیم کی موت پر انصاف مانگتے مانگتے خود کشی کر لی تھی اور وقت ملے تو عافیہ صدیقی کی آخری پیشی کی کہانی بھی پڑھنا ، کہ عافیہ نے امریکی عدالت میں آخری الفاظ کیا کہے تھے ۔ جن کے بعد وہ بار بار بلائے جانے پر بھی نہیں بولی ۔اور ہاں۔ذرا اُن ماوں کو بھی یاد کر لینا جو ایک دہائی سے اپنے بچوں کو ڈرون کی آوازوں والے آسمان کے نیچے سلاتی تھیں تو ان کے دل کیسے کانپتے تھے اور ان ماؤں کو بھی جنہوں نے جیٹ بمباری کے بعد اپنے بچوں کے ٹکڑوں پر وہ بین کیا تھا جس کی آواز وزیرستان سے باہر نہیں سنی گئی ۔اور ہاں .. اس مائی کو بھی یاد رکھنا جس کے گمشدہ بیٹے سالوں بعد عدالت میں اس حالت میں پیش کئے گئے کہ سالوں اپنے بچوں کی بازیابی کی جنگ لڑنے والی بہادر ان پڑھ عورت ، اسی دن دل ہار کر قبر میں جا پڑی۔ کتنا کچھ ہے لکھنے کو پر بے حس معاشرے میں لفظ بے معنی ہوتے ہیں۔‘‘
صہیب جمال نے عالمی یوم خواتین پر جاری مختلف بیانیوں میں ایک نیا اضافہ کیا اور خواتین سے متعلق مختلف سماجی مسائل کو ایک اچھوتے انداز میں اصلاحی مقصد سے اُجاگر کرتے ہوئے سوالیہ انداز میں تحریر کیا کہ ،’’کبھی کسی عورت کو دیکھا ہے کہ کسی مرد کی گاڑی بیچ روڈ پر پنکچر ہو یا خراب ہو اور وہ اس کو پنکچر لگانے میں مدد دے اور بونٹ کھول کر بلاوجہ تاروں کی کیبل کو چھیڑے ؟کبھی کسی عورت کو دیکھا ہے کہ وہ اسٹاپ پر مردوں کے مجمع میں سے کسی کو اپنی گاڑی میں لفٹ دینے کی آفر کرے ؟کبھی کسی عورت کو دیکھا ہے کہ کسی مرد کو کہے جینٹس فرسٹ ؟کبھی کسی عورت کو دیکھا ہے کہ مردوں کے انباکس میں آئے اور اس سے حال احوال پوچھے درد و غم مل کر بانٹنے کی بات کرے ؟کیا کبھی کسی عورت کو دیکھا ہے کہ کسی مرد کے لیے اپنی سیٹ چھوڑ دے ؟بچببکیا کبھی کسی عورت کو دیکھا ہے کہ ایک مرد کی حفاظت کے لیے اس کے گھر تک اس کو چھوڑ کر آئے ؟کیا کبھی کسی عورت کو دیکھا ہے کہ اس کو کسی مرد کے بھائیوں نے چھیڑنے جیسے لطیف مشغلے پر مارا ہو ؟کیا کبھی کسی عورت کو دیکھا ہے کہ وہ کسی مرد کے گھر کے نیچے گھنٹوں جتندر یا وحید مراد نہ صحیح مادھوری یا ریکھا کی طرح تیار ہوکر کھڑی ہو ؟کیا کبھی کسی نے عورت کو دیکھا ہے اگر وہ ٹیچر ہو تو اپنے اسٹوڈنٹس کو عشقیہ خطوط دینے کی وجہ سے مار کھائے کیا کبھی کسی عورت کو دیکھا ہے کہ وہ سامنے کھڑے ، بیٹھے ، چلتے مرد کی مردانہ وجاہت کو انتہائی غور و فکر کے جذبات سے دیکھے ؟کیا کبھی کسی عورت کو دیکھا ہے کہ آپ کی فیس بک پر کسی سے لڑائی میں آپ کی بہن بن کر مدد کرے ؟کیا کبھی کسی عورت کو دیکھا ہے کہ وہ اپنے شوہر کی آنکھوں کے اشارے پر چلے ؟کیا کبھی کسی عورت کو دیکھا ہے وہ شوہر کو دوسری ، تیسری شادی کی دھمکی دے یا روز چھیڑے ؟نہیں دیکھا ہوگا بالکل نہیں دیکھا ہوگا یہ عظیم جذبہ خدمت ، شاندار عادات ، حسن سلوک ، رواداری ، بہن چارہ ، عزت احترام صرف مردوں کے اوصاف ہیں ان تمام خصوصیات کا حامل مرد ہے صرف مرد۔خواتین محروم ہیں ان تمام لطیف احساسات و جذبات سے محروم ہیں ، آج اس کا ذکر کیا ہے میں نے شاید کہ کسی کو اس پر غیرت آجائے اور وہ ان عوامل پر سوچے اور اپنے آپ کو سدھارے۔‘‘
ایک اور عمومی بیانیہ بھی جاری رہا جس میں عورت کی بطور ماںتوصیف بیان کی گئی۔’’عورت کی عظمت ماں سے شروع ہوتی ہے، عورت کے روپ میں ماں کا کردار سب سے افضل ہے، عالمی یوم خواتین کے موقع پر ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کی عظمت کو سلام۔اللہ کریم سب کی ماں جی کو سلامت رکھے ‘‘۔شام میں جاری بدترین مظالم اور اُس کے نتیجے میں وہاں سے ہجرت کرنے والی بے گھر ، بے سر و سامان لاکھوں خاندانوں سے اظہار یکجہتی کرنے کے لیے عالمی یوم خواتین کے موقع پر جماعت اسلامی کی سب سے متحرک خاتون رکن اسمبلی عائشہ سیّد اپنے دیگر ساتھی پارلیمٹرین خواتین کے ہمراہ ایک این جی او کی دعوت پر ’’’قافلہ احساس ووجدان ‘‘کے عنوان سے و ترکی کی سرحد پر جا پہنچیں۔وہاں انہوں نے ترکی کے شہرسکاریہ میں منعقدہ کانفرنس سے بھی خطاب کیا، جہاں انہوں نے نعرہ تکبیرکے بلند نعروں سے اپنی تقریر کا آغاز کیا تو عوام کا جوش دیدنی تھا۔شام اور غوطہ میں ہونے والے انسانیت سوز مظالم پر چونکہ پاکستان کی حد تک صرف سوشل میڈیا ہی ایک ابلاغی سہارا محسوس ہوتا ہے ، اس لیے اس ایشو پر مزید موثر آواز بلند کرنے کی ضرورت ہے ۔

حصہ