شام کی صورتحال، قصوروار کون؟۔

214

سید اقبال چشتی
اہل شام کی مشکلات کم ہو نے کے بجائے روز بروز بڑھتی ہی جارہی ہیں ستم تو یہ ہے کہ اپنی ہی حکومت اور فوج دوسروں کے تعاون سے اپنے ہی شہریوں کا قتل عام کر رہی ہے اور اس قتل عام پر فتح کا جشن بھی منایا جا رہا ہے لیکن جب عالمی سطح پر اس ظلم کی خبریں آنا شروع ہو ئیں تو فوراً سازشی عناصر نے داعش کا نام استعمال کر کے عالمی طاقتوں نے اپنے آپ کو اقوام متحدہ کے دامن میں چھپا لیا کیو نکہ اسلامی انتہا پسندی کے ساتھ داعش اور القائد ہ کے نام پر عورتوں بچوں اور مردوں کا قتل عام انسانی حقوق کی خلاف ورزی نہیں ہے عالمی طاقتیں یہ خلاف ورزیاں مسلم دشمنی کا کردار ادا کرنے والے اقوام متحدہ کے زیر سائیہ کئی بار مسلم ممالک میں ادا کر چکی ہیں اور ہر بار اقوام متحدہ نے سوائے افسوس اور قراردادوں کے مظلوم مسلمانوں کے لئے کچھ نہیں کیا بلکہ حیرت تو اس بات پر ہو تی ہے کہ کل کے دشمن مسلم دشمنی میں ایک ہو گئے ہیں اور امریکا روس اور اسرائیل مل کر اہل شام کا قتل عام کر رہے ہیں اور مسلم ممالک صرف تماشائی بنے ہو ئے ہیں ۔
عرب مسلم ممالک کے وسائل پر قبضہ کرنے کے لئے گز شتہ کئی سالوں سے جھوٹ اور دھوکے کے ساتھ اسلامی انتہا پسندی کا نام استعمال کرکے ایک کے بعد ایک مسلم ملک پر جنگ مسلط کر کے نہ صرف اپنے اسلحے کو فروخت کیا بلکہ اپنا جدید اسلحہ بھی ان ممالک کے عوام پر استعمال کر کے ٹیسٹ کیا گیا گزشتہ سال افغانستان میں امریکا نے اپنا مدر آف بم استعمال کیا بلکہ دنیا کوبھی اس بات سے بے خبر رکھا کہ اس بم کے استعمال کے بعد وہاں کی آبادی پر کیا گزری کیا کیمیائی اثرات مرتب ہو ئے آج تک گلو بلائز کہلانے والی دنیا اندھیرے میں ہے اسی طرح ایک اخباری اطلاع کے مطابق شام کے شہر مشرقی غوطہ میں روسی اسلحے کی جانچ کے بعد کئی ممالک نے روسی اسلحے کی خریداری میں دلچسپی ظاہر کی ہے جس سے صاف ظاہر ہو تا ہے کہ امریکا اور روس شام میں کیا لینے آئے ہیں اور ان ممالک کو دنیا کے امن سے کتنی دلچسپی ہے یعنی پلان بنائو اور اسلحے کا کاروبار بھی کرو اور وسائل پر قبضہ بو نس میں حاصل کرو اسی طرح کا ایک پلان امر یکا اور بر طا نیہ نے مل کر عراق کے خلاف بنا یا تھا اور پلان کے تحت کیمیائی ہتھیاروں کی مو جودگی کا جھوٹ بول کر عراق پر حملہ کیا گیا اور پُر امن ملک کو آگ اور خون کی نظر کر دیا گیا عراق کے صدر صدام حسین پنتیس سال تک وردی پہن کر اپنے ہی ملک کے شہریوں کو فتح کرتے رہے لیکن جب حقیقت میں لڑنے کا وقت آیا صدام حسین سمیت پوری عراقی فوج اپنی عوام کو دشمن کے رحم و کرم پر چھوڑ کر فرار ہو گئی عراق میں صدام حسین مارے گئے لیبیا میں چالیس سال حکمرانی کے مزے لو ٹنے والے کر نل قذافی مارے گئے لیکن شام میں ایسا کیا ہے کہ بشار الاسد کے خلاف اُٹھنے والی آواز کو دبانے کے لئے اور بشار الاسد کی حمایت میں پہلے روس پھر امریکا اور سعودی عرب اور ایران بھی سامنے آگئے اس سے ظاہر ہو تا ہے کہ یہ کھیل بشار الاسد کے لئے نہیں بلکہ ایک تیر سے کئی شکار کر نے والا معا ملہ ہے اور اصل ہدف اسلام پسندوں کی طاقت کو ختم کر نا ہے اگر بشار الاسد حکو مت کے خلاف مزاحمت ہو ئی تھی تو یہ ایک ملک کا اندرونی معا ملہ تھا اہل شام پر بشار کے والد حافظ الاسد نے تقریبا تیس سال اور ان کی وفات کے بعدجو لائی 2000 سے تا حال صدارتی کرسی پر ان کے بیٹے بر سر اقتدار ہیں تیس اور سترہ 47 سال سے ان باپ اور بیٹوں نے اہل شام کو کیا دیا نصف صدی کے ا اقتدار کے باوجود ترقی خو شحالی عوام کو میسر نہ آئی تواہل شام اپنے حکمرانوں کی غلط پالیسیوں کے خلاف آواز بلند کر نے لگے لیکن جب عوام کی جدو جہد کا میا بی سے ہمکنار ہو نے لگی تو بشار الاسد کو چاہئے تھا کہ وہ یہ کہہ کر اقتدار سے الگ ہو جاتے کہ میں سترہ سال میں اپنی قوم اور ملک کے لئے کچھ نہیں کر سکا لیکن سو نے کا نوالہ لے کر پیدا ہو نے والوں کو ملک اور قوم کی نہیں اپنے اقتدار کی فکر ہو تی ہے چاہئے اس اقتدار کے تحفظ کے لئے اسلام دشمن طاقتوں ہی سے کیو ں نہ مدد لے لی جائے اور آج عوام کف ِ افسوس مل رہی ہے کہ ہم نے کس شخصیت اور پارٹی کو جو ملک اور قوم ہی کی نہیں بلکہ دین اسلام کی بھی دشمن ہے بر سر اقتدار رکھا اسلام کو پس پشت ڈال کر لبرل اور سیکو لر ازم کا نعرہ لگانے والی عوام اللہ کی پکڑ میں ہے اور برا نہ ما نئے تو اپنے کیے کی سزا بھگت رہی ہے جس میں گیہوں کے ساتھ گہن بھی پس رہا ہے دنیا دیکھ ہی رہی ہے کہ اپنے اقتدار کے تحفظ کے لئے جو حکمران مسلم دشمن طاقتوں کو آواز دیں اور اپنے ہی شہریوں پر نئے تیار کردہ بموں کے تجر بات کر نے دیں وہ ملک اورعوام کے ہمدرد کیسے ہو سکتے ہیں اسلام دشمن طاقتوں نے نیکی اور پو چھ پو چھ فوراً اس آواز پر لبیک کہا کیو نکہ اسلام دشمن طا قتوں کا ایجنڈا ہی خاتمہ اسلام ہے پوری دنیا میں بیشتر اسلامی ممالک ہی ظلم و ستم کا شکار ہیں رو ہنگیا کے مسلمان ہوں یا فلسطین و کشمیرکے مسلمان افغانسان ، عراق ، یمن ، لیبیا یا دیگر اسلامی ممالک ان کے قتل عام پر اقوام متحدہ و انسانی حقوق کی تنظیموں سمیت تمام دنیا خا موش ہے ۔
اس خا موشی میں عا لمی میڈیا سمیت ہمارا میڈیا کا کردار بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں جہاں عالمی ضمیر مردہ ہو چکا ہے اُسی کے ساتھ اسلامی ممالک اور ان ممالک میں بسنے والے کلمہ گو مسلما نوں کے دل بھی مایوسی اور نا اُمیدی کی وجہ سے مردہ ہو چکے ہیں لے دے کر سو شل میڈیا پر مسلم امہ کی تباہی و بر بادی کے حوالے سے عوام اپنا غم و غصہ نکا ل لیتی ہے سو شل میڈیا پر عوام کے جذبات دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ عوام میں سیا سی شعور آگیا ہے اور لوگ اسلام بیزار حکمرانوں سے عا جز آگئے ہیں اب لبرل اورسیکولر عناصر منہ چھپاتے پھریں گے لیکن انتخابات کے مو قع پر سیکولر اور لبرل ازم لوگوں کی کا میابی یہ ثابت کر تی ہے کہ ہم صرف سو شل میڈیا پر مسلمان ہو ئے ہیں ہمارا دین اسلام اور اس کے نفاذ سے دور دور کا بھی واسطہ نہیں ہے جس کا ثبوت یہ ہے کہ وہ عوام جو میڈیا پر اہل شام کے قتل عام کی خبروں کے بلیک آوٹ اور انڈین اداکارہ سری دیوی کی موت اور آخری رسومات کی لمحہ بہ لمحہ خبروں کے پیش کیے جانے پراپنے احساسات کا اظہار کر رہی ہے کیا یہی وہ عوام نہیں ہے جو انڈین ادکاروں کو نہ صرف پسند کرتی ہے بلکہ ان کو اپنا ہیرو ما نتی ہے ہمارے گھروں اور شادی بیاہ کی رسو مات میں انڈین فلموں کے گانے بجائے جا رہے ہو تے ہیں اور امت مسلمہ کی مشکلات کو دیکھ کر ہم سو شل میڈیا پر بیٹھ کر محمد بن قاسم اور سلطان صلاح الدین ایو بی کے آنے کی دُعا کرتے ہیں یعنی ہم دوسروں کو کہہ رہے ہو تے ہیں کہ جا گتے رہنا ۔۔ لیکن ہم بھول جاتے ہیں کہ میڈیا کا کردار بھی اقوام متحدہ جیسا ہے اور میڈیا وہی دیکھا تا ہے جس کی پبلک میں ڈیمانڈ ہو تی ہے یا پھر عوام جو دیکھنا چاہتی ہے وہی دکھا ئے گا عوام سری دیوی کو اپنی ہیروئن تسلیم کرتے تھے اس لیے عوام کو اس حوالے سے با خبر رکھا گیا اگر عوام کے دل امت مسلمہ اور اہل شام کے ساتھ دھڑ کتے تو یقینا میڈیا بھی وہی دکھا تا اس لیے اپنے رجحا نات کے ساتھ رویئے بھی بد لنے کی ضرورت ہے اسی لیے شاید علامہ اقبال نے کہا تھا:

دل مردہ دل نہیں ہے اسے زندہ کر دوبارہ
کہ یہی ہے اُمتوں کے مرض کہن کا چارہ

افسوس تو اس بات پر ہوتا ہے کہ عوام کے ساتھ مسلم حکمران بھی صرف زبانی جمع خرچ اور مذمتی بیانات سے آگے نہیں بڑھتے کیو نکہ ہر مسلم ملک کے حکمران وہاں سے ہی ہدایات لیتے ہیں جن کے خلاف آواز اُٹھانی ہے اس لئے کون بو لے امت مسلمہ سعودی عرب اور ترکی سے اُمیدلگا ئے بیٹھی ہے کہ شاید یہ دو نوں ممالک امت کے اتحاد اور اُمت کو مشکلات سے نکا لنے میں کردار ادا کریں گے لیکن اس وقت کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ کون امت مسلمہ کے لئے مخلص ہے کیو نکہ ہر ملک کے اپنے مفادات ہیں اور شام کے اندر تر کی اور سعودی عرب اپنے مفادات کے لئے کام کر رہے ہیں ایران جو سعودی عرب کو اپنا حریف سمجھتا ہے شام کے معا ملے پر دو نوں حکو متوں کا مو قف یکساں ہے اور سعودی عرب میں ہو نے والی معاشرتی تبدیلیاں اس بات کی طرف اشارہ دے رہی ہیں کہ وہ بھی اپنے آقائوں کو ناراض نہیں کرے گا لے دے کہ تر کی رہ جاتا ہے جو انتظار کر رہا ہے کہ کب سو سالہ معاہدہ کی مدت ختم ہو اور وہ اپنے علا قوں کی واپسی کا اعلان کرے اس لئے لگ یہی رہا ہے کہ عرب میں لگنے والی یہ آگ اور خون کی ہو لی خاص مقاصد کے لئے عالمی طاقتیں کھیل رہی ہیں تا کہ آئندہ تر کی اور سعودی عرب آمنے سامنے ہوں عالمی سازشوں کا مقا بلہ کر نے کے لئے امت مسلمہ کو اپنا کردار ادا کر نا ہو گا اور ایسے افراد کو پا رٹیوں کی راہ ہموار کر نا ہو گی جو امت کے اتحاد کا باعث بنیں اور طاغوتی قوتوں کی جا رحیت کا بھر پورجواب دے سکیں اگر ایسا نہ ہوا تو پھر یہ آگ آہستہ آہستہ ہر مسلم ملک کی طرف بڑھی گی جس کی ذمے دار اُمت مسلمہ ہی ہو گی ۔

حصہ