ماتھے کا جھومر

142

سلمان علی
مادہ پرستی کے اس دور میں جہاں احساس نام کی چیز تقریباَ ناپید ہے۔ سرکاری سطح پر تو صحت، تعلیم اور دیگر بنیادی ضروریات نہ ہونے کہ برابر ہیں جبکہ نجی ادارے 70فیصد سے زائد پاکستانیوں کی پہنچ سے دورہیں۔ ایسے میں چند ایک ادارے ہیں جو معاشرے کے ماتھے کا جھومر ثابت ہو رہے ہیں۔ ایساہی ایک اِدارہ POB اسپتال بھی ہے۔ پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن (پیما) کے تحت چلنے والا یہ ادارہ ڈاکٹر شایان شادمانی جیسے فرشتہ نما انسانوں کی نگرانی میں چل رہا ہے جن کی تمام سوچیں، فکریں اور صلاحیتیں وقف فی اللہ ہیں۔ مفت علاج فراہم کرنے والے اس اِدارے میں آنکھوں کی تمام بیماریوں کا علاج ماہر ڈاکٹرز جدید مشینریز کے زریعے کرتے ہیں۔ سہولیات، نظم و ضبط اور اسٹاف ایسا کہ کیا ہی کسی بڑے نجی اسپتال کا ہوگا۔ گزشتہ دنوں چچا حسن طارق کے ہمراہ گلستانِ جوہر میں واقع اس ادارے میں جانا ہوا۔ 5 بجے کے بعد کا وقت تھا، اوپی ڈی 5 بجے سے پہلے ختم ہو جاتی ہے۔ ڈاکٹرصاحب دن بھر او پی ڈی کرنے کے بعد انتظامی امور نمٹانے میں مصروف تھے۔ نمازِ عصر کا وقت تھا اسپتال میں ہی باجماعت نماز ادا کی اور پھر چائے پر ڈاکٹر صاحب سے گپ شپ ہوئی۔ ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن نے2007 میں کراچی میںآنکھوں کے نادار مریضوں کو بینائی لوٹانے کے لیے ان کے مفت علاج اور سرجریز فراہم کرنے کے لیے ایک ٹرسٹ قائم کیا۔ پریوینشن آف بلائنڈ نیس ٹرسٹ (پی او بی) اس وقت کراچی میں جدید ترین آلات اور سہولیات سے لیس ایک جدید اسپتال قائم کر چکا ہے جب کہ یہ ادارہ (پی او بی) پاکستان بھر کے38 شہروں اور قصبوں میںآئی کیمپس لگا کر ہزاروں مریضوں کی آنکھوں کا علاج اور ان کی بینائی واپس لوٹا چکا ہے۔
انھوں نے بتایا کہ کراچی کی مختلف کچی آبادیوں میں میڈیکل کیمپ سے خدمت کے سفر کا آغاز 2012 میں کیا تھا جو کہ اب کراچی کے جدید ترین اسپتال کی صورت میں تبدیل ہوچکا ہے۔ ڈھائی سال سال تک کرائے کی عمارت میں لاکھوں مریضوں کی اوپی ڈی اور ہزاروں مریضوں کے آپریشن کے ذریعے بینائی لوٹانے میں اہم کردار ادا کیا۔
ڈاکٹر ذکی الدین صابری نے بتایا کہ عام طور پرآنکھوں کے ایک آپریشن پر تیس ہزار روپے تک خرچ ہوتے ہیں، لیکن ان کا ادارہ یہ تمام علاج مفت کرتا ہے اور اگر مخیر حضرات اس مشن میں شامل ہونا چاہتے ہیں تو ان سے ادارہ صرف پانچ ہزار روپے کے عطیے سے ایک مریض کا علاج کر دیتا ہے۔
پی او بی اسپتال کے تحت ہر ماہ کے پہلے اتوار کو کراچی کی پسماندہ آبادی میں کیمپ لگایا جاتا ہے جس میں مریضوں کی ایک بڑی تعداد استفادہ حاصل کرتی ہے، اسی کیمپ میں ڈاکٹرز کے تجویز کردہ سرجری کے مریضوں کا مکمل ایڈریس نوٹ کر لیا جاتا ہے اور پھر اگلی اتوار پک اینڈ ڈراپ کی سہولت کے ساتھ اسپتال لاکر سرجری کی جاتی ہے۔ حیرت انگیز بات ہے کہ ہزاروں روپے فیس لینے والے ڈاکٹرز اس ادارے کے تحت منعقدہ کیمپ میں بلا معاوضہ خدمات انجام دیتے ہیں۔
سرجری کے مریضوں کو ٹرانسپورٹ کی سہولت فراہم کرنے کا مقصد بتاتے ہوئے کہاکہ ہمیں خدشہ رہتا ہے کہ مریض سفر خرچ یاکسی اور وجہ سے اسپتال نہ پہنچ پائے، مرض کی شدت میں اضافے کی تکلیف سے بچانے کے لیے مریضوں کو ان کے مقامات سے ٹرانسپورٹ کی سہولت فرہم کی جاتی ہے۔
اسپتال میں داخل ہوں اور ایک خوش گوار احساس کا سامنا ہوتا ہے، خودکار نظام کی وجہ کسی قسم کوئی افراتفری یا دھکم پیل کا امکان نہیں رہتا، روائتی خیراتی اسپتالوں کے عملے انتہائی مہذب، مشفق اور پیشہ ور اسٹاف مریضوں کی رہنمائی کے لیے ہمہ وقت موجود رہتے ہیں۔ ٹوکن ایشو کروا لینے کے بعد آرام دہ اور لگزری انتظار گاہ میسر آتی ہے، نمبر آنے پر فائل تیار کی جاتی ہے اور اس کے بعد آنکھوں کا ابتدائی معائنہ (نظر چیک)کیا جاتا ہے۔ مختلف مرحلوں پر الگ الگ کمرے میں ڈاکٹرز چیک اپ کرتے ہیں۔ ہر کمرے میں الگ طرح کا مشینی معائنہ کیا جاتا ہے۔ ہسپتال میں جدید کمپیوٹرائز مشینیں ہیں۔ اس طرح مریض مرحلہ وار آنکھ کے مختلف حصوں کا معائنہ کروا کر اسپیشلسٹ ڈاکٹر تک پہنچتا ہے۔ اس اسپتال کی سب سے منفرد بات یہ ہے کہ اِن تما م پراسس کے ذریعے مکمل علاج بالکل مفت فراہم کیا جاتا ہے۔
مخیر حضرات اور امراض چشم کے رضاکار ماہرین کی مدد سے چلنے والا یہ معیاری ادارہ اب تک 16ہزار سے زائد غریب لوگوں کی سرجریز کر کے انہیں بینائی کا تحفہ دے چکا ہے جبکہ او پی ڈی سے مستفید مریضوں کی تعداد 1لاکھ 40ہزار سے بھی زیادہ ہے۔
مغرب کا وقت ہوچکا تھا، جاتے جاتے ہمارے سوال کے جواب میں ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ 23کروڑ روپے کی لاگت کا یہ منصوبہ فی الوقت مکمل نہیں ہوا مزید سہولیات کے اضافے کے ساتھ پاکستان کا جدید ترین آنکھوں کا چیئرٹی اسپتال بنانے کا منصوبہ ہے جو کہ اہلِ خیر افراد کے تعاون سے جلد مکمل ہوجائے گا۔

حصہ