بےضمیروں کو جھنجھوڑتا سوشل میڈیا

101

سوشل میڈیا اِس بار بھی پاکستانی میڈیا کو جھنجھوڑنے ، اپنے قومی تشخص ، ملی وجود کا اِحساس اور توجہ دِلانے کی کوشش کرتا نظر آیا۔ہماری بدقسمتی ہے کہ ہماراالیکٹرانک میڈیامجموعی طور پر ایک بار پھر ’خون مسلم کی ارزانی‘ کی عملی تصویر بنارہا۔پی ایس ایل تو پوری آب و تاب سے جاری ہے ، میرے تجزیہ کے مطابق اس نے بھی سنجیدہ موضوعات سے ہٹانے میں اہم کردار ادا کیا کیونکہ اس کے پیچھے بھی بڑے بڑے سرمایہ کار موجود ہیں جنہیں شام میں ہونے والے قتل عام سے کوئی فرق نہیں پڑنا تھا۔دوسری جانب بھارتی اداکارہ سری دیوی کی باتھ ٹب میں ہونے والی موت سے لے کر بغیر میک اپ والی آخری تصاویر کے اپ لوڈ ہونے تک جو کچھ پاکستانی نیوز الیکٹرانک میڈیا نے کیا اُس کا تعلق کسی طور بھی ہماری روح، ہمارے قلب،ہمارے نفس، ہماری تہذیب،ہمارے آئیڈیل ، ہماری زبان، ہمارے خوابوں اور اْن کی تعبیر سے متعلق قرار نہیںدیا جا سکتا ۔صحافت صرف لفظوں کا کاروبار نہیں ، صداقت کے اظہار کا ایک میڈیم کہلاتا ہے ۔اس لیے کہتے ہیں کہ جب صحافت زوال کی جانب جاتی ہے تو معاشرہ بھی زوال کی جانب جاتا ہے ۔پرچون کی دکان کی بھی کچھ اخلاقیات ہوتی ہیں، کہ وہ کم از کم حفظان صحت کے اُصولوں کا اطلاق کرتا ہے ۔لیکن ہمارے ذرائع ابلاغ کی اخلاقیات سوالیہ نشان ہیں اتنے اہم میڈیم کو ہم نے نام نہاد پیمرا کے آسرے پر چھوڑا ہوا ہے جو از خود کوئی چیز نہیں دیکھتا نہ محسوس کرتا ہے۔
سری دیوی کی موت پر الیکٹرانک میڈیا کی جانب سے غیر معمولی کوریج دیکھ کر سوشل میڈیا پر بدترین محاکمہ سر فہرست موضوع رہا۔اسلام آباد سے ایک نوجوان صحافی عمر انعام اپنے بلاگ میں لکھتے ہیں کہ ’’خوش نصیب تھی سری دیوی کہ جیتے جی بھی کروڑوں دِلوں پر راج کرتی رہی اور مر کر بھی اپنے تذکرے چھوڑ گئی ۔دوسری طرف شامی بچوں کی بدنصیبی کا اندازہ کریںجو نہ تو جیتے جی زندگی کے حسین رنگ دیکھ پائے اور نہ ہی مر کر اپنے قصے کسی کے لبوں پر چھوڑ پائے۔‘‘
اس موقع پردیسی لبرلز کو کچھ نہ سوجھی توجعلی ویڈیوز کانیا شوشہ چھوڑا ، جس پر عوام نے اِن کا خوب بینڈ بجایا ۔صہیب جمال لکھتے ہیں کہ ’’اِن مٹھی بھر لادین طبقے کو دیکھا کہ وہ شام میں فوج کشی غوطہ پر روسی اور بشاری حملوں کو جعلی قرار دیتے ہیں ، اور بغض دین میں آہستہ آہستہ اپنی سوچ کی طرف گامزن سعودی عرب کے یمن کے حملے کو بیچ میں ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔حالانکہ خون مسلم وہاں بھی قیمتی ہے اور یہاں بھی قیمتی ہے اور اغیار کی خوشی کے لیے خون مسلم پاکستان بہائے ، شام بہائے ، سعودیہ بہائے ہم اس کی مذمت کرتے ہیں۔ جس طرح امریکہ ، اسرائیل ، روس کی مذمت کرتے ہیں ۔شام میں جاری ظلم بربریت کو یہ طبقہ کہتا ہے کہ یہ بغاوت ہے اور اس پر تاویلات پیش کرتا ہے۔، کچھ فلمی تصاویر ، کچھ خودساختہ وڈیوز منظر عام پر لائی جا رہی ہیں جس میں مصنوعی منظر کشی دکھائی جا رہی ہے ، جو صاف لگ رہی ہے کہ غوطہ میں شہادتوں کو جعلی ثابت کرنے کے لیے بنائی گئی ہے۔اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ شام پر جاری ظلم کی تصاویر جعلی ہیں تو آپ سمجھتے رہیں اگر آپ کا خیال ہے کہ مسلمانوں کو ٹیکنالوجی میں آگے جانا چاہیے اور جذباتی نہیں ہونا چاہیے تو آپ سمجھتے رہیں۔کیونکہ ہم آپ اور آپ کی تحاریر کو بھی جوتے کی نوک پر رکھتے ہیں۔شام پر جاری مظالم کی تصاویر اگر جعلی ہیں تو آپ اپنے باپ بشارالاسد کو اپنی آواز پہنچائیں اور کہیں اپنا موبائل کیمرہ کسی بھی دس سال کے بچے کو دے اور ہنستا کھیلتا شام دکھادے ،تم لوگوں کے مطابق باغیوںکی جعلی تصاویر عام ہوجاتی ہیں مگر بشارالاسد تمہاری بیان کردہ حقیقت پر مبنی ایک وڈیو نہیں دنیا کودکھا سکا ۔ ایک طرف تم کہتے ہو کہ باغیوں کی سرکوبی کی جارہی ہے اور دوسری طرف کہتے ہو کہ وہاں کی تصاویر جعلی ہیں ، جانو گرگٹ ! تو کیا باغیوں کے نام پر مارے جانے والے اُن بم اور گولیوں پر بچوں بوڑھوں عورتوں کو بچ جانے کی ہدایت لکھی ہوتی ہیں ؟ ‘‘۔کاشف نصیر (ڈان وی لاگ) پر اعداد و شمار بتاتے ہیںکہ ’’سرزمینِ شام اِدھر ایک قیامت صغریٰ سے باہر نکلتی ہی ہے کہ اْدھر ایک نئی شبِ ظْلمت کا اندھیرا اُسے آ گھیرتا ہے۔ جنوری 2011ء سے فروری 2018ء کے دوران شام کی گلیوں، محلوں، بازاروں، کھیتوں، صحراؤں اور پہاڑوں میں کون سی جگہ ہے کہ جہاں جنگ نہیں ہوئی؟ لاکھوں لوگ غریب الوطن ہوئے اور ہزاروں بے نام راہوں میں مارے گئے۔ ایک دردناک ٹوئیٹ نظر سے گزری کہ’’ دیکھنا پڑے گا کہ دجلہ اور فرات میں زیادہ پانی بہہ رہا ہے یا شام کے گلی کوچوں میں اْمت مرحومہ کا خون؟لا تعداد جاں بحق ہونے والوں اور ہزاروں زخمیوں میں سینکڑوں ایسے ہیں جنہیں اب زندگی بھر جسمانی معذوری کا سامنا رہے گا۔ اِس لڑائی سے سب سے زیادہ متاثر ننھے معصوم پھول اور کلیاں ہوئی ہیں، سیکڑوں بن کھلے مرجھا گئیں اور ہزاروں بے گھر و بے اماں ہیں۔الجزیرہ کی ایک رپورٹ کے مطابق 2013کے بعد تیسری مرتبہ مرنے والے بچوں کے طبّی معائنے میں کیمیائی مادّوں کی موجودگی کے شواہد ملے ہیں۔ اقوامِ متحدہ، عالمی طاقتیں اور خطے کے چیدہ ممالک اِن حالات میں سرجوڑ کر بیٹھ جاتے اور مسئلے کا کوئی مستقل حل تلاش کرتے، مگر یہ سب خود فریق جنگ بن کر بے گناہ شامیوں ( مسلمانوں)کے خون سے اپنا ہاتھ رنگ رہے ہیں۔روس جو صرف داعش اور القاعدہ سے وابستہ النصرہ کے بڑھتے ہوئے اثر رسوخ کا بہانہ بنا کر شام میں داخل ہوا تھا، اب واضح طور پر خانہ جنگی میں بشار حکومت کا ہراول دستہ بن چکا ہے۔ اب یہ پیوتن سے کون پوچھے کہ آپ تو داعش کے لیے آئے تھے، مشرقی غوطہ میں شامیوں پر بم کیوں برسا رہے ہیں؟اِن حالات میں سوال یہ ہے کہ پیغمبروں کی سرزمین کیا یونہی جلتی رہے گی؟ آخر اس دنیا کا اجتماعی ضمیر کدِھر ہے؟ ظلم کو ظلم کہنے، امن کا علم اٹھانے، انسانی آزادی کی بات کرنے، جمہوریت کا نعرہ لگانے اور آمریتوں کو للکارنے والے ’’بند ہ حُر‘‘ اب نہیں تو پھر کب اْٹھیں گے؟‘‘۔شاید ہی کوئی دوست ملا ہو جو یہ کہے کہ اُس نے شام میں ہونے والی اس درندگی کا شور سوشل میڈیا پر نہیں دیکھا۔
اس پورے قتل عام پر پاکستانی الیکٹرانک میڈیا نے سانپ سونگھ کر اپنی دنیا و مافیہا سری دیوی یا پی ایس ایل تک محدود رکھی ، جو کچھ تھا صرف سوشل میڈیا پر شیئر ہوتا رہا ، یہ تو پہلی مثال تھی پھر یوں ہوا کہ ہندوؤں کے ایک مذہبی تہوار ’ہولی‘ کے موقع پرپاکستان کے معروف دیسی لبرل ابلاغی گروپ کی انگریزی ویب سائیٹ پر ایک بھارتی نژاد مسلم خاتون ڈاکٹر المانہ فصیح کا بلاگ موضوع بنا۔ڈاکٹر المانہ کے تعارف میں اور اُن کے دیگر بلاگز پر اگر آپ نظر ڈالیں گے تو آپ یقیناکہہ اٹھیں گے کہ موصوفہ خاص نظریہ ، خاص ایجنڈے کی پکی پیروکارہیں، کیونکہ موصوفہ25دسمبر کو اس موضوع پر بھی بلاگ لکھ چکی ہیں کہ
’’There is nothing wrong in wishing someone a Merry Christmas‘‘۔
خیر میں جس بلاگ کا ذکر کر رہا ہوں وہ اب ہولی منانے کے حوالے سے تھا۔اُنہوں نے اپنے بچپن (دہلی) میں ہندوؤں کے محلے میں ساتھ میں گزارے واقعات کی یادوںسے بات شروع کی ۔بین السطور جو کچھ بیان کیا ہے اُس کی گہرائی میں جائے بغیر جو کچھ واضح الفاظ میں لکھا ہے وہی بیان کر دیتے ہیں کہ اُن کے مطابق’’یہ تقریبات صرف محبت بانٹنے کے لیے ہیں اور نفرت اور امتیازات کے لیے ان میں کوئی جگہ نہیں ۔ تو چلو ہم یہ ہولی کھلے ذہن اور اس سے زیادہ اہم کھلے دل کے ساتھ منائیں۔‘‘
So let’s celebrate this Holi with an open mind, and more importantly, an open heart!
بات محبت کے لبادے میں نہایت ہی سادہ سی ہے مگر ڈاکٹر صاحبہ یہ شاید بتانے سے قاصر ہیں کہ یہ محبت جب سمجھ آئے گی جب کسی عید الاضحیٰ پر مسلمانوں کے ساتھ ہندو بھی گائے کی ذبیحہ میں ساتھ کھڑا ہو کر مسکراہٹ کے ساتھ سیلفی بنوائے گا ۔عائشہ غازی کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا کے عنوان سے اپنی وال پر احتجاجی نوٹ لکھتی ہیں کہ ’’دو قومی نظریے کے خلاف اتنی دیدہ دلیری سے مہم چلانے والوں کو کیا کوئی پوچھنے والا نہیں ؟ ہماری نظریاتی سرحدوں کے محافظ مر چکے ہیں ؟انہیں کوئی یہ بتانے والا نہیں کہ یہ دو الگ کلچر الگ تہذیبیں الگ نظام زندگی ہیں اور اگر انہیں الگ کرنا ممکن نہ ہوتا تو ہندوستان کے مسلمان اپنا الگ وطن نہ بناتے ۔ہولی ،دیوالی ہندو تہذیب ہے اور پاکستان میں ہندوؤں کو یہ دن منانے کی مکمل آزادی ہے بھی اور ہونی بھی چاہیے لیکنco-existence کایہ مطلب نہیں کہ مسلمان غیر مسلم مذہبی تہواروں کو اپنانا شروع کر دیں ۔بالکل ویسے ہی جیسے ہندو برادری سے امن کے نام پر یہ توقع کرنا غلط ہے کہ وہ بڑی عید پر ہمارے ساتھ کھڑے ہو کر گائے ذبح کریں ۔مذہبی آزادی اور اندھی تقلید میں فرق ہے اور یہ فرق ہر قوم اور مذہب والوں کو عزیز ہے ۔ایکسپریس ٹریبیون جیسے ادارے آئین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ہمارے نظریے پر جو ضرب لگا رہے ہیں وہ پاکستان کے وجود پر ضرب ہے ۔ــ‘‘
بہر حال جس طرح ہمارا پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا ہماری اقدار کو تباہ کرنے میں جتے ہوئے نظر آتے ہیں، سوشل میڈیا کے محاذ پر موثر جواب دینے کی صلاحیت رکھنے والے کچھ مردان حق اس میدان میں موجود ہیں۔
کچھ لوکل موضوعات پر بھی نظر ڈالیں تو اِسلام آباد میں مقیم ہمارے دوست جمال عبد اللہ عثمان نہایت درد مندی کے ساتھ اپنی وال پر پورے ملک کے پسے ہوئے اور مہنگائی کے مارے بے حس عوام کی ترجمانی کرتے ہوئے رقم طراز ہیں کہ ’’ساتواں مہینہ ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے، ساڑھے تین روپے سے زائد پیٹرول کی قیمتیں آج مزید بڑھی ہیں۔ حیرت انگیز اور افسوسناک بات مگر یہ ہے کہ کسی کو اس بدترین ظلم پر آواز اْٹھانے کی فرصت نہیں۔میاں نواز شریف تو جلسوں میں اپنی نااہلی کے بعد پاکستان کی تباہی، اسٹاک ایکسچینج میں مندی اور ملکی معیشت کی زبوں حالی کا اس طرح رونا رورہے ہیں جیسے وہ کسی اپوزیشن جماعت کے اعلیٰ مرتبے پر فائز ہوں۔ایسے میں عام فرد کس کے پاس جائے، دُہائی دے؟ پیٹرولیم مصنوعات میں اضافے کا مطلب اشیائے خور ونوش میں بھی بدترین اضافہ ہے۔سینیٹ میں پچھلے دنوں پیٹرولیم مصنوعات میں جس قدر ظالمانہ ٹیکس کی نشاندہی کی گئی تھی، اسے سامنے رکھ کر یہ یقین ہوتا جارہا ہے کہ ن لیگ اپنے تاحیات قائد کی نااہلی کا بدلہ اس قوم سے لے رہی ہے۔‘‘پوسٹ کے نیچے احتشام نے کمنٹ میں تصحیح کی کہ سب خاموش نہیں ہیں۔ عمران خان ( سربراہ تحریک انصاف) نے اپنے 74لاکھ ٹوئٹر فالوورز کے لیے ایک احتجاجی ٹوئیٹ اس طرح کی ہے ’’حکومت نے تیل کی قیمتوں میں تازہ ترین اضافے کے ذریعے عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ بڑھانے کی ایک اور کوشش کی ہے۔ کتنے شرم کا مقام ہے کہ حکومت طاقتور طبقے سے تو ٹیکس لے نہیں رہی الٹا شریفوں اور اس قماش کے دوسرے لوگوں کو منی لانڈرنگ کے ذریعے قومی وسائل لوٹنے کی کھلی چھوٹ دیے ہوئے ہے۔‘‘اسی طرح سابق صدر پاکستان اور ملک کی دوسری بڑی حزب اختلاف کی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زردار ی نے بھی اپنے ایک بیان میں تیل کی قیمتوں کے بڑھنے پر اظہار مذمت اور عوام سے انتقام قرار دیاہے ۔

حصہ