تاریخ پاکستان

201

پاکستان کے ’’یومِ ولادت‘‘ سے لے کر ’’1999ء‘‘ تک مختلف ’’ادوار‘‘ کو اگر ’’کوزۂ اختصار‘‘ میں بند کیا جائے تو منظرنامہ کچھ اس طرح سامنے آئے گا۔
1947ء سے 1958ء تک کا دور
ایک نوزائیدہ بچے کی پرورش اور دیکھ بھال کتنا مشکل کام ہوتا ہے، لیکن ایمان داری کی بات یہ ہے کہ پاکستان کی ’’نیّا پار لگانے سے‘‘ زیادہ اس کو ’’سینچنا‘‘ اور لہلہلاتے کھیت اور باغات میں تبدیل کرنا اس سے بھی کہیں زیادہ مشکل اور محنت طلب کام تھا۔ یہ گیارہ سالہ دور گو کہ بہت مثالی تو نہیں گزرا، اور یہ بھی کہ اس دور میں پاکستان بنانے والی پارٹی ہی اس کی تباہی و بربادی میں برابر کی حصہ دار رہی، لیکن اس کے باوجود بھی پاکستان کا سفر آگے کی جانب ہی گامزن رہا۔ اسی دور میں کشمیر پر بھارت کی پیش قدمی کا منہ توڑ جواب بھی دیا گیا اور ایک وسیع علاقے کو بھارت کی دسترس سے بچا بھی لیا گیا، اور ’’اقوامِ متحدہ‘‘ میں کشمیر کی ’’ایف آئی آر‘‘ بھی درج کرادی گئی جس کی وجہ سے آج بھی بھارتی حکومت پریشان رہتی ہے۔ اسی دوران ایک ’’نومولود‘‘ ملک کا آئین بھی بنا لیا گیا جس کو 1956ء کا آئین کہا جاتاہے۔ اس کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ اس آئین کی بنیاد پر ہر بننے اور بنائے جانے والے قانون کو ’’قراردادِ مقاصد‘‘ کے تحت ’’اسلام‘‘ کا پابند کردیا گیا تھا جو آج تک ہے۔ گویا اونٹ کے منہ میں نکیل ڈال دی گئی تھی۔
اس دور کی سب سے بڑی خوبی یہ رہی کہ پاکستان ’’صرف پاکستان‘‘ تھا۔ سندھی بھی پاکستانی تھا، بلوچی بھی پاکستانی تھا، پنجابی بھی پاکستانی تھا، پشتون بھی پاکستانی تھا اور بنگالی نے بھی کبھی یہ نہیں کہا کہ وہ بنگالی ہے۔ کوئی ریلی نہیں نکلتی تھی، کوئی جلوس نہیں نکالا جاتا تھا، کوئی جلسہ نہیں ہوتا تھا، کوئی مل، کارخانہ، ہوائی سروس، ریل گاڑیاں اور بسیں بند نہیں ہوتی تھیں۔ مسالک کے جھگڑے، فرقہ واریت، مسجدوں اور مدارس کی ایک دوسرے کے خلاف ’’تبرے بازیاں‘‘، لسانی اور علاقائی نفرتیں، کسی بھی ’’دکھ‘‘ کا شائبہ تک نہیں تھا۔ سارے ہی لوگ دکھی اور سارے ہی ایک دوسرے کے ہمدرد تھے، اس لیے کہ سب کا ’’درد‘‘ ایک تھا، اور وہ تھا ’’پاکستان‘‘۔
1958ء سے 1971ء کا دور
یہ سارے کا سارا دور ’’مارشل لائی‘‘ دور تھا۔ اس دوران سقوطِ مشرقی پاکستان یا 1971ء تک ایک لمحے کے لیے بھی سویلین قیادت کا سایہ تک نہیں پڑا۔ اس عرصے میں ایسا تو ضرور لگا کہ ملک ’’پھول‘‘ رہا ہے، لیکن اصل میں جس پھولنے کو ہم صحت کی علامت سمجھ رہے تھے وہ محض ’’غبارے‘‘ کی ہوا تھی۔ اس دوران آئین پیروں تلے روند دیا گیا، ’’جو میں کہتا ہوں وہ قانون ہے‘‘ کا نعرہ لگایا گیا۔ پاکستانی بنگالی بن گیا، پنجابی بن گیا، سندھی بن گیا، پشتون بن گیا، اور ایک پہچان کا اور اضافہ ہوا، وہ پہچان تھی ’’مہاجر‘‘۔ 1965ء کی جنگ البتہ اس دور کی ایک ’’تاریخی‘‘ حقیقت ہے، وہ بھی ’’قوم کے بے پایاں‘‘ اتحاد اور نصرتِ خداوندی سے ’’مارشل لائی‘‘ حصے میں آگئی۔
ریاستی جبر و استبداد کی اعلیٰ مثالیں قائم ہوئیں، بڑے بڑے مذہبی اور سیاسی لیڈر اور کارکنان ’’پسِ دیوارِ زنداں‘‘ ڈالے گئے، ان پر غداری کے مقدمات بنائے گئے، پشتونوں اور اردو بولنے والوں میں نفرتوں کی دیواریں کھڑی کی گئیں، قائدِاعظم کے بنائے ہوئے ’’دارالحکومت‘‘ کو اتنی عجلت میں تبدیل کیا گیا کہ ایک عرصے تک دوسرے دارالحکومت کے لیے جگہیں تلاش کی جاتی رہیں، جلسے ہوئے، جلوس نکالے گئے… ملیں، کارخانے، ہوائی راستے، سڑکیں اور ریلوے بند کیے جاتے رہے۔ سڑکوں، گلیوں ، بازاروں اور مساجد میں ’’لا انفورسمنٹ‘‘ ایجنسیوں نے تشدد کی انتہا کردی، ہر مسئلے کا حل ’’کرفیو‘‘ میں ڈھونڈا جانے لگا۔ اور ان سب باتوں کا، اور بظاہر بہت مضبوط ’’حکومت‘‘ کا اختتام ملک کے ’’دولخت‘‘ ہوجانے پر ہوا۔ پوری اسلامی بلکہ انسانی تاریخ کے تاریک ترین باب میں شکست کا ایک سیاہ باب بھی اسی دور کا حصہ بنا جب 90 ہزار سے زیادہ مسلح افواج نے ہندو سورمائوں کے پیروں میں سر رکھ کر ’’جان کی امان‘‘ پائی۔ اس طرح ’’قائداعظم‘‘ اور لاکھوں ماؤں، بہنوں، بیٹیوں، باپوں، بھائیوں اور بیٹوں کی روحوں کو ایصالِ ثواب پہنچایاگیا۔
1971ء سے 1979ء تک کا دور
پاکستان اپنے اُس دور سے جب وہ پیدا ہوا تھا، ’’سو گنا‘‘ نیچے جاچکا تھا۔ سر پر شرمندگی کے اتنے ٹوکرے لاد دیئے گئے تھے کہ وہ ’’مائونٹ ایورسٹ‘‘ سے بھی بلند اور وزنی ہوچکے تھے۔ یہ ایک ایسا دور تھا جب دنیا کا ہر ملک ہمارا تمسخر اڑا رہا تھا اور ہم ’’من حیث القوم‘‘ یہ سوچ رہے تھے کہ یا تو آسمان ہم پر ٹوٹ کر گر پڑے، یا پھر یہ زمین پھٹ جائے اور ہم سب اس میں سما جائیں۔ عالم یہ تھا کہ ملک کا سب سے مضبوط ادارہ ’’افواج پاکستان‘‘ بھی اتنا کمزور اور مایوس ہوچکا تھا کہ ایک ’’سویلین‘‘ کو اپنا ’’کمانڈر انچیف‘‘ بنا بیٹھا، اور دنیا کا پہلا سول حکمران ’’چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر‘‘ بنا دیا گیا۔ یہ عہدہ ایک ’’چیلنج‘‘ سہی لیکن اس کو ایک ’’سویلین‘‘ نے نہ صرف قبول کیا بلکہ اس دور میں اپنی صلاحیتوں کے وہ ’’جوہر‘‘ دکھائے کہ پاکستان کی تاریخ میں نہایت سنہرے الفاظ میں لکھے جائیں گے۔ آتے ہی پاکستان کی ہر ہر چیز کو ’’قومیا‘‘ لیا گیا، اس طرح وہ بڑے بڑے سرمایہ دار جو ملک سے بھاگنے اور اپنا سرمایہ بیرونِ ملک منتقل کرنے کا ابھی سوچ ہی رہے تھے، اس پر بہت برق رفتاری کے ساتھ بند باندھ دیا گیا۔ پاکستان کو پاکستان کے نام سے اس طرح زندہ جاوید رکھا گیا کہ آج کوئی بھی اسے اور نام سے یاد نہیں کرتا، حتیٰ کہ اس کے ساتھ کسی ’’مشرقی بازو‘‘ کی عدم شرکت کو محسوس تک نہیں کرتا۔ ’’نوّے ہزار‘‘ سے زائد فوجیوں کو کسی ’’تاوان‘‘ کے بغیر آزاد کرایا گیا اور وہ بھی اتنے کم وقت میں جس کو دنیا اپنے تصور میں بھی نہیں لا سکتی۔ آج ہم اپنے ماہی گیروں کو بھی برس ہا برس آزاد کرانے میں کامیاب نہیں ہو پاتے۔ ملک کا آئین ورق ورق کرکے ’’پیروں‘‘ تلے روند دیا گیا تھا، ازسرنو ’’ایک نیا آئین‘‘ بنایا گیا اور وہ بھی ’’محدود‘‘ وقت میں، اور اس میں کمال کی بات یہ ہے کہ کوئی ایک رکن اسمبلی ایسا نہیں ہے جس نے برضا و رغبت اس پر دستخط نہ کیے ہوں۔ اس آئین کو 1973ء کا آئین کہا جاتا ہے اور اس کو اِس حد تک مضبوطی حاصل رہی کہ ’’مارشل لائی‘‘ طاقتیں بھی اپنے ’’پیروں تلے‘‘ روندنے میں کامیاب نہ ہوسکیں، البتہ اسی میں اپنی ’’جائے پناہ‘‘ ضرور بنائی جاتی رہی۔ خارجہ تعلقات، خصوصاً عرب ممالک کے ساتھ، بہت مثالی بنیادوں پر استوار ہوئے اور پہلی مرتبہ ایسا لگا کہ تمام مسلم امہ ہمیشہ کے لیے ایک ’’پیج‘‘ پر آگئی ہے۔
منفی کاموں میں غیر جمہوری ہتھکنڈے، وڈیرانہ طرزعمل، سیاسی انتقام، جیلوں کی ’’رونقوں‘‘ میں اضافہ، سیاسی قتل، عصبیت کی پرورش، سندھی اور مہاجر ٹکرائو، ایوبی دور کی طرح ’’کراچی‘‘ دشمنی، جس کا منہ بولتا ثبوت ’’قتل و غارت‘‘ سے بڑھ کر ’’کوٹا سسٹم‘‘ کا قانونی نفاذ ہے، جو تاحال جاری ہے۔ نتیجہ سب کے سامنے ہے کہ ’’یار کا پائوں خود اس کی زلفِ دراز میں ایسا الجھا‘‘ کہ ’’پیر زمین سے کئی فٹ‘‘ بلند ہوگئے اور ’’گردن کی لمبائی چھ انچ‘‘ بڑھ گئی۔
1979ء سے 1988ء تک کا دور
ایک مرتبہ پھر سے ہر آئین اور قانون ’’وردی‘‘ نے ’’ٹشوپیپر‘‘ بناکے اپنا پسینہ پونچھا اور ’’ردی کی ٹوکری‘‘ میں پھینک دیا۔
اس مرتبہ طریقہ واردات ذرا مختلف تھا، اُس وقت کے حکمرانوں کے خلاف پہلے عوام کی بے چینی کے اسباب تلاش کیے گئے، پھر مخالفین کو جمع کیا گیا، قوم اور حکمرانوں کو بھی تسلیاں دی گئیں۔ قوم سے کہا گیا کہ ہم آپ کے جان و مال کی حفاظت کے لیے آئے ہیں، اور حکمرانوں سے کہا کہ ہم آپ کو ’’جاہل عوام‘‘ کے ’’غیظ و غضب‘‘ سے محفوظ رکھنے کے لیے بہت ’’محفوظ‘‘ مقام پر منتقل کررہے ہیں۔ پھر دونوں کی جانب منہ کرکے زور زور سے کہا کہ حالات ٹھیک ہوجانے پر ہم اپنی اپنی ’’کچھاروں‘‘ میں واپس چلے جائیں گے، 90 دن میں الیکشن بھی ہوجائیں گے اور اس طرح دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے گا کہ آیا الیکشن میں ’’گھپلا میٹ‘‘ ہوا تھا یا ’’ملیامیٹ‘‘۔ دونوں فریقوں نے ’’دانت نکال کر‘‘ دلی اطمینان کا اظہار کیا۔ ہر 90 دن میں جب ایک دن باقی ہوتا ایک نئی کہانی سامنے آتی جس کو ’’سننے اور سنانے‘‘ میں مزید 90 دن مانگ لیے جاتے، اور اس طرح ’’نوے نوے‘‘ کرتے کرتے کم و بیش 4000 ہزار دن سے بھی زیادہ عرصہ گزر گیا۔ اس عرصے میں دنیا بدل گئی، پی پی پی کو ’’لولی پاپ‘‘ دیتے دیتے، اس کے سربراہ کو تختۂ دار کی سیر کرادی گئی، ’’9 ستاروں‘‘ کو مزید مطمئن کرنے کے لیے پی پی پی کے خلاف سخت کارروائیاں ہوئیں، سنگین الزامات کے تحت ان کی اعلیٰ قیادت اور کارکنان سے جیلیں بھری جانے لگیں، شہر شہر ’’ٹکٹکیاں‘‘ باندھی گئیں، ’’کوڑا کاڑی‘‘ کی گئی، دلائی کیمپ دریافت کیے گئے اور بہت کچھ اقدامات اٹھائے گئے۔ اسی دوران ’’الذوالفقار‘‘ بنی، ہوائی جہاز ہائی جیک ہوا اور بے شمار ’’گرفتار شدگان‘‘ کی رہائی کے عوض ہائی جیک کیے جانے والے رہائی پاسکے۔
روس افغانستان پر حملہ آور ہوگیا، یہ بات امریکی مفادات کے خلاف تھی، اس لیے ’’پاکستان‘‘کیسے گوارہ کرتا! قوم کو جہاد کے لیے تیار کیا گیا، بیسیوں جہادی تنظیمیں بنائی گئیں، ہتھیار فراہم کیے گئے، تربیت دی گئی۔ یہ سب تربیت یافتہ مشرقی پنجاب، کشمیر، اور ان سب سے بڑھ کر افغانستان میں جھونکے گئے۔ روس کو اپنے مقاصد میں زبردست ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا، لیکن روس کے جانے کے بعد یہ ساری جہادی ’’تنظیمیں‘‘ اپنے آپ کو اتنا مضبوط اور مربوط کرچکی تھیں کہ باوجود ہزار کوشش، ہتھیار پھینکنے کے لیے آج بھی تیار و آمادہ دکھائی نہیں دیتیں۔ اس دوران یہ بھی ہوا کہ پاکستان کے عرب ممالک سے تعلقات کی ایک بہت مضبوط بنیاد استوار ہوتی نظر آنے لگی، امریکا بھی قریب آیا، مذہبی حلقے بھی خاصے مطمئن اور خوش رہے، عوام بھی بہت ناخوش دکھائی نہیں دیئے۔ مہنگائی ضرور بڑھی لیکن ملازمین کی اجرت میں بھی مناسب اضافہ دیکھنے میں آیا۔
اہم واقعات میں افغان جنگ، اور روس کو افغان سرزمین چھوڑنے پر مجبور کردینا، اوجڑی کیمپ راولپنڈی کی تباہی، نوازشریف کی دریافت، ایم کیو ایم کے پاس کراچی کی لیڈرشپ کا آجانا، بلدیاتی نظام کو دوبارہ سے متعارف کرانا، غیر جماعتی الیکشن کا تجربہ، منتخب اسمبلی سے اپنی منشا کے مطابق آئین میں ترمیمات کرانا، صدر کے اختیارات میں غیرمعمولی اضافہ کرانا، اور پھر اپنی ہی بنائی ہوئی اسمبلی کو ’’کرپٹ‘‘ قرار دے کر تحلیل کردینا جیسے اقدامات اس دورِ حکومت کی تاریخ کا ایک عجیب و غریب ’’باب‘‘ ہے۔ اسی دوران ایک فضائی حادثہ ہوا اور اس میں ’’جنرل ضیا الحق‘‘ کے ساتھ اور بہت ساری اہم شخصیات کام آگئیں، لیکن مارشل لا کا تسلسل ’’انتخابات‘‘ تک برقرار رہا۔
(جاری ہے)

حصہ