محبت بالحق

520

سیدہ عنبرین عالم
گزشتہ دنوں ایک ہولناک خبر نظر سے گزری، ایک لڑکی کی شادی اُس کی مرضی کے بغیر کردی گئی، وہ شادی کے دن شادی کے باوجود کسی طرح رخصتی کے لیے تیار نہ تھی، اسی بات سے اندازہ کرلیں کہ وہ اس شادی سے کس قدر نالاں تھی۔ پھر بھی آخرکار شادی کے دو ماہ بعد سسرال والے زبردستی اسے ساتھ لے گئے جس کے لیے وہ ہرگز راضی نہ تھی، نتیجہ یہ کہ دو دن بعد اس آسیہ نامی لڑکی نے سارے سسرال والوں کو لسی میں زہر ڈال کر پلا دیا اور ایک ہی وقت میں اس گھر کے 15 افراد جان سے گئے۔
ایک اور واقعہ دیکھنے میں آیا کہ ایک لڑکا اور لڑکی نے گھر سے بھاگ کر شادی کرلی۔ شادی کے بعد ان کی تین بچیاں بھی ہوئیں، اور لگ بھگ دس سال گزرنے کے بعد لڑکی کے بھائی نے غیرت کے نام پر اپنی بہن کو قتل کر ڈالا اور تین چھوٹی چھوٹی بچیاں ماں کی شفقت سے محروم کردی گئیں۔
قارئین! پاکستان میں کم از کم 45 یا 50 سال سے ہر ڈرامے اور فلم میں یہ تربیت دی جارہی ہے کہ محرم اور نامحرم میں کوئی فرق نہیں، آپ کسی بھی نامحرم کی شدید محبت میں مبتلا ہوسکتے ہیں، اس محبت کے آگے اُن ماں باپ کی محبت تھوکنے کے لائق بھی نہیں جنہوں نے چلنا اور بولنا سکھایا، کھانا کھلایا اور سونے کی جگہ دی۔ اب تو انٹرنیٹ پر بھی مسلسل یہی تربیت ہماری نوجوان نسل کو دی جارہی ہے۔ ہر ایک عشق میں گھائل ہے، حالانکہ یہ عشق صرف مفت ایزی لوڈ، مفت لنچ یا ایک مفت کے لان کے سوٹ پر معراج کو پہنچتا ہے، اور ان سہولیات کی عدم دستیابی پر دوسرے عشق کی راہ پر چل پڑتا ہے۔ بعض دفعہ کچھ بچے واقعی سنجیدہ بھی ہوجاتے ہیں اور عجیب بے تکی حرکتیں کرنے لگتے ہیں جو صرف نفسیاتی خلل کی نشانی ہوتی ہیں، جیسے کراچی کے علاقے گرومندر کے قریب ایک اسکول کے بچوں نے باہمی رضامندی سے خودکشی کرلی، اور جیسے واقعات میں نے اوپر تحریر کیے، یہ ’’محبت‘‘ فلموں اور ڈراموں سے نکل کر جب حقیقی زندگی میں آتی ہے تو خاصی خونیں ثابت ہوتی ہے۔
آج ہم نے سوچا کہ اس ’’محبت‘‘ کا تجزیہ کر ہی لیا جائے تاکہ پتا چلے کہ یہ اتنی اہم کیسے ہوگئی کہ کوئی کہانی، ناول، شاعری، ڈراما اور فلم اس کے بغیر مکمل ہی نہیں۔ اللہ تبارک تعالیٰ جو ہمارا خالق ہے، ہمارے احساسات و جذبات کا بنانے والا ہے، وہ اتنی اہم بات کیسے بھول گیا، اس نے قرآن میں لیلیٰ مجنوں کی داستانیں کیوں بیان نہیں کیں، اور اس ’’محبت‘‘ پر ہزاروں فلسفے جو دن رات نیٹ پر بیان کیے جاتے ہیں ان سے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو آگاہ کیوں نہ کیا کہ وہ اس ضمن میں امت کی تربیت کرجاتے اور آج مسلمان اس فلمی محبت کے پیچھے ایک دوسرے کو قتل نہ کر رہے ہوتے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یا کسی صحابیؓ یا کسی صحابیہؓ کے متعلق کیا کبھی کسی نے سنا کہ وہ کسی نامحرم کی محبت میں گرفتار ہوگئے!(نعوذباللہ)
قرآن اور حدیث میں کہیں اس قسم کی شیطانی محبت کا ذکر نہیں ہے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جب بھی کسی نے شادی کی بابت مشورہ مانگا، آپؐ نے تقویٰ کو مدنظر رکھنے کا کہا، حالانکہ آپؐ کہہ سکتے تھے کہ جس سے ماں باپ کہیں اُس سے شادی کرلو۔ آپؐ نے یہ نہیں کہا۔ آپؐ کہہ سکتے تھے کہ جس سے محبت کرتے ہو اس سے شادی کرلو، آپؐ نے یہ بھی نہیں کہا، اور آپؐ نے خود جتنی شادیاں کیں، حضرت عائشہؓ کے سوا، سب کی سب مجبور اور ضرورت مند عورتوں کو سہارا دینے کی خاطر، یعنی اللہ کی رضا کی طلب میں۔ آپؐ کے پیش نظر کبھی بھی حسن یا مال یا خاندانی برتری نہیں رہی۔ یہ ہے اسلام۔ اب ذرا غور کرنے کی بات یہ ہے کہ دنیا میں صرف دو آپشن ہیں، یا تو اللہ یا شیطان… اب جو محبت اللہ کی تعلیمات سے ثابت نہیں، تو بچتا صرف شیطان ہے، یعنی یہ خونیں محبت، شیطان کا ایک حربہ ہے۔
اس شیطانی محبت کے چند اصول ہیں جو ہر فلم اور ڈرامے میں سکھائے جاتے ہیں، اور ہماری نوجوان نسل کو ازبر ہیں۔ ان اصولوں کا تجزیہ بھی ضروری ہے تاکہ بچوں کے دماغوں سے خناس کو رفع کیا جاسکے:
٭ محبت اور جنگ میں سب جائز ہے۔
٭ محبت دل سے ہوتی ہے، آنکھوں سے نہیں۔
٭ محبت زندگی میں صرف ایک بار ہوتی ہے۔
٭ دل تو پاگل ہے، کب کسی کی سنتا ہے!
٭ محبت کے لیے جان بھی دی جاسکتی ہے اور چاند تارے بھی توڑ کر لائے جاسکتے ہیں۔
٭ اگر محبت میں دھوکا مل جائے تو دل ایسا ٹوٹتا ہے کہ کسی کام میں نہیں لگتا۔
٭ محبت میں بھوک، پیاس ختم ہوجاتی ہے اور نیند بھی نہیں آتی۔
٭ جو اصل محبوب ہوتا ہے اُسے پہلی بار ہی دیکھ کر دل میں گھنٹیاں بجنے لگتی ہیں، اِسے پہلی نظر کی محبت کہتے ہیں۔
٭ محبت روح سے ہوتی ہے، جسم سے نہیں۔
اُف، یہ چند واہیات جملے لکھ کر ہی مجھے الٹی آرہی ہے، وہ کیسے لوگ ہوں گے جو اس گندگی کو زندگی کا مقصد بناکر اپنی آخرت برباد کرلیتے ہیں۔ یہ ہے پاک روح اور گندی روح کا فرق۔ کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اس گندگی کو رومانس کہہ کر محظوظ ہوتے ہیں۔ بہرحال ہم ان تمام اصولوں کا منہ توڑ جواب دیں گے۔ کچھ اور بھی اصول ہوں تو مجھے ان کی بابت علم نہیں ہے، لیکن انہی سے ان شاء اللہ میں اس جعل سازی کو بے نقاب کردوں گی جو ہماری نسلوں کو دین سے دور کرنے اور بگاڑنے کے لیے گھڑی جارہی ہے۔
’’محبت اور جنگ میں سب جائز ہے‘‘۔ یہ جملہ بظاہر ثابت قدمی کو عیاں کرتا ہے، لیکن دراصل یہ ایک انتہائی خطرناک جملہ ہے، جیسے اس لڑکی آسیہ نے اپنے محبوب کے ساتھ مل کر سسرال کے 15 لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا، کیونکہ محبت میں تو سب جائز ہے۔ عام طور پر بچے اس جملے کی پناہ لے کر گھر میں چوریاں بھی کرتے ہیں تاکہ محبوب کو تحفے دیے جاسکیں۔
اللہ کے رسولؐ نے جنگ کے بھی اصول بتائے۔ درختوں اور جانوروں کو نقصان نہ پہنچے، عورتوں، بچوں اور بوڑھوں کو ضرر نہ پہنچے، کھیتیاں یا شفاخانے برباد نہ ہوں، اور ایک دفعہ میں قتل کردو، دشمن کو بھی زیادہ اذیت نہ پہنچائو، لاشوں کا مُثلہ نہ کرو، یعنی لاش کے اعضا جدا نہ کرو… ایک لمبی فہرست ہے۔ جو دین جنگ میں کسی کے نقصان کا قائل نہیں، وہ بھلا محبت میں قتل، چوری، الزام تراشی اور جھوٹ جیسے گناہوں کو کیسے برداشت کر سکتا ہے! اگر آپ مسلمان ہیں تو آپ کے لیے سب کچھ جائز نہیں ہے۔
’’محبت دل سے ہوتی ہے، آنکھوں سے نہیں‘‘۔ پھر بچیوں کو اپنے گھر کے سامنے بیٹھے بھنگی سے محبت کیوں نہیں ہوتی؟ اُس سے محبت کیوں ہوتی ہے جو خوش شکل ہو اور جیب سے بھی ذرا بھاری ہو۔ لڑکوںکا بھی یہی حال ہے، خوب صورت سے خوب صورت لڑکی ہی پر دل آتا ہے۔ اگر لڑکی کا وزن 80 کلو سے اوپر ہو تو چاہے کتنی نیک خصلت، ذہین اور سلیقہ شعار ہو، وہ نہ لڑکے کو بھاتی ہے، نہ لڑکے کی ماں کو۔ خوب صورت لڑکی چاہے جوتوں میں رکھے مگر کم رنگ کی لڑکی دیکھتے ہی ناک بھوں چڑھ جاتی ہے۔ خیر آج کل کے مرد حضرات کا شادی کے معاملے میں کوئی معیار ہو تو ہو، عشق کے معاملے میں تو بس اتنا ہے کہ بس لڑکی سانس لیتی ہو اور انتہائی نازیبا قسم کے مفادات پہنچانے کے لیے راضی ہوجائے۔
’’محبت زندگی میں ایک بار ہوتی ہے‘‘۔ اب اس اصول کے بارے میں کیا کہوں! جس معاشرے میں شوہر بات بات پر دوسری شادی اور طلاق کی دھمکی دیتا ہو، جس معاشرے میں اسلام کا کوئی حکم یاد نہ رکھا جاتا ہو سوائے چار شادیوں کے، وہاں محبت کیسے ایک بار ہوسکتی ہے! اور وہ محبت جو مادی مفادات سے منسلک ہو۔ جب تک مفادات کی آگ اندر سے جلا رہی ہے، ایک محبت پر کیسے اکتفا کیا جاسکتا ہے! کسی لڑکی سے گھڑی تحفے میں لو، کسی سے موبائل، کسی سے پرفیوم، سب کو شادی کی آس دلا کے رکھو، اور پھر آخر میں پھوپھو کی زبان دراز بیٹی سے شادی کرلو، کیونکہ اسی رشتے کے وعدے پر پھوپھو نے ابا کو جائداد کی وراثت میں اپنا حصہ معاف کیا تھا۔
’’دل تو پاگل ہے، کب کسی کی سنتا ہے‘‘۔ اس جملے کے نتیجے میں بچے حد سے گزر جاتے ہیں، کوئی خون سے خط لکھ رہا ہے باوجود اس کے کہ فون سے واٹس ایپ کیا جاسکتا ہے، کوئی امی کی بالیاں چرا کر پیش کررہا ہے، اور کوئی تو بھاگ بھی جاتے ہیں اور جاتے جاتے گھر کا صفایا بھی کرجاتے ہیں، اور اگر معاملہ کھل جائے تو بڑوں سے بدتمیزی، تعلیم سے بے پروائی وغیرہ کے مسائل بھی کھل کر سامنے آتے ہیں۔ میں کہتی ہوں ایسے بچے جو کسی طرح قابو میں نہ آرہے ہوں اور 17 یا 18 سال کی عمر میں عشق کے دعوے کررہے ہوں، ان کی شادی کردیں اور صاف کہہ دیں کہ بھئی آپ تو اتنے سمجھ دار ہیں کہ عشق فرما رہے ہیں، تو اپنا بوجھ بھی خود اٹھایئے اور رہائش کا انتظام بھی کرلیجیے، ہم نے اپنے ہاتھ سے آپ کی شادی کردی، خدا حافظ۔ رات کے دو بجے دونوں کو گلی میں نکال کر کھڑا کردیں، تیر بہ ہدف نسخہ ہے محبت کا بھوت اتارنے کا۔ جن بچیوںکا دل اتنا پاگل ہے کہ انہیں باقاعدہ مینٹل ہاسپٹل میں علاج کی ضرورت ہے اور وہ گھر سے بھاگتے ہوئے بھی صرف دل کی سنتی ہیں اُن کی خدمت میں عرض ہے کہ آپ کو باپ، بھائیوں کی ڈانٹ پھٹکار بے شک بہت بری لگتی ہے اور آپ گھر کے باہر محبت ڈھونڈنے نکل پڑتی ہیں، لیکن یقین کیجیے جب آپ کا باہر کے بھیڑیوں سے پالا پڑے گا تو آپ کو یہی باپ بھائی فرشتے لگیں گے جو آپ کی بنیادی ضروریات بھی پوری کرتے تھے اور آپ کی حفاظت بھی کرتے تھے، مگر جب آپ کو یقین آئے گا تو آپ کے پاس واپسی کا کوئی راستہ نہیں رہے گا۔ ہمارے پاس گھر سے بھاگی ہوئی لڑکیوں کا صرف بندوق کی گولی سے استقبال کیا جاتا ہے۔ تھانے میں جاکر دیکھیے کتنی ہی لڑکیاں روز دارالامان بھیجی جاتی ہیں، جو گھر کی امان چھوڑ کر بھاگی تھیں اور سرعام نیلام کردی گئیں۔ محبت کے اس کھیل میں لڑکوں کا تو اتنا نقصان نہیں ہوتا جتنی برباد شریف لڑکیاں ہوجاتی ہیں۔
محبت کے لیے جان دینا اور چاند تارے توڑ کر لانا… ایک طرف بچیاں صرف اتنا کریں کہ اپنے محبوب کو رشتہ لانے کا کہہ دیں، پتا چل جائے گا کہ محبت کے دعوے کہاں تک سچ ہیں، اور جن حضرت کی محبت میں آپ کا دل ٹوٹ گیا تھا اور آپ نے تاعمر شادی نہ کرنے کی قسم کھائی تھی، ذرا اُن کے گھر جایئے، ان شاء اللہ وہ آپ کی ملاقات آٹھ، دس بچوں سے کرائیں گے جو باجماعت آپ کو ’’پھوپھی‘‘ کہہ رہے ہوں گے اور وہ حضرت بھی بچوں کو سرزنش کریں گے کہ ’’بیٹا اپنی پھوپھی اماں کو سلام نہیں کیا…؟‘‘
محبت میں بھوک پیاس ختم ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، کیونکہ ملاقات کے انتظام کے لیے ہی تو گلی گلی ریسٹورنٹ کھولے گئے ہیں۔ اب وہاں جاکر بھوکے پیاسے واپس آنا تو ممکن نہیں، لہٰذا جو لوگ زیادہ ہی محبت میں ڈوبے ہوں اور تواتر سے ملاقات کے عادی ہوں، اُن کے وزن میں ہر ماہ چار سے پانچ کلو کا اضافہ ہوجاتا ہے اور برگر، پیزے کھاکر کیسی سہانی نیند آتی ہے، اس کا تو آپ کو انداز ہوگا ہی۔ الحمدللہ ایسا سوتے ہیں کہ صبح اماں کی چپل پڑنے پر ہی آنکھ کھلتی ہے جب اماں نے رولا ڈالا ہوتا ہے کہ کمیٹی کے پیسے کس نے چرائے؟ اب بھلا محبت سچ بولنا تھوڑی سکھاتی ہے۔ لہٰذا آپ پیٹ پر ہاتھ پھیر کر گزشتہ روز کے پیزے کا ذائقہ یاد کرتے ہیں اور اماں کو جواب دیے بغیر دوبارہ سو جاتے ہیں۔
ہاں پہلی نظر میں دل میں گھنٹیاں بجنا پیچیدہ معاملہ ہے، اس بات پر میں نے بہت سوچا، پھر میرے ذہن میں معراج کا واقعہ آیا جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بات پر کوئی یقین نہیں کررہا تھا، اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ ’’میں مانتا ہوں کہ معراج کا واقعہ ضرور پیش آیا…‘‘ آخر انہیں کیسے یقین آیا کہ حضورؐ آسمانوں پر اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرکے آئے! وہ تو آسمانوں پر نہیں گئے تھے، نہ انہوں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو آسمان پر جاتے دیکھا۔ جی، محبت کی گھنٹی… وہ اللہ اور اس کے رسولؐ سے اتنی محبت کرتے تھے کہ ان کے دل کی گھنٹی ہر حق بات پر بج پڑتی، اور وہ باطل کے فریب میں آنے کے بجائے حق کو فوراً پہچان لیتے۔
ارے ہاں یہی تو اصل محبت ہے، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا نبوت کا دعویٰ کرتے ہی گھنٹی بج پڑی اور حضرت ابوبکرؓ ایمان لے آئے۔ اچھا تو ایسا کرتے ہیں کہ تمام اصول حضرت ابوبکر صدیقؓ کی اللہ سے محبت پر نافذ کرکے دیکھتے ہیں۔ یہ محبت روح سے تھی، جسم سے نہیں، کیونکہ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے اللہ کو دیکھے بغیر عشق کیا تھا، ایسا عشق کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ بہت بار کوشش کی مگر ابوبکرؓ سے آگے نہ نکل سکا۔ یہ کیسے لوگ تھے کہ اللہ سے عشق میں ایک دوسرے سے مقابلہ کرتے تھے، یہ کیسا عشق تھا کہ کبھی کربلا کی پیاس بن جاتا اور کبھی غزوۂ بدر میں پیٹ پر پتھر باندھ کر بغیر تلواروں کے جنگ میں کود پڑتا…! ہاں یہ لوگ تھے بھوک پیاس جن کی اُڑ گئی تھی، ہاں یہ سچی محبت تھی… یہی لوگ تھے جو رات کو سو نہیں پاتے تھے اور جاگ کر اپنے محبوب یعنی اللہ کو یاد کرتے تھے۔
یہ ہے وہ محبت جس میں دھوکا نہیں۔ ہر محبت بس قبر تک ساتھ نبھاتی ہے، لیکن اگر اللہ کو محبوب بنا لو تو یہ محبت قبر سے لے کر حشر تک آپ کے ساتھ ہے۔ جن لوگوں نے یہ عشق کیا، وہ دنیا میں ہی جنت کی بشارت پا گئے اور عشرۂ مبشرہ قرار دیے گئے، کوئی دھوکا نہ ہوا ان کے ساتھ۔ دنیا میں بھی بادشاہتوں سے نوازا گیا۔
یہ ایسی محبت ہے کہ جس میں جان دینے والے کو شہید کہا جاتا ہے، دنیا میں بھی عزت اورآخرت میں بھی عزت۔ سچی محبت میں جان دینے والوں میں حضرت عمرؓ، حضرت عثمانؓ، حضرت علیؓ سے لے کر حضرت حسینؓ اور ٹیپو سلطانؒ تک لوگ شامل ہیں۔ یہ لوگ محبت میں چاند تارے تو توڑ کر نہیں لاتے تھے البتہ حضرت ابوبکرؓ نے اپنے گھر کا سارا سامان لاکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں ڈھیر کردیا تھا۔ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا ’’ابوبکرؓ! کچھ گھر والوں کے لیے بھی چھوڑا ہے؟‘‘ تو کہتے ہیں ’’گھر والوں کے لیے اللہ اور اس کا رسولؐ کافی ہیں‘‘۔ یہ لوگ کیوں محبت میں اتنی قربانی دیتے تھے؟ کیونکہ جس سے محبت تھی، اُس سے دھوکے یا نقصان کا اندیشہ نہ تھا۔ پاکیزہ، خالص اور ہر خامی سے عاری محبت انبیاء کا ورثہ۔
دل ان لوگوں کا بھی پاگل تھا، ساری دنیا سمجھاتی تھی کہ محمدؐ کی بات نہ مانو، لا الٰہ الااللہ مت کہو، سب عیش چھوٹ جائیں گے، من مانی نہ کرسکو گے، کاروبار خراب ہوجائے گا، پیٹ پر پتھر باندھنے پڑیں گے… مگر ان کے دل نے کسی کی نہ سنی۔ گھر، کاروبار، خاندان، دوست احباب کسی کی پروا نہ کی۔ کوئی جلتی ریت پر لٹایا گیا، کسی کی شرم گاہ میں اس شدت سے نیزے گھونپے گئے کہ کھوپڑی کے پار نکلے، کسی کو بیڑیاں ڈالی گئیں، کسی کی نظروں کے سامنے اس کے بچے ذبح کردیے گئے، مگر ان کا دل تو پاگل تھا، کیسے سنتا؟
یہ واحد محبت ہے کہ ایک بار ہوتی ہے، جس نے اللہ سے عشق کرلیا پھر کوئی چیز اس کا دل نہیں لبھا سکتی۔ کیا عمرؓ کو لالچ نہیں دیا گیا ہوگا کہ کسریٰ کی فوج میں شامل ہوجائو، محمدؐکا ساتھ چھوڑ دو۔ کیا خالد بن ولیدؓ کو سلطنتوں کی پیشکش نہیں کی گئی ہوگی… مگر نہیں، یہ بکنے اور جھکنے والے لوگ نہیں تھے، یہ کسی سرے محل اور بنی گالا کے لالچ میں قوم کا سودا نہیں کرتے تھے، یہ آف شور کمپنیاں بنانے کے لیے کافروں سے ہاتھ نہیں ملاتے تھے، یہ اپنی حکومت کی مدت بڑھانے کے لیے ایمان نہیں بیچتے تھے، یہ اپنی قوم کی بیٹیوں کی آواز پر لبیک کہہ کر ہندوستان فتح کرلیتے تھے، یہ اپنی عافیہ صدیقی کا دوپٹہ دشمن فوج کے بوٹوں پر ڈال کر اس دوپٹے کی قیمت وصول نہیں کرتے تھے… کیوں؟ آخر کیوں…؟ کیونکہ یہ محبت کرتے تھے اللہ سے… اور ہم نے کبھی محبت کا مطلب بھی نہیں جانا… ان کے دل میں محبت تھی، اَن دیکھی محبت، جس اللہ کو دیکھا نہیں اُس سے محبت، انہی لوگوں کو قرآن میں ’’یومنون بالغیب‘‘ کہا گیا ہے، یہ اللہ کو ناراض نہیں کرنا چاہتے تھے۔ ہاں واقعی ان کی محبت میں سب جائز تھا۔ حضرت ابوبکرؓ کے بیٹے ان سے کہتے ہیں کہ کل آپ جنگ کے دوران میری تلوار کی زد میںآئے تھے، مگر میں نے رستہ تبدیل کرلیا۔ حضرت ابوبکرؓ فرماتے ہیں کہ اگر تم میری تلوار کی زد میں آتے تو میں تمہاری گردن اڑائے بغیر نہ چھوڑتا… صرف یہی محبت ہے جو دینِ اسلام نے ہمیں سکھائی، اس کے سوا کوئی محبت ہو تو میں اسے توحید کی نفی سمجھتی ہوں۔ ایک دل میں جب اللہ آگیا تو پھراس دل میں کسی اور کی کیا گنجائش بچی…! دل تو کعبہ ہے، وہاں پر اللہ کے سوا کسی اور کو رکھا تو بت پرستی کہلائے گی۔ عشق تو بس یہی ہے، باقی سب شرک ہے۔ مسلمان جب لاالٰہ الااللہ کہہ دیتا ہے تو اس کا مطلب ہے ’’کچھ نہیں، بس اللہ…‘‘ اب جو کچھ ہوگا اللہ کی مرضی سے ہوگا اور اللہ کو راضی کرنے سے ہوگا۔
کیا ہم ڈھیروں مسلمان مل کر کم از کم ایک پاکستانی چینل نہیں کھول سکتے جس میں ہم اسلامی تعلیمات کے مطابق ڈرامے، کارٹون اور نغمے بناکر اپنے بچوں کی کردار سازی کریں؟ 1965ء کے ترانے سنو، آج بھی روح لرز اٹھتی ہے، کیا اب یہ سب نہیں ہوسکتا؟ کیا ہم وہی تفریح اسلامی بنیاد پر اپنے بچوں کو فراہم نہیں کرسکتے جس کے لیے وہ کافروں کی نقالی میں بنائے گئے چینل دیکھتے ہیں؟ کیا ہم شیطان کے لیے میدان بالکل خالی چھوڑ دیں؟ اسلامی چینل بناتے ہیں تو صبح سے شام تک مولوی بیٹھ کر وظیفے بتاتے رہتے ہیں‘ کیا ہم اس طرح بچوں کو اپنی طرف راغب کرسکتے ہیں؟ نہیں، ہم کو انہیں دین، تفریح کی شکر میں لپیٹ کر کھلانا ہوگا، ایک بار سمجھ دار ہوگئے تو پھر اللہ ہی ہدایت دینے والا ہے۔ خدا کے واسطے سختی سے بچوں کو باغی نہ بنائیں، اس شیطانی محبت کا توڑ گھر کا خوب صورت ماحول اور ماں باپ کی محبت ہے۔ انہیں مادی اشیا کی محبت میں گرفتار نہ ہونے دیں بلکہ سچا مسلمان اور اللہ کا عاشق بنائیں۔ یہی محبت ہے جو انسان کو صالح اور مفید بناتی ہے، جبکہ شیطانی محبت انسان کو بدتمیز، خودسر اور خودغرض بنادیتی ہے۔

حصہ