برصغیر میں اسلام کے احیا اور آزادی کی تحریکیں

250

تیسرا حصہ
مغربی طرز معاشرت سے مرعوب ہوکر مغربی آقاؤں کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے ایوب خان نے عائلی قوانین میں ترمیم کا منصوبہ بنا تے ہوئے ایک حکم نام کے ذریعے عائلی قوانین آرڈیننس جاری کردیا۔ اسلام کی شرعی روح سے متصادم اس قانون کو جماعت اسلامی نے سب سے پہلے چیلنج کیا اور 13 مارچ۔1960 کو مولانا سید ابو الاعلی مودودی اور پاکستان کے 14 جید علمائے کرام کی دستخط کے ساتھ ایک مشترکہ اعلامیہ جاری ہوا جس میں اس قانون کے نفاذ پر شدید ترین تحفظات کااظہار کیاگیا تھا۔ اس اعلامیے میں بتایا گیا تھا کہ قانون بنانے والے ترمیمی کمیشن میں موجود واحد عا لم دین مولانا احتشام الحق تھانوی صاحب نے ان سفارشات پر اختلافی نوٹ لکھا تھا ، مگر اس کو یکسر نظر انداز کرکے یہ تاثر دیا گیا کہ اس قانون میں ان کی رائے بھی شامل رہی ہے۔ جبکہ صورتحال اس کے بالکل برعکس تھی۔ نیا عا ئلی قانون درحقیقت مغرب زدہ طبقے کے خیالات و نظریات کا عکاس تھا۔ اور ملک پر قابض اشرا فیہ کے دل کی خواہش تھا۔
یہ وہ دن تھے جب مولا نا مودودی کو سفرنامہ ارض القرآن ( یعنی قران میں جن علاقوں اور ممالک کا ذکر آیا تھا ان علاقوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھنا اور مشا ہدہ کرنا ) کی تیاری کے لئے مشرق وسطی اور افریقہ کے دورے پر روانہ تھا۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ مولانا نے جو ویزے حاصل کے ہوئے تھے وہ اچانک منسوخ کروادئیے گئے اور ان سات اسلامی ممالک کا نام پاسپورٹ سے نکلوا دیاگیا۔ یہ حکومت کی ایک شرمنا ک حرکت تھی۔
اور اسطرح مجبور ہوکر مولانا مودودی کو اپنا سفر کا ارادہ منسوخ کر نا پڑا۔
ایوب خان اور اس کو مشورہ دینے والوں کی نگاہ میں جماعت اسلامی ہر اعتبار سے رکاوٹ بنتی جارہی تھی۔ اس لئے کہ مارشل لا کے جبری قوانین کے جواب میں مولا نا مودودی کی دلائل سے بھرپور گفتگو اور جماعت اسلامی کی مجلس شوری کی قراردادوں کی صورت میں جاری شدہ عوامی پیغامات ایوبی اقتدار کے لئے خطرہ بننے لگے تھے۔ ایوب کی شخصی آمریت کو جماعت اسلامی نے ہر سطح پر چیلنج کرنا شروع کردیا تھا۔ ان حالات میں ایوب خان کے قریبی حلقوں نے اسے مشورہ دیا کہ اچھا ہوگا کہ صدر پاکستان مولانا مودودی سے بالمشافہ ملاقات کریں۔اس طرح امکان ہے کہ دوسرے عام مولویوں کی طرح مولانا مودودی آپ کی مخالفت سے باز آجائیں۔ چناچہ ہنگامی طور پر مولانا مودودی کو ایوب خان کی جانب سے پیغام پہنچایا گیاکہ ” صدر پاکستان آپ سے ملاقات کے خوا ہشمند اور ملکی امور پر مشاورت کے خواہاں ہیں ”
جماعت اسلامی نے مشاورت سے فیصلہ کیا کہ مولانا مودودی کو ایوب خان سے ملاقات کرنی چاہیے اور جماعت اسلامی کے موقف کو اس تک پہنچانے کا اس سے بہتر طریقہ اور کوئی نہیں ہوسکتا۔ لہذا مولانا نے ایوب خان کے ساتھ لاہور کے گو رنر ہاؤس میں ملاقات کی۔ اس ملاقات میں مولانا مودودی کے ہمراہ سکریٹری جنرل پاکستان جناب میاں طفیل محمد بھی موجود تھے۔ اس طویل ملاقات میں ایوب خان کا زیادہ تر وقت مولانا مودودی کو یہ سمجھا نے میں گزرا کہ ” مولانا آپ بہت شریف اور علمی آدمی ہیں ، جبکہ سیاست بْہت گندہ کھیل ہے۔ آپ اس میں آکر اپنے آپ کو گندہ کرلیں گے۔ اور اس میں سوائے گندہ ہونے کے کچھ ہاتھ آنے والا نہیں ہے ، آپ اپنی زندگی اور وقت دونوں ضا ئع کر رہے ہیں آپ اندرون و بیرون ممالک اسلا م کی تبلیغ کریں۔بالخصوص افریقی ممالک میں اسلا م کا پیغام پہنچانے کی اشد ضرورت ہے ”
ایوب خان کا خیال تھا کہ مولانا مودودی ایوب خان کی اس آفر کو سمجھ چکے ہیں جو انہیں تبلیغ دین کے نام پر روپے پیسے اور سفارتی سہولیات بہم پہنچانے کی غرض سے دینے کی کوشش کی گئی تھی۔ مگر مولانا نے ایوب خان کی پوری گفتگو نہایت تسلی سے سنی اور اس کا مدلل جواب دیتے ہوئے کہا کہ ” اس میں تو کوئی شک نہیں کہ جو شخص بھی گندگی کو صاف کرنے کا کام کرے گا ، وہ اپنے آپ کو لاکھ بچانے کی کوشش کرے ، مگر گندگی کے کچھ چھینٹے اس کے لباس کو گندہ ضرور ہی کریں گے۔ لیکن سیاست زندگی کا وہ شعبہ ہے کہ یہ گندہ رہے تو دوسرے شعبہ ہائے زندگی تو درکنار مسجد و مدرسہ بھی غلاظت سے محفوظ نہیں رہتے ، اور اگر سیاست سے گندگی کو پاک کردیا جائے تو پوری قومی زندگی اور اس کے سارے شعبے پاک اور صاف ہوکر انصاف اور بندہ پروری کی راہ پر گامزن ہوجائیں گے”
ایوب خان مولانا کا جواب سن کر ششدر رہ گیا۔ مولا نا نے اپنی گفتگو جاری رکھتے ہوئے مزید کہا کہ ” بلاشبہ افریقی ممالک میں اسلا م کی دعوت و تبلیغ کی اشد ضرورت ہے لیکن ہم پر سب سے پہلا اور سب سے زیادہ حق اپنے ملک و قوم کا ہے ‘ اور ہم نے تو پاکستان بنایا ہی اسلا می نظام زندگی کے قیام اور احیا کے لئے ہے۔ پاکستان کے بانی نے بارہا یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستان اسلامی نظام کی لیبارٹری ہے۔ ہم دنیا کو دکھا ئیں گے کہ اسلام زندگی کے جملہ مسائل کو کس خوبی سے حل کرتا ہے۔ اس لئے ہمارا فرض ہے کہ پاکستان کو اسلامی نظام زندگی کا عملی نمونہ بنائیں ”
مولانا مودودی کی اس مدلل گفتگو اور جواب کے بعد ایوب خان کیلئے بہت مشکل ہوگیا تھا کہ وہ اس ملاقات کو مزید جاری رکھیں۔
ایوب خان کو مولانا مودودی اور جماعت اسلامی کے عزائم کا بخوبی علم ہوچکا تھا۔ حفظ ماتقدم کے طور پر ایوب خان نے جماعت کے خلاف بھرپور پروپگنڈہ مہم کا آغاز کردیا اور اخباری نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ” جماعت اسلامی میں جمہوریت نہیں ہے اور انہوں نے اپنی جماعت میں الیکشن کروائے بغیر ہی مجلس شور ی کا اعلان کردیا ہے۔اسطرح جماعت اسلامی جمہوری اقدار کو پامال کرنے کا سبب بن رہی ہے۔ اور عوام کو ایسے عناصر سے خبردار رہنا چاہیے ”
ایوب خان کا یہ بیان جماعت اسلامی کے بارے میں شدید ترین لاعلمی کی بنیاد پر تھا جس کے سبب اس کے لئے شرمندگی کا با عث بھی بنا۔ایوب خان کے سکریٹریوں نے اس کو یہ نہیں بتایا تھاکہ جما عت اسلامی میں اس کے قیام سے لیکر اب تک ہر سال باقاعدگی کے ساتھ انتخاب ہوتا ہے اور شوری کا انتخاب اسی سال نومبر میں ہوچکا تھا۔
بہر حال یہ طے تھا کہ ایوب خان کو مولا نا مودودی کو سمجھنے میں شدید ناکامی ہوئی اور مولانا مودودی ایوب خان کے دام میں نہیں آئے۔ اور ایوب خان کی اسلام بیزار پالیسیوں کے سامنے آہنی دیوار بن گئے۔
23 جنوری 1963 میں اس وقت کے وزیر خارجہ محمد علی بوگرہ کے انتقال کی وجہ سے وزارت خارجہ کا قلمدان خالی ہوا تو ایوب خان نے اپنے چہیتے اور لاڈلے ذوا لفقار علی بھٹو کو وزیر خارجہ مقرر کرنے کا اعلان کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ بدنام زمانہ پریس آرڈیننس نافذ کرکے اخبارات پر اشتعال انگیز خبروں کی آڑ لیکر سیاسی مخالفانہ بیانات اور مضامین پر سنسر لگادیا۔ اسمبلی کے اجلا س کی کاروائی بھی بغیر اجازت چھا پنے اور نشر کرنے پر پابندی تھی۔ اسی ماہ ان حالات کے نتیجے میں قومی جمہوری محاذ (N.D.F ) تشکیل پایا جس کا اہم مشاورتی اجلاس طلب کیا گیا جس میں چھ سیاسی جماعتوں کے پچیس نمائندے شریک ہوئے۔ جس میں مشترکہ قرارداد منظور ہوئی کہ پاکستان کو اسلامی جمہوریہ پاکستان قرار دینا چاہیے اور اس پر کسی بھی نوعیت کا کمپرومائز برداشت نہیں کیا جائے گا۔
اس کے تین ماہ بعد مشرقی و مغربی پاکستان کے بااثر سیاستدانوں کا اجلاس کراچی میں ہوا اور جمہوری و بنیادی انسانی حقوق کی بحالی کا مطالبہ کیا گیا۔ حکومت نے اس اجلاس میں شرکت کرنے والے رہنماؤں پر غداری کا مقدمہ بناتے ہوئے ان کو گرفتار کرلیا۔ گرفتار ہونے والوں میں نواب زا دہ نصراللہ خان ، شیخ عبدالمجید سندھی ، محمود الحق عثمانی ، میاں محمود علی قصوری ، مولانا عبدالستار نیازی ، عطا اللہ مینگل ، ،چودھری غلام محمد ، اور میاں طفیل محمد شامل تھے۔ ان تمام گرفتار شدگان کو پاکستان کی مختلف جیلوں میں منتقل کروادیا گیا۔
ایک طرف تو ایوب خان نے اپنے مارشل لا کی ابتدا میں سیاسی جماعتوں کو ملک و قوم کیلئے شجر ممنوعہ کہتے ہوئے نقصان دہ قرار دیا تھا دوسری طرف اپنے مشیروں خاص طور پر جسٹس محمد منیر اور چہیتے ذوالفقار علی بھٹو کے ذہن کی پیداوار ” کنونشن لیگ ” بنا کر اس کے صدر بن بیٹھے۔ پرانی مسلم لیگ کو توڑ کر اس کے کچھ لوگوں کو خرید نے کے بعد ان سب کو کنونشن لیگ میں شامل کروایا گیا۔
عائلی قوانین ، سیکولر آئین اور سیاسی پا بندیوں کے جواب میں جماعت اسلامی نے اپنے حلیفوں کے ساتھ ملک بھر میں تحریک بحالی حقوق کا اعلان کیا اور جماعت اسلامی کی مرکزی شوری نے طے کیا کہ ان حالات میں کل پاکستان اجتماع عام منعقد کیا جانا چاہیے۔ چنانچہ اقبال ٹا ؤن لاہور میں کل پاکستان اجتماع عام کا اعلان کیا گیا۔
اہم ترین مرحلہ حکومتی اجازت نامہ حاصل کرنا تھا۔ حکومت کی کوشش تھی کہ کسی بھی صورت میں اجازت نامہ نہیں دیا جائے اور مستقل طور پر دو ماہ تک اجازت کی درخواست کو ادھر سے ادھر گھمایا جاتا رہا۔ مگر اس وقت صوبائی حکوت کے گورنر نواب آف کالا باغ ملک امیر محمد خاں نے کسی طور پر لاہور کے میونسپل باغ میں جگہ دینے پر رضامندی ظاہر کی۔ ابھی اجتماع کی تیاری ہو ہی رہی تھی کہ دھمکی آمیز فون کالوں سے اجتماع کو سپوتاز کرنے کی دھمکیاں بھی دی جا نے لگیں ، اللہ اللہ کرکے اجازت ملی اور تیاریاں شروع ہوئیں۔ اچانک عین اجتماع سے پہلے حکومت نے لاوڈ اسپیکر کی اجازت دینے سے انکار کردیا۔ لاؤڈ اسپیکر کی اجازت نہ دینا حکومتی ارادوں کو ظاہر کر رہا تھا۔اور پھر نامعلوم فون کالوں سے دی جانے والی دھمکیاں بھی کچھ اور ہی ہونے کا اشارہ دے رہی تھیں۔
(جاری ہے )

حصہ