قوم کی بیٹیوں ! چیخو، بھاگو، بتاؤ

140

افشاں نوید
کل 20 فروری کی سہ پہر اسی وقت ہم بھی سندھ اسمبلی آڈیٹوریم میں موجود تھے جہاں ’’وومن کو کس‘‘ کے تحت آگاہ معاشرہ، محفوظ بچے‘‘ کے عنوان سے ایک تقریب منعقد ہوئی۔ یہ ایک مختصر دورانیے کی وڈیو فلم کی تعارفی تقریب تھی۔ تقریب کی میزبان ڈپٹی اسپیکر سندھ اسمبلی شہلا رضا نے بتایا کہ یہ فلم انہوں نے بغیر لاگت کے اپنی ٹیم کے ساتھ تیار کی ہے۔ چونکہ تقریب کے انعقاد کا مقصد اس فلم کی رونمائی تھی لہٰذا پہلے اس پر بات ہوجائے۔
منظر۔ کمرہ جماعت میں استانی پرائمری کلاس کی بچیوں کو بتاتی ہے کہ ہم لباس اس لیے پہنتے ہیں کہ اللہ نے شرم و حیا ہمارے اندر رکھی ہے۔ ایک بچی کے جسم کے چھونے کا حق صرف اس کی ماں کو حاصل ہے اگر کوئی دوسرا ایسی کوشش کرے یعنی تمہیں ہاتھ لگائے تو تم ’’چیخو۔ بھاگو۔ بتائو‘‘۔ اس فلم کی روح یا جوہر یہ تین الفاظ تھے جو ابھی درج کیے گئے۔ بچیاں اسکول سے گھر آکر ماں کو استانی کی باتیں بتاتی ہیں۔ ایک بچی 5 یا 6 برس جس کی عمر ہے ماں کو بتاتی ہے کہ اس کا چچا زاد بھائی جو اس کو ٹیوشن پڑھانے آتا ہے وہ اکثر اس کو گود میں بٹھا لیتا ہے کبھی ہاتھ اور گردن کو چھوتا بھی ہے، جس پر ماں بلک بلک کر رونے لگتی ہے۔ باپ کے آتے ہی اسے بتا دیتی ہے۔ پہلے وہ بیوی پر شک کرتا ہے کہ اس کے بھتیجے کو بدنام کرنے کی سازش ہے، جب بچی اقرار کرتی ہے تو وہ طیش میں آجاتا ہے اور جونہی بھتیجا پڑھانے کے لیے گھر میں داخل ہوتا ہے وہ اس کی پٹائی شروع کردیتا ہے اور اس دوران بیوی سے کہتا ہے کہ پولیس کو کال کرو یوں نوجوان کو حوالہ پولیس کردیا جاتا ہے۔ دوسرا منظر ایک دوسری بچی گھر جا کر ماں کو بتاتی ہے کہ آج استانی نے کیا بتایا ہے لیکن ماں امور خانہ داری میں اُلجھی ہوئی ہے، کوئی دلچسپی نہیں لیتی۔ اگلے منظر میں ایک دکاندار نوجوان سے 5 یا 6 برس کا بچہ ڈبل روٹی لینے آتا ہے تو وہ چاکلیٹ دینے کے بہانے کسی غلط نیت سے اس کو دکان سے ملحق کمرے میں لے جاتا ہے۔
فلم کے شروع و آخر میں ڈپٹی اسپیکر صاحبہ کا پیغام ہوتا ہے کہ ہمیں مائوں اور بچیوں کو آگہی دینا ہوگی کہ تحفظ کیسے کریں۔ بچیاں فلم میں کورس کے انداز میں دہراتی ہیں ’’چیخو۔ بھاگو۔ بتائو‘‘۔ آڈیٹوریم میں سول سوسائٹی، شوبز کی دنیا سے متعلق افراد، مذہبی رہنما، صحافی، وکلاء، دانشور، مختلف سیاسی جماعتوں کے نمائندے، وومن پارلیمنٹرینز اور بہت سے لوگ موجود تھے۔ جماعت اسلامی کی نمائندگی سیکرٹری جنرل دردانہ صدیقی نے کی۔ فلم دیکھنے کے بعد مہمان خصوصی فریال تالپور، نثار کھوڑو، پیرزادہ قاسم اور وائس چانسلر کراچی یونیورسٹی ڈاکٹر اجمل خان نے خطاب کیا۔ فلم کی تعریف کی اور سب نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ اس فلم کو ملک کے چپے چپے ہر تحصیل اور گائوں گوٹھ تک پہنچنا چاہیے۔ مرد مقررین نے کچھ شرمندگی کا اظہار کیا کہ یہ ’’عظیم کام‘‘ بھی خواتین نے سرانجام دیا اب مزید آگہی کی مہم میں مردوں کو بھی خواتین کے شانہ بشانہ چلنا چاہیے۔ یہ کہنا تو شاید زیادتی ہوگی کہ زینب کے قاتل جیسی بیمار ذہنیت صرف پاکستان میں ہی پائی جاتی ہے۔ ترقی یافتہ معاشروں میں ان جرائم کی شرح کہیں زیادہ بلند ہے۔ طرفہ تماشہ یہ کہ جتنی قانون سازیاں ہورہی ہیں اتنے ہی جرائم بڑھ رہے ہیں۔ اس وقت زینب کے واقعہ اور اس کی تشہیر نے ذہنی طور پر ہر ایک کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ایسے واقعات معاشروں کے لیے ٹیسٹ کیس ہوتے ہیں۔ چھوٹی معصوم بچیوں کو یہ سکھانے سے کہ ’’چیخو۔ بھاگو۔ بتائو‘‘ اگر ان سے جرائم کی بیخ کنی میں کوئی مدد مل سکتی ہے تو بہت اچھی بات ہے لیکن یہ مسئلہ کے حل کی جانب اصل قدم نہیں ہے۔ ہم حادثہ کی وجوہات جان کر ہی آئندہ کے لیے حفاظتی اقدامات تجویز کرسکتے ہیں۔
اس وقت صورت حال یہ ہے کہ گلوبلائزیشن نے جغرافیائی سرحدوں کی نفی کردی ہے۔ کارپوریٹ کلچر نے اخلاقی ضابطوں کی دھجیاں بکھیر دی ہیں۔ روشن خیال دانشور مذہب کو فرد کی انفرادی زندگی کا معاملہ قرار دے کر ریاست کو اس کی چھتری سے آزاد کرانے پر مصر ہیں۔ ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی نے آناً فاناً سب کچھ بدل کر رکھ دیا۔ جو ان پیروں کے استاد ہوگئے۔ پرانی قدریں فرسودہ قرار پائیں، نئی اقدار ہم متعارف نہ کراسکے، فاصلے سمٹے تو ترقی یافتہ قوموں کی اقدار ہم نے ترقی کے نشہ میں اپنالیں، چاہے وہ ’’بلووہیل‘‘ گیم کی شکل ہی کیوں نہ ہو!!!
اس بچی کے ساتھ لازماً ہمدردی ہونی چاہیے جس کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے لیکن فکر ہمیں اس بات کی بھی ہونا چاہیے کہ پاکستان ’’اسٹریٹ چلڈرن‘‘ کی تعداد کے حساب سے دنیا کا تیسرا بڑا ملک ہے۔ دنیا بھر میں جتنے بچے اسکول نہیں جاتے ان کا 20 فیصد صرف پاکستان میں موجود ہیں۔ ملک کی تیس فیصد آبادی صرف 100 روپے یومیہ سے کم اجرت پر زندہ ہے، 60 فیصد آبادی 200 روپے یومیہ کمانے سے بھی قاصر ہے۔ ملک کے لاکھوں بچے معاشی بدحالی کے سبب اسکول جانے سے قاصر ہیں اور بچپن یا تو آوارہ گردی میں گزار رہے ہیں یا معمولی اجرتوں پر مزدوری کرتے ہوئے۔
دنیا میں موجود سرمائے کا بڑا حصہ اسلحہ کی خریداری پر صرف ہورہا ہے، اگر اسلحہ سازی کے ان کارخانوں کو اپنی پیداوار کا دودھ پلانے کے بجائے یہ پیسہ ’’انسان سازی‘‘ پر خرچ کیا جاتا تو دنیا یوں فتنہ و فساد کا گڑھ نہ ہوتی۔ جب ہم بات بچوں کے تحفظ کی کرتے ہیں اور ’’آگہی‘‘ کو لازم قرار دیتے ہیں تو ہم اس آگہی سے کتنے کرب میں مبتلا ہیں کہ ملک شام میں ہلاک ہونے والوں میں اکثریت معصوم بچوں کی ہے۔ یہ بھی تاریخ میں ثبت ہوگیا کہ فوج کی وحشیانہ کارروائیوں میں کثیر تعداد میں جو بچے ہلاک ہوئے یونیسیف نے بطور احتجاج ’’خالی اعلامیہ‘‘ جاری کیا کہ ’’لغت میں الفاظ دستیاب نہیں ہیں اس غم کی عکاسی اور ان کے پیاروں کو انصاف دلانے کے لیے‘‘۔ کون نہیں جانتا کہ سماجی ناانصافی مجرمانہ ذہنیت کو فروغ دیتی ہے، اگر ایک طرف ہم بچیوں کو یہ آگہی دینے پر مجبور رہیں کہ وہ اپنا بچائو کیسے کریں تو دوسری طرف یہ بھی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ جہالت کا خاتمہ کرے۔ بچے اسکول جا کر تعلیم اور تہذیب سیکھیں گے۔ جہالت کے ناگوں کا سر کچلنے کے بجائے ہم عراق سے تریاق منگانے پر مصر ہیں۔ جہاں اسٹریٹ چلڈرن کی صورت میں لاکھوں بچے سڑکوں پر آوارہ پھر رہے ہوں ان میں مجرمانہ ذہنیت فروغ نہیں پائے گی تو اور کیا ہوگا؟۔ جہاں چھ اور آٹھ افراد کے کنبہ کی کفالت کے لیے سو روپے بھی روز کے میسر نہ ہوں تو فاقہ کشی کن کن جرائم کی طرف راغب کرے گی؟ جہاں ملک کے 95 فیصد لوگوں کے اثاثوں پر 5 فیصد لوگ قابض ہوں، جہاں غریب کا بچہ کچرے کا رخ کرے بھوک مٹانے کے لیے اور امیروں کے بچے سپر اسٹورز سے اپنے pets کے لیے امپورٹیڈ فوڈز خریدیں تو یہ معاشرتی ناانصافی صرف قانون بنا دینے سے دور نہیں ہوگی، غریبوں کے ذرائع اور وسائل پر امیر سانپ بیٹھ جائیں تو اسی طرح کے فساد پیدا ہوتے ہیں، معاشرے اسی طرح یتیمی کا دُکھ سہتے ہیں۔
اگر ہم ملک کی ساری بچیوں کو کراٹے کی تربیت دے کر انہیں ’’بلیک بیلٹ‘‘ بھی بنادیں تب بھی معاشرے سے جرائم کا خاتمہ نہیں ہوسکتا جب تک مجرمانہ ذہنیت پیدا کرنے والے عوامل کا سدباب نہ کیا جائے۔ قرآن رہنمائی کرتا ہے کہ واقعہ ’’افک‘‘ کے سلسلے میں ایک سماجی ذہنیت سامنے آئی جب ایک زبان سے دوسری زبان ایک جھوٹے الزام کو لیتی چلی گئی۔ قرآن نے حضرت عائشہؓ کو الزام سے بری کرنے اور ان کی عظمت کی گواہی دینے کے ساتھ ساتھ اس سماج کا پوسٹ مارٹم کیا۔ سورہ النور نازل کی گئی کہ وہ کون سی دراڑیں ہیں جو مجرمانہ ذہنیت کو سماج میں داخل ہونے دیتی ہیں۔ ایک پاکیزہ سماج کے لیے پورا چارٹر پیش کیا گیا۔ مردوں اور عورتوں کو حکم دیا گیا کہ سماج کی پاکیزگی چاہتے ہین تو اپنی پاکیزگی سے ابتدا کریں اور اپنی نگاہوں کو نیچا رکھیں۔
ہم بے ہودہ اشتہارات پر پابندی لگا سکتے ہیں نہ فحش ویب سائٹ پر نہ میڈیا کے ذریعے فروغ پائی بے حیائی کی اقدار پر کوئی قدغن لگا سکتے ہیں۔ جب گھروں کے ماحول پاکیزہ ہوں نہ تعلیمی اداروں کے تو لاکھ ہم عورتوں کو اپنی حفاظت کے طریقوں سے آگہی دیں جب جڑوں میں زہر ہوگا تو پتوں اور تنوں کی چھٹائی چہ معنی دارد؟؟۔
سماج میں عورتوں کی حفاظت مردوں کی ذمہ داری ہے۔ وہ معاشرے کتنے غیر محفوظ معاشرے ہیں جہاں ہم بچوں سے کہیں کہ وہ خود اپنی حفاظت کے طریقے سیکھیں اس لیے کہ ہم بے بس ہیں۔ وہ جن کے لیے رسول پاکؐ نے کبھی چادر بچھائی، کبھی چادر اُڑھائی، کبھی اپنی آنکھوں کی ٹھنڈک قرار دیا، کبھی سواری تیز کرنے پر ٹوکا یہ نازک آبگینے ہیں، حفاظت کیے جانے کے قابل ہیں۔ حضرت علیؓ کا چہرہ اپنے دست مبارک سے دوسری جانب پھیرتے ہوئے فرمایا کہ ’’علی صرف پہلی نظر معاف ہے‘‘۔ آج اس کی امت اس دوراہے پر کہ ہم بچیوں کو بتانے پر مجبور ہوئے کہ خونی رشتے بھی غیر محفوظ ہیں، دلدل کو صرف پہلے قدم کی ضرورت ہوتی ہے۔ ضرورت ہے حقیقی سوچ و بچار اور ٹھوس اقدامات کی۔ حکومتوں کا کام فلمیں بنانا نہیں ہوتا، ریاست کے وسائل کو منصفانہ طور پر اس کی بہبود پر خرچ کرنا ہوتا ہے، چوبیس گھنٹے کی تمام چینلز کی نشریات دیکھ لیں چوبیس منٹ بھی ایک نظریاتی مملکت کے نظریے کو منعکس نہیں کرتیں۔ اس وقت ضرورت ہے ایک نظریاتی ریاست کو اس کے نظریے سے قریب تر کرنے کی، سماج محفوظ ہوگا تو بچیاں بھی محفوظ ہوں گی اور ان کا مستقبل بھی!!۔

حصہ