زندگی کے ہر شعبے سے متعلق تحقیق کی ضرورت ہے، ڈاکٹر حمیرا طارق

1333

انٹرویو ڈاکٹر حمیرا طارق
تعارف
24 جون 1969ء کو چھانگا مانگا کے قریب چونیاں شہر میں پیدا ہوئی۔ والد اور والدہ رکنِ جماعت ہیں۔ والد صاحب کا 2014ء میں انتقال ہوگیا، اور والدہ صاحبہ اللہ کے فضل سے حیات ہیں۔ ہم دو بہنیں ہیں، دوسری بہن بھی رکنِ جماعت ہیں، کالج میں پروفیسر ہیں۔1994ء میں پنجاب یونیورسٹی سے عربی میں ماسٹرز کیا اور 1995ء میں ایم اے اسلامیات کی ڈگر ی حاصل کی۔ 1998ء میں پنجاب یونیورسٹی ہی سے اسلامیات میں ایم فل کی ڈگری حاصل کی۔ تعلیمی اعتبار سے ایک طویل وقفے کے بعد 2014ء میں اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور سے اسلامیات میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔
خاندانی پس منظر
میری شادی 30 دسمبر 1995ء کو ہوئی۔ تین بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے۔ شوہر محترم تنظیمِ اساتذہ کے رکن ہیں۔ پنجاب یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں۔
تحریکی ذمہ داریاں
میں 1989ء میں اسلامی جمعیت طالبات میں شامل ہوئی۔1991ء میں رکنیت منظور ہوئی اور ساتھ ہی PU یونیورسٹی کی نظامت کی ذمہ داری مل گئی۔ 1992ء میں لاہور شہر کی ذمہ داری اور پھر 1993ء اور 1994ء میں نظامتِ اعلیٰ کی ذمہ داری کا حلف اٹھایا۔ 1996ء میں جماعتِ اسلامی پاکستان کی رکنیت کا حلف اٹھایا۔ تین سال تک ضلع لاہور کی نائب نظامت کی ذمہ داری اٹھائی اور پھر 5 سال ضلع لاہور کی نظامت کے منصب پر رہی۔ بعد ازاں صوبہ پنجاب کی نائب ناظمہ کی ذمہ داری ادا کی اور پھر 6 سال صوبہ پنجاب کی نظامت کی ذمہ داری ادا کرنے کے بعد اب گزشتہ 6 سال سے نائب قیمہ کی ذمہ داری ادا کررہی ہوں۔
پی۔ ایچ۔ ڈی کے مقالے کا عنوان
پی ایچ ڈی کے مقالے کا عنوان ’’ابنِ ابی حاتم کی کتاب الجرح والتعدیل کے مسکوۃ راویوں کے درجات کا تعین‘‘ تھا۔
اس عنوان کو منتخب کرنے کی وجہ ؟؟
مجھے اپنے پی ایچ ڈی کے مقالہ میں ان 200 راویوں کے درجات کا تعین کرنا تھا جن کے درجات کا تعین محدثینِ کرام نے نہیں کیا تھا۔یہ بات شاید عام قاری کو عجیب محسوس ہو۔اس کی تفصیل کچھ اس طرح ہے کہ سب سے پہلے جرح و تعدیل کا کام امام بخاریؒ نے کیا ہے۔ امام بخاری اپنی کتاب ’’تاریخ الکبیر اور تاریخ الصغیر‘‘ میں راویوں کے حالاتِ زندگی تحریر کرتے ہیں اور راوی کی تعریف کردیتے ہیں، مثلاً لکھتے ہیں ثقہ ہے، صدوق ہے۔ اگر راوی میں کچھ کمزوری پائی جاتی ہے تو بالعموم خاموشی اختیار کرتے ہیں، تنقید نہیں کرتے۔ اسی طرح ابن ابی حاتم کو جن راویوں کے حالاتِ زندگی مکمل طور پر نہیں مل سکے انھوں نے اس راوی کا درجہ متعین نہیں کیا۔ بلکہ ’’سمعت ابیہ یا قالوا ابو ذرعہ‘‘ کہہ کر چھوڑ دیا ہے۔ انھی مسکوت راویوں میں سے دو راویوں کے حالاتِ زندگی تلاش کرکے اور ان پر علماء حدیث کے Comments کو سامنے رکھتے ہوئے مجھے یہ طے کرنا تھا کہ اس راوی کا درجہ ’’ثقہ‘‘ ہے، یا’’ضعیف‘‘ ہے۔ اس عنوان پر سعودی عرب کے ایک عالم عدآب محمد دالحمش نے کام شروع کیا تھا۔ کچھ قواعد و ضوابط طے کرکے انھوں نے لکھ دیا کہ یہ طویل کام ہے جس پر باقاعدہ تحقیق ہونی چاہیے۔ اس فن کے ماہر پاکستان میں ڈاکٹر سہیل حسن صاحب ہیں، جو بڑے عالم ہونے کے ساتھ ساتھ بہت بڑے انسان بھی ہیں۔ انھوں نے میری راہنمائی کی۔ مجھے متعدد مرتبہ ان سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔ بہت شفقت کے ساتھ انھوں نے کام سکھایا اور پھر چیک بھی کیا، بلکہ اس کام کو کرنے کا حوصلہ بھی دیا۔ ورنہ میں تو اسی سوچ میں تھی کہ بھلا اتنے بڑے بڑے راویانِ حدیث کے بارے میں کیسے یہ فیصلہ دے دوں کہ یہ ضعیف ہیں! برصغیر پاک و ہند میں اس عنوان پر کام کرنے والی میں پہلی خاتون ہوں۔ یہاں پر کسی مرد نے بھی اس عنوان پر کام نہیں کیا۔ میرے بعد اسلامک یونیورسٹی اور اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میں اس موضوع پر کام شروع ہوگیا ہے۔ کیونکہ مسکوت راویوں کی تعداد ہزاروں پر مشتمل ہے۔ابن ابی حاتم کی کتاب الجرح والتعدیل میں ہی 8 ہزار سے اوپر مسکوت راوی ہیں۔میرا مقالہ عربی زبان میں ہے اس لیے عوام الناس تو اس سے فائدہ نہیں اٹھا سکے،لیکن حدیث کے طالبِ علم کے لیے گراں قدر تحفہ ہے۔
اب جتنے بھی طالبِ علم اس موضوع پر کام کر رہے ہیں وہ سب مجھ سے رابطہ رکھتے ہیں اور راہنمائی لیتے ہیں۔میرا امتحان لینے والے اساتذہ کرام نے پورے ہال میں یہ انائونس کیا تھا کہ اس موضوع پر کام کرنے کا حوصلہ مرد بھی نہیں کرتے تھے۔ایک عورت ہو کر اتنے مشکل موضوع پر کام کرنا قابل ِ تحسین ہے۔
اس عنوان پر تحقیق میں کتنا وقت لگا؟
اس مقالے کو تحریر کرنے میں دو سال کا عرصہ لگا۔ اسے تحریر کرنے کے لیے میں نے خاص طور پر کچھ سفر بھی کیے، انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی سے کتب لیں، جدہ سے منگوائیں، بلوچستان سے منگوائیں، اس کے علاوہ صادق آباد اوراٹک گئی۔
اس کا سماج کو اور آئندہ نسلوں کو کیا فائدہ ہوگا؟
اپنے مقالے کے حوالے سے کچھ تفصیل بتائیے؟
علمِ حدیث کی ایک اہم شاخ جرح و تعدیل ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت عثمان غنیؓ کی شہادت کے بعد جب فتنوں کا دور شروع ہوا… معتزلی، خوارج، اشاعرہ، اسماعیلی اور رافغی فرقوں نے جنم لیا تو ان فرقوں نے اپنے مسلک کی تائید کے لیے بہت ساری احادیث گھڑنا شروع کردیں۔ اس فتنے کو قابو کرنے کے لیے علماء ِ حدیث کی جانچ پرکھ کے لیے کچھ علوم وضع کیے گئے جنھیں اسماء الرجال اور فن جرح و تعدیل کا نام دیا گیا۔ اس علم کے تحت راویانِ حدیث کے حالات جمع کیے گئے اور پھر ان راویوں کے تقویٰ، عدالت اور حفظ پر بحث کی گئی۔ اس بحث کے نتیجے میں راوی کا درجہ متعین کیا گیا۔ راوی کے درجے کے اعتبار سے حدیث کا درجہ طے ہوا، مثلاً اگر راوی چھوٹا ہے تو اس کی بیان کردہ حدیث کو ترک کردیا گیا، اسے حدیثِ متروک اور موضوع قرار دیا گیا۔ اگر راوی پر شک ہے، اس کا مکمل حال معلوم نہیں ہے تو اسے حدیث شاذ قرار دیا گیا۔ یا راوی کے حافظہ پر گمان ہے، کہیں عمر کے ساتھ کمزوری پائی گئی ہے تو پھر اس عمر میں روایت کردہ حدیث کو ضعیف قرار دے دیا گیا۔ اس طرح سے حدیث کے درجے کا تعلق راوی کی صحت اور درجے کے اعتبار سے قرار پایا۔ ہم صحیح مسلم اور صحیح بخاری میں جو احادیث پڑھتے ہیں ان میں اگر ایک حدیث کو 8 راویوں نے روایت کیا ہے تو وہ سب تقویٰ کے اعلیٰ درجے پر قائم ہونے کے ساتھ کمال درجے کا حافظہ بھی رکھتے ہیں۔ اور ان کے تمام احوال محدثین نے اسماء الرجال کی کتب کے اندر تحریر کیے ہیں۔ یہاں تک کہ ان کی انفرادی زندگیاں، اساتذہ، شاگرد اور علمِ حدیث کے لیے سفر اور سفر کے تمام حالات بھی کتب میں ملتے ہیں۔ مثلاً ابن ابی حاتم ؒ کے حوالے سے معروف واقعہ تمام کتب رجال میں ملتا ہے کہ تحصیلِ علم کے دوران ایک دن انھوں نے مچھلی خریدی مگر پکانے کا وقت نہ ملا تو بالآخر کچی ہی کھا لی۔ محدثین کرام نے ذخیرۂ احادیث کو ہم تک اصل حالت میں پہنچانے، صحیح اور غلط کو الگ کرنے کے لیے بہت محنت کی ہے۔ ورنہ مستشرقین نے امتِ مسلمہ کا حدیث پر سے ایمان متزلزل کرنے کی جتنی کوششیں کی ہیں آج امتِ مسلمہ کا حدیث پر ایمان برقرار رہنا ممکن نہ ہوتا۔ احادیث کی جانچ پڑتال اور پرکھ کے لیے بہت سارے محدثین کرام نے بہت سارے علوم وضع کیے، جن میں سے چند اہم درج ذیل ہیں:
علم مصطلح الاحادیث… تدوین حدیث… علم اسماء الرجال… علم جرح و تعدیل… علم ناسخ و منسوخ…علم مشکل الآحادیث…علم متعارض الاحادیث…علم الموضوعات…
امتِ مسلمہ کے لیے یہ پہلو قابلِ فخر ہے کہ دنیا میں جہاں بھی جس عنوان پر بھی تحقیق کروائی جاتی ہے وہ علوم الحدیث کے اصولوں پر کروائی جاتی ہے۔ محدثینِ کرام نے حدیث کی جانچ پرکھ کے جو اصول مقرر کیے ہیں وہ اصول تحقیق کا اعلیٰ ترین معیار ہیں۔ کیونکہ علم حدیث کی بنیاد ایمان اور محبت ِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ہے۔ اس لیے یہ کامل ترین اصول ہیں، جبکہ باقی تحقیقات کا تعلق ایمان سے نہیں ہوتا، اس لیے بے شک وہ انھی اصولوں کی پیروی کرتے ہیں، مگر پھر بھی ان کے اندر کاملیت نہیں پائی جاتی۔
ان دو علماء کرام کا ذکر کرنا میں ضروری سمجھتی ہوں۔ صادق آباد کے مولانا ثناء اللہ صاحب کا ذاتی کتب خانہ پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ اسلامیات کی لائبریری سے بڑا ہے۔ گھر ان کا بہت سادہ اور مولانا خود بہت بڑے عالم۔ انتہائی سادہ، مخلص اور صاحبِ ایمان شخصیت کے حامل تھے۔ اللہ تعالیٰ انھیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ اسی طرح اٹک کے مولانا زبیر زئی صاحب کا بڑا کتب خانہ۔ سادہ سا گھر اور سادہ طرزِ زندگی کے ساتھ علم، تقویٰ اور اخلاص سے مالامال شخصیت نے بہت متاثر کیا۔ ان دونوں شخصیات نے قرونِ اولیٰ کے اصحاب العلم کی یاد تازہ کردی۔ اللہ تعالیٰ دونوں کو مقام علیین عطا فرمائے،آمین۔
خانگی، علمی، تنظیمی مصروفیات کو توازن میں رکھنا کتنا ممکن / کتنا دشوار ہے؟
جس طرح عدل کا مطلب ’’ہر کسی کو اس کا حق دینا‘‘ ہے جبکہ ہم عام طور پر عدل کا مطلب برابری سمجھ رہے ہوتے ہیں، اسی طرح توازن کا مطلب بھی ہر وقت ترازو کے دونوں پلڑوں کا برابر ہونا نہیں ہے۔ وقت اور حالات کے مطابق فرد کو فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ اب اسے کس پہلو پر زیادہ توجہ دینی ہے، اور کس پہلو کو کم۔ اگر درست طریقے سے ترجیحات کا تعین کرلیا جائے تو باری باری تمام امور نمٹائے جا سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو زبردست قوت ِ فکر اور قوتِ عمل سے نوازا ہے۔ اگر انسان اپنی ان قوتوں کو پہچان لے اور منفی سوچوں، منفی طرزِعمل کو ترک کردے تو بہت کچھ کرسکتا ہے۔
کیا تحقیقی مقالہ جات پڑھے جاتے ہیں؟ آپ کو فیڈ بیک ملا؟
ہمارے ہاں عوام الناس تو تحقیقی مقالہ جات نہیں پڑھتے اور نہ ہی ان کی مقالہ جات تک رسائی ہوتی ہے، البتہ محقق اس سرمایۂ علمی سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔
آٓپ کے خیال میں کن موضوعات پر مزید تحقیق ہونی چاہیے؟
زندگی کے ہر شعبے سے متعلق تحقیق کی ضرورت ہے، اور ہمیشہ ہی رہے گی۔ بیسویں اور اکیسویں صدی میں سائنس اور ٹیکنالوجی نے بہت تیزی سے ترقی کی ہے جس کی وجہ سے معاشرتی طور پر بہت تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں جن کی وجہ سے بہت سارے امور ہیں جن پر عمل کرنے میں مشکلات ہیں۔ پہلے فقہ میں اس طرح کے مسائل پر بحث ہوتی تھی کہ اگر کنویں میں جانور گر کر مرجائے تو کنویں کا پانی کیسے پاک ہوگا؟ اب پاکستان کی بیشتر آبادی کا مسئلہ کنواں نہیں ہے بلکہ آج فقہ الاقلیات کے تحت بہت سارے موضوعات بحث طلب ہیں۔ تکثیری معاشروں کے مسائل ہیں۔ اسی طرح رائج نظام معیشت اور نظام ِ معاشرت کے تحت بہت سارے مسائل حل طلب ہیں۔ تصورِ دین اور ترجیحاتِ دین کے بہت سارے مسائل ہیں جن پر تعلیم یافتہ نوجوان نسل کے سوالات ہیں، جنھیں حل ہونا چاہیے تاکہ وہ یکسوئی کے ساتھ اسلام کے احکامات پر عمل کرسکے۔ بدلتے ہوئے وقت، حالات اور تقاضوں کے مطابق فرد کو کیسے چلنا ہے، تحریکوں کو کیسے کام کرنا ہے، اداروں کی کیا ذمہ داریاں ہیں، حکومتوں کو کس شعبے میں کیسے ترقی کرنا ہے…؟ ان سب سوالات کے جوابات تحقیق سے ہی ملیں گے۔ کسی ایک شعبۂ زندگی سے متعلق ہزاروں عنوانات ہیں جو تشنہ ہیں اور تحقیق طلب ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک اپنے ہر فیصلے اور ہر منصوبے کی بنیاد تحقیق پر رکھتے ہیں۔ پاکستان میں تحقیق کروانے کی بھی ضرورت ہے، اور اس تحقیق کو استعمال کرنے کی بھی اشد ضرورت ہے۔ اسلامی تحریک کے حوالے سے ضروری سمجھتی ہوں کہ ’’اپنی دعوت کو پھیلانے اور مستقبل کی تحریک بننے، عوام الناس کا رجوع بڑھانے کے لیے کون سی تدابیر اختیار کی جائیں‘‘ جیسے موضوعات پر تحقیق کروانے، اپنے تنظیمی ڈھانچے، تنظیمی نظام اور جماعتی کلچر پر بھی ریسرچ کروانے کی ضرورت ہے تاکہ اس تحقیق کے نتائج کی روشنی میں ازسرِنو موجودہ نظام کا جائزہ لیتے ہوئے صف بندی کی جا سکے۔
موجودہ نسل کا کتاب سے فاصلہ کیسے کم ہو؟
ایک طرف سوشل میڈیا نے موجودہ نسل کو کتاب سے دور کردیا ہے، تو دوسری طرف تعلیمی اداروں نے وہ تمام مضامین ختم کردئیے ہیں جو طلبہ کو ادب سکھاتے تھے۔ اب آپ کو کسی ادارے میں اردو لٹریچر، تاریخ، سوکس، اسلامیات اختیاری، عربی اور فارسی کے مضامین نہیں ملیں گے۔ اگر کہیں یہ مضامین پڑھائے جاتے ہیں تو صرف لازمی یا آپشنل کی حد تک، جو کہ بہت ہی ناکافی ہیں۔ اس کا نقصان واضح طور پر نوجوانوں کی زبان اور اخلاق سے نظر آرہا ہے۔ پروفیسر سلیم منصور خالد صاحب نے اس حوالے سے بہت خوبصورت جملہ کہا تھا ’’جب نوجوان نسل کا ادب سے رشتہ ختم کردیا جائے گا تو پھر وہ اسی طرح سڑکوں پر ناچتی پھرے گی‘‘۔ آج آپ کسی بھی تعلیمی ادارے میں ہونے والا پروگرام دیکھ لیں تو دل خون کے آنسو روتا ہے کہ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض ادا کرنے والا طالبِ علم یا طالبہ چند جملے بھی اچھی اردو یا انگریزی میں ادا نہیں کرسکتے۔ بلکہ نہایت عامیانہ جملے ادا کرتے ہیں۔آج طلبہ کے ہاتھ میں موبائل ہے، لیپ ٹاپ ہے۔ کتاب کم ہی نظر آتی ہے۔ حتیٰ کہ تحقیق کرنے والے طالبِ علم بھی زیادہ تر انٹرنیٹ پر ہی اکتفا کررہے ہوتے ہیں۔ جس تیز رفتاری سے ہم کتاب سے دور ہورہے ہیں، موجودہ نسل کو کتاب سے قریب کرنا ایک مشکل امر لگتا ہے۔ انھیں کتاب پڑھانے کے مختلف طریقے ڈھونڈنا ہوں گے۔ یہ ذمہ داری اساتذہ اور والدین کی ہے کہ وہ بچپن سے ہی Book Readingکی عادت ڈالیں۔ اور پھر اساتذہ اس کی افادیت بیان کرتے رہیں، شوق دلاتے رہیں اور کتب سے رشتہ استوار کرتے رہیں۔
عموماً طلبہ تحقیق کے لیے کن موضوعات کا انتخاب کرنا پسند کرتے ہیں؟
ہر طالبِ علم تحقیق کرنا نہیں چاہتا، اور نہ ہی ہر کسی میں صلاحیت ہوتی ہے۔ جو بچے تحقیق کرنے کی خواہش رکھتے ہیں وہ بالعموم زندگی میں کچھ کرنے کا داعیہ بھی رکھتے ہیں، اس لیے وہ ایسے موضوعات پر تحقیق کرنا پسند کرتے ہیں جن کا عملی زندگی میں کوئی فائدہ ہو اور آگے چل کر ان کی تحقیق استعمال ہوسکتی ہو۔
کیا دنیا میں ان مقالوں کی کوئی پذیرائی ہے؟
ترقی یافتہ ممالک اپنے تمام تر معاملات کی منصوبہ بندی تحقیق کی بنیاد پر کرتے ہیں۔ وہ سو سال، پچاس سال قبل متوقع تبدیلیوں کو محسوس کرتے ہیں اور ان پرتحقیق کرواتے ہیں اور پھر ان تبدیلیوں کا مکمل تیاری کے ساتھ سامنا کرتے ہیں، یا پھر اپنی ضرورت کے مطابق تبدیلیاں پیدا کرتے ہیں، لہٰذا ان کے ہاں تحقیقات کروانے کا معیار اور انھیں استعمال کرنے کا معیار ہمارے معاشرے سے بہت مختلف ہے۔ پاکستان میں تحقیقی اعتبار سے کچھ ادارے بہتر کام کررہے ہیں۔ مجموعی طور پر تو ہم ابھی ابتدائی مراحل میں ہیں، زیادہ تر تحقیقات لائبریریوں یا لیبارٹریوں کی زینت ہی رہ جاتی ہیں۔
ان کی اشاعت کہاں ہونی چاہیے؟
صرف اشاعت ہمارے مسائل کا حل نہیں ہے۔ تحقیقات کروانے اور ان کے نتائج سے فائدہ اٹھانے کے لیے مختلف شعبہ جات کے اعتبار سے الگ الگ منصوبہ بنانے کی ضرورت ہے، مثلاً کچھ عنوانات پر تو صرف نتائج شائع کردینا ہی کافی ہوگا، کچھ عنوانات پر منصوبہ بندی کرنا ہوگی، پروجیکٹ بنانے اور کچھ پر قانون سازی کی ضرورت ہوگی،کہیں پر ہمیں معاشرتی رویوں کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہوگی جس کے لیے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے ساتھ سوشل میڈیا سے مدد لینا ہوگی۔ تحقیقات کے نتائج سے فائدہ اٹھانے کے لیے کچھ ذمہ داری حکومت کی ہوگی،کچھ اداروں اور کچھ عوام الناس کو ادا کرنا ہوگی۔
انڈیا کے مقابلے میں ہمارے ہاں پی ایچ ڈی اسکالرز کی تعداد بہت کم ہے۔ آپ کے خیال میں اس کی وجہ؟
ہم آبادی میں بھی انڈیا سے بہت کم ہیں۔ ہمارے ہاں پی ایچ ڈی کا رجحان ابھی شروع ہوا ہے، اس سے پہلے تو خال خال ہی کوئی پی ایچ ڈی نظر آتا تھا۔ دراصل تحقیق کرنے کے لیے کچھ وسائل اور کچھ سہولتیں مطلوب ہوتی ہیں۔ ذہنی طور پر یکسو ہونا، پریشانیوں سے دور ہونا ضروری ہوتا ہے۔ بالعموم جس عمر میں ہم پی ایچ ڈی کررہے ہوتے ہیں… عملی زندگی، ملازمت،گھر داری شروع کرچکے ہوتے ہیں۔ اس لیے طلبہ و طالبات کی اکثریت کلاس ورک کے بعد Drop out ہوجاتی ہے، تحقیق کرنے والے کم ہی رہ جاتے ہیں۔ میری کلاس میں 12 طلبہ و طالبات تھے جن میں سے صرف 3 افراد پی ایچ ڈی مکمل کرپائے، باقی سب اپنی مصروفیات اور ذمہ داریوں کی نذر ہوگئے۔ پاکستان میں زیادہ تر تحقیقات طالبِ علم ڈگری کے حصول کے لیے کررہے ہوتے ہیں۔ کچھ ادارے بھی اس مقصد کے لیے قائم ہیں جو بہت اہم عنوانات پر تحقیق کروا رہے ہیں اور پھر ان سے فائدہ بھی اٹھا رہے ہیں، مگر ان کی تعداد بہت کم ہے۔ ملکی ترقی کے لیے ان اداروں کی تعداد میں اضافہ ہونا، انھیں سہولیات بہم پہنچانا اور پھر ان کے معیار کو مزید بہتر کرنا بہت ضروری ہے، جس کے نتیجے میں پاکستان ترقی بھی کرے گا اور بہت سارے معاشرتی مسائل کا حل بھی ملے گا۔

حصہ