کلیات عزیز احسن چند معروضات

547

صبیح رحمانی
ڈاکٹر عزیز احسن معاصر ادبی تناظر کی ایک فعال اور معروف شخصیت ہیں۔ انھوں نے تخلیقی و تنقیدی دونوں جہات میں اظہار کیا ہے جو اُن کے لیے شناخت اور اعتبار کا قابلِ قدر ذریعہ ہے۔ عزیز احسن نے ابتداً شعر گوئی سے اپنے ادبی و تخلیقی سفر کا آغاز کیا تھا، بعد ازاں اُن کی تنقیدی صلاحیتیں بھی بروئے کار آنے لگیں اور وہ نقد و نظر کے شعبے میں بھی ذہانت اور سنجیدہ مزاج کی وجہ سے جلد پہچانے جانے لگے۔ میرا ایمان ہے کہ اللہ کریم جس سے جو کام لینا چاہتا ہے، اُسے اُس کے دل سے جوڑ دیتا ہے۔ عزیز احسن کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ وہ غزل کہتے کہتے نعت کی طرف متوجہ اور تنقیدی و تجزیاتی مضامین لکھتے ہوئے مطالعۂ نعت کی جانب مائل ہوئے، اور بس جب ایک بار اس کوچۂ دل نشیں میں آئے تو پھر یہیں کے ہو رہے۔
نعت اور مطالعۂ نعت آج نہ صرف عزیز احسن کے لیے ذاتی فکر و انبساط کا ذریعہ ہے بلکہ پیرایۂ اظہار میں نظر کی گہرائی اور فکری رویے کی بدولت وہ دوسروں کے لیے بھی ذہنی بالیدگی اور علمی تسکین کا حوالہ ہے۔ عزیز احسن نے مطالعۂ نعت کے لیے جب ایک بار خود کو وقف کیا تو اپنی تمام تر توانائی اور توجہ اسی شعبے میں تسلسل اور التزام کے ساتھ بروئے کار لانے لگے۔ چناںچہ تنقیدِ نعت کی عمومی صورتِ حال کو اس سے خاطر خواہ فائدہ پہنچا، صرف ان معنوں میں نہیں کہ یہ کام اپنی جگہ وقیع تھا بلکہ اس لیے بھی کہ اس نے فضا کو تحرک دیا اور دوسروں کے لیے تحریک کا ذریعہ بنا۔ یہ کام نہ صرف تفہیمِ نعت کے لیے مفید اور گراں قدر ثابت ہوا بلکہ اس نے مطالعۂ نعت کے منہاج اور اسالیب کے تعین اور فروغ میں بھی بھرپور کردار ادا کیا۔ اہلِ نظر نے عزیز احسن کے تنقیدی کام کو قدر کی نگاہ سے دیکھا اور اِس شعبے کو اختیار کرنے والے نئے لوگوں نے اِس سے پورا استفادہ کیا۔ میں یہ سب باتیں اس لیے وثوق سے عرض کررہا ہوں کہ ایک قریبی دوست کی حیثیت سے میں اُن کے تخلیقی و تنقیدی سفر کا گزشتہ ربع صدی سے عینی شاہد ہوں۔
عام طور پر یہ ہوتا ہے کہ جو تخلیق کار تنقید کے میدان میں اُترتے اور اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا لیتے ہیں، اُن کی یہی جہت نمایاں ہوجاتی ہے اور لوگ اِسی کو فوقیت دینے اور اُن کا اصل کام سمجھنے لگتے ہیں۔ یہی مسئلہ عزیز احسن کو بھی پیش آیا۔ اُن کے تنقیدی کام کی وسعت، فکری گہرائی اور عالمانہ بصیرت کی وجہ سے ان کے تنقیدی کام کی گونج ادبی حلقوں میں زیادہ ہوئی اور اُن کی شعر گوئی خصوصاً نعت نگاری پس منظر میں چلی گئی۔ حقیقت یہ ہے کہ اُن کی نعت بھی سچے جذبوں، راست فکر، اسلوب کی دل کشی اور اظہار کی لطافت سے مالامال ہے، اور بجا طور پر مستحق ہے کہ اُس کا سنجیدہ مطالعہ کیا جائے اور اِس باب میں عزیز احسن نے جو کام کیا ہے اُس کی کشادہ دلی سے داد دی جائے۔
ایک اچھے اور مطالعاتی ذوق رکھنے والے شاعر کی طرح عزیز احسن نے بھی اردو کے عظیم شاعروں سے اپنے رنگِ سخن میں ہم آہنگی اور ہم رشتگی کا اظہار کیا ہے، مثلاً اُن کے ہاں ایک طرف حالیؔ اور اقبالؔ سے اثر پذیری کا احساس ہوتا ہے تو دوسری طرف معاصرین میں فیضؔ، منیرؔ نیازی اور فرازؔ سے بھی اُن کے مزاج کی لے ملتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ اِس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اُن کے مطالعے نے انھیں ہمارے عظیم شعری سرچشموں سے سیرابی کا کیسا خوش کن موقع فراہم کیا ہے جو یہ ثابت کرتا ہے کہ وہ اپنی روایت کا شعور ہی نہیں رکھتے بلکہ اس سے جڑے ہوئے بھی ہیں البتہ اس امر کا اظہار بلاتکلف کیا جاسکتا ہے کہ انھوں نے اِن اساتذہ کا اثر احساس کی سطح پر تو ضرور قبول کیا لیکن لہجہ اپنا بنایا ہے اور جذبہ و احساس کی رَو بھی اُن کی ذاتی ہے۔ عزیز احسن نے اپنی شاعری میں بالعموم اور نعتیہ شاعری میں بالخصوص اپنی تہذیب، تعلیم اور سیرت و کردارِ نبوی ﷺ سے رنگ اور روشنی حاصل کرنے کا خاص اہتمام کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اُن کے ہاں شعر کا رچاؤ ہی اپنی طرف متوجہ نہیں کرتا، بلکہ اُس کی فکری اور علمی جہت بھی قلب و نظر پر اثرات مرتب کرتی ہے اور یوں پڑھنے والے کے باطن میں بھی چراغ روشن ہوتے جاتے ہیں۔
ڈاکٹر عزیز احسن نے اپنے کسی شعری مجموعے پر کوئی مضمون شامل نہیں کیا صرف ان مجموعوں کے مرتبین کی آرا ہی شاملِ کتاب رہیں۔ اس کلیات میں بھی وہی تحریریں شامل ہیں مگر میں نے عزیز احسن کی نعتیہ شاعری پر مختلف رسائل و جرائد میں شائع ہونے والے بعض اہم مضامین کو بھی شامل کرلیا ہے تاکہ عصری ادبی منظرنامے کی یہ گواہیاں بھی محفوظ ہوجائیں اور عزیز احسن کی بہتر تفہیم کا ذریعہ ثابت ہوں۔
مجھے امید ہے عزیز احسن کا یہ نعتیہ کلیات نہ صرف پڑھنے والوں کے لیے لطفِ مطالعہ کا حامل ہوگا، بلکہ اِس شاعری کے فکری، فنی اور لسانی پہلو بھی اہلِ ذوق کی توجہ حاصل کریں گے اور اہلِ نظر کو سنجیدہ اور فکر افروز مطالعات کی دعوت دیں گے۔

نعت

عزیزاحسن

شہرِ طیبہ کا ہے دیوانہ نہ جانے کب سے
دل کہ ڈھونڈے ، وہیں جانے کے بہانے کب سے
اب تو سرکارؐ مسلمان پہ ہو چشمِ کرم
میٹ دینے کو ہی درپے ہیں زمانے کب سے
کوئی دیدار کی صورت نکل آئے آقاؐ
موت بھی تاک میں بیٹھی ہے سرہانے کب سے
اپنے اعمال کی پاداش میں رسوا ہیں سبھی
گا رہے تھے یہ شفاعت کے ترانے کب سے
وہ جو بھولے تھے ترا نقشِ کفِ پا آقاؐ
ہو چکے نقش بہ دیوار نہ جانے کب سے
یاسیت ہی کی رِدا سر پہ مسلمان کے ہے
عزم کے دیپ بجھا ڈالے ہوا نے کب سے
ہم نے دیکھا ہی نہیں عہدِ درخشاں آقاؐ
ہم تو اِدبار کے سنتے ہیں فسانے کب سے
ہے نحوست ہی مکافاتِ عمل کی ہر سو
آس کی شمع ،لگے آپ بجھانے کب سے
دل تو کڑھتا ہے مگر راہ نہیں ملتی ہے
آسکا کوئی نہ گرتوں کو اٹھانے کب سے
استغاثہ یہ مری سمت سے اس قوم کا ہے
جس کی مظلومی پہ روتے ہیں زمانے کب سے
یا نبیؐ! اب تو ہو تقدیر بدلنے کی دعا
غیر محفوظ ہیں امت کے ٹھکانے کب سے
بت پرستوں کی صفوں میں بھی ہے مسلم شامل
مارڈالا اسے کافر کی ادا نے کب سے
اب عزیز احسنِ مضطر کا مُداوا کچھ ہو !
غل مچا رکھا ہے اس نوحہ سرا نے کب سے

 

نعت

ڈاکٹر خورشید رضوی

شان اُنؐ کی سوچیے اور سوچ میں کھو جائیے
نعت کا دل میں خیال آئے تو چپ ہو جائیے
سونپ دیجے دیدۂ تر کو زباں کی حسرتیں
اور اس عالم میں جتنا بن پڑے رو جائیے
یا حصارِ لفظ سے باہر زمینِ شعر میں
ہو سکے تو سرد آہوں کے شجر بو جائیے
اے زہے قسمت کسی دن خواب میں پیشِ حضورؐ
فرطِ شادی سے ہمیشہ کے لیے سو جائیے
اے زہے قسمت اگر دشتِ جہاں میں آپؐ کے
نقشِ پا پر چلتے چلتے نقشِ پا ہو جائیے
٭٭٭
نازاں ہے اِس پہ دل کہ بلایا گیا مجھے
آخر درِ حضورؐ پہ لایا گیا مجھے
اس راہ میں زمیں کی طنابیں کھچی رہیں
ہر گام گردشوں سے بچایا گیا مجھے
نادیدہ ایک لمسِ محبت تھا دستگیر
تھک کر اگر گِرا تو اُٹھایا گیا مجھے
سورج بھی اقتدا میں چلا اور کشاں کشاں
لے کر حضور میں، مرا سایا گیا مجھے
ہر کہکشاں کی گرد مرے بال و پَر میں تھی
ایسی بلندیوں پہ اڑایا گیا مجھے
اشکوں کی چلمنوں سے زمانے گزر گئے
جو کچھ سنا ہوا تھا، دکھایا گیا مجھے
خورشیدؔ حاضری یہ نصیبوں کی بات ہے
نازاں ہے اِس پہ دل کہ بلایا گیا مجھے

نعت

زاہد عباس

مرے دل سے ہوں دور غم چاہتا ہوں
میں زکر نبیؐ دم بدم چاہتا ہوں
کرے عاصیوں پر جو رحمت کا سایہ
الٰہی وہ چشم کرم چاہتا ہوں
جو آتی ہے باب حرم سے مدینہ
وہ ٹھنڈی ہواے حرم چاہتا ہوں
کرے رہنمائی جو منزل کی جانب
مبارک وہ نقش قدم چاہتا ہوں
جو یاد محمدؐ میں نکلے ہیں اکثر
ان اشکوں سے آ نکھوں کو نم چاہتا ہوں
کرے سرخرو روز محشر جو زاہد
وہ دنیا میں جاہ و حشم چاہتا ہوں

حصہ