پاک امریکا دوستی‘ عجب معیار

75

ابوہریرہ
مخلص دوست اللہ تعالیٰ کی ایک بہت بڑی نعمت ہے۔ یہ غم کا ساتھی بھی ہے اور خوشی کا ساجھی بھی۔ مصائب و آلام میں ملجا و ماویٰ بھی اور ہر مشکل میں ساتھ نبھانے والا ہمسفر بھی۔ دوستی کی ناتواں سی رسّی وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مضبوط سے مضبوط تر ہوتی چلی جاتی ہے، جہاں منافقت کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔ تبھی تو اعتماد کی دنیا کوہ ہمالیہ سے بلند، سمندروں سے گہری اور شہد سے زیادہ میٹھی ہوتی ہے۔ مال و دولت تو ادنیٰ چیز ہے، اس راہ میں انسان اپنی جان تک کی پروا نہیں کرتا چہ جائیکہ یار من کے لیے کوئی جملۂ نازیبا کہے۔
پاک امریکا تعلقات کئی عشروں پر محیط ہیں، لیکن افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ دو طرفہ تعاون میں مضبوطی کے بجائے کمزوریوں نے بسیرا کیا ہوا ہے۔ جہاں پاکستان نے اپنے دل کے دروازے وا کیے تو آنکھیں فرشِ راہ کیں، لیکن پاکستان سمجھا ہی نہیں کہ دوسری طرف خلوص کے بجائے مفادات کے تانے بانے ہیں۔ کسی ادنیٰ سے ادنیٰ امریکی وزیر و مشیر کی آمد ہو تو پاکستانی وزیراعظم کیا، سارے وزیروں و مشیروں کی دوڑیں لگ جاتی ہیں۔ ہر دو چار مہینے بعد وزرا کی امریکا آنیاں جانیاں لگی ہوتی ہیں، یوں گمان ہوتا ہے کہ شاید ان کا سیاسی قبلہ وہیں ہے۔ ہر بار وہی لمبی لمبی فہرستیں: حافظ سعید کو نظربند کرو، ایف آئی ایف کے اثاثے منجمد کرو، حقانی نیٹ ورک کو صفحہ ہستی سے مٹاؤ۔
وزیر خارجہ نے خوب کہا ’’امریکا نے ہر مشکل میں دھوکا دیا ہے‘‘۔ خواجہ آصف کی یہ بات مبنی برحقیقت ہے جس سے کوئی ذی عقل و شعور نظریں نہیں چرا سکتا۔ ہم نے 1959ء میں بڈبیر (پشاور) کا ہوائی اڈا دیا، جہاں سے امریکی ہوائی جہاز روس کی جاسوسی کے لیے جاتے تھے، لیکن بدلے میں کیا ملا؟ 1965ء میں فوجی امداد کی بندش، یہاں تک کہ پرزہ جات تک دینے سے انکار کردیا گیا۔ یہ صلہ ہے تعاونِ باہمی کا؟
چلیے چھوڑیئے! اتنی نازک حالت میں ساتھ چھوڑ جانے کے باوجود پاکستان کا وزن امریکی پلڑے میں رہا۔ 1979ء تا 1989ء روس اپنے توسیع پسندانہ عزائم کی تکمیل کی خاطر نہتے افغانیوں پر حملہ آور ہوا۔ امریکا نے روس سے ویت نام کا بدلہ لینے کے لیے افغانیوں کی مدد کی جو اپنی آزادی کی جنگ لڑرہے تھے۔ دوسری طرف پاکستان 30 لاکھ افغان بھائیوں کی پناہ گاہیں بنانے میں مصروفِ عمل تھا۔ روس نے منہ کی کھانے کے بعد شکست خوردہ حالت میں زخم چاٹتے ہوئے راہِ فرار اختیار کی۔ افغانستان سرخ ریچھ کا قبرستان بنا۔ پاکستان جب اپنے مصیبت زدہ بھائیوں کی مدد میں مصروف تھا تو امریکا نے پاکستانی ایٹم بم کو اسلامی بم کا نام دے کر ایف 16 طیارے دینے سے انکار کردیا، جبکہ پاکستان 66کروڑ ڈالر امریکا کو ادا کرچکا تھا۔
نائن الیون کے بعد امریکا براعظم ایشیا کو کنٹرول کرنے کے لیے افغانستان میں آدھمکا۔ پاکستان نے اس سے بھرپور تعاون کیا۔ زمینی و فضائی راستے، ہوائی اڈے، فوجی و انٹیلی جنس مدد فراہم کی۔ بالآخر امریکا نے شکست کھائی اور اپنی ناکامیوں کا ملبہ پاکستان پر ڈالنے کی مذموم کوشش کی۔ ایک بار پھر ایف 16 طیارے دینے سے انکار کردیا گیا۔ الزامات و بہتان طرازیوں کے طومار باندھ دیے گئے۔ ’’الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے‘‘ کے مصداق اپنی شکست کا ذمے دار پاکستان کو ٹھیرایا جانے لگا۔ پاکستان نے اپنے جوانوں کی قربانیوں کے ساتھ ساتھ 23 ارب ڈالر اس جنگ کی نذر کردیے لیکن الزام تراشیوں کا سیلاب ہے کہ رکنے کا نام ہی نہیں لے رہا۔ 2018ء کی صبح ایک صبح خبطی بوڑھا، فاترالعقل، جو عالمی آداب و سفارتی اخلاقیات سے نابلد ہے، اٹھتے ہی ٹوئٹ کرتا ہے ’’ہمیں بے وقوف بنایا گیا، مزید بے وقوف نہیں بنیں گے‘‘۔ ٹرمپ جو کہ انتہائی لالچی، خوش فہم اور شیطانی طبیعت کا مالک ہے، جس کے بارے میں نیویارک ٹائمز لکھتا ہے: ’’صدر ٹرمپ ذہنی مریض ہیں اور اب اُن کے قریبی ساتھیوں نے بھی مان لیا ہے کہ اُن کی حالت عام انسانوں والی نہیں ہے‘‘۔
وہ لوگ پاکستان کو امداد کی بحالی کے لیے دہشت گردوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا درس دے رہے ہیں جو گریٹر اسرائیل اور داعش جیسی بدنام زمانہ تنظیموں کو سپورٹ کرتے ہیں۔ بقول شاعر

کتاب سادہ رہے گی کب تک
کبھی تو آغازِ باب ہو گا
جنہوں نے بستی اجاڑ ڈالی
کبھی تو ان کا حساب ہو گا

حصہ