نیا عہد، نئے تقاضے

109

خالد معین
فیس بُک پر ایک جعلی آئی ڈی سے کوئی دل رُبا نیا اسٹیٹس لگاتی ہے ’ہیلو فرینڈز ہائو آر یو‘۔ فوری طور پر لائکس کی تعداد بڑھتی ہے اور ساتھ ساتھ کومنٹس کی بھرمار ہونے لگتی ہے۔ ’ہیلو فرینڈز مائی برتھ ڈے از کمنگ‘۔ جلد ہی کومنٹس اور لائکس کا انبار لگ جاتا ہے۔ ’ہیلو فرینڈز کون کون جاگ رہا ہے‘۔ جواباً وہی صورت ِ حال، جو سوچکے ہوتے ہیں وہ صبح جاگنے کے بعد اس اسٹیٹس کو لائک کرنا اور افسوس کا اظہار کرنا، اور جلدی سو جانے کی وجہ، کومنٹس میں لکھنا نہیں بھولتے۔ غرض ایسی تمام فضولیات میں اچھے بھلے لوگ بھی اپنا وقت ضایع کرتے نظر آتے ہیں۔ اس کے بَرخلاف کوئی سنجیدہ تخلیق کار چاہے کتنے ہی پتے کی بات کرجائے، اپنی تازہ تخلیق لگا دے، اُسے دس پندرہ لائک اور دو چار قریبی دوستوں کے کومنٹس مل جائیں تو غنیمت جانیں… ہاہاہاہا۔ شعر و ادب سے وابستہ لوگ فیس بُک، واٹس ایپ اور دیگر ابلاغیاتی ذرائع پر کیا کیا گُل کھلا رہے ہیں اور کن کن مسائل کا شکار ہیں، یہاں کیا کیا اچھا ہے اور کیا کیا بُرا ہے، یہ کہانی تو بڑی طولانی ہے، لیکن چلیں کچھ اختصار ہی سے سہی، ایک جائزہ تو لیا ہی جا سکتا ہے۔
شعر و ادب کے روایتی تصورات تو یقینا وقت کے ساتھ ساتھ تبدیل ہوتے ہی رہتے ہیں۔ نئے زمانے کے ساتھ ادب کے انفرادی، اجتماعی، نظریاتی اور سماجی معاملات بھی تبدیلی کے عمل سے گزرتے ہیں۔ تاہم گزشتہ چند برسوں کے دوران عالمی سطح پرنت نئے ذرائع ابلاغ کے حیران کُن کرشموں نے ہماری روایتی زندگی کے ساتھ ہمارے روایتی شعرو ادب کے ایوانوں کو لرزا کے رکھ دیا ہے۔انٹرنیٹ، یو ٹیوب، فیس بُک اور واٹس ایپ وغیرہ کی آمد اور اس سے جڑنے کے خیال نے پہلے تو پڑھنے لکھنے والے مختلف طبقات کو گہری جھجھک میں مبتلا رکھا کہ اس دریچے اور اس آئینے کی طرف جائیں یا نہیں۔ چند ابتدائی برس اسی کشمکش میں گزرے، لیکن جب انٹرنیٹ سمیت نئی ٹیکنالوجی کے جادوئی حصار نے اپنی بے پناہ کشش کے ساتھ ذاتی، سماجی اور عالمی رابطہ کاری کے برق رفتار کارنامے دکھانے شروع کیے تو کیا نوجوان، کیا ادھیڑ عمر اور کیا بزرگ، سب کے سب اس دوڑ میں رفتہ رفتہ شریک ہوتے گئے۔ ابتدا میں جھجکنے والے پہلے کچھ گھبرائے، کچھ شرمائے،کچھ چپ رہے، کچھ نے ہمت نہ کی اور کچھ نے ہمت کرتے ہوئے جدت پسندانہ ٹیکنالوجی سے استفادے کی ٹھانی۔ یوں شعرو ادب سے وابستہ خواتین اور حضرات دھیرے دھیرے پہلے انٹرنیٹ سے آشنا ہوئے، پھر فیس بُک کے ہوئے اور بعد میں واٹس ایپ کی دنیا میں کھوگئے، لیکن نئی ٹیکنالوجی کے حیرت انگیز کرشمے ابھی ختم ہوئے نہ آدمی کی ہوس ابھی پوری ہوئی۔اُدھر شعر و ادب سے گہری وابستگی رکھنے والوں کی آمد سے نئی صورتِ حال جمتے جمتے ایسی جمی کہ فیس بُک اور واٹس ایپ پر پہلے سے موجود ہزاروں شوقین مزاجوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی، مگر نئی ٹیکنالوجی کے ذریعے عوامی شعرو ادب کے نئے معیارات، نئے تقاضوں اور نئے آداب کے بہ جائے آہستہ آہستہ شعرو ادب سے براہِ راست وابستہ اہم نام بھی اُسی چکا چوند کی نذر ہوتے گئے، جو یہاں شوقین مزاجوں نے سیلفی اسٹائل پر مبنی ذاتی تشہیر اور ذاتی نام ونمود کے لیے گروپنگ بندی کے بل پر پہلے ہی قائم کررکھی تھی۔ البتہ فیس بُک اور واٹس ایپ سمیت انٹرنیٹ اور اینڈرائڈ فون کے مزید ذرائعِ ابلاغ نے محض چند برسوں میں زندگی کے دیگر شعبوں کی طرح شعروادب کی دنیا میں بھی نئے انقلاب ضرور پیدا کیے ہیں۔ تاہم نئے منظرنامے میں نہ سب کچھ بہت بُرا ہے اور نہ سب کچھ بہت اچھا ہے۔ شعرو ادب کی ترویج اور جدید عہد کی نئی ٹیکنالوجی کے اجتماعی فیض اپنی جگہ، ہمارے شوقین مزاج نوجوانوں کی طرح سنجیدہ لکھنے والوں کی اکثریت بھی ابھی نئے ذرائعِ ابلاغ سے تخلیقی توازن کے ساتھ وہ معیارات قائم نہیں کرسکی، جن کی اُن سے بجاطور پر توقع کی جارہی تھی۔ سب کچھ اچھا ہے کے نعرے میں پوشیدہ جو بنیادی نکات ہیں، اُن میں شعرو ادب سے عام لوگوں کا براہِ راست جڑنا، اپنی رائے کا کھل کر اظہار کرنا، اپنی پسندیدہ ادبی شخصیات سے چِٹ چیٹ،کال اور ٹائم لائن پر تبصرے شامل ہیں۔ یہ صورت یقینا ایک زمانے تک ادبی رسائل میں چھپنے والے عوام وخواص کے یک طرفہ خطوط تک محدود رہی یا مشاعروں اور ادبی نشستوں میں اپنی پسندیدگی اور ناپسندیدگی کے متوازن اظہار سے آشکار ہوتی رہی۔ تاہم کسی تازہ غزل، نظم، افسانے اور کسی دوسرے فن پارے کے بارے میں جتنی برق رفتاری سے فیس بُک اور واٹس ایپ پر لوگ اپنے لائکس اور کومنٹس بھیجتے ہیں اور کوئی بھی تازہ تخلیق راتوں رات ہزاروں قارئین تک پہنچ کے جس طرح اپنا ردِعمل ظاہر کرتی ہے، وہ یقینا قابل ِ ستائش ہے۔
’سب اچھا ہے‘ میں بعض سنجیدہ ادبی گروپس کی جانب سے ایسی شعری اور نثری تخلیقات کا سامنے لانا ہے، جو نئے قارئین کی معلومات میں اضافے کے ساتھ اُن کے ادبی ذوق کی نمو پروری کا کام بھی انجام دے رہی ہیں۔ نئی کتابوں سے تعارف، نئے اور معروف شعرا اور ادیبوں کے عمدہ انتخاب بھی اسی زمرے میں شامل کیے جا سکتے ہیں۔ مصرع ِ طرح پر منعقد کیے جانے والے فیس بُک مشاعرے ہماری ادبی روایت کی ایک خوش کُن توسیع ہیں، جو کئی ادبی گروپس پابندی سے کرا رہے ہیں، جن میں لائیو مصرع ِ طرح کے مشاعرے بھی شامل ہیں، اور ان مشاعروں کا انتخاب بھی ایک مستحسن عمل ہے، تاہم جہاں تک ادبی معیار اور توازن کا معاملہ ہے، افسوس کہ یہ دونوں چیزیں ابھی تک نومشق لکھنے والوں سے کوسوں دور ہیں۔ جب کہ دوسری جانب موضوعات، فنی استحکام اور فن پر دست رس کے حوالے سے نئے لکھنے والوں کی مناسب رہ نمائی بھی ایک سوالیہ نشان ہے۔ البتہ ممتاز دانش ور، شاعر اور ناقد احمد جاوید صاحب جیسے لوگ بھی ہیں، جو اپنے ادبی لیکچرز کے ذریعے کلاسیکی اور جدید شعرا کے فن اور شخصیت پر معلوماتی، عالمانہ،گہرے اور خالص ادبی مکالمے سے تشنگان ِ ادب اور نئے لکھنے والوںکی تخلیقی پیاس بجھانے میں مصروف ہیں۔ اسی ضمن میں ڈاکٹر خورشید عبداللہ جیسے خالص ادب و ثقافت کے دیوانے بھی ہیں، جو انتہائی ہوش مندی سے لطف اللہ خاں کے ’آواز خزانہ‘ کے نایاب اور نادر انتخاب، جن میں مرحوم شعرا، مرحوم کلاسیکی گلوکاروں اور مشاعروں کی یادگار وڈیوز کے کلپس یوٹیوب اور فیس بُک پر عوام و خواص کے لیے لاتے ہیں، وہ یہ کام کسی ستائش اور صلے کی تمنا کے بغیرکرتے ہیں اور اہل ِ ادب و اہل ِ نظر سے برابر داد سمیٹتے ہیں۔ عقیل عباس جعفری جیسے ہمہ جہت لوگ بھی ہیں، جو اپنی معلوماتی علمی وادبی پوسٹوں کے ذریعے عوام اور خواص کی آگہی کے دائرے کو بڑھا رہے ہیں۔
بعض شعرا اور ناقدین انفرادی طور پر بھی شعرو ادب کے تازہ موضوعات پر اپنی رائے کا اظہار اپنی ٹائم لائن پر کرتے ہیں، ان موضوعات میں نئی کتابوں پر ناقدانہ مکالمے، شعروادب کو درپیش تازہ مسائل پر گفتگو، بعض نازک شخصی اور اجتماعی رویوں پر دوٹوک اظہارِ رائے، ادب کیا ہے، ادب کو کیا ہونا چاہیے، تقریباتی ادب پر تنقید، مشاعروں کے مجموعی مسائل، بیرون ِ ملک تخلیق کیا جانے والا ادب اور بیرون ِ ملک سے آنے والے مہمانوں کی غیر ضروری پذیرائی اور ادبی گروپ بندی کے ذریعے چند طاقت ور ادبی شخصیات کی مختلف شہروں میں قائم اجارہ داری اور مستحق لکھنے والوں کی مسلسل حق تلفی جیسے اہم کرنٹ مسائل بھی شامل ہیں۔ ادبی گروپ بندی کوئی نیا معاملہ نہیں، ادبی تحریکوں سے پہلے بھی اساتذہ نے اپنے اپنے وقت میں چند مضبوط ادبی گروپ تشکیل دیے، پھر ادبی تحریکوں اور ادبی رسائل نے اس روایت کو مزید پروان چڑھایا، جب کہ موجودہ دور میں جدید انفارمشین ٹیکنالوجی نے اس گروپ بندی کو انفرادی اور اجتماعی مفادات کے تحت مزید بڑھاوا دیا۔ ادبی سیاست کے اس گھنائونے کھیل میں مارا وہ جاتا ہے، جسے اس کھیل سے دل چسپی نہ ہو اور وہ محض اپنی تخلیقی قوت پر آگے بڑھنے اور نمایاں ہونے پر یقین رکھتا ہو، جب کہ دوسری جانب ادبی مفادات کے کھیل سے آشنا اور اس فیلڈ کے ماہر کھلاڑی اپنے گرد چاپلوسوں کی بھیڑ جمع کرلیتے ہیں، ایک ادبی رسالہ نکال لیتے ہیں، سال دو سال میں ایک دو بڑی ادبی محفلیں اور مشاعرے بھی سجا لیتے ہیں اور پھر پورے سال اس کا پھل کھاتے ہیں۔ سرکاری اور نیم سرکاری ادارے، اخبارات کے بعض بڑے، ادبی ایڈیشنز کے انچارج، الیکٹرونک میڈیا میں بیٹھے سازشی عناصر، فیک ادبی تنظیمیں، مال و زر اور سماجی پوزیشن کے ذریعے صدارتیں اور مہمان ِ خصوصی بننے والے اور دیگر ایسے ہی پریشر گروپس اس کھیل میں وہ ہنر مندانہ اسٹروکس کھیلتے ہیں کہ شریف، خوددار اور ایمان دار لکھاری کسی گنتی میں شمار نہیں ہوپاتے۔
’سب ٹھیک نہیں ہے‘ میں بعض منتقم مزاجوں اور بعض شرارتی عناصر کی جانب سے روا رکھی جانے والی نامناسب کارروائیاں شامل ہیں، جن میں اِن باکس میسجز کی شکل میں خواتین اور حضرات کو مسلسل تنگ کرنا اور بعض صورتوں میں مزید مکروہ حرکات تک کارفرما ہیں۔ ذاتی اور اجتماعی مقاصد کے حصول تک رسائی کے لیے کسی شریف تخلیق کار کی بے جا مخالفت سے، اُس کی کردارکشی جیسے گھنائونے حملے بھی شامل ہیں۔ یہ گِدھوں کا ایسا ٹولہ ہے، جو ہمیشہ نت نئے شکار کی تلاش میں رہتا ہے، جہاں اُن کا کوئی مخالف کمزور لمحے میں نظر آیا، یہ تمام گدھ اُس کے گرد منڈلانے لگتے ہیں۔ ان خاص شرفا کے پاس اپنی آئی ڈی کے علاوہ کئی جعلی اکائونٹ بھی ہوتے ہیں، جن میں بھڑکیلی نوجوان عورتوں والے اکائونٹ بھی شامل ہیں۔ یہ اپنے نحیف ادبی وجود کی بنیاد بے ہنگم اختلافات پر رکھتے ہیں۔ اپنے مخصوص ادبی گروہوں کی پشت پناہی کے ساتھ یہ خاص شرفا اپنے مخالفین پر تاک تاک کر ایسے گرے پڑے جملوں سے حملے کرتے ہیں کہ توبہ ہی بھلی۔ مخالفین کے اکائونٹ ہیک کرلینا اور اُن کی ٹائم لائن میں بے ہودہ پکچرز لگانا بھی اُن کا مشغلہ ٹھیرا، اُس پر طرہ کہ دودھ کے دھلے یہ خاص شرفا خود کو اَن داتا، سچا اور معصوم بھی ظاہر کرتے ہیں، اور کھلے عام وہ حرکتیں فرماتے ہیں کہ ’شرم تم کو مگر نہیں آتی‘ والا مصرع اُنھی پر صادق نظر آتا ہے۔ بعض شوقین مزاج مختلف حربوں سے معصوم لوگوں کو اپنے چنگل میں پھنساتے ہیں اور پھر اُنہیں اندر ہی اندر بلیک میل کرتے رہتے ہیں۔ کراچی میں بھی دیگر شہروں کی طرح ایک خوف ناک ادبی مافیا کام کررہا ہے۔ یہ مافیا ایسے نام نہاد ادبی گروپ تشکیل دیتا ہے، جو اُنہیں آگے بڑھنے اور اُن کے مذموم ذاتی مقاصد کے حصول میں جانے اَن جانے مدد فراہم کرتے ہیں، اس کے بدلے مدد کرنے والوں اور ساتھ دینے والوں کو چند مشاعروں کی رشوت ملتی رہتی ہے اور یوں چہرہ نمائی کا یہ پاگل پن اپنا اثر دکھاتا رہتا ہے۔
فیس بُک خاص طور پر بعض ذہنی مریضوں کے لیے ایسا اوپن ایریا ہے، جہاں وہ اپنی نرگسیت، جھوٹی اَنا اور انتقامی مزاج کے ساتھ کسی بھی مخالف کو بڑی آسانی سے ٹارگٹ کرسکتے ہیں۔ اپنے فیس بُک فرینڈز پر نظر ڈالیں تو چند بڑے ذہنی مریض اپنی متنازع اور مخالفانہ پوسٹوں کے ذریعے جلد آپ پر کھل جائیں گے۔ اسی طرح فیس بُک سے ہمہ وقت چپکے رہنے والے احباب بھی آہستہ آہستہ فیس بُک کی غیر صحت مندانہ ایڈکشن کا شکار ہوجاتے ہیں۔ اُدھر فیس بُک کے بہت سے شہزادے اور شہزادیاں جب شعر و ادب کے حقیقی ماحول کا رُخ کرتے ہیں تو مصنوعی پذیرائی کے عادی یہ معصوم لوگ شدید ذہنی کوفت میں گرفتار ہوجاتے ہیں، اور پھر شعروادب کے حقیقی ماحول کے بہ جائے فیس بُک کی مصنوعی اور وقتی چکاچوند والی دنیا میں پناہ لے لیتے ہیں۔ فیس بُک پر ڈھیروں لائکس کی تعداد کا کھیل بھی اب کسی سے ڈھکا چھپا نہیں، آئی ٹی سے وابستہ ایسے بہت سے لوگ یہاں وہاں مل جائیں گے، جو چند ہزار روپے ماہانہ میں راتوں رات ہر الٹی سیدھی پوسٹ کی سیکڑوں لائکس بڑھا دیں گے، اس مصنوعی طریقے کے علاوہ کچھ اور حقیقی طریقے بھی عام ہیں، جو پیسوں کے عوض کسی بھی صارف کی پوسٹ کو اُس کے فیس بُک اکائونٹ سے باہر موجود مختلف صارفین تک پہنچا کے لائکس کی تعداد کو کئی گنا بڑھا دیتے ہیں۔
باتیں تو اور بہت سی ہیں لیکن چلیں اب اس طویل بحث کو سمیٹتے ہیں، کئی اور مثبت و منفی نکات چھوڑتے ہیں۔ بنیادی طور پر فیس بُک، واٹس ایپ، یو ٹیوب اور دیگر انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شاہ کار ایک طرف سطح پر انسانی رابطوں کو ملکی اور عالمی سطح پر فعال کررہے ہیں تو دوسری جانب ابلاغ ِ عامہ کے یہ جدید ذرائع شعرو ادب سے وابستہ لاکھوں افراد کو براہِ راست مکالمے کے علاوہ تازہ ترین ادبی، سماجی، سیاسی اور عالمی خبروں تک رسائی بھی فراہم کررہے ہیں۔ کاش شعر و ادب سے وابستہ لوگ بنیادی اخلاقیات، تہذیبی اقدار اور انسانی رشتوں کے وقار کا خیال رکھیں تو مزید دریچے کھلیں گے اور مزید دیواریں ٹوٹیں گی۔

حصہ