عالمی یومِ بے حیائی

56

عبدالرحمن آفتاب
محبت ایک پاک جذبہ ہے۔ اچھی بات تو سب کو اچھی لگتی ہے، لیکن جب تمھیں کسی کی بری بات بھی بری نہ لگے تو سمجھو تمھیں اُس سے’’ محبت‘‘ ہو گئی ہے۔ راحت ہو، سرور ہو، یا رنج وغم، نفع ہو یا نقصان، ہر حال میں اپنی خواہش کو ختم کرکے محبوب کی خواہش کے سامنے سرِ تسلیم خم کردینے کا نام ’’محبت‘‘ ہے۔ محبت کی مختلف حالتیں ہوتی ہیں، جیسے اللہ تعالیٰ سے محبت، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت، اپنے عزیزوں اور رشتے داروں سے محبت، ماں باپ، بہن بھائی، بیوی بچوں سے محبت، اپنے گھر، کاروبار، گاؤں، شہر سے محبت، جانوروں سے محبت، دنیا سے محبت، وغیرہ وغیرہ۔
اللہ رب العزت اپنے بندوں سے محبت فرماتا ہے۔ قرآن مجید میں مختلف انداز میں محبت کا ذکر ہے: (ترجمہ)’’بیشک اللہ نیکو کاروں سے محبت فرماتا ہے‘‘ (سورہ البقرہ)۔ اللہ اپنی تمام مخلوق پر مہربان ہے۔ اس کی صفت رحمن و رحیم ہے۔ اللہ کے نیک بندے بھی اللہ سے محبت کرتے ہیں۔ قرآن کریم میں ہے: (ترجمہ) ’’اور جو لوگ ایمان والے ہیں وہ (ہر ایک سے بڑھ کر) اللہ سے ہی زیادہ محبت کرتے ہیں۔‘‘ (سورہ البقرہ)
لفظ ’’محبت‘‘ بہت ہی پاک و صاف ہے، اور ’’محبت‘‘ دنیا کا سب سے خوبصورت جذبہ ہے، لیکن مطلب پرستوں اور ہوس پرستوں نے اپنی خودغرضی اور ضرورتوں کے تحت اسے بدنام کردیا ہے۔ غیر فطری و ناجائز کام کو بھی محبت کا نام دیتے ہیں جو سراسر غلط ہے۔ محبت کی خوبیوں و خرابیوں کی بہت لمبی تفصیل ہے۔ محبت کی سب بڑی خرابی ماہرین یہ بتاتے ہیں کہ محبت اندھی ہوتی ہے۔ حالانکہ فلسفی اور محبت کرنے والے محبت کو اندھا نہیں مانتے۔ بہرحال محبت کا الگ الگ جذبہ ہے۔ آج محبت کے نام پر عیاشی کا دروازہ کھول دیا گیا ہے۔ یہ سلسلہ اب رکنے کا نام نہیں لے رہا، اسی میں ’ویلنٹائن ڈے‘ کو بھی شامل کرلیا گیا ہے۔
14فروری کو ویلنٹائن ڈے محبت کا دن نہیں، حقیقت میں محبت کا یوم شہادت ہے۔ ویلنٹائن ڈے کے حوالے سے ہمارے مسلم نوجوانوں کی معلومات میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ جہاں اس کے منانے والے جوش وخروش کا مظاہرہ کرتے ہیں، وہیں اس دن کی مخالفت کرنے والے بھی کم نہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ویلنٹائن ڈے جیسی روایت موجود نہ ہوتی تو کیا دنیا میں لوگ اظہارِ محبت نہ کرتے؟ صرف چند بے شرم نوجوان ایسے ہیں جو اس دن کو عیاشی کے حوالے سے مناتے ہیں، یا منا سکنے کی طاقت رکھتے ہیں۔ ایسے لوگ زیادہ تر امیر گھروں سے تعلق رکھتے ہیں۔ ایک غریب تو اسے برداشت (AFFORD) بھی نہیں کرسکتا۔ ہمارے معاشرے میں کیا کوئی محبت نہیں کرتا تھا، یا اب نہیں کرتا؟ جو آج کا نوجوان ویلنٹائن ڈے مناکر دنیا کو محبت کرنا سکھا رہا ہے! آج تو تمام ٹی وی چینلز بے شرمی کے ساتھ محبت کرنا سکھا رہے ہیں۔ اس سے بڑھ کر آج جتنے گانے ہیں سبھی بے شرمی کے ساتھ محبت کا سبق دے رہے ہیں، بلکہ لوک کہانیاں اور آج کی عریاں و حیا باختہ فلمیں محبت سکھا رہی ہیں۔ ہمارا نوجوان فیشن کے نام پر بے حیائی و بے شرمی کے تمام ریکارڈ توڑتا جارہا ہے۔

عہدِ نو کے فیشنوں نے سب کے یوں بدلے ہیں رنگ
دیکھ کر ان کی ادائیں، عقل رہ جاتی ہے دنگ
نت نئے انداز میں یوں محو ہیں پیر و جواں
جس طرح کہ ڈولتی ہے، ڈور سے کٹی پتنگ
گھیر میں شلوار کے کوئی تو لائے پورا تھان
آدھ گز کپڑے میں کوئی سُوٹ کو کر ڈالے تنگ
وہ حیا جو کل تلک تھی مشرقی چہرے کا نور
لے اُڑی اس نکہتِ گل کا یہ تہذیبِ فرنگ
کوئی پھٹی جینز کو سمجھا ہے ہستی کا عروج
خواہشِ عریاں نے ہے فیشن کا پایا عذرلنگ
میں مخالف تو نہیں جدت پسندی کا مگر
کھا نہ جائے مشرقی اقدار کو پَچھمی پلنگ
مختصر اتنا کہ سرور، احتمال یہ بھی رہے
تند صحرا کے لیے ہوتا نہیں ہرگز کلنگ

رومن کیتھولک چرچ کے مطابق ویلنٹائن ایک نوجوان پادری تھا، جسے 270ء میں ’’شہیدِ محبت‘‘ کردیا گیا تھا۔ کہتے ہیں مارکس آر ے لیئس روم کا بادشاہ تھا۔ بادشاہ کو اپنی فوج میں اضافے کے لیے فوری طور پر فوجیوں کی ضرورت پڑ گئی تو اُس نے ہر ملک میں اپنے نمائندے پھیلا دیئے تاکہ وہ اس کے لیے کنوارے نوجوان بھرتی کرسکیں۔ رومی فوجی نوجوانوں نے شادیاں کرنا شروع کردیں۔ اطلاع شہنشاہ کو پہنچی تو اس نے شادیوں پر پابندی عائد کردی۔ ویلنٹائن پادری نے بادشاہ کے حکم کو ناجائز قرار دے دیا اور خفیہ شادیاں کرانے لگا۔ یہ بات زیادہ دیر تک چھپی نہ رہ سکی اور اسے گرفتار کرلیا گیا۔ قید کے دوران نوجوان پادری کو داروغہ کی بیٹی سے عشق ہوگیا، اس کی پاداش میں ویلنٹائن پادری کا سر قلم کردیا گیا۔
رومن کیتھولک چرچ 14 فروری کو اس کا دن مناتا ہے۔ تاریخ سے ناواقفیت کی بنا پر ہم کیسے کیسے گناہ کے کام کرتے ہیں! عیسائی لوگ پادری کے قتل کا دن 14 فروری یومِ محبت کے نام پر مناتے ہیں۔ اگر ہم کو محبت ہی بانٹنا ہے تو سبھی سے محبت کریں، اور ہر دن کریں۔ ویلنٹائن پادری تو دوسروں کی شادیاں کروایا کرتا تھا۔ شادی کرانا تو ثواب کا کام ہے۔ آج مسلم معاشرے میں جہیز کی لعنت کی وجہ سے کتنی غریب بچیاں کنواری بیٹھی ہیں۔ ماں باپ کی نیندیں حرام ہیں۔
آیئے عہد کریں کہ سال میں ہم کم ازکم ایک غریب کی شادی کرائیں گے، ان شاء اللہ، یا کم از کم زندگی میں ایک غریب لڑکی کی شادی کروائیں گے اور خود بھی جہیز کی فرمائش کے بغیر شادی کریں گے۔ خدارا ہوش میں آئیں، معاشرے میں پھیلی برائیوں کو روکنے کی کوشش کریں، نہ کہ برائیاں بڑھانے کا سبب بن کر گناہوں کا انبار لے کر اللہ کے حضور پہنچیں۔ اللہ ہم سب کو بے حیائی کے کاموں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین۔

ہماری کامیابی

شہلا صدیقی
رشتے تکلیف کیوں دیتے ہیں؟
یہ سوال ہم اپنے آپ سے خود ہی کرلیں تو لیجیے جواب حاضر ہیں:
1۔ پہلی بات تو یہ کہ اللہ نے صلۂ رحمی کا حکم دیا ہے اور قطع رحمی سے منع فرمایا ہے۔ تشریح کو فی الحال رہنے دیں…بس اتنا جان لینا کافی ہے کہ انسان اور شیطان کے درمیان جو کشمکش روزِ اوّل سے جاری ہے، وہ آخری سانس تک رہے گی۔
2۔ اللہ نے قرآن میں دلوں کی بیماریوں کا بہت تذکرہ کیا ہے… دلوں کا تنگ ہوجانا… دلوں کا سخت ہوجانا… دلوں میں بغض، کینہ، حسد، جلن بھر جانا، غیبت، جھوٹ، زبان درازی… دراصل یہی وہ خاص بیماریاں ہیں جن کی وجہ سے ایک مسلمان منافق بھی ہوجاتا ہے، اور کہیں فاسق اور کہیں فاجر بھی۔ پھر وہ گالیاں بھی دیتا ہے، بہتان بھی لگاتا ہے، وسوسے پہ یقین بھی رکھتا ہے، جھوٹ بھی کثرت سے بولنے لگتا ہے کہ جھوٹ بھی اُسے سچ لگتا ہے، اور مایوسی اور غموں کا بوجھ لاد لیتا ہے۔
3۔ان سے بچنے کے لیے خاص آیات تو اللہ رب العزت نے بتادیں، اور ہم میں سے بہت سے مسلمان اس کا خوب خوب اہتمام بھی کرتے رہتے ہیں، بلکہ ہم سب کو عادت سی ہے کہ رات سوتے وقت، جاگتے وقت، شام کے وقت ہم اہتمام کرتے ہیں، اور یقین جانیے بہت اچھا کرتے ہیں…لیکن… کیا وجہ ہے کہ ان سب کے باوجود ہمارے دلوں پر تالے لگ گئے ہیں! کوئی اپنی محرومی کا بدلہ نکالتا ہے، کوئی اپنے والدین کی محرومیوں کا بدلہ نکالتا ہے، اور کوئی بس خود کو سیف سائڈ کے لیے دلوں کو تنگ و تاریک کوٹھری میں بند کیے بیٹھا ہے، یہ جانے بغیر کہ زندگی کا امتحان آپ کے عمل، رویّے، آپ کے اخلاص اور اخلاقی عبادات پر ہی ہے۔
ہم تب ہی اس امتحان سے کامیاب گزریں گے جب خود کو قرآن کی رو سے اچھی طرح جان پائیں گے اور نیک عمل کی جانب متوجہ ہوں گے، اور جو سوال آپ کے سامنے رکھا گیا اس کا آسان سا جواب تو اسی میں کہیں آپ کو ملے گا۔ آپ کوشش کریں، بار بار تحریر کو پڑھیں… سامنے والے کا ردعمل اسی پر چھوڑ دیں۔
اپنی محرومی، ہونے والی ناانصافی و زیادتی کو ایک طرف کردیں… وہ کریں جو اللہ ہم سے چاہتا ہے۔ یقین جانیے آپ ایک قدم بڑھائیں گے اللہ چل کر آئے گا، آپ چل کر بڑھیں گے اللہ بھاگ کر آپ کے پاس آئے گا، حتیٰ کہ اللہ رب العزت آپ کا ہاتھ، پاؤں، زبان بن جائے گا۔ بس اسی سے بار بار توبہ، استغفار اور مدد طلب کرنی چاہیے۔

نئے شاعر‘ محمود اظہر

اسامہ امیر
یہ عہد مختلف ادوار کے میل سے ایک فضا مرتب کرتا ہے جس میں ادب کا حصہ روشن اور واضح ہے۔ اس میں غزل اپنی پوری تابناکی کے ساتھ موجود ہے۔ غزل میں کچھ نیا کام کرنے والے بہت کم شعرا ہیں، مگر آج ہم آپ کو ایک ایسے خوب صورت شاعر اور ناقد سے ملوائیں گے جن کی شاعری کی تہ داری، آب داری، گہرائی و گیرائی دوسرے شعرا سے مختلف بھی ہے اور ممتاز بھی۔ میری مراد اظہر محمود سے ہے جن کو دنیائے ادب محمود اظہر کے نام سے جانتی اور مانتی ہے۔ محمود اظہر 4 دسمبر 1989ء کو پاکستان کے معروف شہر اٹک میں پیدا ہوئے۔ آپ کے پسندیدہ شعرا میں غالب، میر، ظفر اقبال، فیصل عجمی اور دلاور علی آزر شامل ہیں۔ آپ کو اصناف میں سب سے زیادہ غزل پسند ہے۔ آئیے ان کی شاعری پڑھ کر جادوئی دنیاؤں، سرسبز خوابوں، طلسمی علاقوں اور ابر پاروں کی سیر کرتے ہیں۔

کون سمجھے گا مرے بعد اشارے اس کے
ٹوٹ کر خاک میں ملتے ہیں ستارے اس کے
٭
اب ہمیں آنکھ اٹھا کر نہیں تکتا وہ شخص
کتنے مضبوط مراسم تھے ہمارے اس کے
٭
جس تیقن سے جو لکھنا تھا نہیں لکھا گیا
آسماں کاٹ کے مٹی پہ زمیں لکھا گیا
٭
میری پیشانی دمکتی ہے ستاروں سے سوا
تیرے ہاتھوں سے جہاں حرفِ یقیں لکھا گیا
٭
خواب اور خواب کا فسوں نہیں کچھ
آنکھ کھل جائے تو جنوں نہیں کچھ
٭
حسن کہتا ہے بات کر مجھ سے
عشق کہتا ہے میں کہوں نہیں کچھ
٭
کچھ نہیں قیل و قال میں اے دوست
مست رہ اپنے حال میں اے دوست
٭
زندگی اس کا ذکر سنتے ہی
آ گئی اشتعال میں اے دوست

حصہ