سوشل میڈیا: منصوبہ بند جنسی تشدد اسکینڈل

137

مجھے یاد ہے پچھلے دو سال میں جس طرح 14فروری ( ویلنٹائن ڈے) کو نیو کراچی سے لے کر ڈیفنس تک ہر جانب سرخ رنگ میں رنگا دیکھتا تو خیال آتا تھا کہ یہ گزرتے وقت کے ساتھ سیلاب کس طرح تھمے گا۔لیکن امسال عدالت عظمیٰ کی جانب سے ویلنٹائن ڈے کے حوالے سے ٹی وی چینلز پر سخت پابندی نے 14فروری کے رنگ کو ہر جانب پھیکا کر ڈالا۔ اس سے مجھے ایک بار پھر احمد جاوید صاحب کی بات یاد آئی جب اُن سے سوال کیا گیا کہ اس الحادی تہذیب کو روکنے کا کیا طریقہ ہو سکتا ہے تو اُنہوں نے پہلی بات یہی کہی کہ ’’قوت نافذہ ‘‘اس کے لیے اشد ضروری ہے ۔یہ پیمرا و عدالت کی قوت نافذہ ہی تھی جس نے امسال چودہ فروری کو اُس طرح سرخ رنگ میں نہیں رنگنے دیاجیسا کہ کم از کم میں نے پچھلے سالوں میں محسوس کیا تھا۔سوشل میڈیا پر بھی ویلن ٹائن ڈے کی گونج کوئی بہت زیادہ پرزور نہیں محسوس ہوئی اس کے مقابلے میں ’حیا ء ڈے ‘ پر مبنی پوسٹ اور ہیش ٹیگ کے اثرات مقابلتاً زیادہ نظر آئے ۔
سوشل میڈیا پر اس ہفتے بھی نئے موضوعات اور مباحث کا سلسلہ جاری رہا۔ایک بات تو یہ بھی محسوس ہوتی ہے کہ لوگوں کو ہر موضوع پرکچھ نہ کچھ بات کرنے کی عادت سی ہو گئی ہے ، رائے ہو یا نہ ہو، نظریاتی پس منظر کچھ بھی ہو، مطالعہ ہو یا نہ ہو، کاپی پیسٹ کلچر اور فلاسفر بننے کے عمل اور پوسٹ پر لائک اور شیئرنگ کے غیر محسوس نشے نے مسائل بڑھائے ہیں ،کم نہیں کیے۔پھر اگر نیچے کمنٹ میں کوئی اصلاح کرنا چاہے یا کچھ اعداد و شمار پر مبنی حقائق پیش کرکے حقیقت سمجھانے کی کوشش بھی کرے تو برداشت نہیں ہوتا اور ڈیلیٹ اور بلاک کے آپشن استعمال کر لیے جاتے ہیں،پھر یہی نہیں بلکہ فخر سے بتایا جاتا ہے کہ میں یہ کام کر رہا ہوں، یعنی اپنی فرینڈ لسٹ کی چھانٹی کر رہا ہوں۔بہر حال یہ تو خود ایک تفصیلی موضوع ہے اس پرپھر بات کریں گے ۔سماجی میڈیا پر گفتگو کے دو بنیادی تناظر ہوتے ہیں جن میں پہلا تو یہ ہے کہ آپ خود سے کسی ٹھہرے ہوئے پانی میں پتھر پھینک کر اُبال پیدا کریں اور کسی بحث کا آغاز کریں ۔اس میں مخصوص ایجنڈے کو لے کر چلنے والوں کا بھی ہاتھ شامل ہوتا ہے بہت کم ایسی پوسٹ ہوتی ہیں جو فطری طور پر موضوع بنتی ہیں۔جیسا کہ ِاس تازہ مثال سے جاننے کی کوشش کریںگے ۔ٹوئٹر پر ایک ہیش ٹیگ MosqueMetooکے ساتھ ایک ٹوئٹ کا سلسلہ شروع ہوا، جو دیکھتے ہی دیکھتے گذشتہ روز واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ تک جا پہنچا۔مونا ایلتھاوے ، مصر سے تعلق رکھنے والی ایک مصنفہ نے حج کے دوران ’جنسی تشدد‘ کے واقعہ کو موضوع بنا کر بات کا آغاز کیا۔واشنگٹن پوسٹ کے مطابق پھر ایک پاکستانی خاتون سبیقہ خان نے اس ہیش ٹیگ کے ساتھ ایک پوسٹ ڈالی اور اپنے ساتھ دوران حج ( طواف) ہونے والی کسی جنسی تشدد کا واقعہ پوسٹ کیا، اس کے بعد تو پھر بقول واشنگٹن پوسٹ ، خواتین کو زبان مل گئی اور وہ پوسٹ کوئی تین ہزار مرتبہ شیئر ہوئی طویل مباحث کا حصہ بنی۔انڈین ہیرالڈ، بی بی سی سمیت خوب ڈھول پیٹا جا رہا ہے۔

“My entire experience at the holy city is overshadowed by this horrible incident”
Countless women said they have faced similar encounters
“The holiest place on Earth disgraced by human beasts”

یہ جملے کافی ہیں بات سمجھانے کے لیے ، ترجمہ کی ضرورت نہیں ۔
میں نے جب ایک پاکستانی خاتون کا اس ٹوئیٹ کے فروغ میں کردار دیکھا تو موصوفہ کی فیس بک آئی ڈی تک رسائی حاصل کرنا ضروری سمجھا ۔https://www.facebook.com/bicayyy
جب اس آئی ڈی پر پہنچا تو کور پیج دیکھ کر ہی جھٹکا لگا جس میں ’’یاد مشال‘‘ کے عنوان سے مشال خان کی تصویر فریم میں ایک گلاب کے پھول کے ساتھ ،موصوفہ کی اُس سے دلی عقیدت کا اظہار کرنے کو کافی تھی اور مجھے یہ سمجھنے میں لمحہ بھی نہیں لگا کہ یہ خاتون کی آئی ڈی کس قبیل سے تعلق رکھتی ہیں۔ آئی ڈی کا مکمل جائزہ لینے سے یہ بات بھی سامنے آئی کہ گو کہ ’’فیک آئی ڈی ‘کے کچھ بنیادی شواہد اس میں موجود تھے لیکن لوگوں کے کمنٹس دیکھ کر یہ بات بھی سامنے آئی کہ جانب درپردہ یہ کوئی معمولی یا عام خاتون نہیں ۔سوشل میڈیا کے ایک مخصوص دائرے میں یہ موضوع زیر بحث لایا جا چکا ہے ۔مونا کے احساسات واشنگٹن پوسٹ نے یوں رپورٹ کیے ہیں کہ ’’1982میں جب وہ 15سال کی تھیں تو اپنے والدین کے ساتھ دوران حج اُنہیں ایسے کسی ’جنسی تشدد‘ کا سامنا رہا ،اُن کا کہنا ہے کہ حادثاتی طور پر اور جان بوجھ کر کیے جانے والے عمل میں وہ فرق سمجھتی ہیں ۔اُن کا کہنا ہے کہ اُنہوں نے اپنے جسم کے تحفظ کے لیے حجاب بھی شروع کیا لیکن ،نو سال تک وہ حجاب اپنانے کے تجربے کے دوران وہ یہ بیان کرتی ہیں کہ جنسی درندوںکو اس سے مطلب نہیں ہوتا کہ آپ کا جسم کھلا ہے یا چھپا ہے ۔پھر میں نے اس پر بات کرنا شروع کیا تو مجھے ایک مرتبہ ایک مصر کی خاتون نے توجہ دلائی کہ ایسی باتیں نہ کرو اس کے نتیجے میں مسلمانوں کو لوگ برا سمجھیں گے تو میں نے جواب دیا کہ میرے کہنے سے نہیں بلکہ اُن مردوں کی وجہ سے مسلمانوںکو برا سمجھا جائے گا جنہوں نے ایسا کیا۔اس کے بعد پھر مصر کے ایک ٹی وی شو میں یہی موضوع میں نے اٹھایا،پھر گذشتہ سال بھی حج کے موقع پر میں نے کئی ٹوئیٹ کر کے مسلم خواتین کو اس حوالے سے متنبہ کرنے کے لیے یہی کام کیا۔جس کا مقصدمردوں کو احساس دلانا تھا کہ عورت ایک احترام اور عزت و عفت رکھنے والی جنس ہے ۔میری تجویز ہے کہ اس کو روکنے کے لیے امام کعبہ اپنے خطبہ میں اس موضوع پر مرد حضرات کو توجہ دلائیں‘‘۔اس وقت یہ موضوع سوشل میڈیا میں مخصوص طبقات کے ہاتھوں گھاس میں پانی کی مانند سرایت کر رہا ہے ،جواب دینے والے لوگ کم ہیں ، مرد حضرات دفاعی پوزیشن اختیار کیے ہوئے ہیں۔شاہنواز فاروقی کہتے ہیں کہ فی زمانہ عورت کو سرمایہ دارانہ نظام نے معاشرے میں ’سیکس سمبل‘ کے طور پر متعارف کروا کر رکھا ہے ۔ایسے میں جب تمام ترذرائع ابلاغ کی پوری کوشش یہی ہو کہ کسی طرح عورت کو زیادہ سے زیادہ نمایاں کر سکے تو اُس کے نتائج یہی برآمد ہونے ہیں ۔اس موضوع پر اگلی اقساط میں تفصیل سے بات کریں گے ۔
یہ تو پہلی مثال تھی کہ جس میں بتایا گیا کہ کس طرح موضوعات لانچ کیے جاتے ہیں۔ اسی طرح سماجی میڈیا پر کچھ تو مباحث کسی مخصوص واقعہ کے تناظرمیں پیدا ہوتے ہیں جیساکہ پی ایس ایل کی لانچ ہو رہی ہو ، لودھراں میں تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین کی خالی ہونے والی نشست پر ہونے والے ضمنی الیکشن اور اس کے حیران کن نتائج ہوں، عاصمہ جہانگیر کی اَچانک طبعی موت پر تعزیت اور لعن طعن ہویا اُن کی آخری رسومات پر کڑے تبصرے ہوں، سپریم کورٹ کے ایکشن ، بیانات ، خط و کتابت سے لے کر سانحہ بلدیہ کے ملزمان پر فرد جرم عائد ہونے کے اہم واقعات ہوں، سب کے حوالے سے سماجی میڈیا پر ہونے والی گفتگو اِن متعلقہ واقعات کے تناظر میں ہوتی ہے ۔اسی طرح ٹوئٹر جیسے مقبول سماجی رابطوں کی سائٹ پر بھی ٹرینڈ کا ایک سلسلہ ہوتا ہے ،جو دنیا کے مختلف حصوں میں ہونے والے سرفہرست موضوعات کو ٹپ ٹرینڈ کی صورت بتاتا ہے ۔اس تحریر کے دوران ہی ٹوئٹر ٹرینڈ پر اچانک پاکستان کے ریجن سے کوئی پچاس ہزار ٹوئیٹس کے ساتھ ایک ٹرینڈ مجھے متوجہ کرگیا اور اس تحریر کے لیے پلان کیے گئے سارے موضوعات کی ترتیب بدل گئی ۔فوراً اُس کی تلاش میں مزیدمعلومات جمع کیں تو یہی فیصلہ کیا کہ بات یہیں سے شروع کی جانی چاہیے ۔ٹوئٹر پر عالمی سطح پر اور امریکہ کی رینج میں بھی یہی موضوع ’’گن ریفارم ناؤ،GunReformNow، نکولس کروز کے عنوان سے جبکہ پاکستان میں ’فلوریڈا اسکول شوٹنگ‘کے نام سے ٹرینڈ لسٹ میں شامل تھا۔ اسی طرح سماجی میڈیا پر اس واقعہ کا منظر نامہ اور تاثرات بیان ہوتے نظر آئے۔ساتھ ہی اس خونی واقعہ کی ویڈیو بھی یوٹیوب پر وائرل ہوچکی تھی۔اب واقعہ کیا ہوا اس کی تفصیل بھی سماجی میڈیا کی زبانی آپ تک پہنچا دیتے ہیں ۔
معروف امریکی ابلاغی ادارے سی این این کے ٹوئٹر اور یوٹیوب اکاؤنٹ میں موجودرپورٹنگ کے مطابق ،امریکی ریاست فلوریڈا کے ایک معروف ہائی اسکول ’مارجری اسٹون مین ڈگلس ہائی اسکول‘ ، میں یہ خونی واقعہ پیش آیا۔اس اسکول میں 3000طلبہ و طالبات زیر تعلیم ہیں۔ ایک 19سالہ مقامی نوجوان نکولس کروز نے اسکول میں داخل ہو کر اندھا دھند فائرنگ کر کے 17طلبہ و طالبات کو موت کے گھاٹ اتار دیا، جبکہ15زخمی ہوئے۔مقامی پولیس ، ایف بی آئی و دیگر اداروں نے مجرم کو جائے وقوعہ سے رنگے ہاتھو ں گرفتار کیا۔اُس کے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ کا جائزہ لینے پرجو باتیں سامنے آئیں اُن میں اُس کی اسلحہ سے محبت اور اُس کااستعمال سر فہرست تھا۔اُس کے سماجی میڈیا اکاؤنٹس پر موجود اُس کی تصاویر اور تاثرات بہت ساری چیزوں کی جانب اشارہ کر رہے تھے ۔خصوصاً جب اُس نے یہ کمنٹ ڈالا کہ ’’ جلد ہی میں ایک پروفیسشنل اسکول شوٹر بن جاؤں گا‘‘۔یہ کمنٹ دیکھ کر ایک مقامی شخص نے ایف بی آئی کو متوجہ کیا لیکن جب تک ایف بی آئی اس معاملے کو سنجیدہ لیتی اور پھرتی دکھاتی ، تاخیر ہو چکی تھی ۔یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ امریکہ میں فوری طور پر ایسے مجرموں کو جو کہ سفید فام ہوں، غیر مسلم ہوں تو فوراً ذہنی مریض قرار دینے کی کوشش کی جاتی ہے یا دہشت گردی ، انتہا پسندی جیسے الفاظ سے مکمل اجتناب نظر آتا ہے ۔اتفاق دیکھیے کہ فلوریڈا کی ریاست میں یہ واقعہ ہوا دوسری جانب واشنگٹن میں امریکی دفاعی ادارے نیشنل سیکیورٹی کے ہیڈ کوارٹر پر بھی ایک واردات ہوئی جس میں ایک گاڑی نے تمام رکاوٹیں عبور کر کے عمارت میں گھسنے کی کوشش کی جس میں اہلکاروں کی فائرنگ سے یہ کوشش ناکام بنا دی گئی ۔دو گاڑی سوار گرفتار جبکہ ایک زخمی ہو گیا۔امریکی دفاعی ادارے و ابلاغی ادارے گرفتار ہونے والوںکے بارے میں کچھ نہیں بتا رہے البتہ اس واقعہ کو زیر تحقیق رکھ کر اسے دہشت گردی سے جوڑنے سے انکار کر دیا، بلکہ ایکسیڈنٹ قرار دے دیا۔امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے مرنے والوں کے لیے دکھ کا اظہار پر مبنی بیان بھی جاری ہواور اپنے اسکولوں کو تحفظ دینے اور ذہنی امراض کے خاتمے کے حوالے سے اپنی اولین ترجیحات کا اعادہ کیا۔دوسری جانب امریکی میڈیا و سوشل میڈیا پر چیخ چیخ کر تسلسل سے پچھلے واقعات کو یاد دلاتا رہا جس کے مطابق یہ گذشتہ12مہینوں میں امریکہ کے اندر کھلے عام قتل عام کا 18واں واقعہ قرار دیا گیا ۔اس کے ساتھ ہی امریکہ میں اسلحہ کے قانون پر دوبارہ بحث چھڑ گئی۔امریکہ میں ہینڈ گن کے لیے 21سال کی شرط لازم ہے ، جبکہ 18سال کی عمر میں رائفل خریدی جا سکتی ہے ۔نکولس کروز نے 19سالہ امریکی سفید فام نے ایک اسلحہ کی گن سے 18سال کی عمر میں امریکی قانون کے مطابق ایک رائفل AR-15خریدی تھی۔(یہ ماڈل اسپورٹنگ رائفل میں شمار کیا جاتا ہے )۔سوشل میڈیا پر عوامی غم و غصہ کا اندازہ یوں کریں کہ گذشتہ سال اکتوبر امریکہ میں ’کنڈر جوائے ایگز‘ پر پابندی لگا دی گئی ۔یہ امریکہ سے لے کر پاکستان تک بچوں کی ایک مقبول چاکلیٹ ہے جو کہ ایک انڈے کے خول میں ہوتی ہے اور اس کے ساتھ بچوں کے لیے ایک کھلونا بھی شامل ہوتا ہے ،جسے بچے انتہائی شوق سے رکھتے ہیں۔امریکہ میں کنزیومر فود سیفٹی ایکٹ کے تحت یہ کہہ کر کہ کسی غذائی چیز کے ساتھ غیر غذائی شے (کھلونا) نہیں بیچا جا سکتا، دوسری جانب اسکولوں میں جو لوگ اسلحہ لے کر گھس جاتے ہیں اور خونی ہولی کھیلتے ہیں اُس کے لیے کوئی قانون نہیں ؟

حصہ