نئے شاعر۔۔۔۔ نیلو فر افضل

117

اسامہ امیر
جواں فکر آواز نیلو فر افضل 7 نومبر1995 لاہور میں پیدا ہوئیں، حال ہی میں لاہور انجینئرنگ یونیورسٹی سے جیالوجیکل انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی ہے اور اس ادارے کی ادبی تنظیم کی سرگرم رکن بھی ہیں۔ یونیورسٹی کی سطح پر ہونے والے ادبی مقابلوں میں بھی کافی سرگرم رہتی ہیں۔ کم عمری میں ہی شاعری پڑھنے اور شعر کہنے کا شوق ہوا۔ انجینئرنگ یونیورسٹی کے ماہانہ ادبی رسالے اور سالانہ شائع ہونے والے ادبی میگزین ایکو کی مدیر بھی ہیں۔ آپ غزل و نظم دونوں میں دیگر شعرا شاعرات سے مختلف ہیں اور خاصا متاثر کن بھی آپ کے اشعار میں نسوانیت کا عنصر کم پایا جاتا ہے حالانکہ شاعرات کا بچاؤ اس سے ممکن نہیں یہ بڑی خوش آئیند بات ہے، چلتے ہیں کلام کی طرف اور ان میں چھپے معانی تلاشتے ہیں۔
پرانی ناؤ کے تختے پہ دل بناتے ہوئے
میں رو پڑوں نہ کوئی خواب گنگناتے ہوئے
٭
یہ میں تمنا تمنا پگھل نہ جاؤں کہیں
دئیے کی بجھتی ہوئی لو سے شرم کھاتے ہوئے
٭
مٹتے ہوئے حروف کو،پڑہنے کی خوکیا کریں
سطریں کریدتے ہوئے، پوریں لہو کیا کریں
٭
نو واردانِ عشق سے کہہ دیجیے کہ دشت میں
وحشت سے قبل ریت سے جا کر وضو کیا کریں
٭
انجیلِ دل میں درج ہوں آیاتِ نقرئی تو پھر
ہم بھی سخن کے باب میں ،کچھ ہاؤ ہو کیا کریں
٭
تمام رات مہکتا تھا اسکی ٹیبل پر
گلابِ تازہ کی خوشبو میں فروری کا شور
٭
شجر کی تابِ سماعت پہ داد بنتی ہے
یہ سنتا آیا ہے صدیوں سے آدمی کا شور
اے ناخداؤ سمندر کو مت سنا دینا
ہماری ناؤ میں اسباب کی کمی کا شور
٭
مقتلِ دخترِکم نسل سے اٹھتا تھا دھواں
مدفنِ زوجئہِ والی میں بڑی برف پڑی
٭
میں نے ڈالا جو کوئی واسطہ انگاروں کو
یار کل رات انگیٹھی میں بڑی برف پڑی
٭
کماں سے تیر چلا اور صبا نے چپکے سے
ہلا کہ ہاتھ پرندے کو ہوشیار کیا
٭
ہمی نے صحنِ چمن میں اڑائی خاکِ وفا
ہمی نے دشت میں پھولوں کا کاروبار کیا
٭
ہم انتظامِ بہاراں میں غرق تھے اس دم
جب اْس نے حیلئہ اسباب ِانتشار کیا
٭

ہمارا اسکول

ایمن سلیم
آج کل جہاں چھوٹی چھوٹی عمارتوں میں اسکول ہیں وہاں ہمارا اسکول ایک بڑے گراونڈ کے ساتھ ایک نمایاں حیثیت رکھتا ہے، جی ہاں، ہمارا اسکول پی ای سی ایچ ایس ایجوکیشن فاؤنڈیشن میں ایک بہت بڑا گراونڈ ہے جہاں نہ صرف اسمبلی اوربریک کھلی فضا میں ہوتی ہے بلکہ پی ٹی اور اسپورٹس ڈے اور دوسرے ایونٹس کے لئے بھی کہیں اور نہیں جانا پڑتا۔
21دسمبر کو ہمارے اسکول میں اسپورٹس ڈے تھا صبح ہی سے بچے بہت پرجوش تھے 9بجے کھیلوں کے مقابلے کا باقاعدہ آغاز ہوا جس میں بوری ریس، اسپون ریس، اوردوسری مختلف ریس کے ساتھ تھرو بال اور رسہ کشی کا مقابلہ بھی ہوا جس میں بچوں کا جوش وخروش قابلِ دید تھا سب بچوں نے اپنی اپنی ٹیموں کی حوصلہ افزائی کی ۔
آخر میں جیتنے والے والے بچوں میں میڈم نے میڈل اور سرٹیفکٹ تقسیم کیے اور یہ ایک بھرپور تقریب دعائیہ کلمات کے ساتھ اختتام کو پہنچی۔

حصہ