آئیے مسکرائیے

265

ثروت یعقوب
٭ استاد: ڈانٹتے ہوئے۔ کلاس میں بیٹھ کر باتیں کرتے شرم نہیں آتی؟
شاگرد: نہیں جناب میں تو سو رہا تھا۔ مجھے خبر نہیں کہ باتیں کون کر رہا تھا۔
٭٭٭
٭ ڈاکٹر پہلوان سے: آپ کا کندھا کیسے اتر گیا۔
پہلوان: او جی غلطی سے اپنے بچے کا بستہ اٹھا لیا تھا۔
٭٭٭
٭ بیٹا: ابا جان اگر میں پاس ہو جائوں تو مجھے ایک نیا سوٹ سلوا کر دیجیے گا۔
باپ: اور اگر تم فیل ہو گئے تو۔
بیٹا: پھر آنسو پونچھنے کے لیے ایک رومال۔
٭٭٭
٭ استاد (طالب علموں سے): کل میں نے آپ لوگوں کو دوست کے نام خط لکھیں کے لیے کہا تھا۔ جو لکھ لائے ہوں وہ لے آئیں۔
جب ادریس احمد کی باری آئی تو ادریس احمد نے کہا۔ سر میں نے خط تو لکھ لیا تھا مگر میں نے اسے لیٹر پکس میں ڈال دیا۔
٭٭٭
٭ لطیف اپنے دوست حنیف سے: آج کل تو پانی بھی خالص نہیں ملتا۔
حنیف: لطیف سے: (حیران ہو کر) وہ کیسے؟
لطیف: (حنیف سے) پانی سے بھی بجلی نکال لی جاتی ہے۔
٭٭٭
٭ ایک شخص ہوٹل میں چائے پینے کی غرض سے گیا۔ جب چائے آئی تو اس نے چائے میں کچھ پڑا ہوا دیکھا۔ اس نے بیرے کو بلایا اور کہا ادھر آئو چائے میں کیا ہے؟
میں سب کیڑوں کے نام نہیں جانتا حضور، بیرے نے بڑے ادب سے جواب دیا۔
٭٭٭
٭ نوکر: (مالک سے) آپ کی خدمت کرتے کرتے تو اب میرے بال بھی سفید ہو گئے ہیں۔ براہِ کرم اب تو میری تنخواہ کچھ بڑھا دیں۔
مالک: یہ لو پانچ روپے اور بازار سے جا کر بال کالے کرنے کا تیل لے آئو۔
٭٭٭
٭ ایک درخت کے نیچے چند دوست بیٹھے باتیں کررہے تھے کہ ایک آدمی نے آکر کہا کہ تم میں سب سے زیادہ سست اور کاہل کون ہے؟ میں اسے انعام دوں گا۔
سب لڑکوں نے ہاتھ اٹھایا لیکن ایک لڑکا ویسے ہی بیٹھا رہا تو اس آدمی نے کہا۔ مجھے لگتا ہے کہ تم ہی سب سے زیادہ سست اور کاہل ہو یہ لو تمہارا انعام پانچ روپے۔ اس ہر لڑکے نے کہا۔ برائے کرم آگے بڑھ کر میری جیب میں ڈال دیں۔

حصہ