ٹرمپ کا تباہ کن اعلان

625

ڈاکٹر محمد اقبال خلیل
ارض فلسطین کے مقدس ترین تاریخی شہر یروشلم‘ جس میں بیت المقدس واقع ہے‘ کو ریاست ہائے امریکا کی سفارت خانے کی منتقلی کا اعلان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایک ایسا سیاہ کارنامہ ہے جس نے پوری دنیا میں تہلکہ مچا دیا ہے۔ یہ ڈونلڈ ٹرمپ کی کوئی انہونی حرکت نہ تھی بلکہ اس نے سوچ سمجھ کر اور پوری تیاری سے یہ کام کیا ہے۔ اس نے انتخابی مہم کے دوران اس کا عندیہ دیا تھا اور امریکی یہودی لابی سے یہ وعدہ کیا تھا۔ اس نے یہ کہا تھا کہ اس کے پیشروئوں نے جو کام نہیں کیا تھا وہ کرکے دکھائے گا اور اس نے کر دکھایا۔ اس کو یہ بھی معلوم تھا کہ اس کا ردعمل کیا ہوگا اور اس سے نمٹنے کی تیاری بھی وہ اور اس کی ٹیمِ پہلے سے کر چکی ہے۔
بیت المقدس دنیا کے اہم ترین مذہبی مقامات میں شامل ہے جس کو دنیا کے 3 عظیم مذاہب مقدس ترین مقام سمجھتے ہیں۔ مسلمانوں کا یہ قبلۂ اوّل ہے اور تین مقدس ترین مساجد اور مقامات میں شامل ہے جہاں ایک نماز کا ثواب 50 ہزار نمازوں کے برابر ہے اور جس کی زیارت کے لیے سفر کرنے کی تاکید کی جاتی ہے۔ عیسائی مذہب کے ماننے والوں کے لیے بھی یہ بہت اہم مقام ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام یسوع مسیح نے اپنی زندگی یہاں بسر کی اور ان کے تمام مقدس مقامات یہاں پر یا اس کے قریب واقع ہیں۔ یہودی تو اس کو اپنا مقدس ترین مقام گردانتے ہیں اور اپنی مذہبی رسوم کی ادائی کے لیے جن مقامات پر جاتے ہیں‘ وہ اس شہر میں واقع ہیں۔ وہ جن پیغمبروں کو مانتے ہیں ان کا مسکن اور دارالحکومت یہی شہر رہا ہے۔ اس طرح تینوں مذاہب کے ماننے والے اس شہر کی تقدیس اور عظمت کے قائل اور اس پر قبضے کے خواہش مند ہیں۔ ایک زمانے میں مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان اس شہر پر قبضے کے لیے لڑائیوں کا ایک طویل سلسلہ رہا ہے جس کا آغاز 638ء میں خلیفہ دوم حضرت فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور سے ہوا۔ ان کے بعد کے ادوار میں ان لڑائیوں کو عیسائیوں نے صلیبی جنگوں کا نام دیا۔سلطان صلاح الدین ایوبی کا نام بھی اسی دور کی تاریخ کا ایک بڑا نام ہے جنہوں نے بیت القدس کی آزاری اور تحفظ کے لیے یورپی عیسائی اقوام سے مسلسل جنگیں لڑیں۔ اس زمانے میں یہودی قوم پوری دنیا میں منتشر تھی اور ان کی کوئی عسکری اور فوجی حیثیت نہ تھی اس لیے ان کا کوئی کردار صلیبی جنگوں میں نہ تھا۔ البتہ جنگ عظیم دوم کے بعد یہودیوں نے منظم قوت کی صورت اختیار کی اور جنگ کے بعد کی شکست و ریخت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بزور طاقت فلسطین پر قبضہ جمایا اور مملکت اسرائیل وجود میں آیاس کی مزاحمت اس وقت سے اہلِ فلسطین کر رہے ہیں۔
1967ء کی جنگ میں بدقسمتی سے مسلمان عرب ممالک کو ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا اور مصر‘ شام‘ عراق‘ اردن کی فوجوں کو شکست فاش دیتے ہوئے ایک بڑے رقبے پر اسرائیل قابض ہوگیا۔ ان فوجی کامیابیوں میں اہم ترین فتح بیت المقدس اور مشرقی یروشلم شہر کی تھی جو اس وقت اردن کے قبضے میںتھا اس کے بعد سے اب تک اسرائیل اس پر قابض ہے لیکن اقوامِ عالم نے کبھی بھی اس غاصبانہ قبضے کو قانونی طور پر تسلیم نہیں کیا اس طرح دنیا کا یہ قدیم ترین فلاحی شہر اس وقت بھی ایک انتہائی حساس فلیش پوائنٹ کی حیثیت رکھتا ہے۔۔ تقریباً پانچ ہزار سالہ پرانا شہر 44 مرتبہ حملہ آوروں کے قبضے میں آچکا ہے اس پر 52 حملے ہوئے ہیں اور 2 مرتبہ یہ مکمل طور پر تباہ و برباد ہوا ہے۔ خلافتِ عثمانیہ کے دور میں اس شہر کا انتظام مسلمانوں کے ہاتھ میں تھا لیکن اس میں عیسائی‘ یہودی اور آرمینی آبادی حالت امن میں موجود تھیں اور اپنی مذہبی رسومات بلا روک ٹوک ادا کرتی تھیں۔ پہلی جنگ عظیم کے بعد جب ترکوں کو زوال آگیا تو پورا عرب خطہ برطانیہ کی عملداری میں چلا گیا لیکن پھر بھی مجموعی طور پر شہر مسلم کنٹرول میں رہا البتہ یہودی آبادی میں بتدریج اضافہ ہوتا چلا گیا۔ ان میں ایسے بوڑھے یہودی بھی شامل تھے جو یہاں تدفین کے لیے آئے تھے اس کے ساتھ ہی پرانے شہر کی دیواروں سے باہر بھی آبادی کا سلسلہ شروع ہوگیا اور چند ہی برسوں میں ایک نیا شہر آباد ہوگیا۔
11 ستمبر 1917ء کو یہ شہر باقاعدہ طور پر عثمانیہ انتظامیہ سے برطانوی کنٹرول میں آگیا اور برطانوی جنرل ننگے پائوں شہر میں داخل ہوا۔ برطانوی عہد مئی 1949ء تک جاری رہا۔اس دوران پوری دنیا سے یہودی النسل افراد بیت المقدس اور پورے فلسطینی خطے میں منتقل ہوتے رہے اور اس کے مختلف علاقوں پر قابض ہوتے رہے۔ فلسطینی آبادی نے مزاحمت کی اور 1920 سے 1990 تک ان کی باقاعدہ جنگیں بھی ہوتی رہیں جس میں دونوں طرف سے جانی نقصان بھی ہوتا رہا لیکن یہودی نقل مکانی کا سلسلہ جاری رہا جو بالآخر 1948ء میں ایک بڑی عرب یہودی جنگ پر منتج ہوا جن میں فلسطینیوں کے علاوہ دیگر پڑوسی عرب ممالک کی افواج اور رضا کاروں نے بھی حصہ لیا۔ اس دوران یہودی آباد کار ایک منظم فوج کی شکل اختیار کر چکے تھے اسرائیلی مملکت کے قیام کے لیے کوشاں تھے اور ان کو کئی بڑی طاقتوں کی حمایت حاصل تھی جس میں امریکا بھی شامل تھا جو جنگ عظیم دوم میں جرمنی پر فتح حاصل کرنے کے لیے ایک بڑی عالمی طاقت کا روپ دھار چکا تھا۔ جنگ عظیم دوم کے دوران جرمنی کے ڈکٹیٹر ایڈولف ہٹلر نے بڑے پیمانے پر یہودیوں کا قتل عام کیا جس کو ’’ہولوکاسٹ‘‘ کا نام دیا جاتا ہے۔یہودی دعوئوں کے مطابق 6 لاکھ یہودیوں کو تہہ تیغ کیا گیا حالانکہ اس سے پہلے جرمنی بھی دیگر یورپی اقوام برطانیہ‘ فرانس اور روس کی طرح فلسطین میں اسرائیلی مملکت بنانے کا حامی تھا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے جن حالات میں بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت بنانا رسماً تسلیم کیا ہے وہ عرب ممالک کے لیے بہت دگرگوں حالت کا پیش خیمہ ہے۔ یہ ممالک تو پہلے ہی عسکری طور پر اسرائیل سے لڑنے کے قابل نہ تھے۔ عراق پر امریکا قابض ہے۔ شام داخلی طور پر شدید خانہ جنگی سے دوچار ہے۔ لیبیا کی حالت بھی اس سے کچھ زیادہ مختلف نہیں ہے۔ مصر میں امریکی کاسہ لیس حکومت جنرل الفتاح السیسی کی قیادت میں قائم ہوچکی ہے اور اخوانی منتخب صدر ڈاکٹر مرسی جیل میں ہیں۔ سعودی عرب بھی مکمل طور پر امریکی چنگل میں پھنس چکا ہے اور درپردہ اسرائیل سے تعلقات استوار کر چکا ہے۔ ایران سے تعلق یا دشمنی کی معیار پر عرب دنیا تقسیم در تقسیم ہوچکی ہے۔ حزب اللہ کی جنگجو تنظیم جس نے لبنان میں اسرائیلی فوج کو ناکوں چنے چبوائے تھے‘ اب ایک شیعہ فورس کے طور پر شام میں حکومت مخالف گروہوں سے برسر پیکار ہے۔ غزہ کی حماس تحریک بھی مصری فوج کے دبائو میں اور دیگر عوامل کی بنیاد پر جنگی صلاحیت سے محروم ہوتی جارہی ہے اور فلسطینی صدر محمود عباس کی انتظامیہ کے ساتھ مصالحت اختیار کر چکی ہے۔ ان حالات میں اسرائیل کے لیے ایک دور میں موقع تھا کہ وہ اپنے خواب کی تکمیل کر سکے۔ ویسے تو اس نے 1980ء ہی میں یروشلم کو دارالحکومت بنانے کا اعلان کر دیا تھا اور 1980ء میں اس کا اعادہ بھی کیا تھا‘ 1981ء میں سعودی عرب کے شاہ فہد نے ایک امن منصوبہ پیش کیا تھا (وہ اس وقت ولی عہد تھے) جس میں اسرائیل کو تسلیم کرنے کے معاوضے کے طور پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام جس کا دارالحکومت یروشلم ہو اور 1967ء میں فتح ہونے والے علاقوں کی بازیابی بشمول مشرقی یروشلم جیسے مطالبات شامل تھے‘ لیکن دیگر عرب قائدین نے جن میں صدام حسین‘ حافظ الاسد اور معمر قذافی شامل تھے‘ اس منصوبے سے شدید اختلاف کیا اور ریاض کی عرب لیگ کانفرنس میں شرکت سے انکار کردیا۔ اب سعودی عرب کا ایک اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلیمان اسرائیل سے تعلقات بڑھا رہا ہے اور اپنے ملک میں ایک انٹرنیشنل سٹی کے منصوبے میں اسرائیلی سرمایہ کاری میں دلچسپی رکھتا ہے۔ کویت‘ قطر‘ بحرین‘ متحدہ عرب امارات اور دیگر عرب ممالک بھی امریکی جال میں بند ہیں۔
حسب توقع ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان پر دنیا میں شدید ردعمل ہوا۔ خود امریکی حکومت میں اس پر اختلاف تھا اور وزیر خارجہ و وزیر دفاع اس وقت اس کے قائل نہ تھے۔ اقوام عالم بشمول روس‘ چین‘ برطانیہ‘ کینیڈا وغیرہ نے اس کو غیر ضروری اور اشتعال انگیز قرار دیا خود امریکی عوام اور میڈیا جو پہلے ہی ٹرمپ کے احمقانہ اقدامات سے تنگ ہیں اس قسم کا اعلان سننے کو تیار نہیں تھے۔ صدر ٹرمپ کے بارے میں یہ خیال زور پکڑتا جارہا ہے کہ وہ ذہنی مریض ہیں۔ انتخابی مہم کے دوران ان کی حریف ہیلری کلنٹن نے ان کو ذہنی مریض قرار دیا تھا۔
سابق صدر بارک اوباما نے‘ جو ایک سنجیدہ شخصیت کے مالک تھے‘ ٹرمپ کے بارے میں کہا تھا کہ وہ امریکی افواج کے سپریم کمانڈر بننے کے قابل نہیں ہیں۔ اب ان کے بارے میں ایک کتاب چھپی ہے جس میں 27 ماہرین نفسیات نے ان کی گفتگو اور حرکات و سکنات کی بنیاد پر ان کو ذہنی مریض قرار دیا ہے اور ان کے) میڈیکل چیک اپ کا مطالبہ کیا ہے لیکن صدر ٹرمپ کو جو کرنا تھا کر دیا اسلامی ممالک کی توانا آواز رجب طیب اردگان نے فوری ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسلامی سربراہی کانفرنس کا اجلاس ترکی میں طلب کر لیا اور جواب آں غزل کے طور پر یروشلم کو فلسطینی ریاست کا صدر مقام قرار دے دیالیکن امریکا کے خلاف جن سخت اقدامات اٹھانے کی ضرورت تھی اس سے گریز کیا گیا۔ پاکستانی حکومت پارلیمنٹ‘ سیاسی جماعتوں اور عوام نے بھی احتجاجی بیانات دیے ہیں اور جلسے جلوسوں کا سلسلہ جاری ہے لیکن جس طرح صہیونیوں نے ایک طویل منصوبہ بندی کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کیے اس طرح ٹھوس منصوبے کی کمی ہے۔

حصہ