سوشل میڈیا میں بیت المقدس کی گونج

602

یہ ہفتہ سوشل میڈیا پر عالمی سطح پر جہاں ایک جانب کرسمس کی تیاریوں کے ٹرینڈ بناتا نظر آیا تو دوسری جانب سوشل میڈیا پر مسجد اقصیٰ ، فلسطین، یروشلم ، بیت المقدس، یروشلم فلسطین کا دار الحکومت، کے عنوانات ( ہیش ٹیگ)سے پوری مسلم دنیا کا احتجاج ریکارڈ کراتا رہا۔سعید کرزون ، رام اللہ میں مقیم فلسطین کے ایک اہم سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ ہیں ، وہ کہتے ہیںکہ ’’لفظ یروشلم ، انفرادی طور پر مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فامرز پر کم و بیش کروڑوں مرتبہ پوسٹ ہوا ہے ۔ دنیا بھر میںنوجوان مسلمانوںنے اس حوالے سے بھرپور اور طاقتور ڈجیٹل رد عمل دیا ہے ۔‘‘اسی طرح عروب صبح ،اردن کے ایک سوشل میڈیا ٹرینر ہیں ، وہ بھی کہتے ہیںکہ’’ایسے جملے جیسے ‘Jerusalem the capital of Palestine’ یا ‘the eternal capital of Palestine’ اتنے مقبول رہے ہیں سوشل میڈیا کے تمام پلیٹ فارمز پر کہ اردن کے نوجوانوں نے اسرائیل اور اردن کے مابین گیس کے معاہدے کی تنسیخ کا مطالبہ کر دیا، جس پر اردن کی پارلیمنٹ نے اپنی جوڈیشل کمیٹی کو مذکورہ معاہدے پر نظرثانی کے لیے ووٹ دے دیا۔ساتھ ہی وہاں کے پارلیمینٹیرین نے اُس سڑک پر جہاں اسرائیلی ایمبیسی واقع ہے اُس سڑک کے نام کو ’’ فسلطین اسٹریٹ‘‘ کا نام دینے کا مطالبہ کیا ہے ۔ایسام بستانجی، عمان کی سٹی کونسل کے رکن ہیں ، انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنا حصہ ملانے کے ساتھ ساتھ عمان میونسپلٹی کو کہا ہے کہ امریکی ایمبیسی جس سڑک پر واقع ہے ،اُس سڑک کے نام کو ’’ العماویان اسٹریٹ‘‘ سے بدل کر ’’القدس العرب اسٹریٹ‘‘ کا نام کیا جائے۔ان کی دیکھا دیکھی سوشل میڈیا پر مصر کے سوشل میڈیا ایکٹیویسٹ خالد داؤد نے یہی مطالبہ مصر کی سیاسی جماعتوں کو قاہرہ میں یہی عمل کرنے کی جانب اُبھار اہے ۔یہ ساری تحریک سوشل میڈیا کی بدولت برپا ہوئی ہے جس کی ایک معمولی سی جھلک پیش کی گئی ہے ۔
برطانیہ سے لے کر موغادیشو تک، ترکی سے لے کر بنگلہ دیش تک مسلمانوں نے امریکی صدر ڈانلڈ ٹرمپ کے اعلان کا سخت محاکمہ جاری رکھا۔اسی طرح دُنیا بھر سے مسلمانوں کی جانب سے ٹرمپ اعلان کے بعد احتجاجی مظاہروں اور ریلیوں کی تصاویر کو بھی اچھی رسائی ملی ۔فلسطین میں جاری احتجاج خصوصاً بچوں پر یہودی افواج کے تشدد کی ویڈیوزبھی خاصی وائرل رہیں۔ امریکی و یورپی عیسائیوں کی جانب سے یہودیوں کی مخالفت پر مبنی پوسٹیں بھی سوشل میڈیا پر تواتر سے جاری رہیں۔اس ضمن میں نوٹ کرنے کی بات یہ ہے کہ وہ جو اپنے آپ کو لبرل، ملحد یا کسی بھی دین یا مذہب سے عدم تعلق کا برملا اظہار کرتے ہیں ، نہایت ڈھٹائی کے ساتھ بیت المقدس کو یہودیوں کے مذہبی مقام کی حیثیت سے اُن کی جاگیر گردانتے نظر آئے ۔ایک اور اہم بات آپ کے علم میں لانا مقصود ہے کہ جوابی کارروائیوں کا معاملہ یکطرفہ نہیں تھا ٹرمپ کے چاہنے والوں سمیت، یہود ی حضرات کے علاوہ آپ کو حیرت ہو شاید کہ کئی عرب حضرات بھی جوابی کارروائیوں میں مصروف نظر آئے۔آئیں ذرا ایک آدھ نظارہ کرلیں،پھر اس چکر کی تفہیم کرتے ہیں ۔حمزہ السلیم ، اسسٹنٹ پروفیسر کالج آف بزنس ا یڈمنسٹریشن ، پرنس سلطان یونیورسٹی، ریاض سعودی عرب سے تعلق رکھتے ہیں، اپنے آفیشل ٹوئیٹ اکاؤنٹ سے تحریر کرتے ہیں کہ ’’ اگر اسرائیل کے ساتھ امن ہو جائے اور ویزا و داخلہ میں آسانی ہو جائے تو اسرائیل سعودیوں کے لیے بہترین سیاحتی مرکز بن سکتا ہے ۔ قدرتی اور ترقی کے اعتبارسے یہ خدا کے سب سے خوبصورت ملکوں میں سے ہے ۔ اس میں مشرقی ومغربی خوبصورتی اور قدیم و جدید تہذیبوں کا حسین امتزاج ہے ، جب ہم اسرائیل کے ساتھ امن میں آجائیں گے تو اُس کی تضحیک کا وجود ختم ہو جائے گاتو حکومت اسرائیل کے خلاف کچھ برداشت نہیں کرے گی۔‘‘اسی طرح ایک اور سعودی صحافی سعود فوزان اپنی ٹوئیٹ میں لکھتے ہیں کہ
ـI am not here to defend the Jews, i.e. the Israelis, but truth be told… show me one Israeli who killed a single Saudi, and in return I can list 1000 Saudis who murdered their own kin with explosive belts by joining Al Qaida and ISIS.”
یہ تو دو ہی مثالیں دی میں نے ایسی رحجان ساز پوسٹیں ، اسرائیل نواز اور پلانٹڈ سعودی شہریوں کے(ویری فائڈ)اکاؤنٹ سے بھی ملیں گی جو اس بات کااظہار کرنے کے لیے کافی ہیں کہ اسرائیل (یہودی) اپنے کام میں ہر گام ، ہر محاذ پر لگے ہوئے ہیں ۔ ذہن سازی ، رائے سازی کے لیے ہر قسم کے لیے ہتھیار اور پلیٹ فارم کو تھاما ہوا ہے ۔ عرب ممالک میں ایسے پلانٹڈ افراد کس حد تک خطرناک ہو ئے ہیں اس کا ایک رُخ آپ کو دکھاتے ہیں۔
فلسطین کے حوالے سے ترکی کے صدر رجب طیب اردغان نے ماضی کی طرح موثر قائدانہ کردار ادا کیا اور ہر ہر موقع پر اسرائیل و امریکا کے خلاف موثر آواز بلند کی ، جوسوشل میڈیا پر خوب وائرل رہی۔اس میں اہم بات یہ ہوئی کہ دنیا بھر کے مسلم ممالک کی خاموشی اور صرف بیان بازی دیکھ کر اُنہوں نے آرگنائزیشن آف اسلامک کو آپریشن (OIC)کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا۔قبلہ اول کے تحفظ کے لیے آواز بلند کرنے کے ایک موثر فورم کی رپورٹنگ دیکھ کر ُدکھ کی بات یہ محسوس ہوئی کہ 57اسلامی ممالک کے سربراہان میں سے صرف 16سربراہان شریک ہوئے ، جبکہ اکثر عرب ممالک نے نمائندے بھیجنے پر اکتفا کیا، کوئتی سیاسی تجزیہ نگار آئید المنا کے مطابق ’’کچھ ممالک قطر کی وجہ سے اور کچھ امریکا سے اپنے تعلقات خراب نہ کرنے کی وجہ سے شریک نہیں ہوئے۔‘‘اجلاس روایتی مذمت اور اس جوابی اعلان کہ جس میں’ بیت المقدس کو فلسطین کا دار الحکومت کہا گیا‘سے زیادہ کچھ نہیں کر سکا ۔
حقیقت یہی ہے کہ اس وقت قبلہ اول کی اصل حفاظت تو گذشتہ سو سال سے فلسطین کے نہتے مسلمان ہی کر رہے ہیں جن کے پاس بڑی بڑی توپوں اور جدید ہتھیاروں کے مقابلے میں صرف زمین پر پڑے پتھر ہی ہیں ۔ایسی کیفیت کی منظر کشی کرتے ہوئے طارق حبیب اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ’’اللہ کی قسم۔اسرائیل اور امریکا نا تو کسی مسلم ملک کی فوج سے ڈرتے ہیں اور نا کسی اسلامی ایٹم بم سے ۔وہ خوف کھاتے ہیں تو صرف سنگ باری کرنے والے ان دیوانوں سے جن کی شہادت کی انگلی آنکھیں بند ہونے کے بعد بھی رب کی وحدانیت کی گواہ ہے۔اور ان کے عشق اور وفا کی گواہی مسجد اقصیٰ دیگی۔ انشاء اللہ ۔57 مسلم ممالک کی افواج کی موجودگی، ایٹم بم دستِ مسلم میں ہونے کے باوجود۔مسجد اقصیٰ ان پتھروں اور سنگ باری کرنے والوں کی وجہ سے ہی محفوظ رہی ہے۔باقی ترقی کرلو اور جدید اسلحہ جتنا مرضی جمع کرلو دل ،غیرت ایمانی سے خالی ہو تو اس طوائف کے جیسا ہی ہے جو اپنی عزت کی حفاظت کیلیے پستول رکھتی ہے۔‘‘جہاں ایک جانب یہ ایمانی ورژن پاکستانی صحافی برادری میں گردش کرتا رہا وہاں دوسری جانب کراچی کے ایک صحافی عثمان غازی نے اپنی وال سے پیش کیاچونکہ ہم نے ابتدا ء ہی سے سوشل میڈیا پر اس حوالے سے کیے جانے والے مختلف الخیال پہلوؤں کو موضوع بنایا ہے ،تاکہ قاری جان سکے کہ اس سوشل میڈیا کے ذریعے نظریات کا پرچار کیسے اور کس انداز سے کیاجاتا ہے ، اس لیے یہ نقطہ نظر بھی پیش کرنا ضروری تھا۔’’بالآخر مذہبی انتہاپسندوں نے بیت المقدس کا سودا کرلیا۔حماس خراٹے بھر رہی ہے، القاعدہ اور داعش کمبل اوڑھ کر سوگئے، طالبان بم بم کھیل رہے ہیں، مسلم دنیا کا فوجی اتحاد بغلیں بجارہا ہے اور ادھر بیت المقدس ہاتھوں سے جارہا ہے۔جہاد کے نام پر فراڈ کرنے والی ان تنظیموں نے مسلم دنیا کو جتنا نقصان پہنچایا ہے، 1400 سالوں میں اس کی نظیر نہیں ملتی، ان فراڈ تنظیموں سے پہلے فلسطین کاز کو کمیونسٹ لیڈ کرتے تھے جنہوں نے اسرائیل کو ناکوںچنے چبوادیئے تھے۔فیض احمد فیض سے لے کر پاکستان کے سینکڑوں کمیونسٹ اسرائیل کے خلاف یروشلم سے مغربی کنارے تک لڑے ہیں، درجنوں سے میری ملاقات ہوئی اور انہوں نے مجھے صابرہ اور شتیلا کے قصے سنائے۔مگر پھر حماس کو لانچ کیا گیا جس نے فلسطین کاز کا مرکز یروشلم کے بجائے غزہ کو بنادیا، جہاں بیت المقدس تھا، کسی کو یاد بھی نہیں رہا اور حماس سے جنگ جنگ کھیل کر اسرائیل زبرستی اسے مسلم دنیا کا ہیرو بنواتا رہا۔آج امریکا یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے جارہا ہے اور کوئی نہیں جو امریکا کو چیلنج کرسکے کیونکہ چیلنج کرنے والوں کو گو امریکا گو کے نعرے لگانے والے کافر اور گمراہ قرار دے چکے ہیں۔مذہبی انتہاپسند تنظیموں کی امریکی مخالفت بھی خوب ہے، جیسے طالبان امریکی مخالف کہلائے جاتے ہیں مگر انہوں نے افغان جنگ کے دوران ڈالروں سے بھرے بیگ امریکیوں سے لیے، القاعدہ سے داعش تک ان انتہاپسندوں پر امریکی مدد کے الزام لگتے رہے، ترکی کا امیرالمومنین بیت المقدس کے معاملے کو اپنی پاپولرٹی کا کوئی اسٹنٹ سمجھ کر مکے لہرا رہا ہے اور امریکا تو درکنار اسرائیل تک سے تمام سفارتی معاہدے برقرار ہیں۔اللہ مسلمانوں کو سمجھ دے۔
بہر حال کراچی میں جماعت اسلامی کے زیر اہتمام ایک بار پھر تاریخ ساز القدس ملین مارچ ، حسن اسکوائر پر منعقد ہونے جا رہا ہے ، اس حوالے سے بھی سوشل میڈیا پر خاصی متحرک کوششیں جاری ہیں ، خصوصاً ٹوئٹر پر ٹرینڈ بنانے سے لے کر مختلف سرگرمیوں، احتجاج، ریلی، رابطہ ، علماء کرام کی حمایت سے لے کر مختلف دلچسپ ویڈیوز اور ترانوں کی ویڈیوز کو خوب وائرل کر کے ماحول بنایا جا رہا ہے ، گوکہ اسے بھی احتجاج اور اپنی بات پہنچانے کا ذریعہ کہا جا سکتا ہے مگر جس طرح سے اسرائیل ( یہودی) اپنے ایجنڈے کی تکمیل کی خاطر گھاس میں موجود پانی کی طرح نظریاتی، فکری اور علمی بنیادوں پر کام جاری رکھے ہوئے ہیں ، ہم اس سے خاصے پیچھے نظر آتے ہیں ۔

حصہ