ایک جھگی نے جائداد بنادی

443

زاہد عباس
ساحلِ سمندر کے ساتھ آباد شہر کراچی کی پہچان کبھی روشنیاں ہوا کرتی تھیں، آج اس شہر کے ماضی پر نظر ڈالی جائے تو حیرانی ہوتی ہے کہ یہ وہ شہر تھا جس کا موازنہ لندن سٹی سے کیا جاتا تھا۔ کراچی کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ اسے تمام قومیتوں اور مختلف زبانیں بولنے والوں کا شہر کہا جاتا ہے، جس نے روزگار کی تلاش میں آنے والوں کو نہ صرف روزگار دیا بلکہ پردیس سے آکر آباد ہونے والوں کے لیے اپنا دامن وسیع کردیا۔ 1950ء سے 1980ء کی دہائیوں تک بتدریج آبادی میں اضافہ ہوتا رہا، اسی زمانے میں لوگوں نے بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح کے مزار کے اطراف کچی بستیاں بسانا شروع کردیں۔ شہر کے بیچوں بیچ سابقہ بندر روڈ کے ساتھ اتنی بڑی تعداد میں غیر قانونی جھگیوں پر مشتمل آبادی کا قائم ہونا شہر کی خوبصورتی اور انفرا اسٹرکچر پر بدنما داغ تصور کیا جانے لگا، اسی بات کو مدنظر رکھتے ہوئے اُس وقت کی حکومت نے ان کچی آبادیوں کو مسمار کردیا تاکہ شہر کی خوبصورتی کو بچایا جاسکے، لیکن غیر قانونی تعمیرات یعنی کچی بستیوں کے نام پر جھگیاں ڈالی جاتی رہیں۔ متعدد بار غریب، آبادی بساتے اور حکومت مسمار کردیتی۔ آخرکار اُس وقت کی حکومت نے اس مسئلے کا حل کچھ اس طرح نکالا کہ ان لوگوں کو جو اُس وقت مزارِ قائد کے اطراف غیر قانونی طور پر آباد تھے، 40 گز کے پلاٹ الاٹ کردیے تاکہ آئے دن کی غیر قانونی تعمیرات کو روکا جاسکے، اور ساتھ ساتھ شہر کے درمیان کچی آبادی کو ایک نقشے کے تحت بناکر شہر کے اس انفرااسٹرکچر کو بھی بچا لیا جس کی بنیاد پر کراچی دنیا کے خوبصورت ترین شہروں میں شمار ہوتا ہے۔ 40 گز کے پلاٹ الاٹ کرنے سے قبل جب جب حکومت نے ان کچی آبادیوں کو مسمار کیا، ہر مرتبہ حکومتی اداروں کی طرف سے متاثرین کو شہر کے کسی نہ کسی حصے میں ایک پلاننگ کے ساتھ مختلف سیکٹر تعمیر کرکے دیے گئے۔ لانڈھی، کورنگی، ملیر، شاہ فیصل کالونی، نارتھ کراچی، ناظم آباد سمیت درجنوں علاقے انھی متاثرین کے لیے بنائے گئے۔ اگر دیکھا جائے تو آباد کیے جانے والے یہ علاقے ان غریبوں کے لیے جن کے سر پر اپنی ذاتی چھت نہ تھی اُس وقت کی حکومت کی طرف سے ایک ایسا تحفہ ہے جس نے لوگوں کو جائداد کا مالک بنادیا۔ حکومت نے غریبوں کی آبادکاری کے لیے جہاں جہاں بھی ٹائون بنائے وہ بنیادی سہولتوں سے آراستہ تھے۔ چوڑی گلیاں، کھیل کے میدان، اسکول، رفاہی پلاٹ، ہرے بھرے پارک تعمیر کیے گئے۔ علاقوں میں ہوا اور روشنی کے رخ کا خاص خیال رکھا گیا۔ غرض یہ کہ بے گھروں کے لیے گھر کے ساتھ ساتھ تمام بنیادی سہولتوں کا بھی بندوبست کردیا گیا۔
وقت گزرتا گیا، 1980ء کی دہائی کے آخری حصے میں کیا کچھ ہوا وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ ادارے اپنے فرائض سے غفلت برتنے لگے، اقربا پروری میں اضافہ ہونے لگا، سیاسی جماعتوں میں عوامی خدمت کے نام پر کرپشن اور پیسہ کمانے کی دوڑ شروع ہوگئی۔ عوامی منصوبے تو ایک طرف، جائز ناجائز طریقوں سے مال بنانے کے منصوبے بنائے جانے لگے۔ لوگوں کی حق تلفی کی جانے لگی۔ حقوق کے نام پر انقلاب لانے والی جماعت نے لوگوں کو ایسے حقوق دلوائے کہ اس کے اپنے کارکن عوام کی جمع پونجی کو اپنا حق سمجھنے لگے۔ ایک طرف یہ کچھ ہوتا رہا تو دوسری طرف سرکاری زمینوں پر قبضے کیے جانے لگے، اداروں کو گھر کی لونڈی بنانے کے لیے طاقت کا استعمال کیا جانے لگا، ایک سوچی سمجھی منصوبہ بندی کے تحت لوگوں کو خوف میں مبتلا کیاگیا۔ سیاسی بازی گروں نے شہر کو جو نقصان پہنچایا اس کی فہرست مرتب کرنا ممکن نہیں۔ یعنی کراچی کے اداروں سمیت انفرا اسٹرکچر میں تباہی مچائی گئی۔ سیوریج سسٹم، پبلک ٹرانسپورٹ، سڑکوں اور پلوں کی ابتر صورت حال، مراکزِ صحت، تعلیمی اداروں، آبی گزرگاہوں پر تعمیرات، کھیل کے میدانوں اور رفاہی پلاٹوں پر چائنا کٹنگ… اس سے بڑھ کر غیر قانونی طور پر ایسے اجازت نامے جاری کروائے گئے جس کی بنیاد پر رہائشی علاقوں میں کثیر المنزلہ عمارتیں تعمیر کی گئیں۔ بدانتظامی اور شہر کی ابتر ہوتی صورت حال تو ایک طرف، اگر صرف بنائی جانے والی کثیرالمنزلہ عمارتوں سے ہونے والے نقصانات پر نظر ڈالی جائے تو اندازہ ہوجاتا ہے کہ کس طرح ان منصوبوں کی وجہ سے کراچی میں مسائل نے جنم لیا۔ ہر ذی شعور انسان اس بات سے اچھی طرح واقف ہے کہ جب منصوبہ بندی کے بغیر کام کیا جائے تو اس کے نتائج نقصان کا باعث ہوتے ہیں۔ مثلاً کراچی میں ان بڑی عمارتوں کی تعمیر پر ماہرین کا خیال ہے کہ جب رہائشی، تفریحی اور کھیلوں کے لیے مختص زمینوں کو کاروباری مقصد کے لیے استعمال کیا جائے گا تو مسائل بڑھیںگے۔ کراچی میں سب سے بڑا مسئلہ ہی زمین کے استعمال کا ہے، یعنی اگر ایک رہائشی پلاٹ چند افراد کو دینے کے لیے ہو اور آپ اس پر دس منزلہ عمارت کھڑی کردیں اور پھر اس عمارت کے نیچے سڑک کے ساتھ دکانیں بھی نکال دیں، وہ بھی ایک ایسی جگہ جہاں پہلے ہی چاروں طرف گنجان آبادی ہو، تو بنائی جانے والی یہ عمارت یا پلازہ مسائل کے سوا کچھ نہیں دے سکتا۔ ظاہر ہے جب چند افراد کی رہائش والی جگہ پر پلازہ بناکر سیکڑوں افراد کو بسا دیا جائے تو گیس، پانی، بجلی اور نکاسیٔ آب سمیت کسی قسم کی سہولت فراہم کرنا کسی کے بس کی بات نہیں، اور پھر سڑک کے ساتھ بنائی جانے والی دکانیں ٹریفک کی روانی میں بھی بڑی حد تک رکاوٹ کا سبب بنتی ہیں۔ سارے شہر میں چکر لگا کر دیکھ لیجیے، جہاں بھی غیر قانونی طور پر منصوبہ بندی کے بغیر فلیٹ بنائے گئے وہ کاروباری لحاظ سے تو شاید کامیاب ہوئے ہوں، لیکن رہائشی نقطہ نظر سے وہاں مسائل نے ہی جنم لیا۔
یہ کراچی کی بدقسمتی رہی ہے کہ یہاں اداروں سے لے کر عام آدمی تک نے اپنے ذاتی مفادات کے لیے ہی کام کیا۔ حد تو یہ کہ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اور لینڈ ڈپارٹمنٹ جن کا کام ہی غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی کرنا ہے، ان محکموں کے اعلیٰ افسران ستّو پی کر سوتے رہے۔ قانونی طور پر اگر آپ کو بڑی عمارت یا کوئی پلازہ بنانا ہو تو متعلقہ محکموں سے اجازت نامہ درکار ہوتا ہے، اورکوئی بھی بڑی عمارت بنانے کے لیے اس بات کا خاص خیال رکھا جاتا ہے کہ اس پلازہ سے قریب سنگل اسٹوری نہ ہوں، کیونکہ اگر سنگل اسٹوری مکانات کے ساتھ بڑی عمارت بنانے کی اجازت دے دی جائے گی تو ان گھروں کی ہوا اور روشنی ختم ہوجائے گی۔ اس لیے ملک میں ایسے اداروں کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ شہر سے باہر کے لیے اونچی عمارتوں کے اجازت نامے دیں، یا پھر کسی ایسے میدان میں تعمیرات کی اجازت دیں جہاں دور دور تک سنگل اسٹوری آبادی نہ ہو، بصورتِ دیگر ان اونچی عمارتوں کی تعمیر چھوٹے گھروں کے مکینوں کی پرائیویسی ختم کرنے کا باعث بھی بنتی ہے، دوسری طرف ان عمارتوں میں بنائی جانے والی دکانوں کی وجہ سے سڑک کے ساتھ لوگوں کے چلنے کے لیے بنائی جانے والی فٹ پاتھوں پر بھی قبضہ کرلیا جاتا ہے، جس کا عملی ثبوت گلشن اقبال، گلستان جوہر سے منسلک علاقوں میں دیکھنے کو ملے گا جہاں ان فلیٹوں کے نیچے سڑک کے ساتھ فٹ پاتھوں پر کار شو رومز، ریستوران، پتھارے داروں اور سی این جی اسٹیشنوں نے ایسے پنجے گاڑے ہیں کہ کشادہ سڑکوں کو کئی فٹ تنگ کردیا ہے۔ ایسا نہیں کہ کراچی کے لیے منصوبے نہ بنائے گئے ہوں۔ متعدد مرتبہ عظیم تر کراچی اسٹرے ٹیجک منصوبے بنائے گئے ہیں لیکن صرف کاغذوں میں… ہر مرتبہ اربوں روپے کے ترقیاتی فنڈ حاصل کیے گئے، بڑے بڑے دعوے بھی کیے جاتے رہے، لیکن عملی طور پر سب بے سود۔ حیرت کی بات تو یہ ہے کہ ساتویں این ایف سی ایوارڈ میں صوبہ سندھ کو تاریخ کا سب سے بڑا فنڈ ملا۔ وہ کہاں گیا، کہاں لگایا گیا؟ کسی کو کوئی خبر نہیں۔
اگر غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ مسئلہ پیسوں کا نہیں بلکہ بدترین طرزِ حکمرانی کا ہے۔ این ایف سی ایوارڈ کے تحت تمام صوبائی حکومتوں کو ان کے حصے کی رقم دی جاتی ہے، یہ کیسے ممکن ہے کہ صوبہ پنجاب میں تو وزیراعلیٰ چاہے لاہور ہی میں سہی، میگا پروجیکٹ مکمل کرلے اور سندھ کی سڑکیں کھنڈرات میں تبدیل ہوتی رہیں! آخر کب تک کراچی سمیت پورے سندھ کے عوام کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا کر رکھا جائے گا؟ کس دن یہاں کے عوام کی مسیحائی کرنے والے بااختیار ہوںگے؟ ایسے عوام دوست نمائندے جو نہ صرف سندھ کی تقدیر بدل کر رکھ دیں بلکہ کراچی کو دوبارہ 1950ء سے 1980ء کی دہائیوں والا شہر بنادیں۔ یہی ہمارے حکمرانوں کا یہاں کے عوام پر احسان ہوگا۔ اب جب کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے بھی یہ فیصلہ سنادیا ہے کہ کراچی میں غیر قانونی تعمیرات ختم کرکے اسے اصل کراچی بنایا جائے اور کثیرالمنزلہ عمارتوں کی تعمیر پر بھی پابندی لگادی جائے، دیکھنا یہ ہوگا کہ متعلقہ محکمے سپریم کورٹ کے اس حکم پر کب اور کس حد تک عمل کرتے ہیں! کیونکہ جن اداروں نے کرپشن کرکے اور رشوتیں لے کر اجازت نامے جاری کیے، وہ کیسے اور کب اپنے ہاتھوں سے بنائے ہوئے بتوں کو توڑتے ہیں! سپریم کورٹ اور اہلِ کراچی کی نظریں اب ان محکموں پر لگی ہوئی ہیں۔ چند شادی ہال گرا دینے سے عوام، خاص کر اعلیٰ عدلیہ کو مطمئن نہیں کیا جاسکتا۔ سپریم کورٹ کی جانب سے دیے گئے فیصلے پر اُس کی روح کے مطابق عمل کرنے سے ہی عدلیہ کے حکم پر عمل ہوسکتا ہے، بصورتِ دیگر اگر غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی نہ کی گئی تو توہینِ عدالت بن سکتی ہے۔ فیصلہ اداروں کو ہی کرنا ہے… کارروائی کرکے عمل کیا جائے نہ کہ توہین عدالت۔

حصہ