(حضرت ہود علیہ السلام اور قومِ عاد(پہلا حصہ

397

سید مہرالدین افضل
انتیسواں حصہ
(تفصیل کے لیے دیکھیے سورہ الاعراف حاشیہ نمبر:51: 56۔ سورۃ الاحقاف حاشیہ نمبر:25۔ سورۃ الشعراء حاشیہ نمبر:89۔ سورۃ الفجر حاشیہ نمبر:2)
تاریخ کا مطالعہ کیوں:
قرآن مجید میں قوموں کے حالات بتائے گئے ہیں۔ اس کا مقصد صرف کہانی سنانا نہیں بلکہ لوگوں کو سبق دینا ہے۔ چونکہ ہر زمانے کے لیڈر اور رہنما اپنی بڑائی اور کبریائی کا ڈنکا بجاتے نہیں تھکتے، اور اپنی مادی ترقی اور دولت مندی پر پھولے نہیں سماتے… یہی حال اہلِ مکہ کا تھا، اس لیے قومِ عاد کا قصہ سنایا جارہا ہے، جو قدیم زمانے کی سب سے طاقت ور قوم تھی۔ تاریخ کی چند معروف قوموں کے طرزِعمل اور اُن کے انجام کے ذکرسے مقصود یہ بتانا ہے کہ یہ کائنات کسی اندھے بہرے قانون ِ فطرت پر نہیں چل رہی ہے بلکہ ایک خدائے حکیم اس کو چلا رہا ہے، اور اس خدا کی خدائی میں صرف ایک وہی قانون کارفرما نہیں ہے جسے تم قانونِ فطرت سمجھتے ہو، بلکہ ایک قانونِ اخلاق بھی کارفرما ہے، جس کا لازمی تقاضا مکافاتِ عمل اور جزا اور سزا ہے۔ اس قانون کی کارفرمائی کے آثار خود اس دنیا میں بھی بار بار ظاہر ہوتے رہے ہیں جو عقل رکھنے والوں کو یہ بتاتے ہیں کہ سلطنتِ کائنات کا مزاج کیا ہے۔ یہاں جن قوموں نے بھی آخرت سے بے فکر اور خدا کی جزا و سزا سے بے خوف ہوکر اپنی زندگی کا نظام چلایا وہ آخرکار فاسد و مفسد بن کر رہیں، اور جو قوم بھی اس راستے پر چلی اُس پر کائنات کے رب نے آخرکار عذاب کا کوڑا برسا دیا۔
انکارِ آخرت! نتیجہ فساد:
انسانی تاریخ کا مسلسل تجربہ دو باتوں کی واضح شہادت دے رہا ہے۔ ایک یہ کہ آخرت کا انکار ہر قوم کے بگاڑنے اور بالآخر تباہی کے غار میں دھکیل دینے کا موجب ہوا ہے۔ اس لیے کہ آخرت فی الواقع ایک حقیقت ہے جس سے ٹکرانے کا نتیجہ وہی ہوتا ہے جو ہر حقیقت سے ٹکرانے کا ہوا کرتا ہے۔ دوسرے یہ کہ جزائے اعمال کسی وقت مکمل طور پر بھی واقع ہونے والی ہے، کیونکہ فساد کی آخری حد پر پہنچ کر عذاب کا کوڑا جن لوگوں پر برسا اُن سے پہلے صدیوں تک بہت سے لوگ اس فساد کے بیج بوکر دنیا سے رخصت ہوچکے تھے اور اُن پر کوئی عذاب نہ آیا تھا۔ خدا کے انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ کسی وقت ان سب کی بھی بازپرس ہو اور وہ بھی اپنے کیے کی سزا پائیں۔
سورۃ الاعراف رکوع 9۔آیت نمبر 65 تا72 میں ارشاد ہوا: اور عاد کی طرف ہم نے ان کے بھائی ہودؑ کو بھیجا۔ اس نے کہا ’’اے برادرانِ قوم، اللہ کی بندگی کرو، اُس کے سوا تمہارا کوئی خدا نہیں ہے۔ پھر کیا تم غلط روی سے پرہیز نہ کروگے؟‘‘ اس کی قوم کے سرداروں نے، جو اس کی بات ماننے سے انکار کررہے تھے، جواب میں کہا ’’ہم تو تمہیں بے عقلی میں مبتلا سمجھتے ہیں اور ہمیں گمان ہے کہ تم جھوٹے ہو‘‘۔ اس نے کہا ’’اے برادرانِ قوم، میں بے عقلی میں مبتلا نہیں ہوں بلکہ میں ربّ العالمین کا رسول ہوں، تم کو اپنے ربّ کے پیغامات پہنچاتا ہوں، اور تمہارا ایسا خیر خواہ ہوں جس پر بھروسا کیا جا سکتا ہے۔ کیا تمہیں اس بات پر تعجب ہوا کہ تمہارے پاس خود تمہاری اپنی قوم کے ایک آدمی کے ذریعے سے تمہارے ربّ کی یاددہانی آئی تاکہ وہ تمہیں خبردار کرے؟ بھول نہ جائو کہ تمہارے ربّ نے نوحؑ کی قوم کے بعد تم کو اُس کا جانشین بنایا اور تمہیں خوب تنومند کیا، پس اللہ کی قدرت کے کرشموں کو یاد رکھو، اُمید ہے کہ فلاح پائو گے‘‘۔ انہوں نے جواب دیا ’’کیا تُو ہمارے پاس اِس لیے آیا ہے کہ ہم اکیلے اللہ ہی کی عبادت کریں اور اُنہیں چھوڑ دیں جن کی عبادت ہمارے باپ دادا کرتے آئے ہیں؟ اچھا تو لے آ وہ عذاب جس کی تُو ہمیں دھمکی دیتا ہے اگر تُو سچا ہے‘‘۔ اس نے کہا ’’تمہارے ربّ کی پھٹکار تم پر پڑ گئی اور اس کا غضب ٹوٹ پڑا۔ کیا تم مجھ سے اُن ناموں پر جھگڑتے ہو جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے رکھ لیے ہیں، جن کے لیے اللہ نے کوئی سند نازل نہیں کی ہے؟ اچھا تو تم بھی انتظار کرو اور میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں‘‘۔ آخرِکار ہم نے اپنی مہربانی سے ہودؑ اور اس کے ساتھیوں کو بچا لیا اور اُن لوگوں کی جڑ کاٹ دی جو ہماری آیات کو جھٹلا چکے تھے اور ایمان لانے والے نہ تھے۔
قوم عاد کے بارے میں قرآنی معلومات:
انہیں قوم نوحؑ کے بعد دنیا میں عروج عطا کیا گیا۔ ان کے جسم بڑے، مضبوط اور طاقتور تھے… اپنے دور میں یہ بے مثال تھے اور کوئی قوم ان کی ٹکر کی نہ تھی۔ ان کا تمدن بہت شان دار تھا، یہ اونچے اونچے ستونوں کی بلند و بالا عمارتیں بناتے تھے اور اپنی اس خصوصیت کی وجہ سے اُس وقت کی دنیا میں مشہور تھے۔ اس مادی ترقی اور جسمانی زور آوری نے ان کو سخت متکبر بنادیا تھا اور انہیں اپنی طاقت کا بڑا گھمنڈ تھا: انہوں نے زمین میں حق کی راہ سے ہٹ کر تکبر کی روش اختیار کی اور کہنے لگے کہ کون ہے ہم سے زیادہ زور آور۔ ان کا سیاسی نظام چند بڑے بڑے جباروں کے ہاتھ میں تھا جن کے آگے کوئی دم نہ مار سکتا تھا اور انہوں نے ہر جبار دشمنِ حق کے حکم کی پیروی کی۔
مذہبی حیثیت سے یہ اللہ تعالیٰ کی ہستی کے منکر نہ تھے، بلکہ شرک میں مبتلا تھے۔ ان کو اس بات سے انکار تھا کہ بندگی صرف اللہ کی ہونی چاہیے:
انہوں نے (ہودؑ سے) کہا ’’کیا تُو ہمارے پاس اس لیے آیا ہے کہ ہم صرف ایک اللہ کی بندگی کریں اور ان کو چھوڑ دیں جن کی عبادت ہمارے باپ دادا کرتے تھے؟‘‘ ( دیکھیے سورہ الاعراف۔ آیت 69۔ 70 ۔ الفجر، آیت 6،7،8۔ حٰم السجدہ آیت 15۔ ہود آیت 59)
قومِ عاد کے بارے میں تاریخی آثار:
یہ عرب کی قدیم ترین قوم تھی جس کے افسانے اہلِ عرب میں زبان زدِ عام تھے۔ بچہ بچہ ان کے نام سے واقف تھا۔ ان کی شوکت و حشمت کی مثالیں دی جاتی تھیں۔ پھر دنیا سے ان کا نام و نشان تک مٹ جانا بھی مثال بن کر رہ گیا تھا۔ اسی شہرت کی وجہ سے عربی زبان میں ہر قدیم چیز کے لیے عادی کا لفظ بولا جاتا ہے۔ ابن اسحاق کا بیان ہے کہ عاد کا علاقہ عمان سے یمن تک پھیلا ہوا تھا اور قرآن مجید اسے الاحقاف کے نام سے یاد کرتا ہے… جہاں سے نکل کر وہ گرد و پیش کے ممالک میں پھیلے اور کمزور ممالک پر چھا گئے۔ الاحقاف کی موجودہ حالت دیکھ کر کوئی شخص یہ گمان بھی نہیں کرسکتا کہ کبھی یہاں ایک شاندار تمدن رکھنے والی ایک طاقتور قوم آباد ہوگی۔ اغلب یہ ہے کہ ہزاروں برس پہلے یہ ایک شاداب علاقہ ہوگا اور بعد میں آب و ہوا کی تبدیلی نے اسے ریگ زار بنادیا ہوگا۔ آج اس کی حالت یہ ہے کہ وہ ایک لق و دق ریگستان ہے جس کے اندرونی حصوں میں جانے کی بھی کوئی ہمت نہیں رکھتا۔ 1843ء میں بویریا کا ایک فوجی آدمی اس کے جنوبی کنارے پر پہنچ گیا تھا۔ وہ کہتا ہے کہ حضرموت کی شمالی سطح مرتفع پر سے کھڑے ہوکر دیکھا جائے تو یہ صحرا ایک ہزار فٹ نشیب میں نظر آتا ہے، اس میں جگہ جگہ ایسے سفید خطے ہیں جس میں اگر کوئی چیز گر جائے تو ریت میں غرق ہوتی چلی جاتی ہے اور بالکل بوسیدہ ہوجاتی ہے۔ اہلِ عرب کی تاریخی روایات کے مطابق عاد اولیٰ بالکل تباہ ہوگئے اور ان کی یادگاریں تک دنیا سے مٹ گئیں۔ چنانچہ مؤرخین عرب انہیں عرب کی اُممِ بائدہ (معدوم اقوام) میں شمار کرتے ہیں۔ عاد کا صرف وہ حصہ باقی رہا جو حضرت ہودؑ کا پیرو تھا۔ ان کا نام تاریخ میں عادِ ثانیہ ہے اور حِصنِ غُراب سے ملے ہوئے کتبہ میں (جسے تقریباً آٹھ سو برس قبل مسیح کی تحریر سمجھا جاتا ہے) ماہرین آثار نے جو عبارت پڑھی ہے اس کے چند جملے یہ ہیں:
’’ہم نے ایک طویل زمانہ اس قلعہ میں اس شان سے گزارا ہے کہ ہماری زندگی تنگی و بدحالی سے دور تھی، ہماری نہریں دریا کے پانی سے لبریز رہتی تھیں، اور ہمارے حکمران ایسے بادشاہ تھے جو بُرے خیالات سے پاک اور اہلِ شروفساد پر سخت تھے، وہ ہم پر ہود کی شریعت کے مطابق حکومت کرتے تھے اور عمدہ فیصلے ایک کتاب میں درج کرلیے جاتے تھے، اور ہم معجزات اور موت کے بعد دوبارہ اُٹھائے جانے پر ایمان رکھتے تھے۔‘‘
یہ عبارت آج بھی قرآن کے اس بیان کی تصدیق کررہی ہے کہ عاد کی قدیم عظمت و شوکت اور خوشحالی کے وارث آخرکار وہی لوگ ہوئے جو حضرت ہودؑ پر ایمان لائے تھے۔
اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ ہم سب کو اپنے دین کا صحیح فہم بخشے، اور اُس فہم کے مطابق دین کے سارے تقاضے اور مطالبے پورے کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین۔
وآخر دعوانا ان لحمد للہ رب العالمین۔

حصہ