برصغیر میں اسلام کے احیا اور آزادی کی تحریکیں

214

نجیب ایوبی
گیارہواں حصہ
قسط نمبر112
حکومت میں شامل قادیانی اور سیکولر لابی کو مولانا مودودیؒ کو دی جانے والی سزائے موت پر اتنے شدید عوامی ردعمل کا اندازہ شاید نہیں تھا، ورنہ وہ اس قسم کا ظالمانہ اور غیر منصفانہ فیصلہ ہرگز نہ کرتے۔ اس فیصلے کے خلاف نہ صرف پاکستان، بلکہ تمام عالم اسلام میں فوری اور شدید ردعمل ہوا، حالانکہ اُس وقت جماعت اسلامی کی تمام مرکزی قیادت پابندِ سلاسل تھی۔ جماعت کے اکابرین کے خلاف کریک ڈاؤن، آپریشن اور گرفتاریوں کے فوراً بعد جماعت اسلامی کی مرکزی مجلس شوریٰ کا ہنگامی اجلاس کراچی میں طلب ہوا اور شیخ سلطان احمد کو قائم مقام امیر جماعت مقرر کیا گیا۔ قائم مقام امیر نے چودھری رحمت الٰہی کو جماعت اسلامی کا قیم (جنرل سکریٹری) مقرر فرمایا۔
سزائے موت کا اعلان سنتے ہی پورے پاکستان میں احتجاج شروع ہوگیا۔ ملک کے ہر چھوٹے بڑے علاقے میں ہڑتالیں اور احتجاجی مظاہرے روز کا معمول بنتے جا رہے تھے۔ خاص طور پر کراچی میں 12 مئی کو شٹر ڈاؤن ہڑتال کی کال دی گئی جو مکمل طور پر پُرامن تھی۔ مگر اس کا اتنا زبردست اثر دیکھنے میں آیا کہ وزیراعظم کو کراچی ائیرپورٹ سے باہر ہی نہیں نکلنے دیا گیا۔ بمشکل تمام انہوں نے مظاہرین اور صحافیوں کے ہجوم سے یہ کہہ کر جان چھڑائی کہ وہ اس سزا کے خلاف کچھ کریں گے۔ اس دوران مولانا مودودیؒ پر حکومت نے اپنی فیس سیونگ کی خاطر یہ دباؤ ڈالنا شروع کیا کہ اگر وہ معافی نامہ داخل کروا دیں تو ان کی سزا نرم یا معاف کی جاسکتی ہے۔ مگر مولانا جیسے مردِ مومن کا ایک ہی جواب ہوتا تھا کہ ’’اگر مجھ جیسا آدمی رحم کی اپیل کرے تو پھر اس قوم کو بہادری کا سبق کون دے گا؟‘‘
اسی اثنا میں پنجاب اسمبلی میں معمول کا اجلاس ہوا جس میں تحریکِ التوا پیش کی گئی۔ یہ تحریک ریٹائرڈ جسٹس محمد افضل چیمہ نے پیش کی، جس کے جواب میں ملک فیروز خان نون نے جو اُس وقت پنجاب کے وزیراعلیٰ بن چکے تھے، ایوان سے خطاب کرتے ہوئے وعدہ کیا کہ اگر مولانا مودودی رحم کی اپیل داخل کریں گے تو میں ضمانت دیتا ہوں کہ حکومت ان کی موت کی سزا منسوخ کردے گی۔
بیرونی ممالک سے مسلمان رہنماؤں اور زعماء کے احتجاجی ٹیلی گراموں، خطوط اور پیغامات کا تانتا بندھ گیا۔ فوجی عدالت کے یک طرفہ ظالمانہ فیصلے کے خلاف مسلم امہ اور رہنماؤں کے مطالبات آنے شروع ہوگئے۔ انڈونیشیا میں تیس سے زائد مسلم جماعتوں نے مشترکہ اعلامیہ جاری کیا اور ٹیلی گرام کی صورت میں بھیجا جو گورنر جنرل ملک غلام محمد کے نام تھا۔ لکھا تھا ’’اگر مولانا مودودی کی حکومتِ پاکستان کو ضرورت نہیں ہے تو عالم اسلا م کو ان کی اشد ضرورت ہے۔ حکومتِ پاکستان ’’مولانا مودودی کو فی الفور انڈونیشیا کو دے دے‘‘۔
ممتاز محقق جناب محمد عاصم الحداد جو دورہء ارض القرآن میں مولانا مودودی کے ہمسفر تھے، بیان کرتے ہیں کہ جب وہ امیر مساعد سے ملنے گئے جو مولانا کو اچھی طرح جانتے اور عقیدت مندی رکھتے ہیں، انہوں نے بتایا کہ ’’اُس وقت کے شاہ سعود نے دورۂ پاکستان کے موقع پر گورنر جنرل ملک غلام محمد سے مولانا کو رہا کرنے کی سفارش کی تھی، جس پر شاہ سعود کو یہ یقین دہانی کروائی گئی کہ اگر مولانا معافی مانگ لیں تو ان کو رہا کردیا جائے گا۔ لیکن چونکہ مولانا معافی مانگنے پر کسی طور راضی نہیں تھے اس لیے فوری رہائی بھی ممکن نہیں ہوسکی۔ امیر مساعد نے مولانا کی اولوالعزمی کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے دعا دی کہ خدا انہیں اس کا اجر عطا فرمائے۔‘‘
’’جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے‘‘۔ سید مودودیؒ نے اپنے رفقاء، وکلاء اور خاندان کے تمام افراد کو رحم کی اپیل کرنے سے منع کردیا۔ اس وقت ایک ملاقات میں سید مودودیؒ نے اپنے پندرہ سالہ بیٹے محمد فاروق کو تسلی دیتے ہوئے تاریخی کلمات ادا کیے۔ آپ نے کہا ’’اگر میرے پروردگار نے مجھے اپنے پاس بلانا منظور کرلیا ہے تو میں بخوشی اپنے رب سے ملوں گا، لیکن اگر اس کا حکم نہیں آیا تو پھر یہ چاہے الٹے لٹک جائیں، مجھ کو نہیں لٹکا سکتے‘‘۔
کراچی میں ہونے والی 12 مئی کی پہیہ جام ہڑتال نے حکومت کے ایوانوں میں بھونچال پیدا کردیا تھا۔ گورنر جنرل کو بھی ائیرپورٹ سے باہر آنا مشکل ہوگیا، اور اسی دن حکومت کو مولانا مودودیؒ کی سزائے موت کو عمرقید میں تبدیل کرنے کا حکم نامہ جاری کرنا پڑگیا۔
مولانا امین احسن اصلاحی اور جماعت کے دیگر رہنما اپنی گرفتاری کے چھ ماہ بعد رہا کردیئے گئے، جبکہ میاں طفیل محمد 22 فروری 1954ء کو رہا ہوئے۔ عدالتی کمیشن نے اپنے ایک فیصلے میں ’انڈیمنٹی ایکٹ‘ کو غیر قانونی قرار دیا تھا اور اسی فیصلے کے تحت مارشل لا کی سزائیں برقرار رکھی تھیں۔ اس ایکٹ کے منسوخ ہوجانے کے بعد مولانا مودودیؒ کو 29 اپریل1955ء کو ملتان جیل سے باعزت رہا کرنے کا حکم نامہ جاری کیا گیا۔
اس ضمن میں مارشل لائی عدالت میں سزائے موت دینے والے کمیشن کے سربراہ میجر اے۔ اے۔ گیلانی جب ملازمت سے سبکدوش ہوئے تو مولانا مودودیؒ کے وکیلِ صفائی چودھری نذیر احمد خان سے ملنے تشریف لائے، اور اس موقع پر قسمیں کھا کھا کر یہ کہا کہ ’’یہ فیصلہ ہم پر مسلط کیا گیا تھا‘‘۔ فیصلہ مسلط کرنے والے کون تھے؟ ان کا کیا نام تھا؟ تفصیلات میں جائے بغیر نتیجہ نکالا جاسکتا ہے کہ یقینا یہ وہی عناصر ہوں گے جنہوں نے قادیانی روزنامہ ’’الفضل‘‘ میں علماء اور مولانا مودودیؒ کو نام لے کر کہا تھا کہ ان ’’مولویوں سے خون کا بدلہ لیا جائے گا‘‘۔
عدلیہ کی جانب سے اس مسئلے کو دیکھنے کے لیے جو کمیشن بنایا گیا تھا اُس کی رپورٹ میں بھی جابجا دھاندلی اور اعداد و شمار کو توڑمروڑ کر پیش کیا گیا۔ مثلاً یہ کہ قادیانی مسئلے اور مسلمانوں کے آٹھ نکاتی مطالبے کا جو اہم نکتہ تھا کہ سر ظفر اللہ قادیانی کو حکومتی عہدے سے الگ کیا جائے، اس کا ذکر تک گول کردیا گیا۔ اس رپورٹ کے صفحہ نمبر 201 میں یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ 4 مارچ کو قادیانیوں کے خلاف جلوس پر ایک پراسرار گاڑی سے عام مسلمانوں پر کھلے عام گولیاں برسائی گئیں جو کہ سرکاری گاڑی نہ تھی بلکہ اس میں قادیانی غنڈے سوار تھے۔
تاہم جو مارشل لا 6 مارچ 1953ء کو لگایا گیا تھا وہ 14 مئی 1953ء کو اٹھا لیا گیا۔ اس دوران صرف ایک ہی کام انجام پایا تھا، وہ تھا مولانا مودودیؒ کو مارشل لائی حکومت کے کالے قانون کی بدولت موت کی سزا سنوانا۔ اور پھر جب اس سزا کو مسلم امہ اور عوامی احتجاج کے سبب عمر قید میں تبدیل کیاگیا تو مارشل لا کا جواز بھی ختم ہوگیا۔
اس کے ساتھ ہی گورنر جنرل ملک غلام محمد نے عجیب و غریب فیصلے یکے بعد دیگرے صادر کرنے شروع کیے جس کی بدولت پورا ملک سیاسی بحران اور ہیجانی کیفیت میں مبتلا ہوتا چلا گیا۔ سنجیدہ حلقے سخت پریشان تھے کہ گورنر جنرل آخر کس کے ایما پر ملک میں سیاسی انارکی پھیلا رہا ہے؟
اقتدار کی غلام گردش میں مفاد پرستوں اور حاشیہ برداروں کی آمد و جامد ہولناک سیاسی منظر پیش کررہی تھی۔ 30 مئی 1954 کو گورنر جنرل ملک غلام محمد نے مشرقی پاکستان کی قانون ساز اسمبلی توڑنے کا اعلان کیا اور گورنر راج لگا دیا، اور بدنام زمانہ اسکندر مرزا کو مشرقی پاکستان کا گورنر مقرر کیا۔ اس سے پہلے جب خواجہ ناظم الدین کی حکومت کو چلتا کیا گیا اور کابینہ سے استعفے مانگے گئے تھے تو محمد علی بوگرہ خاص طور پر کراچی آئے تھے اور امریکا میں سفیر تھے۔ (ایسا لگتا ہے کہ وہ باقاعدہ کسی منصوبے کے تحت اور غیر ملکی آقا کے حکم کی تعمیل میں کراچی پہنچے تھے)
کچھ ہی عرصہ پہلے محمد علی بوگرہ کا یہ انٹرویو بھی شائع ہوا تھا جب وہ لندن کے دورے پر گئے تھے کہ ’’پاکستان کی حکومت ایک ایسے آئین کو بنانا پسند کرے گی جس کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہوگا، کیونکہ مذہب ایک ذاتی معاملہ ہے۔‘‘
پاکستان کی نظریاتی سرحدوں اور وعدوں کے ساتھ یہ کھلواڑ دیکھتے ہوئے جماعت اسلامی نے ملک بھر میں ’یوم دستور‘ منانے کا اعلان کیا جس میں اسلامی دستور کے قیام اور اس کو بنانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ اس ضمن میں ملک بھر میں بھرپور مہم چلائی گئی۔
اسلامی دستور کا مطالبہ اس قدر شدت سے اٹھا کہ سیکولر خطوط پر حکومت کو چلانا ناممکن ہوتا جارہا تھا۔ اسمبلی اور اسمبلی سے باہر بھی ہر جگہ اسلامی دستور کے مطالبے کی بازگشت سنائی دینے لگی تھی۔ ایسے میں 1954ء میں مشرقی پاکستان کے انتخابات نے مشرقی بازو کی سیاست کا ایک نیا روپ دکھایا۔ اس میں مقامی جوش و توانائی کا آتش فشاں تھا جو پہلی بار اس طرح سامنے آیا تھا۔ اس کا مقابلہ مرکز میں گورنر جنرل غلام محمد نے اس طرح کیا کہ اپنی مرضی کے کٹھ پتلی لوگوں کی ڈوری کو ہلانا شروع کردیا۔ سیکولر مولوی مولانا عبدالحمید بھاشانی نے ’کگماری‘ کے بہت بڑے جلسہ عام میں مغربی پاکستان کو ’السلام علیکم‘ کی دھمکی سنا کر ایک خطرناک علیحدگی پسند رجحان کو زبان دے دی تھی۔
حوالہ جات: شہاب نامہ۔ صفحہ نمبر 651
جہدِ مسلسل حصہ اول۔ ص 435
سید ابوالاعلیٰ مودودی۔ بحیثیت نثر نگار۔ ڈاکٹر محمد اصغر جاوید۔ صفحہ 54

(جاری ہے)

حصہ