اسٹیبلشمنٹ کی کہانی‘ سیاست دانوں کی زبانی

153

سید اقبال چشتی
ایک زمانہ تھا جب روشنیوں کے شہرکراچی سے اُٹھنے والی ہر سیاسی تحریک پورے پاکستان کی آواز بن جاتی تھی اور یہ شہر سیاسی بصیرت اور روشنی سب کو فراہم کرتا تھاکراچی ایک ایسا شہر تھا جہاں سیاسی شعور کے ساتھ لوگ اپنی وابستگی کسی نہ کسی سیاسی جماعت کے ساتھ رکھتے تھے جہاں سیاسی کارکن مخالفت برائے مخالفت نہیں بلکہ نظریئے کا جواب نظریئے ا ور دلائل کا جواب دلائل سے دیاکرتے تھے شاید یہی وجہ تھی کہ اس شہر کے اندر سے اُٹھنے والی سیاسی لہر پورے پاکستان کی آواز بن جاتی تھی اسی لیے شاید اسٹیبلشمنٹ نے فیصلہ کیا کہ اس شہر کو ایسا سبق سکھایا جائے کہ ہماری اجارہ داری بھی قائم ہو جائے اور یہاں کے لوگوں کے اندر سے سیاسی شعور کا خمار بھی نکل جائے اس بات کا ثبوت اسٹیبلشمنٹ کی بنائی گئی تنظیم کے اندر سے نکل کر نئی تنظیم بنانے والوں نے خود ہی پریس کانفرنس کر کے اس بات کا اقرار کر لیا کہ ہم کون ہیں اور کون ہمیں چلا رہا ہے
متحدہ اور پی ایس پی کے درمیان مشترکہ جدوجہد کا اعلان ہوا اور ابھی ایک دن بھی نہیں گزرا تھا کہ پھر سے الزامات کے ساتھ علیحدگی ہو گئی متحدہ کے فاروق ستار نے جو کچھ کہا اس کے جواب میں پی ایس پی کے مصطفی کمال نے نام لے کر جوابات دیئے اور اس بات کا ثبوت دیا کہ ہمیں اور متحدہ کو کس کی آشیرباد حاصل ہے گزشتہ کئی ماہ سے جاری ڈرامے کی آخری قسط پیش ہو نے کے بعد فیصلہ ہوا کے ابھی مزید قسطیں باقی ہیں کراچی کی لسانی سیاست کرنے والوں کے آپس میں جہاں اختلافات کھل کر سامنے آئے وہیں یہ راز بھی کھلے کہ کون کس کی انگلی پکڑ کر چل رہا ہے مصطفی کمال نے کہاکہ کون اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ نہیں ہے اس دلچسپ صورت حال پر تقریباً تمام ہی سیاسی جماعتوں کی طرف سے کراچی کی سیاست پر تبصرے کیے گئے اور سب نے یہ تاثر دیا کہ ہم اسٹیبلشمنٹ کے سہارے نہیں چلتے۔
سب سے پہلے ن لیگ کے طلال چوہدر ی نے نواز شریف کی نا اہلی کا غصہ کچھ سچ اور کچھ کڑوا سچ بول کر نکالا کہ اسٹیبلشمنٹ پارلیمنٹ کو چلنے دے اور کہا کہ پاکستان میں اسٹیبلشمنٹ کے کئی چہرے سامنے آئے اور کسی نے لسانی جماعتوں کو متعارف کرایا تو کسی چہرے نے ہیروئن اور کلاشنکوف کو تو کسی نے را کے ایجنٹ پالے اور ساتھ ہی مشورہ دیا کہ اسٹیبلشمنٹ کا کام حکم کی تعمیل ہے‘ بالکل بجا فرمایا‘ مگر انھوں نے یہ نہیں بتا یا کہ آپ کی پارٹی کے سربراہ نواز شریف کو سیاست میں کس نے متعارف کرایا اور نواز شریف کس کی بہ دولت اقتدار کی مسند تک پہنچے۔ سابق گورنر پنجاب میجر جنرل ریٹائرڈغلام جیلانی نے نواز شریف کو نہ صرف متعارف کرایا بلکہ پنجاب کا وزیراعلیٰ بھی بنوایا پھر جنرل ضیا الحق نے نواز شریف کی پر ورش کی اور جنرل ضیا نواز شریف سے اتنی محبت کرنے لگے کہ ایک موقع پر کہا کہ ’’میری عمر بھی نواز شریف کو لگ جائے‘‘ کیونکہ ان کا کلہ بڑا مضبوط ہے اور یہ بات سچ ثابت بھی ہو ئی کہ نواز شریف تین بار وزیر اعظم بنتے ہیں۔ مگر طلال چوہدری ان کے محسن ہی پر ہیروئن اور کلاشنکوف کلچر متعارف کرانے کا الزام لگا رہے ہیں جبکہ اسٹیبلشمنٹ ہی کے سہارے آنیا جا نیا لگی رہیں جبھی بلاول زرداری بولے کہ سیاست میں اسٹیبلشمنٹ کا کوئی کردار نہیں ہونا چاہیے۔ فرماتے ہیں کہ شہر کو ہم اونر شپ دیں گے۔ اب بلاول کو کون بتائے کہ آپ کے نانا ذوالفقار علی بھٹو جنرل ایوب خان کو ’’ڈیڈی‘‘ کہتے تھے اور پھر ڈیڈی نے آپ کے نانا کو ایسا متعارف کرایا کہ پورے پاکستان کی اونر شپ دے دی لیکن آپ اب تک کراچی کو اونر شپ نہ دے کیو نکہ گزشتہ تیس سال سے پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم ساتھ ساتھ چلتے رہے لیکن کبھی کراچی کو آپ کی پارٹی نے اون نہیں کیا اگر آپ نے شہر کراچی کو اون کیا ہوتا تو اس شہر کی یہ صورت حال نہ ہو تی۔ اس شہر کو تباہی و بر بادی تک پہنچانے میں آپ کی پارٹی کا بھی برابر کا حصہ ہے اس لیے اب پورے پاکستان کی نمائندگی کرنے والی پارٹی سندھ کی لسانی جماعت بن کر رہ گئی ہے لیکن آپ نہ مانیں تو اس سے کو ئی فرق نہیں پڑتا اس لیے جنرل مشرف نے ایم کیو ایم اور دیگر دھڑوں کے ملاپ کے بعد سربراہی قبول کر نے سے انکار کردیا کہ میں لسانی جماعت کا لیڈر کیوں بنوں جو تیس سال سے لسانیت کی سیاست کر رہی ہے۔ لیکن دل کی خواہش بھی ظاہر کردی کہ اگر پی ایس پی اور متحدہ ہمارے ساتھ آجائیں تو سندھ میں پیپلز پارٹی کو ہرا سکتے ہیں۔
جنرل صاحب بھول جاتے ہیں کہ یہ وہی لسانی جماعت ہے جس کے ذریعے آپ نے 12 مئی کو اپنی ’’طاقت‘‘ منوائی تھی‘ جس کو آپ نے اتنی آزادی دی ہو ئی تھی کہ یہ لوگ سیاہ اور سفید کے مالک بنے ہو ئے تھے جن کے دور حکومت میں کراچی کا جغرافیہ تبدیل کر نے کی باتیں ہو ئیں۔
الطاف کی منی لانڈرنگ اور بھتہ خوری کو مشرف ہی نے تحفظ فراہم کیا کیونکہ یہ لوگ آپ کے وزیر رہے اب جنرل صاحب معصوم بن کر ان لوگوں کا لیڈر بننے سے انکار کر رہے ہیں۔ اس حوالے سے سرفراز مر چنٹ نے خوب کہا کہ ہر ادارہ متحدہ اور پی ایس پی کے کرتوت جانتا ہے اور دونوں جماعتوں کے لوگ الطاف کی سہولت کاری میں ملوث رہے ہیں۔ بجا فرمایا لیکن ان لوگوں کے سہولت کار کون تھے؟ یہ دونوں طرف سے ہو نے والی پریس کانفرنس کے ذریعے معلوم ہوگیا۔
پاکستانی عوام کو معلوم تو بہت کچھ ہے لیکن کچھ باتیں تشریح طلب ہوتی ہیں جیسا کہ لفظ ’’اسٹیبلشمنٹ۔‘‘ اگر سیاست دانوں کو یہ معلوم ہوتا کہ اسٹیبلشمنٹ کس کو کہتے ہیں تو یقیناً دو جماعتوں کے ملاپ اور پھر علیحدگی پر تبصرہ نہیں کرتے لیکن جو سیاست دان اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ پروان چڑھے اور اقتدار تک پہنچے ان کا اسٹیبلشمنٹ کے کردار پر تبصرہ خود کو آئینہ دکھانے کے مترادف ہے۔ جو سیاست دان اسٹیبلشمنٹ کو سیاست سے دور رہنے یا پھر ان کی خامیاںگنوا رہے ہیں‘ کیا انھوں نے کبھی اپنے گریبانوں میں جھانک کر دیکھا ہے؟ یہ وہی سیاست دان ہیں جو کسی سہارے کے ساتھ اوپر آتے ہیں اور مزے کرنے کے بعد اسٹیبلشمنٹ کو مورود الزام گردانتے ہیں لیکن جب تک اقتدار میں رہتے ہیں کوئی ایسا بل یا قانون پاس نہیں کرتے جس سے اسٹیبلشمنٹ کو آئینی حدود میں پابند کیا جائے۔ یہ سیاست دان اس لیے ایسا قانون پاس نہیں کر سکتے کہ وہ اقتدار کی کر سی تک پہنچتے ہی انگلی پکڑ کر ہیں اسی لیے سیاست دان عمران خان کی ایمپائر کی انگلی کا مطلب بھی اسٹیبلشمنٹ ہی لیتے ہیں۔ سیاست دان بھول جاتے ہیں کہ جس نے بھی اسٹیبلشمنٹ کی انگلی پکڑ کر سیاسی عروج حاصل کیا ان سب کو وقتی فائدہ تو ہوا لیکن تاریخ بتاتی ہے کہ ان سب کا برا حال ہوا اور اسٹیبلشمنٹ نے ان کے ساتھ دھوکا ہی کیا۔ لیکن ہر کسی نے جلد کامیابی کے حصول کے لیے اسٹیبلشمنٹ ہی کا سہارا ڈھونڈا کہ اس طرح ہم علاقے کے چودھری بن جائیں گے۔ جس طرح لطیفہ مشہور ہے کہ آپ کے پاس سب کچھ آجائے لیکن پھر بھی چودھری نہیں بن سکتے جس طرح کراچی کے چوہدری تمام تر سہاروں اور آشیر باد کے باوجود جس حال میں ہیں اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ایم کیو ایم ٹشو پیپر ہے وہ چاہیں شہر دے دیں جب چاہیں شہر واپس لے لیں الطاف حسین جو کل تک اپنے ہزاروں کارکنان کو پاکستان کے دفاع کے لیے دینے کے لیے تیار رہتے تھے جو سمجھتے تھے کہ اگر میرے ساتھ دھوکا ہوا تو میں کراچی کو منٹوں میں بند کردوں گا وہی الطاف نے اسٹیبلشمنٹ کی بے رخی دیکھ کر جب پاکستان مخالف نعرہ لگایا تو بھائی کو بھی پتہ چل گیا کہ ان کی کو ئی حیثیت نہیں ہے چاہئے کوئی بھی ان کے پیچھے ہو الطاف حسین سمجھ رہے تھے کہ میرے ساتھ عالمی اسٹیبلشمنٹ ہے لیکن عالمی سیاست بھی مقامی لوگوں کے بغیر نہیں چل سکتی جس طرح مقامی اسٹیبلشمنٹ مقامی سیاست کو کنڑول کرتی ہے تو انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ عالمی سیاست کو کنٹرول کرتی ہے اور دونوں کا ایک دوسرے کے ساتھ چولی دامن کا ساتھ ہے اور یہ سلسلہ اس وقت تک چلتا رہے گا جب تک سیاسی اکابرین سہارے کی تلاش میں رہیں گے۔ جس دن سیاست دانوں نے اپنی ذات پر بھروسہ کر نا شروع کر دیا تو ان کی عزت بھی ہو گی اور عوام میں پزیرائی بھی ملے گی مگر جوسب کچھ جانتے ہو ئے بھی اسٹیبلشمنٹ کے سہارے زندہ رہنا چاہتے ہیں وہ ماضی کے واقعات سے سبق حاصل کریں۔

حصہ