بلوچستان کا عالمی منظر نامہ

241

ڈاکٹر محمد اقبال خلیل
347910 مربع کلومیٹر رقبے پر محیط بلوچستان پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے، لیکن آبادی کے لحاظ سے سب سے چھوٹا صوبہ بنتا ہے، اس لیے قومی اسمبلی میں اُس کی نمائندگی صرف 12نشستوں تک محدود ہے، جب کہ سینیٹ میں اس کی نمائندگی ایک وفاقی اکائی کی حیثیت سے تمام دیگر صوبوں کے برابر یعنی14ہے۔ اس کی صوبائی اسمبلی کی کُل نشستیں 65 ہیں۔ اس سال پاکستان میں جو مردم شماری ہوئی ہے اُس میں اس کی آبادی میں اضافہ ہوا ہے جو اب 1,23,44,408ہے ۔ اس طرح اس کی قومی اسمبلی میں نشستوں میں اضافہ ہوگا۔
موجودہ وزیراعلیٰ نواب ثناء اللہ زہری کا تعلق مسلم لیگ (ن) سے ہے، جو زہری قبیلے کے سردار ہیں، اور انہوں نے اتحادی جماعت بلوچستان نیشنل پارٹی کے قوم پرست وزیراعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک سے ایک معاہدے کے تحت چارج لیا ہے۔ سردار ثناء اللہ زہری وزیراعلیٰ ہونے کے ساتھ ایک بڑے قومی رہنما بھی ہیں۔ بلوچستان کے موجودہ علاقے کی قدیم زمانے میںجو تقسیم تھی اس میں جھالاوان علاقے کے یہ چیف سردار اور رئیس ہیں۔ اس طرح وہ بلوچ قبائل میں ایک ممتاز حیثیت رکھتے ہیں۔ یاد رہے کہ پیپلز پارٹی کے دور میں بلوچستان کے وزیراعلیٰ نواب محمد اسلم رئیسانی بلوچستان کے دوسرے خطے سراوان اور رئیسانی قبیلے کے سردار ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کی ایک اور اتحادی جماعت پشتون خوا ملّی عوامی پارٹی ہے جس کے سربراہ محمود خان اچکزئی ہیں جن کے والد عبدالصمد خان اچکزئی نیپ کے مشہور رہنما تھے جو بلوچی گاندھی کہلاتے تھے، حالانکہ وہ پختون قوم پرست تھے اور سرحدی گاندھی خان عبدالغفار خان عرف باچا خان کے ساتھیوں میں سے تھے۔ لیکن موجودہ نیپ اب بلوچستان میں صرف ایک ضلع تک محدود رہ گئی ہے اور پختون قوم پرستوں کی نمائندگی PMAPکرتی ہے جو گورنری کے علاوہ کئی وزارتوں کے ساتھ صوبائی حکومت میں شامل ہے۔ گزشتہ دنوں پہلے سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا اور پھر برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں آزاد بلوچستان کے حق میں اشتہاری مہم چلائی گئی۔ بل بورڈ اور ٹیکسیوں اور بسوں پر اشتہارات لگائے گئے۔ پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے اس مہم پر ردعمل کے طور پر ان ممالک کے سفارتی نمائندوں کو بلا کر ان سے احتجاج کیا کہ ان کی سرزمین اقوام متحدہ کے ایک رکن ملک کی سالمیت کے خلاف سازش میں استعمال ہورہی ہے۔ لیکن اس اشتہاری مہم کا جو مقصد تھا وہ حاصل ہوچکا ہے۔ آزاد بلوچستان کے حق میں عالمی سطح پر حمایت حاصل کرنے کے لیے جو عناصر کام کررہے ہیں اُن کا مقصد کسی بھی طریقے سے اس مسئلے کو اجاگر کرنا ہے کہ بلوچستان ایک متنازع علاقہ ہے۔
آزاد بلوچستان یا وسیع تر بلوچستان صرف پاکستان کا مسئلہ نہیں ہے، بلکہ اس علاقے میں ایران اور افغانستان بھی شامل ہیں۔ جہاں تک ایران کا تعلق ہے وہ اس معاملے پر بہت زیادہ حساس ہے اور سختی سے بلوچ علیحدگی پسندوں کو دبانے کی پالیسی پر گامزن ہے۔ جب کہ افغانستان کو اس کی فکر ہی نہیں بلکہ وہی پاکستان کے ناراض بلوچ عناصرکو نہ صرف پناہ دیتا رہا ہے بلکہ ان کی سرپرستی اور حوصلہ افزائی بھی کرتا رہا ہے۔ چنانچہ بلوچ علیحدگی پسندوں کے تربیتی کیمپ وہاں موجود ہیں اور ایک طویل عرصے سے افغانستان کی کمیونسٹ حکومتیں اور اب پختون و تاجک قوم پرست حکمران طبقہ بھی ان کی حمایت پر کمربستہ ہے۔ گریٹر بلوچستان کے مجوزہ نقشے میں ایرانی صوبے سیستان اور بلوچستان شامل ہیں جن میں ایران کے مشہور شہر زاہدان اور چاہ بہار موجود ہیں۔ جب کہ افغانستان کے صوبے نمروز، ہلمند اور قندھار بھی اس میں موجود ہیں۔ لیکن اِس وقت زیادہ شورش پاکستانی صوبے بلوچستان ہی میں نظر آرہی ہے جس کی بڑی وجہ کمزور پاکستانی حکومتیں اور ان کی پالیسیاں ہیں۔
ویسے تو یہ اختلاف پاکستان بننے کے کچھ عرصے بعد ہی شروع ہوگیا تھا جب خان آف قلات احمد یار خان کے بھائی نے علَمِ بغاوت بلند کیا، لیکن 1970ء کی دہائی میں ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں اس کو عروج ملا جب مشہور بلوچ قبائل مری اور مینگل نے اپنے سرداروں خیر بخش مری اور عطاء اللہ مینگل کی قیادت میں دوبارہ علَمِ بغاوت بلند کیا، جس کو کچلنے کے لیے بھٹو حکومت نے سیاسی حل کے بجائے فوجی طاقت کا بے دریغ استعمال کیا اور فضائی قوت کا بھی استعمال کیا گیا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ سرداروں کے ساتھ ہزاروں بلوچ افغانستان چلے گئے اور پھر وہاں سے اُن کی قیادت لندن اور دیگر یورپی ممالک میں سیاسی پناہ لے کر رہائش پذیر ہوگئی۔
جب جنرل ضیاء الحق نے بھٹو حکومت کا تختہ الٹ کر عنانِ اقتدار سنبھالی تو انہوں نے اسیرانِ حیدرآباد عبدالولی خان اور اُن کے ساتھیوں کے ساتھ بلوچ رہنمائوں سے بھی نرمی کا رویہ اختیار کیا، جس کی وجہ سے کچھ لوگ واپس آگئے۔ بدقسمتی سے فوجی حکمرانوں کے تیسرے دور میں جنرل پرویزمشرف نے بلوچستان کے حوالے سے غیر دانش مندانہ پالیسی اختیار کی، خاص طور پر سردار اکبر بگٹی کے معاملے میں اُن سے ایک بڑی غلطی سرزد ہوگئی جس کا خمیازہ اب تک پاکستان بھگت رہا ہے۔ 2006ء میں نواب اکبر بگٹی کو مارنے کا واقعہ خاصا پراسرار اور متنازع ہے، اور کوئی بھی اس کو پوری طرح سے بیان نہیں کرسکا ہے، لیکن جنرل پرویزمشرف نے خود اس کا کریڈٹ لے کر اس کو اپنے خلاف فردِ جرم قرار دے دیا۔ سردار اکبر بگٹی کی شخصیت اور کردار سے لاکھ اختلاف کے باوجود کوئی بھی ان کو پاکستان مخالف قرار نہیں دے سکتا۔ وہ یقینا اعلانِ بغاوت کرکے پہاڑوں پر چلے گئے تھے اور مسلح جدوجہد کی بات کررہے تھے، لیکن سب جانتے ہیں کہ وہ بیرونِ ملک بیٹھے بلوچ سرداروں کی پسندیدہ شخصیت نہ تھے۔ اس لیے اُن کے ساتھ مذاکرات ہی کے ذریعے مفاہمیت کا راستہ اختیار کرنا ایک ریاستی مصلحت تھی، لیکن ان کے قتل کا کریڈٹ لے کر بلوچستان میں بگاڑ کا جواز پیدا کیا گیا۔ اُس وقت بھی چودھری شجاعت نے اپنے مختصر دورِ وزارتِ عظمیٰ میں بلوچستان کے مسئلے کے حل کے لیے فراخدلانہ پیشکش کی، لیکن فوجی حکمران طاقت کے استعمال پر مُصر رہے اور لال مسجد کی طرح بلوچستان کو بھی نشانِ عبرت بنانے کی کوشش کرتے رہے، جس کی وجہ سے بلوچ علاقوں میں لاپتا افراد (Missing Persons)کی ایک طویل فہرست رہی اور ہے، اور انہی افراد کی لاشیں بھی ویرانوں سے اُن کے اہل و عیال اٹھاتے رہے۔ اِس وقت بھی یہ مسئلہ عالمی رائے عامہ کو متاثر کررہا ہے۔ نام نہاد بلوچستان لبریشن آرمی (BLA) اور کئی دیگر دہشت گرد تنظیموں نے بلوچستان میں قتل و غارت گری کا جو بازار گرم کررکھا ہے وہ بھی اپنی مثال آپ ہے۔ اس خطے میں داعش، طالبان اور لشکر جھنگوی جیسی تنظیمیں بھی پوری طرح سے سرگرم عمل ہیں، جب کہ ایرانی بلوچستان کی تنظیم جنداللہ بھی بعض واقعات میں ملوث ہے۔ بلوچ علیحدگی پسندوں نے صوبے میں مقیم پنجابی آبادکاروں اور لیبر فورس کو خاص طور پر نشانہ بنایا اور بڑی تعداد میں ان کے خلاف انتقامی کارروائیاں کیں، جس کے نتیجے میں ایک بڑی تعداد بلوچستان سے واپس پنجاب منتقل ہوگئی، ان میں سرکاری ملازمین بھی شامل ہیں، جن میں خاص طور پر یونیورسٹیوں، کالجوں اور اسکولوں کے اساتذہ کے جانے کی وجہ سے تعلیمی اداروں کو بہت بڑا نقصان پہنچا جس کا اعتراف اب خود بلوچ قوم پرست حلقوں کی جانب سے بھی کیا جاتا ہے۔ پولیس اہلکاروں اور افسروں کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ میں گزشتہ ہفتہ 3,2 روز کے لیے کوئٹہ میں تھا، جس دن میں واپس آیا اسی دن ایک اعلیٰ پولیس افسر ڈی آئی جی کی گاڑی پر خودکش حملہ ہوا۔ 15نومبر کو ایک اور حملے میں ایس پی کو مار دیا گیا۔ یہ سلسلہ جاری ہے اور یہ معلوم نہیں ہورہا کہ کون سی تنظیم یہ کام کررہی ہے۔ صوبے کا دارالحکومت کوئٹہ جو 1001205کی آبادی کے ساتھ بلوچستان کا سب سے بڑا شہر ہے، یہاں مسلسل دہشت گردی کے واقعات ہورہے ہیں۔ شیعہ آبادی کا قبیلہ ہزارہ بھی ہدف بنا ہوا ہے اور آئے روز اُن کے خلاف کارروائیاں کی جاتی ہیں۔ وکلاء، ہسپتال، مساجد، امام بارگاہیں اور تعلیمی ادارے، غرض یہ کہ کوئی جگہ محفوظ نہیں ہے۔
اس سال کے شروع میں مَیں نے بلوچستان کے پختون علاقوں کا ایک 10روزہ دورہ کیا تھا۔ وہاں نسبتاً امن و امان کی صورتِ حال بہتر ہے اور فوج کا کنٹرول ہے، لیکن کوئٹہ اور بلوچ علاقوں میں صورت حال مخدوش ہے۔
بلوچستان کے وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے بارہا اپنے بیانات میں صوبے میں بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کی مداخلت کا الزام لگایا ہے جو دہشت گردوں کی پشت پناہی کررہی ہے اور ان کو مادی و تیکنیکی تعاون فراہم کرتی ہے۔ گزشتہ سال بھارتی خفیہ ایجنٹ اور نیوی آفیسر کلبھوشن یادیو کی گرفتاری اور اُس کے انکشافات نے بلوچستان میں ایک بڑا ارتعاش پیدا کیا تھا اور خیال کیا جاتا تھا کہ اس کے بعد بھارتی نیٹ ورک کو بے نقاب کرکے حالات میں بہتری لائی جاسکے گی، لیکن اس کے بعد بھی دہشت گردی کا سلسلہ جاری رہا اور قوم کی امیدیں بر نہ آسکیں۔ سابق وزیراعظم پاکستان میاں نوازشریف نے توکسی فورم پر اُس کا نام تک نہ لیا۔ نہ جانے کون سی مصلحت اُن کے آڑے آئی۔ البتہ حکومتِ پاکستان نے بلوچستان میں بھارتی مداخلت کے ثبوت ایک دستاویز کی صورت میں اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری کی خدمت میں پیش ضرور کیے، جس کا اب تک کوئی خاص نتیجہ سامنے نہیں آسکا ہے۔ اب تو بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے جو پاکستان دشمنی میں کسی بھی سابقہ بھارتی قیادت سے بہت آگے دکھائی دے رہے ہیں، کھل کر بلوچستان کے علیحدگی پسندوں کی حمایت کا اعلان کیا ہے اور بیرونِ پاکستان مقیم بلوچ قیادت براہمداغ بگٹی و دیگر شخصیات سے روابط قائم کیے ہیں۔ اس طرح افغانستان کے راستے ہندوستانی ایجنسیاں بلوچستان میں دہشت گردی کو ہوا دینے میں مصروف ہیں۔
بلوچستان کے حالات بگاڑنے میں ڈاکٹر شازیہ بگٹی کا واقعہ بھی اہم ہے۔ ان کا نام ڈاکٹر شازیہ خالد تھا اور وہ سوئی میں پیٹرولیم کمپنی کی ایک کلینک میں میڈیکل آفیسر تھیں، جب کہ ان کا خاوند لیبیا میں ملازمت کرتا تھا۔ میڈیکل ڈاکٹر کے ساتھ وہ سماجی کارکن بھی تھیں۔ ان کو 2 جنوری 2005ء کی رات زنا بالجبر کا نشانہ بنایا گیا جس کا الزام ایک فوجی آفیسر پر لگایا گیا۔ لیکن انہیں انصاف فراہم کرنے کے بجائے ڈیرہ بگٹی سے کراچی منتقل کردیا گیا اور مسلسل نظربند رکھا گیا۔ معاملے کو دبانے کی کوشش کی گئی، لیکن مقامی میڈیا سے زیادہ بین الاقوامی میڈیا میں اس کیس کو اجاگر کیا گیا جو ملک و قوم کے لیے بدنامی کا باعث بنا، اور بلوچ ناراض عناصر کو ایک اچھا ایشو فراہم کیا گیا۔ ڈاکٹر شازیہ کو بعد میں قتل کرنے کی کوشش بھی کی گئی۔ بگٹی قبیلے نے احتجاج کرتے ہوئے پورے ملک کو سوئی گیس کی سپلائی روک دی، جس کے جواب میں جنرل پرویزمشرف نے بڑی فوجی کارروائی کردی۔ انہوں نے خود ہی ملزم کیپٹن حماد کو بے گناہ قرار دیتے ہوئے بگٹی قبیلے کو سنگین نتائج کی دھمکی دی۔ ڈاکٹر شازیہ اپنے شوہر کے ساتھ ملک چھوڑ کر لندن چلی گئیں لیکن جو داغ پرویزمشرف حکومت نے ملک کی عزت پر لگایا وہ اب تک صاف نہیں ہوسکا ہے۔
بلوچستان کی بندرگاہ گوادر اس وقت ملکی ترقی کا ایک اہم نکتہ بن چکی ہے۔ چین نے گوادر تک 3000کلومیٹر طویل اقتصادی راہداری کا منصوبہ ’’سی پیک‘‘ بناکر پاکستان میں 52 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کا آغاز کردیا ہے۔ پاکستان کی تاریخ کی یہ سب سے بڑی غیر ملکی سرمایہ کاری پورے ملک کی اقتصادی حالت کو بدلنے کی صلاحیت کی حامل ہے۔ لیکن جب سے اس عظیم منصوبے پر عمل شروع ہوا ہے اس کے خلاف عالمی سطح پر سازشیں زور پکڑ چکی ہیں۔ ہندوستانی قیادت اور عوام کے پیٹ میں سخت مروڑ اٹھ رہا ہے اور وہ یہ برداشت کرنے کو تیار نہیں کہ پاکستان اقتصادی میدان میں بہت آگے نکل جائے۔ نئی امریکی انتظامیہ ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں پاکستان دشمنی اور چین کو محدود رکھنے کی پالیسی پر اوّل روز سے کاربند ہے۔ وہ بھی کھل کر سی پیک کی مخالفت کررہے ہیں۔ جب کہ چین اس معاملے میں بالکل یکسوئی کے ساتھ کام کررہا ہے۔ آئندہ دو سے تین سال بہت اہم ہیں۔ ہندوستانی قیادت کی بلوچستان میں تازہ دلچسپی کی ایک بڑی وجہ اس منصوبے کو ناکام بنانا ہے، اور اس کے لیے وہ ہر ممکن ذریعہ استعمال کرنے کے لیے تیار ہے۔ دوسری طرف پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت اس منصوبے کی اہمیت کے پیش نظر اس کی تکمیل میں پوری دلچسپی رکھتی ہے۔ یہ پاکستان کے مستقبل کے لیے ناگزیر ہے۔ انفرااسٹرکچر کی تعمیر کے لیے امن و امان کا قیام اور افرادی قوت کی سلامتی لازمی ہے۔ بدقسمتی سے سیاسی میدان میں جو یکسوئی نظر آنی چاہیے وہ معدوم ہے۔ میاں نوازشریف کی حکومت اپنی ہی بے وقوفیوں کے سبب اور اپنے کالے کرتوت کے الزام میں ختم ہوچکی ہے اور قدرے کمزور حکومت شاہد خاقان عباسی کی قیادت میں کام کررہی ہے۔ پہلے جنرل راحیل شریف اور اب جنرل قمر جاوید باجوہ کی قیادت میں پاکستانی فوج منصوبے کی سیکورٹی کے لیے اہم اور کلیدی کردار ادا کررہی ہے۔ لیکن یہ صرف فوج کے بس کی بات نہیں۔ ایک قومی منصوبہ پوری پاکستانی قوم کا اثاثہ ہے اور اس کی حفاظت اس کی ذمہ داری ہے۔ اس لیے بلوچستان کے سلگتے ہوئے مسائل کا حل ضروری ہے۔ خوش قسمتی سے بلوچ قوم کے اندر بھی پاکستان سے علیحدگی کے حق میں بہت کم تعداد میں لوگ ہیں۔ زیادہ تر بیرونِ ملک مقیم بلوچ رہنما ہی اس تحریک کو چلا رہے ہیں۔ پھر بھی ضرورت اس امر کی ہے کہ جہاں بلوچ قوم کو اعتماد میں لیا جائے اور اقتصادی ترقی اور قومی دھارے میںشامل کیا جائے وہاں بیرونِ ملک مقیم افراد سے بھی رابطے کیے جائیں اور ان کو آمادہ کیا جائے کہ وہ واپس آکر اپنے بھائیوں کے ساتھ مل کر ملک و قوم کی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔ اس کے لیے سیاسی حرکت کی ضرورت ہے، اور سیاسی و جمہوری انداز میں کھلے دل کے ساتھ بات کی جائے اور حقائق کو تسلیم کرتے ہوئے حق و انصاف و برابری کی پاسداری کے اصولوں کو نافذ کیا جائے۔ جماعت اسلامی پاکستان کے سابق امیر سید منورحسن نے بلوچ قوم پرستوں کے ساتھ اچھے رابط قائم کیے تھے جس کا اثر اب بھی موجود ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان کی قومی سیاسی پارٹیوں کی قیادت بلوچ رہنمائوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہے اور قومی وحدت اور بھائی چارے کو فروغ دے کر مسائل کا حل تلاش کرے۔

حصہ