محمد ﷺ مسکراتے تھے ہمیشہ مسکراتے تھے…

182

افشاں نوید
کتنا خوبصورت ہوتا ہوگا وہ منظر جب محمد صلی اللہ علیہ وسلم مسکراتے ہوں گے تب کائنات مسکراتی ہوگی، آپؐ کے اصحابؓ ان لمحوں پر رشک کرتے ہوں گے، جن و ملائک وجد میں آجاتے ہوں گے۔ لاکھوں درود اور لاکھوں سلام اس ہستی پر جو امت کے غم میں مبتلا رہتی تھی اور راتوں کو اٹھ کر روتی تھی۔ جو خلقِ خدا کی ہدایت کی حریص تھی اور کمر سے پکڑ پکڑ کر انہیں جہنم میں جانے سے روکتی تھی، جب کہ خلقت پروانوں کی طرح جہنم میں جانے کو تیار تھی۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی 23 برس کی نبوت کی زندگی میں ہمہ وقت کشاکش تھی، غزوات تھے، سرایہ تھے، لیکن سیرتِ مطہرہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خوش خلقی اور خوش طبعی کے واقعات سے معمور ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم انسانِِ کامل تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جو بھی قریب آتا، آپؐ کا گرویدہ ہوجاتا، آپؐ کو دل دے بیٹھتا۔ آج 1439ہجری میں بھی آپؐ کے مذاق و مزاح کی لطافت مشامِ جاں کو معطر کرتی ہے…!!
ہمارے ماں باپ آپؐ پر قربان، آپؐ سراپا لطف وکرم تھے۔ بدّو دور دراز سے آپؐ سے ملنے کے لیے آتے۔کسی سے آپؐ نے مصافحہ کرلیا، کسی سے معانقہ کیا، کسی کے شانے پر دستِ مبارک رکھ دیا، کسی کو سینے سے لگا لیا، کسی کے سر پر دستِ شفقت پھیر دیا۔ آپؐ کا لمس تاحیات اس کے ایمان کو حرارت بخشتا رہتا۔ زہد کے ساتھ خشکی کا تصور ہے، جتنی بڑی مذہبی شخصیت ہوتی ہے اُس کے رعب اور دبدبے سے لوگ کاپنتے ہیں۔ زمانۂ موجود میں جو جتنا صاحبِ جلال ہے، خلقِ خدا میں اتنا ہی پہنچا ہوا بزرگ تصور کیا جاتا ہے۔
ہم ان لمحات کا تصور کرتے ہیں جب آپؐ کی مسکراہٹ سے کائنات مسکرا اٹھی، جب آپؐ کے تبسم سے جن وملائک متبسم ہوگئے۔ جب آپؐکے اردگرد موجود اصحابؓ سرشار ہوگئے ہوں کہ انہوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مسکراتے ہوئے دیکھا۔ تصور میں کتنا خوبصورت بنتا ہے آپؐ کا سراپا۔ یہ تصویر ہمیں مصورِ حقیقی تک پہنچانے کا ذریعہ ہے۔ احادیث کی کتب میں آپؐ کے مسکرانے کے کئی واقعات مذکور ہیں۔ آپؐ کبھی قہقہہ لگا کر نہیں ہنسے۔آپؐ نے قہقہہ لگا کر ہنسنے اور زیادہ ہنسنے سے منع فرمایا، اس سے دل مُردہ ہوجاتے ہیں۔ شمس و قمر قربان آپؐ کے تبسم پر۔ وہ تبسم کس وقت کس موقع پر ہوتا تھا یہ جاننے کے لیے ان کی پاکیزہ مجالس میں شریک ہوتے ہیں۔
حضرت انس بن مالکؓ فرماتے ہیں کہ احمد مصطفی محمد مجتبیٰ ؐ نے مسکراتے ہوئے فرمایا کہ جبرئیل امین نے بتایا کہ ’’جہنم سے نکلنے والا آخری شخص کہے گا یارب جہنم سے دور کردے، اس کو دور کردیا جائے گا۔ پھر کہے گا یارب مجھے اس درخت کے سائے میں پہنچا دے، اس کو پہنچا دیا جائے گا۔ پھر وہ کہے گا مجھے جنت کے دروازے تک پہنچا دیا جائے، اس کو پہنچا دیا جائے گا۔ (حالانکہ ہر مرتبہ وہ کہے گا کہ اس کے بعد میں مزید سوال نہیں کروں گا)، اس کے بعد اللہ رب العزت مسکراکر کہیں گے اس کو جنت میں داخل کردو۔‘‘
ماں سے ستّر گنا زیادہ پیار کرنے والا رب بندے کو خوب جانتا ہے۔ حسین جنتیں اس نے تیار ہی اپنے بندوں کے لیے کی ہیں۔ اسی لیے اس نے پیغمبر بھیجے کہ انسان راہِ راست پر آجائیں اور جنت کے حقدار ہوجائیں۔ یہ ہماری بداعمالیاں ہیں جو ہمیں جنت سے دور کرنے کا سبب بنیں گی۔ دنیا میں رب نے بن مانگے بے حد و حساب دیا، اس دن بھی وہ اپنے سوالی بندے کے ناز اٹھائے گا۔ اللہ کے نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام نے مسکراتے ہوئے اللہ اور بندے کے تعلق کی عکاسی کی۔
حضرت عمر بن عوفؓ انصاری سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوعبیدہ بن جراحؓ کو بحرین روانہ فرمایا تاکہ وہاں سے جزیہ وصول کرکے لائیں۔ چنانچہ وہ وہاں سے جزیہ وصول کرکے آئے۔ انصار کو ابوعبیدہؓ کی واپسی کا علم ہوا۔ سب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ فجر کی نماز میں شریک ہوگئے۔ نماز کے بعد آپؐ نے انہیں دیکھا تو مسکرا دئیے اور فرمایا: ’’میرا گمان ہے کہ تم لوگوں کو خبر ہوئی ہوگی کہ ابوعبیدہؓ بحرین سے کچھ لے کر آیا ہے؟ اصحابؓ نے فرمایا: جی ہاں یارسول اللہ! آپؐ نے فرمایا: تم لوگوں کو بشارت دیتا ہوں اور تم لوگ اس چیز کی امید رکھو جو تمہیں خوش کرے گی۔ خدا کی قسم میں تم لوگوں پر فقر کا خوف نہیں کرتا بلکہ مجھے تم پر دنیا کے وسیع ہوجانے کا خوف ہے جیسے تم سے پہلے لوگوں پر وسیع ہوگئی تھی۔ پھر تم دنیا سے رغبت کرنے لگو گے جیسے تم سے پہلے لوگ کرتے تھے۔ پھر یہ دنیا تم کو ہلاک کردے گی جیسے اُن لوگوں کو ہلاک کیا تھا جو تم سے پہلے تھے۔‘‘ (متفق علیہ)
اس حدیث کے مطابق مال کی خواہش ناپسندیدہ نہیں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسکراتے ہوئے مال حاصل ہونے کی خوشخبری دی، ساتھ ہی مال کے فتنہ ہونے کی طرف توجہ دلائی۔ یہ ہے رحمت للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوۂ پاک۔
ایک صحابی کا نام عبداللہ اور لقب حمار ہے۔ یہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے گھی اور شہد بطور ہدیہ لایا کرتے تھے۔ کبھی ایسا ہوتا کہ بیچنے والے کو رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے آتے اور کہتے جو تحفہ میں آپؐ کے لیے لایا تھا ان صاحب کو اس کی قیمت ادا کردیجیے۔ یہ بات سن کر آپؐ مسکراتے اور قیمت ادا کرنے کا حکم دیتے۔ ایک دن حمار کو لایا گیا، اس نے شراب پی رکھی تھی۔ ایک صحابیؓ نے کہا: اس پر اللہ کی لعنت ہو۔ آپؐ نے فرمایا: ایسا نہ کہو، یہ تو اللہ اور رسول کو دوست رکھتا ہے۔ یہ ہے رحمت۔ اللہ کے آخری نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں۔ آپؐ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ آپؐ پورا پیغام پہنچا کر گئے۔آج کوئی فرد شراب نوشی جیسے فعل کا مرتکب ہو تو ہم میں سے کوئی اس پر کفر کا فتویٰ لگا دے گا۔ اپنے دروازے اس پر بند کردئیے جائیں گے۔ کوئی فرد شیطان کے بہکاوے میں آکر گناہ کربیٹھے تو اس کو لعنت ملامت کے بجائے نصیحت کی جائے، امید رکھی جائے کہ توبہ کرکے پاک ہوجائے گا۔ حُسنِ سلوک سے اس کے راہِ راست پر آنے کے امکانات ہیں۔ بھری محفل میں اس کو لعنت ملامت کی جائے تو شیطان غلط راستے پر ڈال سکتا ہے۔ فداہٗ ابی و امی، کتنا پیارا ہے اسوۂ مبارک۔ تحفہ قبول کرتے ہیں اور مسکراتے ہوئے قیمت بھی ادا کرتے ہیں۔ موقع ہو تو عیب کی پردہ پوشی کا سبق دیتے ہیں۔ اسوۂ رسولؐ سے ملنے والے سبق رہتی دنیا تک روشنی کا ذریعہ ہیں۔ آپؐ کے خادمِ خاص حضرت انسؓ دس برس کے طویل عرصے تک آپؐ کی خدمت میں رہے۔ خادموں کی گواہی خاص ہوتی ہے۔ حضرت انسؓ پیاری گواہی دیتے ہیں ’’میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی دس سال تک خدمت کی، آپؐ نے کبھی اُف تک نہ کہا اور نہ کبھی مجھے ملامت کی، اگر آپؐ کے گھر والے کبھی ملامت کرتے تو آپؐ فرماتے اسے چھوڑ دو، اگر یہ کام مقدر میں ہوتا تو ہوجاتا۔‘‘
حضرت انسؓ ایک دن کا واقعہ بیان کرتے ہیں ’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کسی کام کے لیے بھیجا۔ میں نے کہا خدا کی قسم میں نہ جائوں گا لیکن میرے دل میں تھا کہ چلا جائوں گا۔ میں وہاں سے نکلا، بازار میں چند لڑکے کھیل رہے تھے، میں وہیں رک گیا، تھوڑی دیر میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے۔ آپؐ نے پیچھے سے میری گدّی پکڑلی۔ میں نے پلٹ کر دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا رہے تھے۔ آپؐ نے فرمایا: انس جہاں جانے کو کہا تھا وہاں گئے؟ میں نے کہا یارسول اللہ! ابھی جارہا ہوں۔‘‘ یہ بھی کہا ’’دس سال میں نے آپؐ کی خدمت کی، خدا کی قسم آپؐ نے کبھی مجھ سے یہ نہیں کہا کہ یہ کام کیوں کیا اور یہ کیوں نہیں کیا۔‘‘ ( متفق علیہ)
بڑے خوش نصیب تھے حضرت انسؓ۔ آپؐ کے قرب نے انہیں خیرِکثیر عطا کی ہوگی۔ ساری زندگی اپنی گردن پر آپؐ کے ہاتھوں کا لمس محسوس کیا ہوگا۔ وہ مسکراہٹ یادوں کا سرمایہ رہی ہوگی۔ قصے کہانی کی بات لگتی ہے، خدمت گار بچے کو 10 برس اُف تک نہ کہنا۔ ہمارے معاشرے میں یہ خبریں آئے دن اخباروں کی زینت بنتی ہیں کہ ملازم بچے کے سر پر شیشے کا جگ دے مارا، کم سن ملازمہ کو زخمی کردیا، ملازمہ کو حبسِ بے جا سے برآمد کیا گیا وغیرہ۔ ملازموں سے بدسلوکی کو بدسلوکی سمجھا ہی نہیں جاتا بلکہ اپنا حق گردانا جاتا ہے۔ اکثر گھروں میں ملازمین اور ان کے بچوں سے نامناسب رویہ رکھا جاتا ہے۔ حضرت انسؓ کی گواہی چودہ صدیوں کے بعد ہم تک پہنچی ہے کہ خادموں کو اپنے بچوں کی طرح سمجھنا چاہیے۔ حضرت انسؓ کے والدین جب انہیں واپس لینے آئے تو انہوں نے جانے سے انکار کردیا۔ آپؐ کی رحمت کا چھاجوں مینہ جس پر بھی برستا تھا اس کو ہمیشہ کے لیے اپنا اسیر کرلیتا تھا۔
حضرت ابوذرؓ کی خوبصورت روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’میں اُس پہلے شخص کو جانتا ہوں جو جنت میں داخل ہوگا۔ اُس شخص کو بھی جانتا ہوں جو سب سے آخر میں دوزخ سے نکالا جائے گا۔ قیامت کے دن ایک شخص کو لایا جائے گا اور کہا جائے گا کہ اس پر اس کے چھوٹے چھوٹے گناہوں کو پیش کرو۔ اس کے بڑے بڑے گناہوں کو اس سے چھپائو۔ وہ اقرار کرے گا، انکار نہ کرے گا اور اپنے بڑے بڑے گناہوں سے ڈر رہا ہوگا۔ (اللہ تعالیٰ کی طرف سے) اس کے لیے کہا جائے گا کہ اس شخص کو اس کی ہر برائی کے بدلے جو اس نے کی ہے، نیکی دے دو۔ یہ دیکھ کر وہ عرض کرے گا میرے اور بھی بہت سے گناہ ہیں جنہیں میں یہاں نہیں دیکھ رہا‘‘۔ حضرت ابوذرؓ فرماتے ہیں میں نے دیکھا حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم اس جگہ پہنچ کر ایسا ہنسے کہ آپؐ کی داڑھیں نظر آنے لگیں۔ (ترمذی)
ہم عبد ہیں وہ معبود۔ دو اور دو چار کرنا ہماری گھٹی میں پڑا ہے۔ وقت ہوگا حساب کتاب کا۔ ہر ایک کی گٹھڑیاں کھولی جارہی ہوں گی، ترازو لگے ہوں گے، ہر ایک کا اعمال نامہ ہاتھ میں ہوگا۔ دنیا میں بہت سے لوگوں کو بڑی نعمتوں سے نوازا جاتا ہے، کچھ کی زندگی آزمائشوں میں گزرتی ہے۔ کوئی صبر کرتا ہے، کوئی شکر سے محروم۔ وہاں کے باٹ الگ ہوں گے۔ کچھ ایسی ہی منظر کشی ہے اس حدیثِ مبارک میں۔ بندہ اپنی نیکیاں اور گناہ خوب جانتا ہے، ڈرتا ہوگا کہ اب فلاں فلاں گناہ سامنے آئیں گے۔ رب کو نہ معلوم کون سا عمل یا ادا پسند آجائے، آزمائش پر صبر کرنا بلندیٔ درجات کا سبب بن جائے۔ رب نے اپنی رحمت میں ڈھانپ لیا عاصی کو۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان لمحات کا تصور کرکے سرشار ہیں اور رخِ مبارک متبسم ہے۔
عبداللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں اُس شخص کو پہچانتا ہوں جو سب سے آخر میں جہنم سے نکالا جائے گا، وہ جہنم سے سرین کے بل گھسٹتا ہوا نکلے گا۔ اس سے کہا جائے گا جا جنت میں داخل ہوجا۔ وہ جائے گا تاکہ جنت میں داخل ہو لیکن وہاں جاکر دیکھے گا کہ سب لوگوں نے تمام جگہوں پر قبضہ کررکھا ہے۔ وہ لوٹ آئے گا اور کہے گا اے رب لوگوں نے تمام گھروں پر قبضہ کرلیا۔ اس سے کہا جائے گا اچھا تو تمنا کر۔ وہ تمنا کرے گا تو اس سے کہا جائے گا جو تُو نے تمنا کی وہ تیرے لیے اور دنیا سے دس گنا زیادہ تیرے لیے ہے۔ وہ شخص کہے گا اے میرے رب تُو مذاق کرتا ہے؟ حالانکہ تُو بادشاہ ہے (جانتا ہے کہ وہاں ذرا سی بھی جگہ نہیں ہے)۔ راوی کہتے ہیں نبی پاک علیہ الصلوٰۃ والسلام یہ فرماکر اس قدر ہنسے کہ آپؐ کی داڑھیں نظر آنے لگیں (رواہ الترمذی فی الشمائل)۔ بڑا خوبصورت ہوگا وہ دن اہلِ جنت کے لیے، اللہ کی رحمت اہلِ ایمان پر سایہ فگن ہوگی۔ مومنوں کو رب سے گفتگو کا اعزاز حاصل ہوگا۔
حضرت عمرہؓ فرماتی ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ صدیقہؓ سے پوچھا کہ جب آپؐ اپنی ازواج کے ساتھ تنہائی میں ہوتے تو کیا کرتے تھے؟ حضرت عائشہؓ نے فرمایا: تمہارے آدمیوں کی طرح آپؐ بھی ایک عام آدمی تھے، مگر آپؐ تمام لوگوں سے زیادہ نرم طبیعت انسان تھے اور آپؐ تبسم فرمایا کرتے تھے۔ (ترمذی، ابن سعد)محبت بھرا ماحول ہے۔ آپؐ کی خوش طبعی نے گھر کو جنت بنایا ہوا ہے۔ ایک طرف نبوت کی عظیم الشان ذمہ داریاں ہیں، دوسری طرف خانگی معاملات ہیں۔ یہاں آپؐ ایک شوہر ہیں، آپؐ کی خوش طبعی نے آپؐ کی ازواج کی زندگیوں کو خوشی سے بھر دیا ہے۔ آپؐ ان کو خوشیاں دینے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ تربیت اور اصلاح کو بھی پیش نظر رکھتے ہیں۔
حضرت سوید بن حارثؓ فرماتے ہیں کہ میں بطور وفد حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا۔ میں وفد کے آدمیوں میں سے ساتواں تھا۔ ہم آپؐ کے پاس پہنچے، گفتگو کی تو آپؐ کو ہماری اچھی ہیئت اور زینت سے تعجب ہوا۔ آپؐ نے فرمایا: تم کون ہو؟ ہم نے عرض کیا: ہم مومن ہیں۔ یہ سن کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دئیے اور آپؐ نے فرمایا کہ ہر قول کی ایک حقیقت ہوتی ہے، تمہارے اس قول اور ایمان کی حقیقت کیا ہے؟
حضرت سویدؓ کہتے ہیں: ہم نے عرض کیا کہ پندرہ عادتیں ہیں، پانچ وہ ہیں جن پر آپؐ کے قاصد نے یقین کرنے کا حکم دیا، پانچ وہ ہیں زمانۂ جاہلیت سے ہم جن کے عادی ہیں اور آج تک ان پر جمے ہوئے ہیں، اگر آپؐ کو ناپسند ہوں تو ہم ان کو چھوڑ دیں گے۔ (حیاۃ الصحابہ)
یہ سن کرکہ ہم مومن ہیں، بے ساختہ مسکراہٹ آپؐ کے چہرۂ مبارک پر پھیل گئی کہ کتنی سادگی سے اپنے ایمان کے متعلق بتایا۔ ایمان کے بھی مرتبے ہوتے ہیں۔ آپؐ نے مزید سوالات سے اپنی تشفی فرمائی کہ واقعی ہم ایمان کے تقاضوں کو سمجھتے بھی ہیں یا جذبات میں آکر ایمان کا دعویٰ کررہے ہیں۔ کتنا صادق تھا آپؐ کے اصحاب کا ایمان کہ ابھی ایمان کی شیرینی چکھی ہے اور وہ سب کچھ چھوڑ دینے پر آمادہ ہیں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ناپسند ہو۔ آپؐ کو فخر تھا اپنے اصحابؓ پر۔ واقعی وہ ستارے اور جگنو تھے۔حضرت علی بن ربیعہؓ ہیں، فرماتے ہیں حضرت علیؓ نے مجھے اپنے پیچھے بٹھا لیا اور حرۃ کی طرف چلے۔ پھر اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا اور فرمایا: اے اللہ میرے گناہوں کو بخش دے، بے شک گناہوں کو بخشنے والا تیرے سوا کوئی نہیں۔ پھر میری طرف ہنستے ہوئے متوجہ ہوئے۔ میں نے عرض کیا: اے امیر المؤمنین آپ کا اپنے رب سے استغفار کرنا اور میری طرف ہنستے ہوئے متوجہ ہونا، یہ کیا ہے؟
حضرت علیؓ نے فرمایا: ایک مرتبہ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے پیچھے سوار کیا اور حرۃ کی طرف لے چلے، پھر اپنا سرِ مبارک آسمان کی طرف اٹھایا اور فرمایا: اے میرے رب میرے گناہوں کو بخش دے، بے شک گناہوں کو بخشنے والا تیرے سوا کوئی نہیں۔ پھر میری طرف متوجہ ہوئے اور مسکرائے۔ میں نے عرض کیا: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ نے اپنے رب سے مغفرت طلب کی، پھر آپؐ نے ہنستے ہوئے میری طرف دیکھا؟ آپؐ نے فرمایا: میں اپنے رب کے ہنسنے کی وجہ سے ہنسا۔ اللہ تعالیٰ کے اپنے بندے پر تعجب کرنے کی وجہ کہ یہ بندہ جانتا ہے کہ گناہوں کا بخشنے والا سوائے اللہ تعالیٰ کے کوئی نہیں۔ (حیاۃ الصحابہ)
حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں کہ ایک شخص حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوا اور اس نے کہا کہ میں ہلاک ہوگیا، میں نے رمضان میں دن میں بیوی سے صحبت کرلی۔ آپؐ نے فرمایا: ایک غلام آزاد کردے۔ اس نے کہا: میرے پاس تو کوئی غلام نہیں۔ آپؐ نے فرمایا: تو دو ماہ لگاتار روزے رکھ۔ اس نے کہا: مجھ میں اس کی بھی طاقت نہیں۔ پھر آپؐ نے فرمایا: تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا۔ اس نے کہا: مجھ میں اس کی گنجائش نہیں۔ اتنے میں آپؐ کے پاس ایک بورا لایاگیا جس میں کھجوریں تھیں۔ آپؐ نے دریافت کیا: سائل کہاں ہے؟ وہ حاضر ہوا، فرمایا: اس کو لے جاکر صدقہ کردے۔ اس نے کہا: میں اپنے سے زیادہ محتاج پر صدقہ کروں؟ خدا کی قسم مدینہ کی دونوں پتھریلی سرزمین کے درمیان مجھ سے زیادہ کوئی محتاج نہیں۔ یہ سن کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم اتنا ہنسے کہ آپ کی داڑھیں ظاہر ہوگئیں اور فرمایا: پھر تم اور اہلِ خانہ اسے کھالینا۔ (بخاری)
ہم اپنے ساتھیوں کی تربیت کا طریقہ آپؐ کے اسوہ سے سیکھیں۔ ایک شخص اپنے گناہ کا اعتراف کرنے آتا ہے، آپؐ لعنت وملامت کرنے کے بجائے اسے گناہ دھونے کے طریقے بتاتے ہیں۔ وہ اپنی مجبوریاں ظاہر کرتا چلا جاتا ہے، آپؐ غصے میں آنے کے بجائے انسان کی فطری کمزوریوں کا لحاظ کرتے ہیں، نرمی اور ترحم سے کام لیتے ہیں۔ گناہوں کا بوجھ لیے ہوئے آیا تھا، کاشانۂ نبوت سے جھولی بھر کر گیا۔ اس کے عذرات پر آپؐ کا مسکرانا امت کے لیے یہ پیغام ہے کہ داعیانِ دین کو انسانی کمزوریوں کا لحاظ کرنا چاہیے، وسیع الظرف ہونا چاہیے۔

ۙ(جاری ہے)

حصہ