ہٹ ریفریش

155

تخلیص و ترجمہ: نوید علی بیگ
ٹیکنالوجی ایک نعمت… ستیانا دیلا، چیف ایگزیکٹو مائیکرو سافٹ کی کتاب ہٹ ریفریش نے کئی راز افشا کر دیے۔
جو لوگ 1980 کی دہائی سے قبل پیدا ہوئے ہیں صرف انہیں اس بات کا علم اور تجربہ ہے کہ بغیر کمپیوٹر اور اسمارٹ فون کے بھی زندگی گزاری جا سکتی کے۔ 1990 کی دہائی کی ابتدا میں موبائل اور وسط میں انٹرنیٹ پاکستان میں آیا (عالمی طور پر اس سے چند سال قبل اس کا آغاز ہوا تھا)۔ ٹیکنالوجی کی اس دو منہ والی تلوار نے پوری دنیا کی طرح ہمارے ملک کی معیشت اور معاشرت پر بہت گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔
اگر ہم اس خوش فہمی میں مبتلا ہیں کہ اب ٹیکنالوجی کی بس ہو چکی ہے تو یہ ایک بہت بڑا مغالطہ ہو گا۔ تبدیلی کی یہ رفتار تھمنے والی نہیں ہے۔ اس کے برعکس جدید تخمینہ کے مطابق اس میں مزید تیزی آئے گی اور آج کل اس بات پر غور اور فکر شروع ہو گیا ہے کہ انسان کے اندر ٹیکنالوجی کو اختیار کرنے اور اس کے مطابق اپنے آپ کو تبدیل کرنے یا ڈھالنے کی کتنی صلاحیت ہے اور اگر یہ کم ہے تو کیا اسکو بڑھایا جا سکتا ہے یا ٹیکنالوجی کی رفتار کم کرنے کی ضرورت ہے؟
گورڈنمؤور کے قانون کے مطابق ایک مائکروپروسیسر پر جتنے ٹرانزسٹر ہوتے ہیں ہر دو سال میں اسکی تعداد دگنی ہو جاتی ہے۔ ٹکنالوجی کی ترقی کی رفتار ناپنے کا یہ ایک طریقہ ہے۔ اور 1970 سے اب تک یہ صحیح ثابت ہوتی ہے گو کہ گزشتہ چند برسوں میں یہ رفتار کچھ دھیمی پڑی ہے۔ 1975 میں ایک مائکروچپ پر 5000 ٹرانزسٹر آ تے تھے اور اب یہ تعداد 4 ارب سے بڑھ چکی ہے ۔
یہ بنیاد ہے اس تمام برق رفتار ترقی کی۔ جو کام پہلے بڑے بڑوں کی سوچ کے دائرے میں بھی مشکل سے آتا تھا آج وہی کام بچے بڑے مزے سے کر رہے ہوتے ہیں ۔ یہ ہم سب کے روز مرہ کے تجربات ہیں۔ مگر جو تشویشناک بات ہے وہ یہ کہ ہم بحیثیت مجموعی ایک صارف قوم بن گئے ہیں۔ کیا ہم ان ٹیکنالوجیز کو بنا سنوار کر کے اپنی برآمدات نہیں بڑھا سکتے۔ کئی ایسے شعبہ جات ہیں جس میں یہ کام کیا جاسکتا ہے۔
لیکن جیسا کہ ہم نے اوپر دیکھا کہ ٹیکنالوجی میں ترقی کی رفتار بڑی تیز ہے تو یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ اب اس کا رخ کس طرف ہے کن میدانوں میں یہ اپنے گھوڑے دوڑا رہی ہے؟ یہاں ہم ستیانادیلا کی تازہ ترین کتاب ہٹ رفریش کا سہارا لیتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ وہ اس بارے میں کیا کہتے ہیں۔ مگر یہ ستیانادیلا ہیں کون؟ یہ اس وقت مائکروسوفٹ کے چیف ایگزیکٹیو ہیں۔ 1967 میں حیدرآباددکن میں پیدا ہوئے اور وہیں پلے بڑھے 1990 میں امریکہ گئے اور ماسٹرز ڈگری لینے کے بعد 1992 میں مائکروسوفٹ سے منسلک ہو گئے۔ انکی یہ کتاب اسی سال چھپی ہے۔اس میںنادیلا تین رجحانات کی طرف اشارہ کرتے ہیں:

مکسڈریالٹی یعنی مخلوط حقیقت

اسکوورچئولریالٹی یا مجازی حقیقت بھی کہتے ہیں۔ مجھے ویسے تو زیادہ تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں ہے اسلئے کہ ہر شخص گوگل کر کے اس کے بارے میں بہت کچھ پڑھ سکتا ہے مگر میں مختصر طور پر بتاتا چلوں کہ یہ کس بلا کا نام ہے۔ جیسا کہ نام ہے سے ظاہر ہے یہ حقیقی اور مجازی دنیاؤں کا ملاپ ہے لہذا مخلوط ہے۔ اسکی سادہ ترین اور سب سے پرانی مثال 3 ڈی ہے جس میں آپ ایک خاص چشمہ پہن کر فلم دیکھتے ھیں تو آپ کو 2ڈی کے بجائے 3ڈی کا تاٰثر ملتا ہے۔ جدید دور میں اس پر بڑا کام ہوا ہے اور اس شعبہ نے بڑی ترقی کی ہے۔ اب آپ اس مقصد کے لئے بنایا گیا ایک آلہ پہن کر کسی اور ہی دنیا کی سیر کر سکتے ہیں۔ ستیانادیلا نے بتایا کہ اسے یہ آلہ پہنایا گیا جو مریخ پر موجود ناسا کے رؤور سے منسلک تھا اب جس طرح نادیلا قدم بڑھاتا رؤور بھی اسی طرح قدم بڑھاتا اور جہاں نادیلا رخ پھیرتا رؤور بھی اسی طرف مڑ جاتا۔ اسکو مریخ کی سطح واضح طور پر نظر آ رہی تھی لہذا نادیلا کو یہ محسوس ہو رہا تھا گویا وہ مریخ پر ہے حالانکہ وہ زمین پر موجود تھا۔
اس ٹیکنالوجی کے استعمال کی ایک بہت بڑی مثال 2014 میں ہندوستان کے انتخابات تھے۔ ان انتخابات سے قبل کانگریس دس سال سے حکومت کر رہی تھی لہذا بی جے پی نے بہت غور و غوض کے بعد اپنا منصوبہ بنایا – اس منصوبہ کے تحت یہ فیصلہ ہوا کہ نریندر مودی وزیر اعظم کے امیدوار ہوں گے مگر مسئلہ یہ تھا کہ ایک محدود مدت میں مودی کو، جو اس سے قبل گجرات کے وزیر اعلیٰ رہ چکے تھے، قومی سطح کا لیڈر بنا کر پیش کرنا تھا ۔ اس کے لئے منصوبہ سازوں نے یہ بات بہت اہم گردانی کہ مودی کو ہندوستان بھر میں چھہ ہفتے میں 2000 سے زائد جلسے کرنے چاہئے جن میں نریندر مودی خود خطاب کرے۔ اب یہ مسئلہ تھا کہ 42 روز میں اگر روز پانچ جلسے بھی کریں تو کل تعداد 210 بنتی ہے چنانچہ بہت سے لوگوں نے یہ منصوبہ ناقابل عمل قرار دے دیا۔ ایسے میں مخلوط حقیقت بی جے پی کے کام آئے اور اس نے ہولوگرام کے ذریعے ہندوستان بھر میں 2000 سے زائد مقامات پر جلسے منعقد کیے جس میںنریندر مودی نے خطاب کیا۔ لوگ مودی کو دیکھ رہے ہوتے تھے اور سن رہے ہوتے تھے مگر مودی وہاں نہیں ہوتا تھا۔ یہ معاملہ پروجیکٹر پر فلم دکھانے کی طرح کا نہیں تھا –حاضرین کو یوں محسوس ہوتا تھا کہ نریندر مودی اسٹیج پر کھڑا ہے اور ان سے خطاب کر رہا ہے۔ منصوبہ پوری طرح سے کامیاب ہوا اور نتائج کا بھی آپ کو علم ہے۔ یہ ایک مثال ہے کہ کس طرح ٹیکلنالوجی کو سیاست میں اور انتخابی عمل میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔

(واضح رہے اس پروجیکٹ کا ذکر نادیلا کی کتاب میں نہیں ہے)
آرٹیفشل انٹیلیجنس یا مصنوعی ذہانت ٹیکنالوجی کی جن سمتوں میں آجکل کام ہو رہا ہے اس میں سر فہرست مصنوعی ذہانت ہے۔انسان کو جو ذہانت حاصل ہے وہ قدرتی ہے جبکہ یہ انسان کی اپنی اختراع ہے۔اس کے بارے میں کچھ نہ کچھ تعارف توعام طور پر لوگوں کو ہے جب آپ روبوٹ کو دیکھتے ہیں کہ وہ چند سادہ سے کام کر رہا ہوتا ہو جیسا کہ سامان ایک جگہ سے دوسری جگہ رکھنا۔ آجکل ہر الیکٹرانک مشین کسی نہ کسی قدر مصنوعی ذہانت رکھتی ہے مگر یہ بہت بنیادی اور معمولی کاموں کے لئے ہوتا ہے۔
جو اصل میدان ہے وہ تو قدرتی ذہانت سے اس کا مقابلہ ہے اور جدید سائنس اسی ادھیڑ بن میں لگی ہوء ہے کہ کس طرح مصنوعی ذہن قدرتی ذہن سے آگے نکل جائے۔ قدرتی اور مصنوعی ذہانت میں فرق کیا ہے؟ انسان مختلف معلومات حاصل کر کے کوئی نتیجہ اخز کرتا ہے۔ اسکے نتیجے میں اسے تجربہ حاصل ہوتا ہے اسے وہ یاد رکھتا ہے اور اپنے مستقبل کے کسی عمل میں اس تجربہ سے استفادہ کرتا ہے۔ یعنی انسان کی ذہانت قابل تغیر ہوتی ہے اور اس میں اضافہ کی بڑی گنجائش ہوتی ہے۔ جبکہ مصنوعی ذہن کو جو کچھ اول روز دے دیا جاتا ہے اسے اتنے پہ ہی گزارا کرنا پڑتا ہے۔
البتہ اس میدان میں بھی ترقی بہت تیزی سے ہو رہی ہے اور اسکی مثال شطرنج کے عالمی چیمپیئن گیری کاسپراف کے خلاف ڈیپ بلیو کمپیوٹر کی کامیابی ہے۔ اور زیادہ قریبی زمانے میں الفاگو کی جنوبی کوریا کے لی سیڈول (لی سیڈول ‘گو’ کھیلنے والے تاریخ کے بڑے کھلاڑیوں میں سے ایک ہیں) کے خلاف کامیابی ہے۔ ‘گو’ شطرنج سے بھی پیچیدہ ایک کھیل ہے جس میںذہنی مہارت درکار ہوتی ہے۔
دیگر شعبہ جات کہ جس میں مصنوعی ذہانت استعمال ہو رہی ہے وہ سیلفڈرائیونگ گاڑیاں، امراض کی تشخیص حتیٰ کہ سرجریز بھی شامل ہیں۔
جو مباحث آج کل مصنوعی ذہانت کے حوالے سے ہو رہے ہیں انمیں یہ معاملہ سر فہرست ہے کہ مصنوعی ذہانت کی کیا حدود ہونی چاہئیں؟ ان پر کس قسم کے قوانین کا اطلاق ہو گا؟ وغیرہ وغیرہ۔

(قوانٹمکمپیوٹنگ اردو مترادف نہ مل سکا)

اس شعبہ میں کمپیوٹر کا بنیادی طریقہ کار ہی تبدیل کر دیا گیا ہے تاکہ کمپیوٹر کی استعداد کار میں ایک بہت بڑا اضافہ کیا جا سکے۔ ہم جو بھی کمپیوٹنگڈیوائس استعمال کرتے ہیں وہ صفر اور ایک (0 اور 1) یا بائنری نظام کے تحت کام کرتی ہے۔ تمام ھارڈوئیر اور سوفٹوئیر 0 اور 1 کے گرد گھومتے ہیں۔ لیکن قوانٹمکمپیوٹنگ میں قیوبٹ استعمال ہوتے ہیں جسکے ذریعے اتنی ہی جگہ میں اور اتنے ہی وقت میں کئی گنا زیادہ ڈیٹا پر کام ہو سکے گا۔ اس طریقے سے وہ کام جو آج کے کمپیوٹر نہیں کر پاتے قوانٹم کمپیوٹر وہ کام باآسانی کر لے گا۔
اس کمپیوٹر کے ذریعے انتہائی پیچیدہ ریاضیاتی اور سائنسی مسائل کا حل تلاش کیا جا سکے گا جس کے نتیجے میں نئی اختراعات اور ایجادات وجود میں آ سکیں گی۔
آپ یہ نہ سمجھیں کہ قوانٹم کمپیوٹر ایک دن آپ کے موجودہ کمپیوٹر کی جگہ لے لے گا۔ یہ دراصل بہت سارے روایتی کمپیوٹرز کا ایک ساتھی کمپیوٹر ہو گا – بہت سارے روایتی کمپیوٹر اس کو کام دیں گے اور یہ آپکے تصورات سے زیادہ تیزی سے وہ سارے کام کر دے گا!!
علامہ اقبال فرما گئے ہیں:

جہانِ تازہ کی افکار تازہ سے ہے نمود
کہ سنگ و خِشت سے ہوتے نہیں جہاں پیدا

اوپر درج کیے گیے تین رجحانات جدید ہیں مگر ان پر کام تیزی سے ہو رہا ہے۔ نادیلا نے اپنی کتاب میں کہا ہے کہ ان تین رجحانات کا سنگم یا ملاپ ٹیکنالوجی کے منظر کو مکمل طور پر تبدیل کر دے گا – اگر آپکواسکی تیاری درکار ہے تو جس طرح ونڈوز میں اپنی اسکرین کو ریفریش کرتے ہیں اسی طرح ٹیکنالوجی کے بارے میں اپنے رویہ ہٹ رفریش کریں!!!
٭٭٭٭٭٭٭
Hit Refresh۔ ہٹ ریفریش
Mixed Reality or Virtual Reality ۔ورچوئلریالٹی یا مکسڈریالٹی
Artificial Intelligence ۔مصنوعی ذہانت
Quantum Computing ۔ قوانٹمکمپیوٹنگ
Satya Nadella ۔ستیانادیلا
Gordon Moore ۔گورڈنمؤور
Microprocessor – مائکروپروسیسر
Microchip ۔ مائکروچپ
Qubit۔ قیوبٹ

حصہ