کتاب کی آب بیتی

115

فضہ انور؍ جامعتہ المحصنات کراچی
جی میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوں اور اپنا تعارف کرانے سے پہلے تھوڑی تمہیدی گفتگو آپ کے سامنے رکھنا چاہتی ہوں کہ انسان اپنے شعور سے لے کر اپنی موت تک زندگی کے تمام مراحل میں دوستی اور رفاقت کا محتاج ہوتا ہے ۔
اور وہ لوگ نہایت خوش قسمت ہوتے ہیں جنہیں اچھے اور بہترین ساتھی اور دوست میسر آتے ہیں کیونکہ
زندگی میں دوست نہیںملا کرتے
بلکہ دوستوں میں زندگی ملا کرتی ہے
جنہیں اچھے ساتھی میسر آجائیں وہ کبھی دنیا میں تنہا یا بے یارو مدد گار نہیں رہتے کیونکہ زندگی کے ہر موڑ پر ان کے دوست ان کے ہمقدم اور رفیق ہوتے ہیں ۔ہاں تو جناب میں ہوں آپ کی بہترین ساتھی اور دوست ’’کتاب‘‘۔
میرے بارے میں تو آپ نے بہت کچھ سن ہی رکھا ہوگا جی جی بالکل صحیح یاد کیا۔۔۔ میں وہی ہوں کی جب آپ کا ودسروں پر سے اعتبار اٹھ جاتا ہے اور سب آپ کو تنہا چھوٹ کر چلے جاتے ہیں تو میں ہی آپ کے ساتھ ہوتی ہوں اور آپ کو حوصلہ دیتی ہوں اور مجھ سے ہی آپ اپنے دکھوں اور غموں کا مداوا کرتے ہیں۔ میرے ہی ذریعے آپ فکر کے سمندر سے گوہر نایاب پاتے ہیں اور اپنے تخیلات کو مجسم تعمیر میں ڈھالتے ہیں ۔
میری ورق گردانی سے ان لوگوں سے تعارف حاصل ہوتا ہے جو ہمارے درمیان موجود نہیں ہوتے میں نے لوگوں کو انبیاء ؑ جیسی عظیم ہستیوں کے سیرت و کردار اور ان کے عظیم کارناموں سے متعارف کروایا ہے۔جو مجھ سے محبت رکھے گا اس کے دل میں علم کی محبت ہمیشہ رہے گی میں زندگی کے ہر کڑے وقت میں آپ کو حوصلہ اور ہمت دیتی ہوںمجھے پڑھتے ہوئے جو آپ کے ذہن میں سوالات پیداہوتے ہیں میں ان کے بھی جوابات دیتی ہوں ۔میں ایک ایسا باوفا ہیرا ہوں جو آپ کو دنیا کے نشیب و فرازکے بارے میں آگاہی دیتی ہوں ۔آج کے دور میں کوئی آپ کو اچھے راستوں کا پتہ نہیں دے سکتا ۔گویا
کوئی رفیق نہیں کتاب سے بہتر
لیکن افسوس جب انسان ترقی کے زینے چڑھ گیا اور جہاںاس نے جدید ٹیکنالوجی سے خود کو آراستہ کیا اور دنیا میں اپنا لوہا منوایا وہیں میری اہمیت میں بھی کمی آگئی ہے ۔پہلے لوگوں میں ذاتی لائبریریوں کا رحجان پایا جاتا تھا ۔لیکن اب لوگوں کی ترجیحات بدل گئی ہیں ۔ لائبریریوں کا قیام تو دور کی بات پہلے سے گھر میں موجود کتابوں کو بھی مساجد اور مدارس میں ڈلوا دئے جاتے ہیں ۔۔۔۔!!!آپ لوگوں کی بدنصیبی ہے جوآپ مجھ سے دور رہتے ہیں اور مجھ سے دور ہونے کی وجہ سے آپ غفلتوں میں پڑے رہتے ہیں ۔آپ کی نسلیں اپنی تاریخ سے آگاہ نہیں ہیں۔۔۔!!!
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ثاقب میاں کی ٹیبل پر میں اور موبائل اکھٹے رکھے تھے اور ہم دونوں میں سے ہر ایک کا دعوی تھا کہ ثاقب میاں مجھ سے ذیادہ محبت کرتے ہیں اب ہم دونوں محو کلام ہی تھے کہ اچانک دروازے کے کھلنے کی آواز سنائی دی تو میں نے موبائل سے بڑے مان کے ساتھ کہا کہ دیکھو ثاقب میاں مجھے ہی لینے آئے ہیں ۔لیکن موبائل نے کہا کہ یہ تمہاری غلط فہمی ہے وہ تمہیں نہیں بلکہ مجھے لینے آئے ہیں ۔میں نے کہا کہ رکو ثاقب میاں کو دیکھا کہ وہ کس کی طرف اپنا ہاتھ بڑھاتے ہیں پھرتمہاری خوش فہمی دور ہوجائے گی ۔۔۔!!
ہم دونوں کی نظریں ثاقب میاں کی جانب اٹھی ہوئیں تھیں ثاقب میاں آئے اور انہوں نے جیسے ہی موبائل کی جانب ہاتھ بڑھایا تو موبائل نے فاتحہ انداز میں میری جانب دیکھا گویا یہ کہہ رہا ہو کہ دیکھ لیا ناں تم نے اب تمہاری کوئی ضرورت نہیں رہی ہے۔میں ہی ثاقب میاں کی پسند اور وہ جدید ٹیکنالوجی ہوں کے جس کہ ذریعے ثاقب میاں لمحوں میں معلومات کے ذخائر اکھٹے کرسکتے ہیں ۔اور میری حالت ایسی تھی کہ گویا کاٹوتو بدن میں لہو نہیں ۔آپ کی انہیں غفلتوں کی وجہ سے لائبریریاں آج لوگوں کی راہ تکتی رہ جاتی ہیں اور آپ اپنی ضروریات موبائل اور انٹرنیٹ سے پوری کرنے پر اکتفا کرتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ آج میری جگہ موبائل اور انٹرنیٹ نے لے لی ہے اور میری وہ ساتھی کتابیں جس میں کبھی علم و دانش کی باتیں ہوا کرتی تھی ان کو کہیں پس پشت ڈال کر میری دوسری ساتھی کتابوں کو فحش اور برائی کی باتوں سے بھر دیا گیا ہے ۔آپ ہی کی نوجوان نسل جو قوم کا سرمایہ ہوتی ہیں وہ ہم کتابوں سے ہدایت کے گمراہی ہی گمراہی سمیٹ رہے ہیں۔۔۔!!!معاشرے کو پاکیزہ رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم میں ایسی کتابوں کا انتخاب کریں جو آپ کو اللہ اور اس کے رسول ﷺکی فرما برداری کی طرف مائل کریں ۔حیات انسانی کے جمود کو توڑنے کے لیے آج ضرورت اس بات کی ہے کہ مجھ سے دوستی کرلی جائے۔کیونکہ میں ایک ایسی دوست ہوں جو آپ کے کردار اور عمل کی تشکیل میں اہم کردار ادا کر رہی ہوں آپ کو خیر و شر کی تمیز سکھاتی ہوں ۔آپ کے ذہن کے دریچوں کو کھولتی ہوں ۔تخلیقی صلاحیتوں اور ولولوں کو جلا بخشتی ہوں مجھ سے دوستی آپ کی تقدیر کو بدل دے گی۔غفلتوں اور نا امیدیوں کے بادل کو چھانٹ کر رکھ دے گی۔۔۔!!!!!!!!!

حصہ