غیر معیاری کھانے

56

زوبیہ صدیقی؍ماس کمیونیکیشن‘ کراچی یونیورسٹی
آج کل ہم دیکھتے ہیں نئی نسل، نوجوان، بچے سب پیزا، برگر، نوڈلز، سموسہ وغیرہ اور بہت سی نقصان پہچانے والی اشیاکھانا پسند کرتے ہیں۔ کیا یہ سب کھانے نقصان سے باہر ہیں۔ نہیں بالکل نہیں بلکہ یہ بیماریاں پیدا کرنے کی جڑ ہیں۔ ایسے کھانوں سے بہت سی بیماریاں جنم لیتی ہیںجو کہ بچوں میں بڑھتی جا رہی ہیں۔ جس میں ہڈیوں کے درد، جسم کی کمزوری، تھکاوٹ اور بہت سی بیماریاںجو ایسے نقصان دہ کھانوں کی وجہ سے بڑھ رہی ہیں۔
پرانے وقتوں میں لوگ دیسی گھی، اناج، روٹی اور قدرتی غذائیں وغیرہ کھاتے تھے اور کام بھی بہت کرتے تھے جیسے کہ ورزش وغیرہ اور ایک صاف ستھرے ماحول میں پرورش پاتے تھے۔ مگر آج کل کا ماحول اور عادتیں بہت بدل چکے ہیں۔ اس وجہ سے ہم بہت سی بیماریوں میں مبتلا ہوتے جا رہے ہیں۔ گھنٹوں وقت ضائع کر کے کمپیوٹر اور موبائل استعمال کرتے ہیں۔ جو ہر انسان کے لیے نقصان دہ ہے۔ بہت سی بڑی بڑی کمپنیاں بھی آج کل بھروسے کے قابل نہیں ہیں۔ بہت سی جگہوں پر بیکری سامان اور جنک فوڈ جس طرح بن رہا ہے اسے دیکھ کر احساس ہوتا ہے کہ ہم کس ماحول میں پرورش پا رہے ہیںوہاں صفائی کا کوئی انتظام نہیں۔ گندہ آلودہ پانی استعمال ہوتا ہے۔ ہر طرف کیڑے اور گندگی ہوتی ہے۔ ایسی جگہوں پر بنی چیزیں جب ہمارے بچے کھائیں گے تو کئی بیماریوں کا سبب بنیں گے۔ حکومت اورکوئی بھی ذمہ دار ادارہ ان جگہوں کو بند نہیں کرتے۔ حکومت کو چاہیے کہ ان سب کمپنیوں پر پا بندی لگائیں تاکہ کوئی بھی کسی انسان کی جان سے نہ کھیل سکے۔ اور سب بازار کے ایسے کھانوں سے پرہیز بھی کریں جو آجکل تیزی سے نوجوان نسل کو کمزور کرنے میں مبتلا ہیں۔میری آپ کے اخبار کے ذریعے حکومت سے اپیل ہے کہ فوری اس مسئلے پر اقدامات کئے جائیں تاکہ معصوم انسانی ذندگیوں کو بچایا جا سکے۔ کراچی جیسے شہر کو صاف ستھری اور نقصان سے پاک غذائی اشیاء فراہم کی جائیں۔ اور تمام لوگوں سے گذارش ہے کہ ایسے کھانوں سے پرہیز کر کے اپنے آپ کو ان بیماریوں سے بچائیں۔

حصہ